محفوظات برائے June, 2014

PostHeaderIcon شمالی علاقوں کا دورہ

PostHeaderIcon زمیں ملے کہیں ہمیں ، کہیں تو آسماں ملے

زمیں ملے کہیں ہمیں ، کہیں تو آسماں ملے
دکھوں کی دھوپ میں شجر کوئی تو مہرباں ملے

ترے فراق میں جئے ، ترے فراق میں مرے
چلو یہ خواب ہی سہی ، وصال کا گماں ملے

الم کی شام آگئی ، لو میرے نام آ گئی
چراغ لے کے راہ میں اے کاش مہرباں ملے

ابھی تلک فغاں ہوں میں ، مثالِ داستاں ہوں میں
ملے تو ایک پل کبھی ، کہیں تو کارواں ملے

عجیب سے وہ رنگ تھے ، سبھی کے ہاتھ سنگ تھے
ہمیں تو غیر بھی سبھی ، مثالِ دوستاں ملے

جبیں ، جبیں نہیں رہی ، تو مہ جبیں نہیں رہی
نہ لوگ وہ کہیں ملے ، نہ تجھ کو آستاں ملے

aasman milay

PostHeaderIcon گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی

گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی
مَیں چاہتوں کی ریاضتوں میں تمہیں ملوں گی

تم اپنی منزل کے راستوں میں جو دیکھ پاؤ
تو راستوں کی صعوبتوں میں تمہیں ملوں گی

نہیں ملوں گی کسی بھی وصل آشنا سفر میں
مَیں ہجر موسم کی شدتوں میں تمہیں ملوں گی

کہ مَیں نے چاہت کو بھی عقیدہ بنا لیا ہے
اگر ملی تو عقیدتوں میں تمہیں ملوں گی

مَیں جانتی ہوں کہ تیرے ادراک میں نہیں ہوں
مگر وفا کی شباہتوں میں تمہیں ملوں گی

ہو قیدتم اپنی ذات کے خول میں اگرچہ
بس ایک خوشبو ہوں دستکوں میں تمہیں ملوں گی

وہ بنتِ حوا کو گو نظر سے گرا رہے ہیں
مگر وہ کہتی ہے رفعتوں میں تمہیں ملوں گی

نہیں ہے شاہین خواب پر اعتبار مجھ کو
سو زندگی کی حقیقتوں میں تمہیں ملوں گی

10438806_10204302300023945_956481180_n

My Facebook
Aanchal Facebook
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits