PostHeaderIcon زخموں سے کہاں ، لفظوں سے ماری گئی ہوں مَیں

شیئر کیجئے

زخموں سے کہاں ، لفظوں سے ماری گئی ہوں مَیں

زخموں سے کہاں ، لفظوں سے ماری گئی ہوں مَیں


زخموں سے کہاں ، لفظوں سے ماری گئی ہوں مَیں
جیون کے چاک سے یوں اتاری گئی ہوں مَیں

مجھ کو مرے وجود میں بس تُو ہی تُو ملا
ایسے تری مہک سے سنواری گئی ہوں میں

افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں
جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں

مجھ کو کیا ہے خاک تو پھر خاک بھی اُڑا
اے عشق تیری راہ میں واری گئی ہوں مَیں

لو آ گئی ہوں ہجر میں مرنے کے واسطے
اتنے خلوص سے جو پکاری گئی ہوں مَیں

میری صداقتوں پہ تمہیں کیوں نہیں یقین
سَو بار آگ سے بھی گزاری گئی ہوں مَیں

تم جانتے نہیں ہو اذیت کے کیف کو
ہجرت کے کرب سے تو گزاری گئی ہوں مَیں

مَیں مٹ چکی ہوں اور نمایاں ہوا ہے تُو
مُرشد خمار میں یوں خماری گئی ہوں مَیں

اس وجد میں موجود کہاں ہے مرا وجود
جانے کہاں پہ ساری کی ساری گئی ہوں مَیں

مقتل میں جان دینا تھی پیاروں کے واسطے
مَیں ہی تھی ان کو جان سے پیاری ۔۔گئی ہوں مَیں

یہ قرضِ عشق مَیں نے چکانا تھا اس لئے
شاہین اپنی جان سے واری گئی ہوں مَیں
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ


شیئر کیجئے


2 تبصرے تا “زخموں سے کہاں ، لفظوں سے ماری گئی ہوں مَیں”

  • علی محمد گوھر آف لندن انگلینڈ کہتے ہیں:

    کیا آپ مجھے اس رسالے کا لنک بھیج سکتے ہیں تاکہ میں پردیس میں ری کر اردو ادب کی پیاری پیاری تحریر دیکھ سکوں۔
    میں لندن انگلینڈ میں عرصہ سات سال سے رہ رھا ھوں۔ میرے سارے بچوں کو میں نے ادھر ھی سٹیل کرا دیا تھا۔
    زندگی کے 61 سال پاکستان میں گوجرخان شہر میں گزارے۔
    علی محمد گوھر گوھر واچ ایکسپرٹ گوجرخان حال مقیم ILFORD London

تبصرہ کریں



My Facebook
Counter
Total Visits: Total Visits