PostHeaderIcon مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی

شیئر کیجئے

مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی
کس گلی میں رہ گئیں وہ قربتیں نکھری ہوئی

اب مہک تیری مری ہر پور میں یوں رچ گئی
منتظر ہیں آنکھ میں کچھ حیرتیں دہکی ہوئی

ہجر کی وحشت نے دل کو کر دیا رنجور اب
بھولتی جاتی ہوں میں اب صورتیں دیکھی ہوئی

اب کہاں اور کس رفاقت میں مجھے لینی ہے سانس
شہر میں ملتی ہیں ہر جا فر قتیں بکھری ہوئی

وادیوں میں دل کی اب خاموش سی اک شام ہے
دشت میں کھو ہی گئیں وہ شدتیں مہکی ہوئی

پائی تھیں نے ہم نے کبھی رنگوں بھرے اس شہر میں
گم ہو ئیں چاہت بھری وہ نکہتیں نکھری ہوئی

mehki hui

mehki hui


شیئر کیجئے


ایک تبصرہ تا “مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی”

  • m arshad کہتے ہیں:

    drsahaba aup ki poetry dil ko choo laty hy aisa lagta hjasy yeh mere
    awaz hy u have
    long life with best wishes

تبصرہ کریں



My Facebook
Aanchal Facebook
Total Visits: Total Visits