محفوظات برائے October, 2014

PostHeaderIcon حسن و لطافت سے بھرپور شاعری ۔۔ امجدمرزاامجد (لندن)

پھول سے بچھڑی خوشبو جب اپنی آنکھیں بند کرلیتی ہے تو پھر اس سے ایسے ہی سخن کی خوشبو فضا کو معطر کردیتی ہے جیسے ہماری محترمہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ نے اپنے دوسرے مجموعہ کلام اور اپنی شاعری کی خوشبو سے دنیائے ادب کومعطر کردیا ۔مجھے ان کا یہ خوبصورت مجموعہ کلام لندن میں مقیم ممتاز شاعر اور معروف کالم نگار محترم سہیل احمد لون نے بھیجا کہ اس پر اپنی رائے لکھیں۔۔ لکھنے کو تو میں نے اب تک تین سوسے قریب کتابوں پر مضامین لکھ ڈالے جو مطبوعہ بھی ہوئے مگر اس دیدہ زیب کتاب نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ سوچتا ہوں کہ مضمون مکمل کرنے کے بعد اخلاقی طور پر یہ کتاب سہیل لون صاحب کو واپس دینی ہوگی ۔۔اور کتاب اس قدر خوبصورت ہے اس کی شاعری اس قدر عمدہ ہے کہ ۔۔۔ نیت خراب ہورہی ہے ۔۔!!(گو ایسا نہیں کروں گا ۔)اس میں کوئی شک نہیں کہ میری ذاتی لائبریری میں کم از کم بھی چار سو کتب موجود ہیں گیارہ اپنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں اپنے ذاتی ادارے ’’سویرا اکیڈیمی ‘‘ سے اٹھارہ کتابیں شائع کر چکا ہوں مگر آج تک اس قدر خوبصورت کتاب نہیں دیکھی،اے فور سائز میں گلاسی قیمتی کاغذ سے مزین عمدہ جلد بندی چہار رنگا ڈبل سرورق،نہایت اعلی کوالٹی کی پرنٹنگ ، اس پر ڈاکٹر نجمہ شاہین کی خوبصورت تصویر کے ساتھ اعلی و ارفع شاعری سونے پر سہاگہ ۔۔ کتاب ہاتھ میں لیں تو جیسے سارے گلستان سے چنے ہوئے خوبصورت پھولوں کا گلدستہ ہاتھ میں آگیا ۔میں مبارکباد دیتا ہوں محترمہ ڈاکٹر صاحبہ کو ان کے اعلی ذوق و پسند اور خوبصورت درد سے بھری شاعری پر ۔۔۔ جسے پڑھ کر کبھی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور کبھی دل دھڑکنا بند کردیتا ہے ۔
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتا مگر ان کی شاعری نے یہ سارے فاصلے طے کردیئے کیونکہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ سچا اور کھرا قلمکار وہی لکھتا ہے جو اس کا من کہتا ہے اس کی تحریر اس کا پرتو ہوتی ہے وہ اپنی تحریر سے ہی پہچانا جاتا ہے ۔اگر ایسی بات نہ ہو تو اس کی تحریر قاری کو متاثر نہیں کرسکتی ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین انسانیت کے ایک اعلی ترین مقدس پیشے سے تعلق رکھتی ہیں وہ بیمار جسموں میں نئی روح پھونک کر انہیں زندہ رکھنے کا ہنر جانتی ہیں ۔