محفوظات برائے October, 2013

PostHeaderIcon جب وفاؤ ں کا دیا جل کر دھواں ہو جائے گا

جب وفاؤ ں کا دیا جل کر دھواں ہو جائے گا
اپنا ہر نام و نشاں پھر بے نشاں ہو جائے گا

چھوڑ جائیں گے مکیں ، ہوں گی فقط محرومیاں
دشتِ وحشت میں یہ دل اجڑا مکاں ہو جائے گا

عمر بھر کے جس سفر کو رائیگاں کہتے ہو تم
اک نہ اک دن دیکھنا کارِ جہاں ہو جائے گا

چوٹ کھائیں گے کہیں اور غم رلائیں گے کہیں
مہرباں وقت اس طرح نا مہرباں ہو جائے گا

جب لکیروں میں ڈھلے گا میرے دل کا اضطراب
غم کہانی سے نکل کر داستاں ہو جائے گا

کیا خبر تھی میں سوالوں میں ہی بس کھو جاؤں گی
ایک لمحہ زندگی کا امتحاں ہو جائے گا

اک دیا جلتا رہے گا اِس میں اُس کی یاد کا
اور مرا دل عشق کا اک آستاں ہو جائے گا

ایک دن شاہیں مری آواز سن لیں گے سبھی
میرا ہر اک شعر میرا ترجماں ہو جائے گا

PostHeaderIcon مکالماتی نظم ۔۔آخری ملاقات کا منظر

میں کہتی کیسا لگتا ہے بعد برسوں کے
پھر اک حسیں ملاقات کا منظر
وہ کہتا !
دیکھ رہا ہوں اس دنیا میں قبول
حرفِ مناجات کا منظر
میں کہتی !
کیا اب بھی یاد ہے برسوں پہلے کے
اس آخری ملاقات کا منظر
وہ کہتا !
ذہن و دل پہ نقش ہے اب تک
ان اجلی آیات منظر
میں کہتی !
وہ کون تھاجس نے ہمیں برباد کیا ناشاد کیا
وہ کہتا !
بھول جاؤ گزرے ہوئے اْن تلخ لمحات کا منظر
میں کہتی!
تم بھی بے قرار سے لگتے ہو!
کس غم میں گُھلتے رہتے ہو
وہ کہتا !
آنکھوں میں رہتا ہے اب تک
اک اجڑی ہوئی بارات کا منظر
میں کہتی !
کس دیس گئے ، کیوں چاند بنے میری عید کا
وہ کہتا !
کیوں نقش ہوا تم پہ اب تک
پہلے پیار کی برسات کامنظر
میں کہتی !
کیا بھر جائیں گے کبھی یہ زخم جدائی کے
یہ ظلم تجھ ہر جائی کے
وہ کہتا !
بدلتا رہتا ہے پل پل میں
سبھی کے درجات کا منظر
وہ کہتا !
آؤ ہاتھ ملائیں ، وقت جدائی آ پہنچا ہے
بچھڑنا ہے پھر سے ، حکم خدائی آ پہنچا ہے
میں کہتی !
تجھ سے ہی تھا قائم میری حیات کا منظر
اب نہ بھولوں گی میں اپنی موت کی مدارات کا منظر
رہے گا قائم یہ موت و حیات کا منظر

30292_1449299478787_3501481_n

PostHeaderIcon نظم ۔۔ وہ رت اب نہ آئے گی

کبھی جو لوٹ کے تم آؤ گے جاناں
تم کو یاد آئیں گے دن وہ سارے
وہ بیتی باتیں وہ لمحے پیارے
جب انجانی ، ان دیکھی گلیوں میں
دو دل مہک رہے تھے
ایک منزل کے بن کے متلاشی
انجان راہوں میں بھٹک رہے تھے
یونہی بے دھیانی کے کسی ایک پل میں
جب بھی جاناں تم کو خیال آئیگا
بھول کے سارے اندیشہ و غم
دل تمہارا بھی مسکرائے گا
اور یونہی چلتے چلتے کبھی
جب ان راہوں سے گزرو گے جاناں
جہاں ایک شجر قصہ سنائے گا تم کو
دو روحوں کا ملنا دکھائے گا تم کو
وصل و فراق کی روداد وہ ساری
ٹھہر ٹھہر کے سسکیوں کے درمیاں بتائیگا تم کو
تو ایسے بے کل ، بے قرار لمحوں میں کہیں
آنکھیں تو تیری بھی بھر آئیں گی
رہ رہ کر بھولا وہ منظر دہرائیں گی
پھر وہ جدائی کا منظر و محشر
رہ رہ کے تم کو بھی یاد آئے گا
مگر موسم ووقت کی لکیروں میں جاناں
رُت وہ محبت کی بدل جائے گی
چاند کی چاندنی بھی ڈھل جائے گی
وہ پھول تارے بھی ہوں گے شاید
وہ لوگ پیارے بھی ہوں گے شاید
نگاہیں تمہاری جنہیں ڈھونڈتی ہوں گی
وہ تمھارے پیارے نہ ہوں گے شاید
ہاں ہم تمہارے نہ ہوں گے شاید

PostHeaderIcon نظم ۔۔ کتنا سکوں ہے یہاں ۔۔(ایک ہی سوچ)

میں اُس سے کہتی !
یوں اپنے سینے پہ میرا سر نہ رکھو
میں صدیوں کی جاگی ہوں
مجھے نیند آجائیگی
وہ بڑے مان سے بازو پھیلاتا
مجھے سینے سے لگاتا اور بہت پیار سے
سرگوشیوں میں کہتا
آؤ ۔۔۔۔۔۔
آؤ میری جاں
میرے بازوؤ ں میں سو جاؤ
ابھی جدائی میں کچھ وقت باقی ہے
تم بھی چند سانسیں جی لو
آؤ زندگی میں کھو جاؤ
بساؤ خواب آنکھوں میں
کچھ دیر کو سو جاؤ
اور جب وصل و قُرب کے ان حسین لمحوں میں
مجھے نیند سی آنے لگتی
میں دل میں سوچتی
’’ کتنا سکون ہے یہاں ‘‘
اتنے میں سر شا ر سے مدہوش لہجے میں
اپنی بھر پور صدا میں وہ کہتا
کتنا سکون ہے یہاں

PostHeaderIcon چہل قدمی کو معمول بنائیں ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

graphic3

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits