محفوظات برائے December, 2013

PostHeaderIcon دل اُسی کا غلام ہے اب تک

دل اُسی کا غلام ہے اب تک
عشق کا احترام ہے اب تک

اس سے آباد شب کی تنہائی
اس کا ہی اہتمام ہے اب تک

وصل کی راہ میں نہیں کچھ بھی
ہجر والی ہی شام ہے اب تک

روح میں ہے ابھی مہک اُس کی
لب پہ اُس کا ہی نام ہے اب تک

اُس نے مجھ سے کہا، یہاں ٹھہرو
بس وہیں پر قیام ہے اب تک

PostHeaderIcon جہاں چاہو میرا نام لکھو ،جو چاہو تم الزام لکھو

جہاں چاہو میرا نام لکھو ،جو چاہو تم الزام لکھو
مجھے عشق نے برسوں قید رکھا ،مجھے ہجر کی گہری شام لکھو

مرے جوش جنوں کا یہ تنہا سفر، اے چارہ گرو تمہیں کیا ہے خبر
مرے پاس ہے جو بھی یہ دردِ ہُنر،اسے تم میرے ہی نام لکھو

مرے لب پہ ابھی وہ سوال ہے کیوں ؟مرے دل میں ابھی وہ ملال ہے کیوں؟
مرے چاروں جانب جال ہے کیوں ؟مرے خواب کا اب انجام لکھو

یہ عشق مسلسل ساون ہے، من آگ، تو جسم اک ایندھن ہے
بس موت ہے ،کب یہ جیون ہے ؟ اسے زہر بھرا اک جام لکھو

کبھی دشت میں خار پہ ہے چلنا ،کبھی آگ کا پھول میں ہے ڈھلنا
کبھی تنہا دھوپ میں ہے چلنا ،اسے عشق کا ہی انعام لکھو

ہر خواہش ہے سرِ نوکِ سناں، ہر چاہت ہے بس نوحہ کناں
معلوم نہیں خود مَیں ہوں کہاں، اب چاند نہیں سرِ بام لکھو

یہ ہجر جو اک طولانی ہے ،مرے پاس جو ایک نشانی ہے
شاہیں یہ مری جو کہانی ہے ،اسے خوشیوں میں کہرام لکھو

PostHeaderIcon نہ گل میں نہ اب گلستاں ہی میں ڈھونڈو

نہ گل میں نہ اب گلستاں ہی میں ڈھونڈو
محبت کو بس آستاں ہی میں ڈھونڈو

نشانی محبت کی تم کو ملے گی
کسی ایک دھندلے نشاں ہی میں ڈھونڈو

پتہ شہرِ دل کی بہاروں کا اب تم
کہیں بام ودر کی خزاں ہی میں ڈھونڈو

اگر ڈھونڈنا ہے وجود اپنا تم کو
کسی دل کے اُجڑے مکاں ہی میں ڈھونڈو

ملے گی اندھیرے میں اُجلی کرن بھی
اسے سوچ کی کہکشاں ہی میں ڈھونڈو

وفا کی کہانی میں ڈھونڈو مجھے تم
کبھی ہجر کی داستاں ہی میں ڈھونڈو

ہو جس پر یقیں تم کو شاہیںؔ ازل سے
اسے اپنے وہم و گماں ہی میں ڈھونڈو

na gul main

na gul main

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits