محفوظات برائے September, 2013

PostHeaderIcon آنچل کے زیرِ اہتمام مشاعرہ

روزنامہ نوائے وقت ملتان .. 18 ستمبر 2013

روزنامہ نوائے وقت ملتان .. 18 ستمبر 2013

PostHeaderIcon لاہور میں ایک تقریب

روزنامہ دنیا لاہور .. 18 ستمبر 2013

روزنامہ دنیا لاہور .. 18 ستمبر 2013

PostHeaderIcon نظم ۔۔ یہ مرا انت ہے

میرے مقتل کو جس دن سجایا گیا
بے بسی کو سہیلی بنایا گیا
ایک شہنائی کی دھن پہ جس روز اک
ماتمی گیت مجھ کو سنایا گیا
ایسے لمحوں میں نے تڑپتے ہوئے
آسماں کو پکارا مدد کے لئے
میں نے دیکھا فلک کے ستارے سبھی
میری حالت پہ بس مسکراتے رہے
چاند ہنستا رہا بس مجھے دیکھ کر

رات گزری تو سورج ابھرنے لگا
مجھ کو سورج سے اتنی سی امید تھی
گر یہ میری مدد کو نہ آیا تو پھر

یہ مری بے بسی پر ہنسے گا نہیں
یہ مگر کیا ہوا ؟
روشنی کی علامت یہ سورج جو ہے
میری تاریکیوں کو بڑھانے لگا
مجھ پہ ہنسنے لگا ، مسکرانے لگا

پھر زمیں کو مدد کے لئے میں نے آواز دی
اُس سے فریاد کی
’’اے زمیں قبر جتنی جگہ چاہئے
ایک حوّا کی بیٹی کی فریاد ہے
بس مدد چاہئے ، ہاں مدد چاہئے ‘‘
مجھ کو معلوم تھا یہ زمیں ماں ہے مجھ کو نہ ٹھکرائے گی
یہ مگر کیا ہوا وہ بھی ہنسنے لگی

میں نے تھک ہار کر پھر پکارا اُسے
وہ جو منسوب تھا
وہ جو محبوب تھا

جس کی خاطر یہ جیون زمانے میں اب اتنا معتوب تھا
یہ مگر کیا ہوا ، وہ بھی ہنسنے لگا
ہر طرف قہقہے ، ہر طرف قہقہے
پھول لاتا تھا میرے لئے جو کبھی
اُس گھڑی اُس کے ہاتھوں میں بھی سنگ تھا
یہ مرا انت ہے
یہ مرا انت تھا

PostHeaderIcon

PostHeaderIcon جب سے تجھ سے دور ہوئے ہم لفظ سے معنی بچھڑ گئے ہیں

جب سے تجھ سے دور ہوئے ہم لفظ سے معنی بچھڑ گئے ہیں
فصلِ گُل یہ کیسی آئی موسم دل کے اُجڑ گئے ہیں
میں کیوں تجھ کو ڈھونڈ رہی ہوں بخت کی ریکھاؤں میں آخر
وہ جو شجر تھے چاہت والے ، سب آندھی میں اکھڑ گئے ہیں

PostHeaderIcon ہنستے ہنستے ایک دن سب کو رُلا کر جاؤں گی

ہنستے ہنستے ایک دن سب کو رُلا کر جاؤں گی
زندگی تیرے ستم پر مسکرا کر جاؤں گی

ریزہ ریزہ کر گئیں مجھ کو تری یادیں مگر
ریت کی صورت انہیں میں اب اُڑا کر جاؤں گی

خشک پتوں کی طرح سے ہے مری جو زندگی
ہجر کے شعلوں میں اب اِس کو جلا کر جاؤں گی

میری آنکھوں پر ابھی تک ہے ترے خوابوں کا بوجھ
اِن کی گٹھڑی اپنی پلکوں پر اُٹھا کر جاؤں گی

قصہ گو سے جو مکمل ہی نہیں ہونی کبھی
اک نہ اک دن وہ کہانی میں سنا کر جاؤں گی

تجھ سے بڑھ کر کون ہے اپنا کہ اپناؤں جسے
اِن خیالوں کو گلے اپنے لگا کر جاؤں گی

جانے سے پہلے میں شاہیں توڑ دوں گی خواب کو
اور پھر تعبیر بھی خود ہی سُلاکر جاؤں گی

rula kr

rula kr

PostHeaderIcon ہر ایک خواب میں حرف و بیاں میں رہتا ہے

ہر ایک خواب میں حرف و بیاں میں رہتا ہے
وہ ایک شخص جو دل کے مکاں میں رہتا ہے

نہ دن نکلتا ہے اُس کا ،نہ شام ہوتی ہے
اب اِس طرح سے بھی کوئی جہاں میں رہتا ہے

یقین ہے کہ وہ مجھ پر یقین رکھتا ہے
گمان ہے تو وہ اب تک گماں میں رہتا ہے

میں اس طرح سے ہوں آزاد اپنی دنیا میں
کہ جیسے کوئی پرند آشیاں میں رہتا ہے

رکھا ہوا ہے حفاظت کے ساتھ اسے دل میں
میں بے امان ہوں ، وہ تو اماں میں رہتا ہے

PostHeaderIcon محبت نے مری ہستی میں خشتِ آستاں رکھ دی

محبت نے مری ہستی میں خشتِ آستاں رکھ دی
جبینِ شوق میں خوئے نیازِ دلبراں رکھ دی

متاعِ دین و ایماں ہے ہمارا داغِ پیشانی
وہیں پر بن گیا کعبہ جبیں اپنی جہاں رکھ دی

ہمارے زخمِ دل دیکھو گلابوں سے حسین ترہیں
خدا نے اپنے سینے میں بہار گلستاں رکھ دی

میں اپنی لوحِ دل سے کس طرح اس کو مٹا ڈالوں
مرے پہلو میں جس نے اپنی یادِ مہرباں رکھ دی

مجھے شاہینؔ اپنے گھر میں ہر نعمت میسر ہے
خدا نے اپنی رحمت سے ہر اک عیشِ جہاں رکھ دی

PostHeaderIcon بچھڑ کے اُس سے ابھی ہوں زندہ مگر بہت پر ملا ل اب تک

بچھڑ کے اُس سے ابھی ہوں زندہ مگر بہت پر ملا ل اب تک
خبر نہیں وہ سنبھل چکا ہے یا وہ بھی ہے خستہ حال اب تک

مجھے ترا انتظار کیوں ہے؟یہ دل مرا بے قرار کیوں ہے ؟
مرے خیال و نظر میں دیکھو یہی ہے بس اک سوال اب تک

کہا گیا وقت سارے زخموں کا آپ مرہم بنے گا اک دن
کہو کہ زخموں کوکیوں نہیں ہو سکا بھلا اند مال اب تک

کہاں یہ ممکن کہ بھول جاؤں میں زندگی کی حسین یاد یں
بتاؤں کیسے کہ ہجر میں ہوں ، میں رنج و غم سے نڈ ھال اب تک

میں ایک مشعل ، میں ایک جگنو، میں ایک شمعِ وفا ہوں شاہیں
مرے خدا نے رکھا ہواہے مجھے تو یوں خوش خیال اب تک

PostHeaderIcon نثری نظم ۔۔ میں بجھنے لگی ہوں

وہ کہتا
تم ہنستے اچھی لگتی ہو
تم ہمیشہ ہنستی رہنا
رونے والوں کا کبھی ساتھ نہ دینا
کہ رونے والے تو سبھی تنہا ہوتے ہیں
میں نے اس کی باتوں اس کے لفظوں کو
لوحِ دل پر لکھا
زمانے کے ساتھ ہنسنا
اور تنہائی میں روناسیکھا

مگر اب کوئی اسے بتائے
کہ یوں ہنستے روتے
میں تھک کر دیے کی لو کی طرح
اب بجھنے لگی ہوں
اندھیری رات کے اندھیروں میں ڈھلنے لگی ہوں

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits