PostHeaderIcon اس کی طلب میں راہ کو تکتی ہے زندگی

شیئر کیجئے

اس کی طلب میں راہ کو تکتی ہے زندگی
آنکھوں میں وقت شام چمکتی ہے زندگی

تیرے لئے جب آنکھ برستی ہے رات کو
پھردل کے ساتھ ساتھ سلگتی ہے زندگی

دکھ سے نڈھال ہوکے جب روتی ہیں بیٹیاں
پھر ان کے لیکھ دیکھ کر ہنستی ہے زندگی

جواک خیال باعث آزار بہت ہے
اس اک خیال سے ہی چہکتی ہے زندگی

کس سے کریں یہ بات کہ جو حال ہیں یہاں
خاموش اگر ہو ں تو بلکتی ہے زندگی

رستوں کوسوچ سوچ پریشان ہیں سبھی
منزل کوکھوج کھوج سسکتی ہے زندگی

چاہت کے جوبھی زخم ہیں رکھیئے سنبھال کر
ان کی ہی باس سے تومہکتی ہے زندگی

اس نے دیا تھا ایک دیا راہ کے لئے
کب تک جلے گاآج توتھکتی ہے زندگی
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہbilakti-zindagi-300x260


شیئر کیجئے


تبصرہ کریں



My Facebook
Counter
Total Visits: Total Visits