ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا نام اردو شاعری کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔5دسمبر کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئیں ۔ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی جس کے بعد نشتر میڈیکل کالج ملتان میں داخلہ لیا۔1996ء میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا اور ہاؤس جاب کے دوران ہی شاعری کا آغاز کیا ۔ ڈاکٹر بننے کے بعد نجمہ شاہین کھوسہ نے انسانیت کی خدمت کے لئے اپنے آبائی شہر کا انتخاب کیا ۔ ابتدا میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں میڈیکل آفیسر کے طور پرکام شروع کیا اور اپنا کلینک قائم کیا جو اب ہسپتال کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔جان سرجیکل ہسپتال کا شمار اب ڈیرہ غازی خان کے معتبر طبی اداروں میں ہوتا ہے۔ اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ نے شاعری کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی ۔اب تک ان کے چار شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ 2007ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘کے نام سے شائع ہوا تو اپنے منفرد اسلوب اور چونکا دینے والے نام کی وجہ سے اس نے ادبی حلقوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں ‘‘2010ء میں شائع ہوا ۔ ۔اور شام ٹھہر گٰئی‘‘ 2013 اور ’’پھول،خوشبو اور تارہ‘‘ 2016 میں شائع ہوا ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ غزل اور نظم دونوں میں یکساں مہارت رکھتی ہیں ۔انہوں نے سرائیکی علاقے کی عورت کے دکھوں کو قریب سے دیکھا اور انہی دکھوں کو اپنے شعروں کا موضوع بنایا ۔ آج وہ اس خطے کی عورتوں کی آواز بن چکی ہیں ۔ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ وہ اندرون و بیرون ملک کی کانفرنسوں ، مشاعروں اور سیمینارز میں اس خطے کی نمائندگی کر چکی ہیں


PostHeaderIcon میں ہو گئی تری مثال پیا PostDateIcon April 26th, 2017



ہوں عشق میں مالا مال پیا ہر سو بس تری دھمال پیا ہو اک پل صرف وصال پیا میں ہجر میں ترے نڈھال پیا ترے خیال میں گزرے سال پیا یہ عشق نظر کا کمال پیا جس نگری عشق کا راج ہوا کیاِ ِ ’’میں‘‘ ’’تو‘‘ کا جنجال پیا تو روگ مرا ، تو جوگ

PostHeaderIcon محبتیں بھی ہیں عارضی اور یہ رفاقتیں سب جداجداہیں PostDateIcon January 27th, 2017



یہ راستے سب جداجداہیں،یہ منزلیں سب جداجداہیں یہ آئینے سب الگ الگ ہیں،یہ صورتیں سب جداجداہیں کسی کے لفظوں کا اعتبار اب کریں تو کیسے کریں بھلاہم کہ لفظ ہیں سب کے ایک جیسے،ضرورتیں سب جداجداہیں مقدروں کے جو کھیل ہیں یہ بہت نرالے ہیں اس جہاں میں کہ صورتیں تو بھلی ہیں لیکن یہ

PostHeaderIcon “کتاب” ایپ کی انتظامیہ کا بہت بہت شکریہ PostDateIcon January 24th, 2017



https://play.google.com/store/apps/details?id=com.kitaab.idealideaz.kitaabapp

PostHeaderIcon تعارفی تقریب پھول ، خوشبو اور تارہ PostDateIcon January 12th, 2017



” order_by=”sortorder” order_direction=”ASC” returns=”included” maximum_entity_count=”500″]

PostHeaderIcon اور وہ چلی گئی۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ PostDateIcon December 10th, 2016



ابھی اپنی بے چینی کو قراردینے کے لئے کاغذ ،قلم لے کے بیٹھی ہی تھی کہ ایک بُر ی خبر نے آنکھیں مزید نم کر دیں۔آج کادن ویسے بھی میرے لیے انتہائی نامعتبر ہے کیونکہ معتبر زمانے کیلئے کسی بیٹی کی پیدائش شاید اتنی معتبر نہیں ہوتی۔چاہے وہ بیٹی دنیا میں لائق ترین ہویا شہزادی

PostHeaderIcon ۔۔۔ البم .. حمد،نعت،سلام PostDateIcon November 30th, 2016



12►

PostHeaderIcon کیسے عجیب دکھ تھے،دل میں چھپا کے لائے PostDateIcon November 26th, 2016



کیسے عجیب دکھ تھے،دل میں چھپا کے لائے گردِ سفرتھی رہ میں ،بس ہم اٹھا کے لائے ہر رہ گزرپہ اُس کو رکھنا تھا یاد سو ہم انجان راستوں میں، خود کو بھلا کے آئے جیون کی دھوپ میں یوں تنہا سفر تھا اپنا سکھ سب کو بانٹ ڈالے، بس دکھ اٹھا کے لائے اپنے

PostHeaderIcon مرا درد شاہیں ٹھہر گیا،یا ہے ضبط میراکمال کا؟ PostDateIcon November 8th, 2016



آحساب کر کسی روز اب ،کسی گزرے ماہ کاسال کا شب وروز کے اسی ہجرکا،کسی خواب خواب وصال کا وہ جوہمسفر تھا بچھڑ گیا،وہ غبار رہ میں کدھرگیا؟ مگراک ادھوراجواب تھا،مرے ان کہے سے سوال کا نہ ہے جستجو کسی راہ کی،نہ ہی آرزو کسی چاہ کی نہ ہی رنجشیں کسی ہجرکی،نہ خیال تیرے ملال

PostHeaderIcon قاتلوں کی صورت میں چارہ گرہی ملتے ہیں PostDateIcon November 8th, 2016



چاہتوں کے رستے میں گو شجرہی ملتے ہیں ہاں مگر یہ دکھ ہے سب بے ثمرہی ملتے ہیں کس سے آج پوچھیں ہم کس نگروہ رہتاہے؟ ہم کوسب مسافر تو بے خبر ہی ملتے ہیں اب خوشی کے لمحوں پراعتبارکیسے ہو؟ جب دکھوں کے لمحے سب معتبرہی ملتے ہیں قاتلوں سے اب ہم کو خوف

PostHeaderIcon یادوں کے سائباں میں بسر کر رہی ہے رات PostDateIcon October 26th, 2016



یادوں کے سائباں میں بسر کر رہی ہے رات خاکے میں زندگی کے دھنک بھر رہی ہے رات مجھ سے ہے ہم کلام یا تجھ سے ہے اس کی بات ویران راستوں کا سفر کر رہی ہے رات مدت سے جل رہے ہیں یہاں آس کے دئے بجھتے چراغ کو بھی قمر کر رہی ہے

PostHeaderIcon لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں PostDateIcon October 9th, 2016



سلام دکھوں کی تفصیل لکھنے بیٹھوں تو اشک اپنے تمام لکھوں لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں وہ جس نے سجدے میں سر کٹا کے ہمیں نوازا بلندیوں سے وفا کے سجدوں کے شاہ کو ہی میں آج شاہ و اما م لکھوں یہاں سکینہ کا، اصغر ،اکبر کا اور قاسم

PostHeaderIcon وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا PostDateIcon September 17th, 2016



پھول سے بچھڑی خوشبو ۔۔ پہلا شعری مجموعہ ہنسی نہ دے سکا مگر مجھے ملال دے گیا وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا وفا کو پھر لغات میں فریب ہی لکھا گیا وہ چاہتوں کو دیکھئے عجب مثال دے گیا پھر آئینے کے روبرو تمام عکس کھو گئے بے چہرگی کو بھی

PostHeaderIcon نظم ۔۔ عید حیران ہے PostDateIcon September 12th, 2016



عید مہندی کا، خوشیوں کا رنگوں کا ، خوشبو کا اور کانچ کی چوڑیوں کی کھنک میں بسی آرزوؤ ں کا اک نام ہے عید انعام ہے عید امید ہے عید تجدید ہے عید جیسے کوئی روشنی کی کرن ایک وعدے ، کہانی ، فسانے کی یا ہجر موسم میں لپٹے ہوئے وصل کے دکھ

PostHeaderIcon نظم ۔۔ اُسے عید مبارک کہتی ہوں PostDateIcon September 10th, 2016



آج بھی برسوں بعد مرے کانوں میں صدا تیری آئے مَیں چاند ہوں جاناں ،چاندہوں مَیں سُن چاند ہوں تیری عید کامَیں پیغام ہوں ایک نوید کامَیں رنگوں سے سجی ،خوشبومیں بسی ہردید کا اک انعام ہوں مَیں پیغام ہوں مَیں وہ جوتیری صدا کالمحہ تھا مری ساکن روح میں اُتر گیا ُاُس لمحے نے

PostHeaderIcon PostDateIcon September 9th, 2016



ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا نام اردو شاعری کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔5دسمبر کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئیں ۔ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازی خان سے حاصل کی جس کے بعد نشتر میڈیکل کالج ملتان میں داخلہ لیا۔1996ء میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیااور ہاؤس جاب کے دوران

PostHeaderIcon خوش گمانی کوسلام اس بدگمانی کوسلام ،،،کررہی ہوں پیار کی ہر مہربانی کوسلام PostDateIcon September 9th, 2016



خوش گمانی کوسلام اس بدگمانی کوسلام کررہی ہوں پیار کی ہر مہربانی کوسلام وحشتوں کے سائے ہی اپنامقدرہوگئے وہ جومرجھانے لگی ہے اُس جوانی کوسلام ہم مسافرہیں جنوں کے راستے پرگامزن بے سروسامان ہیں اپنی کہانی کوسلام راہ میں کھائے ہیں جو پتھربہت ہیں معتبر رائیگاں موسم کی ہراک رائیگانی کوسلام ہررکاوٹ اورہرمشکل کو آداب

PostHeaderIcon پھول سے بچھڑی خوشبو PostDateIcon August 25th, 2016



ہے گردشوں میں دیکھئے مری سحر ابھی غموں کی رات کیسے ہو گی مختصر ابھی ؟ یقیں تو ہے وہ ایک دن ضرور لوٹ آئے گا مگر کٹھن وفاؤں کی ہے رہگزر ابھی گو باغباں نے کوششیں تمام کیں مگر وفا کی شاخ پر نہ آئے گا ثمر ابھی سبھی کو علم ہے جو میرا

PostHeaderIcon ‎پھول سے بچھڑی خوشبو ۔۔ پہلا شعری مجموعہ‎. PostDateIcon August 25th, 2016



اب برسوں بعد ملے ہو تو کچھ اپنا حال احوال کہو کہو کیسے ہجر کی رات کٹی اور کتنے ملے ہیں ملال کہو؟ کیا ہجر کا دکھ زندہ ہے ابھی کسی آتے جاتے موسم میں؟ یا ماضی کا قصہ ٹھہرا ہے آج وہ عہدِ وصال کہو؟ مرے بام و در میں سجا ہوا چہرہ بھی

PostHeaderIcon “کتاب” ایپ کی انتظامیہ کا بہت بہت شکریہ PostDateIcon July 24th, 2016



PostHeaderIcon وہ ہلالِ عید کو دیکھ کر بھی اداس ہے PostDateIcon July 5th, 2016



وہ ہلالِ عید کو دیکھ کر بھی اداس ہے اسے یاد ہے کسی عید پر کہیں چاہتوں کی نوید پر کوئی کہہ گیا تھا اُسے کبھی کہ میں چاند ہوں تری عید کا مرے بن منانا نہ عید تُو کہ میں آؤں گاترے پاس جب کسی ایک وصل کے سال میں کسی خواب میں کہ

PostHeaderIcon اس کی طلب میں راہ کو تکتی ہے زندگی PostDateIcon June 4th, 2016



اس کی طلب میں راہ کو تکتی ہے زندگی آنکھوں میں وقت شام چمکتی ہے زندگی تیرے لئے جب آنکھ برستی ہے رات کو پھردل کے ساتھ ساتھ سلگتی ہے زندگی دکھ سے نڈھال ہوکے جب روتی ہیں بیٹیاں پھر ان کے لیکھ دیکھ کر ہنستی ہے زندگی جواک خیال باعث آزار بہت ہے اس

PostHeaderIcon زمانے مرے بن بھلا اپنی تکمیل کیسے کرے گا؟ PostDateIcon June 4th, 2016



زمانے مرے بن بھلا اپنی تکمیل کیسے کرے گا؟ زمانے اگرچہ میں تجھ سے الگ ہوں ترے ہرچلن سے ترے بانکپن سے چمن سے الگ ہوں زمانے میں تری کہانی میں شامل کہانی توہوں پر میں قصہ نہیں ہوں زمانے میں حصہ ترا ہو ں مگر پھربھی حصہ نہیں ہوں زمانے تری روشنی گرچہ سب

PostHeaderIcon ’’شاعری نجمہ شاہین کی زندگی ہے‘،،،حسن عبا سی ،لاہور PostDateIcon May 20th, 2016



> ’’شاعری نجمہ شاہین کی زندگی ہے‘‘ میں نے کہیں پڑھا تھا ’’تخلیق کار کو اپنی تخلیق کے لیے جو پانی درکار ہوتا ہے اس کے لیے افسانہ نویس اپنے گھر کے اندر نلکا لگاتا ہے۔ ناول نگار وہ پانی دریا سے بھر کر لاتا ہے جبکہ شاعر بادلوں کا انتظار کرتا ہے‘‘ ڈاکٹر نجمہ

PostHeaderIcon ڈاکٹر نجمہ شاہین,,, البم ..سال بہ سال PostDateIcon May 19th, 2016



PostHeaderIcon وہ مرا آغاز تھا او ر یہ مرا انجام ہے PostDateIcon May 15th, 2016



چار جانب شام ہے یا گردشِ ایام ہے پھول ، خوشبو اور تارہ زندگی کا نام ہے زندگی کے کھیل کا شاہین عجب انجام ہے حسرتوں کی لاش ہے ، اشکوں بھری اک شام ہے پھول ہے گم ذات میں ، خوشبو گھری حالات میں ہجر کا لمحہ ہی بس اب عشق کا انعام ہے

PostHeaderIcon آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے PostDateIcon May 6th, 2016



دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہے میں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے اُس کے قدموں میں جو جنت ہے تو مطلب یہ ہے آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے خوشبو ایسی کہ مری روح تلک مہکی ہے روشنی ایسی کہ بس نور کا دھارا ماں ہے تپتے صحراؤں

PostHeaderIcon افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں ،، جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں PostDateIcon March 8th, 2016



افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں

PostHeaderIcon مرا عشق ہی مذہب مسلک ہے ،، اور عشق ہے تیری ذات سئیں PostDateIcon March 4th, 2016



حمد مری اُجڑی لمبی رات سئیں کب بدلیں گے حالات سئیں مرا عشق ہی مذہب مسلک ہے اور عشق ہے تیری ذات سئیں مجھے اپنا پتہ درکار ہےاب بس اتنی سی خیرات سئیں مرشد مَیں تیری منگتی ہوں مری تجھ سے ہی بس بات سئیں میں تیرے در پر حاضر ہوں لئے آنکھوں میں برسات

PostHeaderIcon PostDateIcon March 4th, 2016



حمد مری اُجڑی لمبی رات سئیں کب بدلیں گے حالات سئیں مرا عشق ہی مذہب مسلک ہے اور عشق ہے تیری ذات سئیں مجھے اپنا پتہ درکار ہے اب بس اتنی سی خیرات سئیں مرشد مَیں تیری منگتی ہوں مری تجھ سے ہی بس بات سئیں میں تیرے در پر حاضر ہوں لئے آنکھوں میں

PostHeaderIcon پھول خوشبو اور تارہ ،،،”’میرا شاعری کا نیا مجموعہ کلام“ PostDateIcon February 28th, 2016



ref=”http://www.drnajmashaheen.com۔/? سوچ کا سفر سفر تو اتنا سا تھا کہ جو پھول سے بچھڑی خوشبو نے ایک زمانے سے دوسرے زمانے تک کرنا تھا۔ ایک فرق روپ کا روح سے اور ایک خیال مکاں سے لامکاں تک کا۔ ہوا جو سب کے وجود کیلئے سانس ہے، آسودگی ہے زندگی ہے مگرپھول سے خوشبو کی جدائی

PostHeaderIcon پھول خوشبو اور تارہ PostDateIcon February 24th, 2016



پھول خوشبو اور تارہ شاعرہ ۔۔ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ رابطہ۔۔۔—الحمد پبلیکیشن لاہور- 00923334303402 00923334645700 042-37231490 042-37310944

PostHeaderIcon عورت اور عورت ہے ”بشری اعجاز PostDateIcon January 30th, 2016



عورت اور عورت ہے پھول ،خوشبو اور تارہ کا مسودہ میرے ہاتھ میں ہے۔۔۔ جسے دیکھتے ہوئے سنسکرت کے رومانی شاعر امارو کی نظم یاد آرہی ہے۔۔۔ جس کا عنوان۔۔۔ عورت اور عورت ہے۔۔۔! ابھی تھوری دیر ہوئی کہ وہ مجھے سدا کے لئے چھوڑ گیا لیکن میں ہمت سے کام لوں گی اور کوئی

PostHeaderIcon زخموں سے کہاں ، لفظوں سے ماری گئی ہوں مَیں PostDateIcon January 16th, 2016



زخموں سے کہاں ، لفظوں سے ماری گئی ہوں مَیں جیون کے چاک سے یوں اتاری گئی ہوں مَیں مجھ کو مرے وجود میں بس تُو ہی تُو ملا ایسے تری مہک سے سنواری گئی ہوں میں افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں

PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔ PostDateIcon January 6th, 2016



PostHeaderIcon دسمبر لوٹ جاتا ہے PostDateIcon December 28th, 2015



          اُسے کہنا کہ حیرانی مجھے حیرت سے تکتی ہے مرے جیون پہ خود بھی زندگی روتی ہے ہنستی ہے نظر جب بھی ہتھیلی کی لکیروں سے الجھتی ہے ان آنکھوں سے جھڑی ساون کی پھر کچھ ایسی لگتی ہے مرا دل رک سا جاتا ہے مہینہ ہجر کا جب بھی

PostHeaderIcon دل دیس تمہارا مسکن تھا ۔۔ نظم PostDateIcon December 27th, 2015



دل دیس تمہارا مسکن تھا اس میں تو تمہارا جیون تھا اس میں تو تمہاری دھڑکن تھی دل ہی تو تمہارا گلشن تھا اس میں تو تمہاری خوشیاں تھیں اک دل کا دل سے بندھن تھا اے جان بتاؤ پھر تم نے دل دیس کو کیوں پامال کیا ؟ کیوں اس کو یوں بے حال

PostHeaderIcon مگر میں کیسے پرسہ دوں؟ PostDateIcon December 16th, 2015



مرے کانوں میں چیخیں ہیں مرے معصوم بچوں کی  مری آنکھوں کے تاروں کی  کہ جن کے کھیلنے کے دن تھے  لیکن ظالموں نے ان سے کیسا کھیل کھیلاتھا  مرے بچوں سے اس دن موت کھیلی تھی مری آنکھوں میں منظر ہیں  بہت سفا ک منظر ہیں  کہیں بکھری کتابیں ہیں  کہ جن پر موت

PostHeaderIcon دسمبر لوٹ جاتا ہے،،، PostDateIcon December 13th, 2015



PostHeaderIcon روزنامہ جنگ میں شا یعّ ہونے والا انٹر ویو PostDateIcon December 7th, 2015



PostHeaderIcon ہر دل عشق دے قابل نا ہیں ،،،،، PostDateIcon November 25th, 2015



یقیں اور گماں اور یہ زندگی بس ایک سفر ہی تو ہے ، ایک سوال ہی تو ہے ، رواں دواں ، دکھ اور سکھ کا ، لمحوں اور کردار کے بدلتے مناظر لیے ، آس اور نا امیدی کا چاہت اور ضرورت کا ۔ ھاں اور ناں کا ، عشق اور وحشت کا ،

PostHeaderIcon چاند کو بھی اندھیرے بانٹتے دیکھا ہے۔ PostDateIcon November 24th, 2015



چاند کو بھی اندھیرے بانٹتے دیکھا ہے۔ یہ دکھ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ تنہائیوں، محرومیوں،محبتوں اور جدائیوں کے دکھ ، کہیں انت ہی نہیں ٹھہرتاان کا۔ کبھی گھٹن بن کر دل کو مٹھی میں کر لیتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انت ہو گیا اور کبھی دور پرے کھڑے مسکراتے اُسی گھٹن کو

PostHeaderIcon کیا آج معیاری ادب تخلیق ہورہا ہے؟ PostDateIcon November 23rd, 2015



PostHeaderIcon کیا شاعری سب بیان کرتی ہے؟ PostDateIcon November 21st, 2015



یہ دکھ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ تنہائیوں، محرومیوں،محبتوں اور جدائیوں کے دکھ ، کہیں انت ہی نہیں ٹھہرتاان کا۔ کبھی گھٹن بن کر دل کو مٹھی میں کر لیتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انت ہو گیا اور کبھی دور پرے کھڑے مسکراتے اُسی گھٹن کو کم کرتے ہیں ، روشنی بنتے ہیں

PostHeaderIcon عالمی اردو کانفرنس استنبول ۔۔ 12 تا 14 اکتوبر 2015 PostDateIcon October 30th, 2015



1234►                     استنبول میں منعقدہ تین روزہ عالمی اردو کانفرنس کا احوال  ترکی میں اردو تدریس کی ایک صدی مکمل ہونے پر استنبول یونیورسٹی کے شعبہ ادبیات کے زیر اہتمام 12 سے 14 اکتوبر تک سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کا اہتمام کیا

PostHeaderIcon نظم ۔۔ عجیب ہوتی ہے یہ محبت PostDateIcon October 29th, 2015



عجیب ہوتی ہے یہ محبت نصیب والوں کے دل میں جب بھی یہ جاگتی ہے تو پہلے نیندیں اُجاڑتی ہے یہ جھومتی ہے، یہ ناچتی ہے یہ پھیلتی ہے،یہ بولتی ہے ہر ایک لمحہ ہر ایک وعدے کو تولتی ہے یہ اپنے پیاروں کو مارتی ہے صلیب ہوتی ہے یہ محبت عجیب ہوتی ہے یہ

PostHeaderIcon دوبئی دورہ ۔۔ فیملی البم PostDateIcon October 26th, 2015



12►

PostHeaderIcon ترکی دورہ ۔۔ فیملی البم PostDateIcon October 26th, 2015



PostHeaderIcon اس سے بڑھ کر مری وفا کا کوئی نہیں گواہ PostDateIcon October 1st, 2015



اس سے بڑھ کر مری وفا کا کوئی نہیں گواہ غزلیں ، نظمیں ، سجدے،آنسو اور اِک شب سیاہ ہر اِک گام پہ ہوتا ہے کیوں ارمانوں کا خون صرف سلامت رہ جاتے ہیں کیوں منصب اور جاہ اسی لیے تو روشن مصرعے روشنیاں پھیلائے آنکھ میں روشن تارہ چمکے ، سوچ میں کامل ماہ

PostHeaderIcon کیسے گزرے ہیں یہ حالات ، نہ پوچھو مَیّا PostDateIcon October 1st, 2015



کیسے گزرے ہیں یہ حالات ، نہ پوچھو مَیّا مجھ سے آنکھوں کی یہ برسات ، نہ پوچھو مَیّا چاند کل جس کی پناہوں کو ترستا تھا اُسے ٹُوٹے تارے سے ہوئی مات ، نہ پوچھو مَیّا اک زمیں زاد کے آنچل میں ستارے کیسے ؟ میرے ظلمت میں ہیں دن رات ، نہ پوچھو

PostHeaderIcon یہ عشق عجب لمحہ ء توقیر ہے جاناں PostDateIcon September 21st, 2015



  یہ عشق عجب لمحہ ء توقیر ہے جاناں خود میرا خدا اس کی ہی تفسیر ہے جاناں جو نام ہتھیلی کی لکیروں میں نہیں تھا کیوں آج تلک دل پہ وہ تحریر ہے جاناں اس خواب کی تعبیر تو ممکن ہی نہیں تھی آنکھوں میں مگر اس کی ہی تاثیر ہے جاناں مانا کہ

PostHeaderIcon کل پاکستان مشاعرہ کوئٹہ ۔۔ 12 اگست 2015 PostDateIcon September 13th, 2015



12►

PostHeaderIcon گائینی کانفرنس ، مظفر آباد۔ اسلام آباد ۔۔ چار، پانچ مئی 20015 PostDateIcon September 13th, 2015



12►

PostHeaderIcon نینوں میں نیر پروتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی PostDateIcon September 9th, 2015



نینوں میں نیر پروتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی جیون کے ساز پہ روتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی اک یاد پڑی ہے آنگن میں، اک شام رکھی ہے جیون میں اک درد کا بوجھ بھی ڈھوتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی جب ہلکی سی اک آہٹ پر میرا دل چونک سا

PostHeaderIcon مرے قصہ گو ، مرے نامہ بر PostDateIcon September 6th, 2015



مرے قصہ گو ، مرے نامہ بر مری بات ہے بڑی مختصر کبھی ہو سکے تو جو داستان ہے ہجر کی مری نارسائی کے ذکر کی اسے کر بیاں کبھی اپنے لفظوں سے کر اسے بھی تُو معتبر کہ جو آنے والی رتیں ہیں ان کو بھی ہو سکے پھر مری خبر مری یاد کو

PostHeaderIcon جب مرا ہر ایک دکھ میراہنر ہو جائے گا PostDateIcon August 22nd, 2015



  جب مرا ہر ایک دکھ میراہنر ہو جائے گا زندگی کا یہ سفر آسان تر ہو جائے گا دل میں اک موہوم سا جذبہ کہیں جاگا تھا کل جانتی کب تھی یہ اک دن اس قدر ہو جائے گا کیا خبر تھی ریگزاروں میں ہی گزرے گی حیات یہ سفر دشوار سے دشوار تر

PostHeaderIcon خود کو بھول جانے کا وعدہ کر رہے ہیں ہم PostDateIcon August 20th, 2015



خود کو بھول جانے کا وعدہ کر رہے ہیں ہم بن ترے ہی جینے کا ارادہ کر رہے ہیں ہم روح و جاں کا رشتہ بس ٹوٹنے ہی والا ہے اور اب غموں کو ہی لبادہ کر رہے ہیں ہم سیدھے سادھے لفظوں میں اس کو ہم نے مانگا ہے اک دعا جو الجھی تھی

PostHeaderIcon دوستی کے لہجے میں دشمنی نے ماراہے PostDateIcon August 20th, 2015



دوستی کے لہجے میں دشمنی نے ماراہے دکھ تو یہ ہے ہم کو بس اک خوشی نے ماراہے تیرگی کا ہم کریں اب گلہ بھلا کیسے ہم کو چاند راتوں میں چاندنی نے مارا ہے دردِ نا رسائی اب ہم کو کیسے مارے گا الوداعی لمحوں کی بے بسی نے مارا ہے دوش کیا رقیبوں

PostHeaderIcon روزنامہ خبریں ، ملتان، لاہور،مظفر آباد ۔۔ 8 اگست 2015 PostDateIcon August 9th, 2015



PostHeaderIcon اک شخص میری عمر کے عنوان لے گیا PostDateIcon August 5th, 2015



اک شخص میری عمر کے عنوان لے گیا میرے یقین کا ہر اک سامان لے گیا کچھ خواب تھے، کہ پھول تھے، تعبیر تھی یہاں جاتے ہوئے وہ اپنے سب پیمان لے گیا یادوں کے پھول جس میں سجاتی رہی تھی میں ہاتھوں سے میرے کون یہ گلدان لے گیا تنکوں کا آشیاں جو بنایا

PostHeaderIcon رحیم یار خان میں کل پاکستان مشاعرہ ۔۔ 14 جون 2015 PostDateIcon June 18th, 2015



123►

PostHeaderIcon نظم ۔۔ اک بختوں والے کا قصہ PostDateIcon June 11th, 2015



  سکھی آج میں تیرے واسطے پھر اک نئی کہانی لائی ہوں اک درد نیا سا ہے اس میں گو بات پرانی لائی ہوں سُن سکھی کہانی سُن میری اک بار پرانی سُن میری اک دن کے اُجالے کا قصہ اک بختوں والے کا قصہ اک مہربان سے لمحے میں اک سرد ہوا کے جھونکے

PostHeaderIcon نظم ۔۔ صبح توہوگی PostDateIcon June 10th, 2015



یہاں پرصبح توہوگی یہاں سورج تونکلے گا یہ ممکن ہے کہ ان روشن دنوں کابھی نہ کوئی منتظرہوتب نہ امیدِسحرہواورنہ جیون کی طلب ہوتب جواک اندھے سے اوربنجرسے رستے پرمسافرہے وہ جوصدیوں سے تنہاہے کسی کی راہ تکتاہے یہ ممکن ہے کہ جب سورج نکل آئے تواس کی شام ڈھل جائے یہاں پرصبح توہوگی یہاں

PostHeaderIcon نظم ۔۔ اجنبی مسافر تم PostDateIcon June 9th, 2015



اجنبی مسافر تم اجنبی سی راہوں کے اجنبی مسافر تم اجنبی سی راہوں کے اجنبی مسافر ہم جانے کتنی صدیوں سے زندگی کے رستے پر اوراس سفرمیں تم ایک پل کورکتے ہو اجنبی سی راہوں کی اجنبی مسافت میں دردکی صداؤں کو ایک سازدیتے ہو سرپھری ہواؤں کو دل کے اس دریچے میں وصلِ جاں

PostHeaderIcon ۔۔ تو میَں تقدیر سے پوچھوں ۔۔ نظم PostDateIcon May 24th, 2015



کبھی تقدیر گر میری مجھے رستے میں مل جائے کبھی بھولے سے ہی گَر وہ مری بستی میں آجائے مرے گھر کا پتہ پوچھے کبھی مجھ سے کہے آکر کہ میں تقدیر ہوں تیری بتا کیا چاہئے تجھ کو؟ خوشی درکار ہے تجھ کو؟ ہنسی درکار ہے تجھ کو؟ وفا درکار ہے تجھ کو ؟

PostHeaderIcon تخت نشین تھی عشق کی پھر بھی، دل کی بازی ہاری سائیں PostDateIcon May 23rd, 2015



تخت نشین تھی عشق کی پھر بھی، دل کی بازی ہاری سائیں تیرا مذہب دنیا داری، میں الفت کی ماری سائیں مثلِ خوشبو مہکی تھی مَیں، اس کے وصل کی چھاؤں میں کل سر پر تپتی دھوپ کھڑی اب ، ساتھ میں ہجر کی باری سائیں ہر اک موڑ پہ دل نے تجھ کو کیسے

PostHeaderIcon وابستگان ملتا ن کی تعا رفی تقریب PostDateIcon May 14th, 2015



PostHeaderIcon سکھی آج یہ کیسی نیند آئی PostDateIcon May 12th, 2015



سکھی آج یہ کیسی نیند آئی بے خواب آنکھوں کو خواب میں اُس بچھڑے ماہی کی دید آئی اب ڈر کے نہ میں آنکھیں کھولوں اک لفظ نہ خواب میں بھی بولوں کہیں اُس سے بچھڑ نہ جاؤں میں جیتے جی مر ہی نہ جاؤں میں

PostHeaderIcon چاندنی چپ رہی ، روشنی چپ رہی PostDateIcon May 11th, 2015



چاندنی چپ رہی ، روشنی چپ رہی میری ہر بات پر زندگی چپ رہی ہم تو گھٹ گھٹ کے اک روز مر جائیں گے اس گھٹن میں اگر آنکھ بھی چپ رہی درد میرا بیاں اِن سے کب ہو سکا شعر خاموش تھے ، شاعری چپ رہی اک یقیں تھا پلٹ آئے گا وہ ابھی

PostHeaderIcon نظم ۔۔ سہارا ماں ہے PostDateIcon May 10th, 2015



دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہے میں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے اُس کے قدموں میں جو جنت ہے تو مطلب یہ ہے آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے خوشبو ایسی کہ مری روح تلک مہکی ہے روشنی ایسی کہ بس نور کا دھارا ماں ہے تپتے صحراؤں

PostHeaderIcon نظم ۔۔ اے مرے مہرباں! PostDateIcon May 8th, 2015



پوچھتی ہوں تمہیں اک سوال آج میں پوچھتی ہوں وہ لمحے کہاں ہیں بھلا جو ترے پاس تھے جو مری آس تھے میرے لمحے بھلا دھول کیسے ہوئے ؟ خواب وہ وقت کی دھول کیسے ہوئے ؟ کیسے بجھنے لگے تھے ستارے سبھی؟ کیسے جگنو اندھیروں میں خود کھو گئے ؟ تتلیاں پھول سے دور

PostHeaderIcon زندگی میں زندگی دکھ بھر گئی PostDateIcon May 7th, 2015



زندگی میں زندگی دکھ بھر گئی روشنی آنکھوں کی مدھم کر گئی اتنا سناٹا تھا میری روح میں میں تو اپنے آپ سے بھی ڈر گئی میرے عارض جس سے دمکے تھے کبھی ایک دن وہ آرزو بھی مر گئی ہر طرف اک پیاس کا صحرا تھا بس جس طرف بھی میری چشمِ تر گئی

PostHeaderIcon دل کو ذرا قرار تھا وہ بھی نہیں رہا PostDateIcon May 6th, 2015



دل کو ذرا قرار تھا وہ بھی نہیں رہا آنکھوں کو انتظار تھا وہ بھی نہیں رہا وہ ساتھ تھا تو ساتھ میں میری بھی ذات تھی میرا کہیں شمار تھا، وہ بھی نہیں رہا اُس سے ہوئے جدا تو پھر خود کو بھی کھو دیا خود پر جو اعتبار تھا وہ بھی نہیں رہا

PostHeaderIcon یوں تیری قربت بھلا رہی ہوں PostDateIcon April 23rd, 2015



یوں تیری قربت بھلا رہی ہوں کہ جیسے دنیا سے جا رہی ہوں رہے تری بے رخی سلامت میں رسمِ الفت نبھا رہی ہوں کسی کی یادیں سلا کر اب تک میں خود کو کیوں کر جگا رہی ہوں کوئی مجھے روز توڑتا ہے میں روز خود کو بنا رہی ہوں وہ بات جو بات

PostHeaderIcon ڈیرہ غازی خان میں‌تقریبات PostDateIcon April 20th, 2015



PostHeaderIcon محبت کی شاعرہ ۔۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے تاثرات PostDateIcon April 18th, 2015



آج کا اردو شاعر اس عبوری دور میں سانس لے رہا ہے ‘ جہاں اس کے پیچھے کلاسیکی غزل کی وہ تابناک روایت بھی ہے جو بیسویں صدی کے شروع میں ہی ختم ہوگئی اور پھر وہ اندھا کنواں بھی ہے جس میں سکہ بند روائتی غزل آج تک ڈوبی ہوئی ہے۔ڈاکٹر نجمہ شاھیں کھوسہ

PostHeaderIcon مجھے جانا ہے جاناں کی طرف PostDateIcon April 7th, 2015



اے دل میرے ، ناشاد مرے ہمزاد مرے، برباد مرے اک عمر سے اس زندان میں ہوں پر کھول مرے آزاد تو کر مرے پیروں میں زنجیرِ وفا اسے توڑ ذرا ،مجھے جوڑ ذرا مجھے جینے کی تہذیب تو دے مری سانسوں کو ترتیب تو دے اب خود کوذرا تُو شاد تو کر مجھے جیون

PostHeaderIcon کہاں سے ٹوٹی ہوئی ہوں مَیں اور ابھی تلک ہوں کہاں سلامت PostDateIcon April 7th, 2015



کہاں سے ٹوٹی ہوئی ہوں مَیں اور ابھی تلک ہوں کہاں سلامت فریبِ ہستی میں رہنے والے رہے ترا یہ جہاں سلامت نہ کوئی بستی یہاں سلامت ،نہ اس میں کوئی مکاں سلامت یہی بہت ہے ہر ایک چہرے پہ بس ہے اشکِ رواں سلامت پگھل چکا ہے وجود سارا ، سلگ رہی ہے ہماری ہستی

PostHeaderIcon دمان کے توانا لہجے کی شاعرہ ۔۔ تحریر ۔۔ قاسم شہانی PostDateIcon April 7th, 2015



PostHeaderIcon زخم اپنے گلاب کر دینا PostDateIcon April 6th, 2015



زخم اپنے گلاب کر دینا روح کو ماہتاب کر دینا ڈال کر اک نظر محبت کی وقت کو لا جواب کر دینا روح کے زخم روشنی دیں گے ہجر کو آفتاب کر دینا پتھروں سے اگر جو بچنا ہو عکس کو بھی سراب کر دینا باب لکھنا ہو زندگی کا اگر چاہتوں کو نصاب کر

PostHeaderIcon گائنی کانفرنس لاہور ۔۔ 13 تا 15 مارچ 2015 PostDateIcon March 30th, 2015



PostHeaderIcon خواتین کانفرنس اور مشاعرہ اسلام آباد PostDateIcon March 30th, 2015



PostHeaderIcon مشاعرہ انٹرنیشنل رائیٹرز کونسل لاہور PostDateIcon March 30th, 2015



12►

PostHeaderIcon کل پاکستان مشاعرہ ملتان ۔ 26 ما رچ 2015 PostDateIcon March 30th, 2015



PostHeaderIcon البم .. ادبی تنظیم ’’ آنچل ‘‘ کے زیر اہتمام تقریبات PostDateIcon March 25th, 2015



123►

PostHeaderIcon لاہور ۔۔ 14 مارچ 2015 ۔۔ PostDateIcon March 15th, 2015



PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔ دوسرا حصہ ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ PostDateIcon February 11th, 2015



PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔ پہلا حصہ ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ PostDateIcon February 11th, 2015



PostHeaderIcon PostDateIcon February 9th, 2015



PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔ PostDateIcon February 9th, 2015



PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔ PostDateIcon February 7th, 2015



PostHeaderIcon شاہ عبداللطیف یونورسٹی خیر پور میں اردو کانفرنس اور عالمی مشاعرہ PostDateIcon January 26th, 2015



123►

PostHeaderIcon جو نوحے کسی کی جدائی پہ لکھے PostDateIcon January 11th, 2015



جو نوحے کسی کی جدائی پہ لکھے زمانے کی ہرزہ سرائی پہ لکھے وہ سب زخم اب پھول بننے لگے ہیں مرے ہجر پر اُس کی یادوں کے دیپک بہت ہنس رہے ہیں مچلنے لگے ہیں یہ دل ایک بنجر زمیں کی طرح تھا یہاں ہم نے جو اشک بوئے تھے اک شب وہ اب

PostHeaderIcon میری پہلی نظم ۔۔۔ملاقات آخری PostDateIcon December 12th, 2014



مجھ کو رہے گی یاد ملاقات آخری ہونٹوں پہ رہ گئی تھی کوئی بات آخری  آنکھوں کے دشت میں تھے نگینے سجے ہوئے  چاہت کی جس طرح سے ہو سوغات آخری  ٹھہرا ہوا سا د ن تھا اور  گہری اداس شام  دل کے نگر میں چھائی تھی  جذبوں کی وہ نمی  بھولوں گی کس طرح

PostHeaderIcon دائمی ہے عشق اور اک دائمی آواز ہے PostDateIcon November 22nd, 2014



دائمی ہے عشق اور اک دائمی آواز ہے میرے کانوں میں ابھی تک بس وہی آواز ہے ساتھ میرے رات بھر جو جاگتی آواز ہے کون جانے یہ تو میری روح کی آواز ہے ہجر کے لمحوں میں اب تک یہ خبر کب ہو سکی جاگتی ہوں میں یا کوئی جاگتی آواز ہے ہجر جیسے

PostHeaderIcon سُن میری سہیلی ،بات تو سُن PostDateIcon November 11th, 2014



سُن میری سہیلی ،بات تو سُن کٹی کیسے عمر کی رات تو سُن اک شام کی لالی اوڑھ کے جب اک یاد میں خود کو توڑ کے جب میں آئینہ بن کر کھڑی رہی گویا اس ہجر کے زیور میں مَیں موتی بن کر جڑی رہی مہ و سال کے دیپک بجھ بھی گئے اک

PostHeaderIcon تُو نے کس کی خاطر شعر کہے PostDateIcon November 11th, 2014



تُو جانتا ہے ہمزاد مرے اے دل میرے، ناشاد مرے جس نام کے سارے حرفوں کو اور نظم کے سارے مصرعوں کو اے دل تُو نے سو بار لکھا اور عشق کے زرد سے موسم کو ہر بار مثالِ بہار لکھا پر آج ترے چارہ گر نے اے دل تیرے کوزہ گر ان عشق مسافت

PostHeaderIcon شاعرہ جادو والی ۔۔ جاوید احسن PostDateIcon November 6th, 2014



اُس کی آنکھوں میں عجب چیز ہے جادو والی لوگ کہتے ہیں جسے شاعرہ خوشبو والی گنگ جذبوں کی زباں ہے گھنے ابرو والی بھیگے موسم میں لچکتے قد و گیسو والی اس کے ہر شعر میں احساس کی لو روشن ہے اس کے ہر اشک میں تنویر ہے جگنو والی منتظر دشت میں ہے

PostHeaderIcon کوچہ ء عشق سے اس طرح رہا بھی کیوں ہوں PostDateIcon November 6th, 2014



آج تھک ہار کے ہم نے تو عجب سوچا ہے تیری یادوں سے کہیں دور بہت دور کہیں ایسی نگری میں ہی اب جا کے بسیرا کر لیں ہجر لمحہ نہ جہاں گریہ کناں ہو کوئی تری یادوں سے نہ اٹھتا سا دھواں ہو کوئی ایسی بستی نہ جہاں وصل تمنا جاگے اور کبھی دل

PostHeaderIcon جاوید احسن ۔۔ جمالِ صحرا سے چشمِ غزال تک ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ PostDateIcon October 15th, 2014



5؍ اکتوبر بروز اتوار میں اپنی امی کے ہاں میلاد میں شامل ہونے کے بعد مغرب کی نماز پڑھ رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی ، میرے بیٹے نے فون اٹھایا اور جب میں نماز پڑھ چکی تو اس نے اطلاع دی کہ آنٹی بشری قریشی کا فون تھا وہ اطلاع دے رہی تھیں

PostHeaderIcon اپنے پیروں کے چھالوں اور دل کے زخم کو پھول لکھا PostDateIcon October 2nd, 2014



اپنے پیروں کے چھالوں اور دل کے زخم کو پھول لکھا ہم نے وصل کی خواہش کو بہکے جذبوں کی بھول لکھا ہم تقدیر کی چال کو تال بنا رقص کناں تو ہیں وقت نے در بدری کو ہمارے جیون کا معمول لکھا

PostHeaderIcon اُس گلی کے راستے کے اور گھر کے درمیاں PostDateIcon September 20th, 2014



اُس گلی کے راستے کے اور گھر کے درمیاں ہو گئی تقسیم میں زیر و زبر کے درمیاں جرم بس یہ تھا کہ منزل کا تعین کر لیا پھر سدا رہنا پڑا ہم کو سفر کے درمیاں اے خدا دہکی ہوئی اس آگ سے نکلوں گی کب؟ تھک گئی میں چاک اور اک کوزہ گر

PostHeaderIcon مشاعرہ جشن آزادی ۔۔ 12 اگست 2014 PostDateIcon August 19th, 2014



PostHeaderIcon مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی PostDateIcon August 17th, 2014



مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی کس گلی میں رہ گئیں وہ قربتیں نکھری ہوئی اب مہک تیری مری ہر پور میں یوں رچ گئی منتظر ہیں آنکھ میں کچھ حیرتیں دہکی ہوئی ہجر کی وحشت نے دل کو کر دیا رنجور اب بھولتی جاتی ہوں میں اب صورتیں دیکھی ہوئی اب

