PostHeaderIcon اے عشق تری توقیر ہے کیا

شیئر کیجئے

اے عشق تُو گردِ سفر بنا ، تری اور بھلا توقیر ہے کیا
تو خود ہی حسرت کا مارا ،ترا خواب ہے کیا تعبیر ہے کیا

اے عشق تُو بکتا رہتا ہے ،کبھی راہوں میں کبھی بانہوں میں
تُو بوجھ ہے دل کی دنیا کا ، مرے واسطے تُو جاگیر ہے کیا؟

اے عشق مزار پہ رقص ترا ، اور کتبوں پر ہے عکس ترا
تُو بجھتے دیے کا دھواں ہے بس ، تُو کیا جانے تنویر ہے کیا

تجھے سنا تھا میں نے قصوں میں ، اِ س تن پر تو اب جھیلا ہے
مرا روپ رنگ تو زرد ہوا ، مجھے خبر نہیں تصویر ہے کیا

تُو میم سے عین بنا تھا کیوں؟اب چین سے بین بنا ہے کیوں؟
میں اب تک پوچھتی پھرتی ہوں، مرے پیروں میں زنجیر ہے کیا

ان اشکوں کا تو ذکر ہی کیا، تجھے عشق لہو سے بھی لکھا
کبھی پڑھ تو سہی ان نوحوں کو، تجھے علم تو ہو تحریر ہے کیا

touqeer


شیئر کیجئے


5 تبصرے تا “اے عشق تری توقیر ہے کیا”

  • Dr. mohsin Mighiana کہتے ہیں:

    ؤاھ بہت ہی خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی پڑھ تو سہی ان نوحوں کو تجھے علم تو ہو تحریر ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Riaz Shahid کہتے ہیں:

    ماشائ اللہ ،، بہت ھی خوبصورت اور مکمل غزل ،، ھر شعر لاجواب اور خوبصورت خیال سے مزین ھے ،،، بہت سی داد ڈاکٹر صاحبہ آپ کے لییے ،، اور مزید یہ کہ شخصی ویب سائٹ کی مبارکباد بھی قبول کریں ،،، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  • اشفاق حسین کہتے ہیں:

    خو بصورت۔تخیل کی پروار خدا زیادھ کرے۔؟اے عشق توبکتا رہتا ہے راہون مین۔کبہی بازارون مین An alternate to suggest

  • حبیب اللہ خان کہتے ہیں:

    جدید اردو کی بہترین شاعرہ محترمہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسو ہیں۔ان کے کلام میں توازن ہے اور کہیں بھی جھول نہیں۔ان کا کلام فلسیفیانہ اور درد و الم سے بھرپور ہے۔

تبصرہ کریں



My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits