محفوظات برائے February, 2014

PostHeaderIcon مجھ کو وہ حسرتوں کی یوں تصویر کر گیا

مجھ کو وہ حسرتوں کی یوں تصویر کر گیا
چنری کو تپتی دھوپ کی جاگیر کر گیا

خواہش تو تھی کہ گل کی طرح سے کھلوں مگر
وہ زرد سی رتیں ہی بس تقدیر کر گیا

جیسے ہی میں دہلیز کے اس پار آگئی
دیوارِ ہجر اک نئی تعمیر کر گیا

قصہ جنونِ عشق کا تم پوچھتے ہو کیوں
ہر ایک دکھ وہ باعثِ توقیر کر گیا

اس داستاں میں کون سا کردار ہے مرا
سوہنی ہوں، صاحباں ہوں یا کہ ہیر کر گیا؟

مدت سے ایک چاک پرہے رقص میں حیات
وہ کوزہ گر کچھ اس طرح تسخیر کر گیا

جیون میں روشنی کی ضمانت بھی ہے وہی
اک دائمی سی رات جو تحریر کر گیا

chunri

PostHeaderIcon تسبیحِ محبت ۔۔ نظم

میں نے برسوں عشق نماز پڑھی
تسبیحِ محبت ہاتھ لئے
چلی ہجر کی میں تبلیغ کو اب
تری چاہت کی آیات لئے
اک آگ وہی نمرود کی ہے
میں اشک ہوں اپنے ساتھ لئے
مجذوب ہوا دل بنجارہ
بس زخموں کی سوغات لئے
دل مسجد آنکھ مصلیٰ ہے
بیٹھی ہوں خالی ہاتھ لئے
اے کاش کہیں سے آجائے
وہ وعدوں کی خیرات لئے

tasbeeh

PostHeaderIcon کل پاکستان مشاعرہ کوئٹہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits