PostHeaderIcon اور وہ چلی گئی۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

شیئر کیجئے

aor-woh-5th-december
ابھی اپنی بے چینی کو قراردینے کے لئے کاغذ ،قلم لے کے بیٹھی ہی تھی کہ ایک بُر ی خبر نے آنکھیں مزید نم کر دیں۔آج کادن ویسے بھی میرے لیے انتہائی نامعتبر ہے کیونکہ معتبر زمانے کیلئے کسی بیٹی کی پیدائش شاید اتنی معتبر نہیں ہوتی۔چاہے وہ بیٹی دنیا میں لائق ترین ہویا شہزادی ہی کیو ں نہ ہو۔5دسمبر کو مجھے نہیں یا د کہ میں نے کبھی خوشی محسوس کی ہو۔ایک خاموش سی اداسی نے ہمیشہ اس دن کوسوگوارکیااور اس کی شام کو کربناک بنایا۔میں لوگوں کو ان کی سالگرہ کی خوشیاں مناتے دیکھتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں لیکن ضروری تونہیں کہ میری آنکھ کی حیرانی بجا ہو۔آخر یہ دن یادگارہوتاہے تو لوگ خوشیاں مناتے ہیں۔یہ دنیا میں ان کی آمد کادن ہوتا ہے۔ تو پھر بھلا وہ کیوں نہ خوش ہوں۔اگر میں نہ ہوتی تو شایدیہ صدیوں سے بھٹکتی اداسی کسی اور روح میں سما جاتی۔ڈاکٹر آمنہ وقار میرے شہر کی ایک نامور،معتبر ہستی ،ایک ایسی ڈاکٹر کہ جب وہ پریکٹس کررہی تھیں تو نہ جانے میرے جیسی کتنی ڈاکٹرز ان پر رشک کرتی تھیں۔ہروقت ہنسنے مسکرانے والی،ابھی کچھ ہی دن ہوئے کہ میری ایک سٹاف ممبر نے مجھے اطلاع دی کہ ڈاکٹر آمنہ وقارآئی ہیں ۔میں دس منٹ پہلے ہی ظہر کی نمازپڑھنے کیلئے ہسپتال سے ملحقہ اپنے گھر میں آئی تھی۔میں ان کی آمد کی اطلاع پر کچھ حیران ہوئی کیونکہ میرا خیال تھا کہ ڈاکٹر آمنہ کچھ نک چڑھی اور مغرورخاتون ہیں جواپنی ساتھیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتیں۔بہرحال میں نے سٹاف سے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں تو اس نے بتایا کہ انہیں آفس میں بٹھا دیا ہے۔میں نے کہا انہیں جلدی سے گھر لے آؤ ۔ڈاکٹر صاحبہ جیسے ہی گھر آئیں تو اتنے والہانہ انداز میں ملیں جیسے مجھ سے برسوں کی شناسائی ہو۔ ان کا وہ ہنستا مسکراتا چہرہ اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ جس نے اپنے دل میں نہ جانے کتنادرد چھپا رکھاتھا۔آج وہ کینسر جیسے موذی مرض سے شکست کھاگئیں۔موت تو برحق ہے لیکن کبھی کبھار وہ ذہن و دل کواس طرح جھنجوڑ دیتی ہے کہ انسان خود کو بہت بے بس اور لاچارمحسوس کرتا ہے۔یوں تو کتنے ہی دل ہیں کہ جن کے اندر موت کارقص جاری ہے۔زندہ ہونے کے باوجود وہ زندہ نہیں۔اپنے سانس لینے پرمیری طرح حیران ہیں۔پریشان ہیں مگر اے موت تجھ سے شکوہ یہ ہے کہ تُو ان ہستیوں کو لے جاتی ہے جن کی ہمیں ضرورت ہے جن کی اس جیون کو ضرورت ہے ۔ اے موت تُو اپنا سفر بے شک جاری رکھ لیکن ذرا دھیرے دھیرے ۔


شیئر کیجئے


تبصرہ کریں



My Facebook
Counter
Total Visits: Total Visits