PostHeaderIcon سال تو کم ہیں مقدر میں ترے صدیاں چاہوں PostDateIcon July 4th, 2014



سال تو کم ہیں مقدر میں ترے صدیاں چاہوں غم کبھی بھی نہ ملیں ایسی میں خوشیاں چاہوں خار تقدیر بنیں گردِ سفر کی جاناں تیرے حصے میں فقط پھول اور کلیاں چاہوں اس سفر میں تجھے رستے ملیں اجلے اجلے راہ میں جتنی بھی روشن ہیں وہ گلیاں چاہوں یہ جو خوشیوں کا نگر

PostHeaderIcon زمیں ملے کہیں ہمیں ، کہیں تو آسماں ملے PostDateIcon June 14th, 2014



زمیں ملے کہیں ہمیں ، کہیں تو آسماں ملے دکھوں کی دھوپ میں شجر کوئی تو مہرباں ملے ترے فراق میں جئے ، ترے فراق میں مرے چلو یہ خواب ہی سہی ، وصال کا گماں ملے الم کی شام آگئی ، لو میرے نام آ گئی چراغ لے کے راہ میں اے کاش مہرباں

PostHeaderIcon گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی PostDateIcon June 4th, 2014



گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی مَیں چاہتوں کی ریاضتوں میں تمہیں ملوں گی تم اپنی منزل کے راستوں میں جو دیکھ پاؤ تو راستوں کی صعوبتوں میں تمہیں ملوں گی نہیں ملوں گی کسی بھی وصل آشنا سفر میں مَیں ہجر موسم کی شدتوں میں تمہیں ملوں گی کہ مَیں نے چاہت

PostHeaderIcon ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ ، فن اور شخصیت ۔۔ حسنین کامران PostDateIcon March 31st, 2014



PostHeaderIcon نظم ۔۔ جب بھی میری تصویر دیکھے PostDateIcon March 2nd, 2014



اسے کہو جب بھی وہ میری تصویر دیکھے میری آنکھوں میں چھپے گرداب پڑھ لے مرے بے رنگ ہونٹوں کی خموش زباں کو سمجھے اور میری ژویدہ پیشانی مانند کتاب پڑھ لے میرے اوراق میں بکھرے ہوئے لفظوں کو سمیٹے گردش دوراں سے جو ملے وہ عذاب پڑھ لے میرے شب و روز کا محور

PostHeaderIcon تسبیحِ محبت ۔۔ نظم PostDateIcon February 22nd, 2014



میں نے برسوں عشق نماز پڑھی تسبیحِ محبت ہاتھ لئے چلی ہجر کی میں تبلیغ کو اب تری چاہت کی آیات لئے اک آگ وہی نمرود کی ہے میں اشک ہوں اپنے ساتھ لئے مجذوب ہوا دل بنجارہ بس زخموں کی سوغات لئے دل مسجد آنکھ مصلیٰ ہے بیٹھی ہوں خالی ہاتھ لئے اے کاش

PostHeaderIcon ہجر اثاثہ رہ جاتا ہے PostDateIcon November 17th, 2013



ہجر اثاثہ رہ جاتا ہے ہاتھ میں کاسہ رہ جاتا ہے جب امید نہ باقی ہو تو صرف دلاسہ رہ جاتا ہے زخم بہت سے مل جاتے ہیں وقت ذرا سا رہ جاتا ہے دل سے درد نکل کر بھی تو اچھا خاصا رہ جاتا ہے موجیں جب بھی چھو کر گزریں ساحل پیاسا رہ

PostHeaderIcon کس کی آس امید پہ اے دل! آنکھیں روز بچھاتے ہیں PostDateIcon September 17th, 2013



کس کی آس امید پہ اے دل! آنکھیں روز بچھاتے ہیں دن بھر اس کی راہ تکتے ہیں، شب بھر دئیے جلاتے ہیں خون کے آنسو روتے ہیں، فرقت کی لمبی راتوں میں شب بھر تارے گنتے ہیں، ہم چاند سے آنکھ چراتے ہیں صدیوں سے ہے ریت ہماری اور ہمارا شیوہ بھی چاہے جتنی

PostHeaderIcon زحمت کبھی کبھی تو مشقت کبھی کبھی PostDateIcon September 12th, 2013



زحمت کبھی کبھی تو مشقت کبھی کبھی لگتی ہے زندگی بھی مصیبت کبھی کبھی پہلو میں جاگتی ہے محبت کبھی کبھی آتی ہے ہاتھ درد کی دولت کبھی کبھی اب تک ترے بغیر مَیں زندہ ہوں کس طرح ہوتی ہے اپنے آپ پر حیرت کبھی کبھی اک پل کا جو وصال تھا اُن ماہ و

PostHeaderIcon پھر مصر کے بازار میں نیلام ہوا کیوں؟ PostDateIcon September 12th, 2013



پھر مصر کے بازار میں نیلام ہوا کیوں؟ اے عشق بتا تیرا یہ انجام ہوا کیوں؟ ہم باعثِ راحت جسے سمجھے تھے وہ لمحہ اب اپنے لئے باعثِ آلام ہوا کیوں؟ اے عشق فلک پر تجھے لکھا جو خدا نے پھر تیرا مقدر بھلا ابہام ہوا کیوں؟ اے عشق ترا نام ہے جب سچ کی

PostHeaderIcon کیسے کہیں کہ کیسے گزاری ہے زندگی PostDateIcon September 12th, 2013



کیسے کہیں کہ کیسے گزاری ہے زندگی کیا بوجھ تھی کہ سر سے اتاری ہے زندگی مقتل تھے گام گام یہ رستہ طویل تھا اپنے لہو سے ہم نے سنواری ہے زندگی کرتی ہے خود تلاش یہ کانٹوں کا راستہ اس واسطے سکون سے عاری ہے زندگی قائم ہے ایک فاصلہ دونوں کے درمیاں شک

PostHeaderIcon نظم ۔۔ بس ایک لمحہ اگر مل جائے PostDateIcon September 9th, 2013



پھر رت یہ جدائی کی میرا گیت نہ ہو جائے کہیں ساز محبت ہی رِیت نہ ہو جائے منظر یہ بچھڑنے کا نہ آنکھوں میں ٹھہر جائے پھر پھول کی خوشبو نہ ہواؤں میں بکھر جائے اک بار گلے مل کے ذرا کھل کے تو رو لوں میں دامن یہ محبت کا اشکوں سے پرو

PostHeaderIcon پیار کی کب ہو سکیں شنوائیاں PostDateIcon September 8th, 2013



پیار کی کب ہو سکیں شنوائیاں راہ میں تھیں منتظر رسوائیاں دے گئیں مجھ کو بہت تنہائیاں اس دلِ نادان کی دانائیاں کل خوشی کی چاہ میں مچلا تھا دل آج ہیں بس درد کی تنہائیاں طالب و مطلوب جب موجود ہیں کھو گئیں کیوں عشق کی سچائیاں دل بھی پتھر آنکھ بھی پتھرا گئی

PostHeaderIcon شام کی دہلیز پر لیں درد نے انگڑائیاں PostDateIcon September 8th, 2013



شام کی دہلیز پر لیں درد نے انگڑائیاں جاگ اٹھے ہیں غم سبھی اور رو پڑیں تنہائیاں راستوں پر خاک ہے ، پھولوں سے خوشبو کھو گئی دن کا اب امکاں نہیں ہے کھو گئیں رعنائیاں جب وفا گھائل ہوئی ، دنیا میں جب سائل ہوئی گم ہوئیں خوشیاں سبھی ہم کو ملیں رسوائیاں ساری

PostHeaderIcon ہر گھڑی درد کی شدت سے بلکتی آنکھیں PostDateIcon September 8th, 2013



ہر گھڑی درد کی شدت سے بلکتی آنکھیں آتشِ ہجر سے ہر لمحہ پگھلتی آنکھیں ایک لمحے کی ملاقات ہوئی عمر کا روگ اُس کی صورت کوہیں ہر وقت ترستی آنکھیں دلِ بے تاب میں اب تک وہ مچلتی خواہش تیری خوشبو سے مسلسل یہ مہکتی آنکھیں خواب میں ٹھہرا ہوا جھیل کا وہ نیلا

PostHeaderIcon درد مسافر ٹھہر گیا تھا اکھیوں کی حیرانی میں PostDateIcon September 8th, 2013



درد مسافر ٹھہر گیا تھا اکھیوں کی حیرانی میں صرف محبت بہتی تھی اور ساتھ یہ اشک روانی میں کیسے ہوا اور کب یہ ہوا کچھ خبر نہیں تھی دل کو تو ایک محبت جاسوئی تھی وحشت میں، ویرانی میں درد کی شدت اور بڑھی تھی شہرِ وفا کی شاموں میں اور ویرانی بیٹھ گئی

PostHeaderIcon پت جھڑ میں، خزاؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں PostDateIcon September 8th, 2013



پت جھڑ میں، خزاؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں میں زرد فضاؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں بھرنے ہیں کئی رنگ مجھے اپنے د یئے میں کیوں تیز ہواؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں نکلی ہوں کسی دُھن میں کسی یادکو لے کر اوراجڑی اداؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں میں خاک نشیں آج بھی

PostHeaderIcon مجھے جب بھی وہ گلیاں اور وہ رستہ یاد آتا ہے PostDateIcon September 8th, 2013



مجھے جب بھی وہ گلیاں اور وہ رستہ یاد آتا ہے کوئی دھندلا سا منظر ہے جو اجلا یاد آتا ہے فضائے دل پہ طاری ہے بہت ہی حبس کا موسم تری قربت کی خوشبو کا وہ جھونکا یادآتا ہے کہا تم تو جدائی کا وہ منظر بھول بیٹھے ہو خلا میں دیکھ کر مجھ

PostHeaderIcon حنائی رنگ، غنائی آہنگ ۔۔ بشریٰ رحمٰن PostDateIcon September 7th, 2013



ڈاکٹرنجمہ شاہین کی شاعری کا رنگ حنائی ہے ۔حناہمیشہ دو رنگوں کا امتزاج ہوتی ہے ۔حیا دار سبز رُتوں کے اندر جذبوں کا سرخ رنگ بھینی بھینی خوشبو دیتا ہے تو غنائی سُر بیدار ہونے لگتے ہیں۔جو سہاگ کی گت پہ ملن کے گئت چھیڑ دیتے ہیں اوروراگ کے موسم میں ہجر کی کافیاں سناتے

PostHeaderIcon ہم نے عشق جذبوں کی جاگیر بکتے دیکھی ہے PostDateIcon September 7th, 2013



ہم نے عشق جذبوں کی جاگیر بکتے دیکھی ہے بہت انمول چہروں کی توقیر بکتے دیکھی ہے میں ان بے خواب آنکھوں میں سجاؤں کس طرح انکو کہ میں نے مہنگے خوابوں کی تعبیر بکتے دیکھی ہے عشق ایک موسم ہے اور میں نے ایسے موسم میں کیسے کیسے رنگوں کی تصویر بکتے دیکھی ہے

PostHeaderIcon نظم ۔۔ ایک سوال PostDateIcon September 7th, 2013



دیکھ مسیحا میرے لب پر کب سے ایک سوال کیسے چھیلوں اپنی آنکھ سے میں اس غم کی چھال ایک پرندہ قید میں ہے اک مدت سے بے حال اندر ہجر کا موسم ہے اور باہر وصل کا جال جنم جنم کے بچھڑے چل کر ایک نکالیں فال کتنے موسم باقی ہیں اور کتنے ماہ

PostHeaderIcon عجیب سی رتیں تھیں اور عجب ہی پیرہن ملا PostDateIcon September 7th, 2013



عجیب سی رتیں تھیں اور عجب ہی پیرہن ملا کہ لوگ پھول مانگتے تھے اور انہیں کفن ملا گلی گلی میں بس رچی ہوئی ہے خون کی مہک یہ موسم بہار بھی عجب، تجھے وطن ملا ہر ایک اپنی ذات کے حصار میں اسیر تھا کہ خود فریبیوں میں ہی ہر ایک موجزن ملا میں

PostHeaderIcon بشریٰ رحمٰن کا ناول دانا رسوئی ۔ ایک تجزیہ ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ PostDateIcon September 6th, 2013



محترمہ بشریٰ رحمن ان اہل قلم میں سے ہیں جو جن کا نام کسی تعارف اور جن کی تحریریں کسی تحسین کی محتاج نہیں ۔ وہ ناول لکھیں، افسانہ لکھیں یا کالم۔ انہیں ہمیشہ معتبر اہل نظر سے داد ہی ملتی ہے۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ گرد و پیش کے مناظر کو

PostHeaderIcon محترمہ ثمر بانو ہاشمی کی یاد میں ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ PostDateIcon September 6th, 2013



ثمر بانو ہاشمی کی زندگی مسلسل محنت سے عبارت تھی ۔انہوں نے عاصی کرنالی جیسے بڑے شاعر کے ساتھ زندگی بسر کی ۔ ہمارے معاشرے میں عمومی رویہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی شاعر یا ادیب کی زندگی اور کامیابیوں کا جب احوال بیان کرتے ہیں تو ان کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس

PostHeaderIcon رضی ۔۔ محبت دین ہے جس کا ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ PostDateIcon September 6th, 2013



رضی الدین رضی! عصر حاضر کا ایک ایسا تخلیق کار ،دانشور ،ادیب اورصحافی جس کے ہر لفظ میں سچائی ہے۔ خود اعتمادی، حاضردماغی، برجستگی، شرارت و ظرافت کی شائستگی اپنے افکار و نظریات سے وابستگی پہ ایمان، حق گوئی، سچائی ، حق شناسی ،بے لوس انس و اپنائیت اورخلوص ۔یہ تمام اوصاف یکجا ہو جائیں

PostHeaderIcon البم .. مختلف ویب سائیٹس پر کلام PostDateIcon September 4th, 2013



123►

PostHeaderIcon البم .. میرا کلام میرے ڈیزائین PostDateIcon September 4th, 2013



PostHeaderIcon دسمبر ترا نام تو ہجر ہوتا ۔ PostDateIcon December 10th, 2016



نہ جانے ادیبوں‌ شاعروں نے دسمبر پر کیسے رومانوی نظمیں کہہ ڈالیں‌؟ کیسے اسے اپنی غزلوں کا موضوع بنا لیا؟ ۔۔ ہمیں تو جب بھی یہ ستم گر ملا اس کے دامن میں ہجر ہی ہجر ملا ۔۔ اس کی آہٹوں میں ، اس کی یخ بستہ راتوں اور کہر آلود صبحوں میں بس بین

PostHeaderIcon From Newspaper PostDateIcon December 3rd, 2016



My Facebook
Counter
Total Visits: Total Visits