PostHeaderIcon وہ ہلالِ عید کو دیکھ کر بھی اداس ہے

شیئر کیجئے

وہ ہلالِ عید کو دیکھ کر بھی اداس ہے
اسے یاد ہے کسی عید پر
کہیں چاہتوں کی نوید پر
کوئی کہہ گیا تھا اُسے کبھی
کہ میں چاند ہوں تری عید کا
مرے بن منانا نہ عید تُو
کہ میں آؤں گاترے پاس جب
کسی ایک وصل کے سال میں
کسی خواب میں کہ خیال میں
کبھی جس گھڑی مری دید ہو
وہی ایک پل تری عید ہو
وہی ایک لمحہ نوید ہو
اُسے یاد ہے وہ جو ایک لمحہ تھا عید کا
وہی ایک لمحہ نوید کا، کسی دید کا
وہی لمحہ اس کا حصار ہے
وہی لمحہ اب تک ادھار ہے
وہ ہلالِ عید کو دیکھ کر جو اداس ہے
اسے بس ملن کی ہی آس ہے
اُسے اب کسی سے گلہ نہیں
وہ جو ایک لمحہ ادھار تھا وہ ملا نہیں
مگر اس کو اب بھی یقین ہے
کہ جو چاند ہے کسی بام پر
وہ ملے گا اک دن اسے کہیں
کسی موڑپر ، کسی گام پر
وہ جو کہہ گیا تھا اسے کبھی
کہ میں چاند ہوں تری عید کا

udaaas eid


شیئر کیجئے


8 تبصرے تا “وہ ہلالِ عید کو دیکھ کر بھی اداس ہے”

  • حسنین ساحر کہتے ہیں:

    بہت خوبصورت نظم، ماشاءاللہ۔

  • ماشاللہ بھت خوب شاعری دل کو چھو لینے والی دل کی بات جیسے دل سے نکلی ھو

  • ڈاکٹر نجمہ شاہین سے کراچی میں ملاقات ہوئی اور انہیں سننے کا موقع ملا۔۔ ڈاکٹر صاحبہ جدید انداز میں غزل کہتی ہیں۔۔ ان کا انداز بیان بہت عمدہ ،، نفیس ہے ۔۔۔ ان سے ایک ملاقات میں ہی ، میں ان کا گروہ ہوگیا۔۔ زندگی میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے،، سننے اور ان سے بات کرنے کا من کرتا ہو ان میں ایک ڈاکٹر صاحبہ ہں۔۔ خوبصورت آواز کے ساتھ ساتھ خوبصورت تکلم بھی کرتی ہیں۔۔۔ چاند ہوں تیری عید کا بہترین نظموں میں سے ایک نظم ہے۔۔۔ نظم پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کتنی احساس طبعیت کی مالک ہیں ۔۔۔۔

  • Ch Zahoor Ahmed کہتے ہیں:

    Wah kamal shairy hy.
    DGKHAN ki zameen abhi zarkhaiz hy.heart touching poetry hy.

تبصرہ کریں



My Facebook
Aanchal Facebook
Total Visits: Total Visits