اسی طرح وہ اپنے اشعار میں بھی یہ سحر انگیزی کرتی دکھا ئی دیتی ہیں انہوں نے زندگی کے ہر دکھ سکھ ، حالاتِ حاضرہ ، ملکی حالات ،دکھی انسانیت ، انسانی نفسیات ، محبت پیار ،نفرت ،دھوکہ فریب ،غرضیکہ زندگی کے تمام عناصر پر نہایت خوبی سے قلمکاری کی ہے۔شاعر ہمیشہ دوسروں کے دکھوں کو اپنے اندر سمو کر محسوس کرتا ہے اور اپنے قلم سے اس کا اظہار کرتا ہے۔ یہاں تو بات ہی ایک ڈاکٹر کی ہورہی ہے جو اپنے ہر مریض کا درد اپنے دل میں سمو کر اس کا علاج کرتا ہے ۔سچ لکھا ہے سعد اللہ شاہ جی نے کہ اپنے شعبے سے جنوں کی حد تک عشق کرکے انسانیت کی خدمت کیلئے ہمہ تن مصروف رہتے ہوئے زندگی کی حقیقتوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے خوابوں کو متشکل کرکے اپنی امنگوں کو تصویروں میں ڈھالنا کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔۔!!بلا شبہ یہ کام ہماری شاعرہ نے کیاجو قابل تحسین ہے ۔
شبِ فرقت کے ستارے یہ گواہی دیں گے
ہم دل و جاں میں کئی روگ بسا لائے ہیں
ڈاکٹر نجمہ شاہین کے کلام سے جو مجموعی تاثرملتا ہے کہ انہوں نے جھوٹی روایات کے بجائے مثبت قدروں سے رشتہ جوڑا ہے ان کی شاعری ایسا آئینہ ہے جس میں ان کے احساسات و جذبات کی نزاکتیں اور لطافتیں، ان کے متخیلہ کا انداز ان کی فکر کی گہرائیوں اور وسعتوں میں یکجا ہوکر کلیتہً نظر آتی ہیں۔
اپنے مجموعہ کلام کو اللہ پاک کے نام سے شروع کیا ۔
ہر ایک بحر و بر میں تُو ، وجودِ خیر و شر میں تُو
ہر ایک سمت جلوہ گر جہاں میں اے خدا ہے تُو
نعت رسول مقبول کہنے کا انداز ملاحظہ ہو۔
کہوں نعت کیسے ،سیلقہ سکھا دو مری سانس کو موجِ خوشبو بنا دو
اور پھر سخن کی خوشبو ہر سُو اس طرح پھیلی کہ میں کتاب کے آخر تک ایک ایسے سحر میں ڈوبا رہا کہ ۔۔
اب مہک تیری مری ہر پور میں یوں رچ گئی
منتظر ہیں آنکھ میں کچھ حیرتیں دہکی ہوئی
دیدہ و بینا رکھنے والے کسی بھی شاعر کا ذہن اپنے دور کی تلخ اور بے رحم حقیقتوں کو نظر انداز نہیں کرسکتا ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین بھی اپنے ملکی و ملی و سماجی ماحول کے نمایا ں مسائل سے متاثر ہیں۔
گلی گلی میں بس رچی ہوئی ہے خون کی مہک
یہ موسم بہار بھی عجب تجھے وطن ملا
اور پھر ایک طویل بے یقینی اور بے اطمینانی کے بعد وہ کس قدر مایوسی سے کہتی ہیں۔
لبوں پہ جو دعائیں تھیں کہاں نہ جانے کھو گئیں
ہر ایک راہ گزار پر ہمیں تو راہزن ملا
اس خوبصورت مجموعہ کلام میں غزلیں نظمیں شامل ہیں جو الگ الگ حصوں میں تقسیم کی گئیں۔ قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے جب وہ مختلف اصناف میں پڑھتا رہے اس طرح یکسانیت کی بوریت نہیں رہتی ۔ تین سو ساٹھ صفحات کی ضخیم جہازی سائز کتاب جس میں شاعرہ اپنی آنکھیں بند کرکے مگر کھلے دل کے ساتھ اپنے من کی باتیں اپنے دل کی باتیں کرتی چلی جاتی ہے، وہ گلہ کرتی ہے کہ ۔
جس کے خیال نے کیا سب سے جدا مجھے
زخموں سے کر گیا ہے وہی آشنامجھے
اور جب وہ انسانوں کی بھیڑ میں کبھی تنہارہ جاتی ہے تو تنہائی اسے ایک نیا کردار دے جاتی ہے۔
غضب کی مار دیا ہے ہمیں یہ دردِ تنہائی
نیا کردار دیتا ہے ہمیں یہ دردِ تنہائی
اور پھر اسی دردِ تنہائی کی زمین سے سخن کے پودے پھوٹنے لگتے ہیں ۔۔
بڑی مشکل سے ملتا ہے مقامِ آگاہی شاہیںؔ
عجب شاہکار دیتا ہے ہمیں یہ دردِ تنہائی
غزل میں ڈاکٹر نجمہ شاہین کی فکر کا محور محبوب کی ذات ہے ،محبوب سے گلے شکوے اس کی بے وفائی کا گلہ ،اپنے محبت کا یقین ، تنہائی درد ، یادیں،اداسی ،آہیں سسکیاں اور آنسو ان عناصر کے بغیر غزل رہتی بھی تو ادھوری ہے نا ! انہوں نے انہی موضوعات کو زیادہ استعمال کیاہے ۔ ہم لوگ محبت سے بتا کس کو پکاریں د نیا میں کوئی ہم سا ہمارا نہیں ملتا
انہوں نے اپنے اس خوبصوت مجموعے کو جہاں کئی رنگوں سے سجایا ہے وہاں وہ خود کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے قلم سے لفظوں،خیالوں دکھ اور سکھ سے سجے موتیوں ،یادوں کے ڈھیروں پر اٹھنے والی چنگاریوں کو شعلہ بنانے اور دل کی بنجر زمین پہ پھول اگانے کی تمنا کی ہے اور پھر ان تمام تمناؤں کو سخن کا بیج کی طرح کاغذ کی زمین میں بو دیا ۔۔ اور دیکھئے کیسے کیسے رنگ برنگے پھولوں کے گلستان کھل اُٹھے۔۔ جسے انہوں نے ’’ میں آنکھیں بند رکھتی ہوں‘‘ کا نام دیا ۔
ان کی نظمیں بھی درد کی زمین سے اٹھتی ہیں اورحسرتو یاس کے فلک میں کھو جاتی ہیں۔ ان کی نمائندہ نظم ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں‘‘ نہایت عمدہ تحریر ہے جس کا ایک بند ملاحظہ ہو۔کہتے ہیں نا دیگ سے ایک دانہ چاول کا چکھنے سے ساری دیگ کے ذائقے کا علم ہوجاتا ہے ۔
’’جب کرچی کرچی شیشوں میں /بکھرے بکھرے شہروں میں /جب دل کی نگری لٹتی ہے/ اور دولت کی دیوی پر /محبت قربان ہوتی ہے /اور سچائی دم توڑ دیتی ہے /جب اندھی الجھتی بجلیاں /آسمان سے گرتی ہیں /کسی غریب کا گھر جلاتی ہیں/تو ایسے بے بس لمحوں میں /میں آنکھیں بند رکھتی ہوں۔‘‘
گو مجھے ایک بات عجیب سی لگی۔۔ کہ معاشرے میں ناانصافی دیکھ کر شاعر یا قلمکار اپنی آنکھیں بند نہیں کرتا بلکہ اسے کھلی آنکھوں سے دیکھ کر اس ظلم کے خلاف اپنی قلم سے جہاد کرتا ہے احتجاج کرتا ہے ۔ میری کم فہمی کہ میں محترمہ شاعرہ کے اس فلسفے کو سمجھ نہیں پایاجس کے تحت انہوں نے اپنے اس مجموعے کا نام ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں‘‘ ۔۔۔!!
ان کی نظموں کے ہر بند ہر سطر میں ان کی جودت طبع اور طرز فکر کا نمونہ نمایا ں ہے جہاں موجودہ معاشرے میں ناانصافیاں بے رحمانہ رویہ اور سچائیاں سلگتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔اس مجموعہ میں ان کی بے شمار نظمیں اسی طرح آنسو ؤں میں قلم ڈبو دبو کر لکھی ہوئی لگتی ہیں۔جسے ہر حساس قاری سانسیں روک کر پڑھتا ہے ۔
میں جوں جوں اس کتاب کے اوراق پلٹتا گیا اس کی کہکہشاں میں چمکتے ستارے میری آنکھوں کو خیرہ کرتے گئے ، میری انگلیاں بے تابی سے کی بورڈ پر رقصاں ہونے لگیں اور الفاظ کا جھرنا بہنے لگاجو اپنی وسعتوں میں ایک عمیق سمندر لئے ہوئے کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہا تھامگر افسوس کہ کاغذ کا پیرہن تنگ سے تنگ ہوتا مجھے مجبور کررہا ہے کہ میں دعائیہ کلمات کے ساتھ اپنے مضمون کا اختتام کردوں۔
ان کا تخلیقی عمل ایک طرح کا اعترافِ خود شناسی ہے جو اشعار کے نزول کا نہ صرف باعث بنتا ہے بلکہ ان کے اور قاری کے درمیان ایک نہ مٹنے والا ذہنی و قلبی رشتہ بھی استوار کرتا چلاجاتا ہے۔ان کی غزلوں کی طرح ان کی نظموں میں بھی ایسی روانی ہے کہ قاری پڑھتا چلا جاتا ہے ۔میں دوسروں کی مانند مجموعہ کلام کے چیدہ چیدہ اشعار سے کاغذ کا پیٹ نہیں بھرتا۔۔یہ کام آپ کا ہے کہ کتاب حاصل کرکے ڈاکٹر نجمہ شاہین کی خوبصورت شاعری کا لطف اٹھائیں۔میرا کام ان کا اور ان کے اس مجموعہ کلام سے تعارف کرانا ہے۔
مجھے یقینِ کامل ہے کہ جس طرح ان کے پہلے مجموعہ کلام ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘ نے قارئین کی تمام توجہ حاصل کی اسی طرح انشا ء اللہ ان کایہ خوبصورت دیدہ زیب مجموعہ کلام بھی دنیائے ادب کے پروانوں کو اپنی جانب کھینچ لے گااور پوری پذیرائی حاصل کرے گی ۔
میں اپنی نظم و غزل ان کے نام کرتی ہوں
کہ جن کا ذکر محبت کی داستان میں ہے
میں شاعری میں اسے ڈھال دوں مگر شاہینؔ
کہاں و حسن و لطافت مری زبان میں ہے
اللہ کرے آپ کی قلم ہمیشہ محبتوں کی داستانوں کو حسن و لطافت سے بھرپورشاعری میں ڈھالتی رہیں اور آپ کے گلستان ادب میں سخن کے پھول مہکتے رہیں۔۔۔آمین

amjad mirza

PostHeaderIcon جمعہ مبارک

10743512_10205428143529329_2015227752_n

 

 

 

10735623_10205428146929414_583006834_n

 

 

 

10735896_10205428153529579_672404041_n

 

10744819_10205428150369500_379683500_n

 

PostHeaderIcon جاوید احسن ۔۔ جمالِ صحرا سے چشمِ غزال تک ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

5؍ اکتوبر بروز اتوار میں اپنی امی کے ہاں میلاد میں شامل ہونے کے بعد مغرب کی نماز پڑھ رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی ، میرے بیٹے نے فون اٹھایا اور جب میں نماز پڑھ چکی تو اس نے اطلاع دی کہ آنٹی بشری قریشی کا فون تھا وہ اطلاع دے رہی تھیں کہ جاوید احسن صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔ یہ بات سن کر میری عجیب سی کیفیت ہوگئی۔ میں ا یکدم مغرب (شام) اور شام کی اداسی میں کھو گئی۔ یہ مغرب (شام) کا وقت بھی بڑا عجیب ہے۔ سارے محسنوں کو، سارے پیاروں کو اپنے سائے میں لپیٹ کر لے جاتا ہے اور پیچھے صرف یادیں چھوڑ جاتا ہے جو کبھی کبھی تحریر بن کر کاغذ پر عکس بناتی ہیں۔
میں نے بشریٰ کو فون کرکے خبر کی تصدیق کی اور آخری دیدار کے لیے اپنے شوہر کے ساتھ جاوید صاحب کے گھر گئی اور جاوید صاحب کا چہرہ دیکھ کر زندگی کی بہار اور موت کی خزاں میں فرق دیکھنے لگی۔ ابھی پندرہ دن پہلے ہی تو جاوید صاحب اپنے بیٹے جہانزیب کے ساتھ میرے ہسپتال میں مجھ سے اس بات کا شکریہ ادا کرنے آئے کہ میں نے ان کی کتاب کی تقریب رونمائی (جو کچھ دن پہلے نیشنل آرٹس کونسل ڈیرہ غازیخان میں ہوئی تھی )میں ان پر اچھا مضمون پڑھا۔ وہ اس دن بہت ہشاش بشاش تھے اور آج ان کا خزاں چہرہ دیکھ کر غم کا بوجھ دل پہ پتھر سا بن گیا۔
تھل اور روہی کی اداسی کو لفظوں کا پیرہن دینے والے اس شاعر نے اپنی رخصتی کا وقت بھی ایسا چنا جب ساری دنیا عید کی خوشیوں کو منانے کی تیاریوں میں مصروف تھی اور جب چاند رات میں کتنے ہی بچھڑے ساتھی اپنے بچھڑوں سے ملنے کی آس لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔
جاوید صاحب سے میری پہلی ملاقات میری پہلی کتاب ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘ کی اشاعت کے بعد ڈاکٹر غنی عاصم صاحب کی طرف سے منعقدہ ایک ادبی تقریب میں ہوئی۔ جاوید احسن جب میری کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دینے کے لیے میرے ہسپتال آئے اور میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو سدھارنے میں میری مدد کیا کریں۔ انہوں نے حامی بھر لی، مگر پھر میں اپنی چند غزلوں کی اصلاح کے بعد یہ سلسلہ اپنی پروفیشنل (طبی) مصروفیات کی وجہ سے برقرار نہ رکھ سکی۔ اسکے با وجود جاوید صاحب ہمیشہ میرے نئے کلام کی اشاعت کے بعد مجھے مبارکباد دینے آتے اور میں ان کے بڑے پن کی معترف رہتی۔
میں ادب کی دنیا میں بالکل نووارد اور اس کے نشیب و فراز سے اور بھول بھلیوں سے بالکل نا آشنا۔ اور ان بھول بھلیوں میں راستہ تلاش کرنے کے لیے میں نے جب بھی جاوید صاحب کو آواز دی تو انہوں نے نہایت خلوص اور مشفقانہ طریقے سے میری مدد کی۔ وہ میرے لیے صرف ایک استاد ہی نہیں بلکہ ایک بزرگ اور والد کی سی حیثیت رکھتے تھے۔ میں نے کسی بھی ادبی تقریب میں شرکت کرنا ہوتی تو میں ان سے مشورہ ضرور کرتی اور وہ مجھے مخلصانہ طریقے سے گائیڈ کرتے کہ مجھے کہاں جانا چاہیے اور کہاں نہیں اور مجھے کوئی بھی بڑی کا میابی ملتی تو بہت خوش ہوتے۔ بشری اور میں ان کی ادبی اولاد کی طرح تھے۔ بشری کو بار بار چھیڑتے کہ نجمہ اتنی مصروف ہونے کے باوجود بھی باقاعدہ لکھ رہی ہے تم کیوں نہیں لکھتی۔ اب ہم دونوں کس سے پوچھیں گی کہ ہمیں کہاں جانا چاہیے، کہاں نہیں۔ جب گلستان ادب کا مالی ہی نہیں رہا تو پھول کیا کریں؟
جاوید احسن یکم دسمبر 1948ء کو احمد خان سدوزئی کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ نے ایم اے اردو اور ایم اے سرائیکی کیا۔ 1960ء سے شاعری کررہے تھے۔ نیشنل سنٹر ڈیرہ غازی خان میں بطور پروگرام منیجر تعینات رہے ۔ ’’جمال صحرا‘‘ اردو شاعر ی پر مشتمل کتاب 1991ء کو شائع ہوئی۔ حکومتِ پنجاب نے ان کی کتاب ’’سرائیکی ثقافت‘‘ پر انہیں بہترین کتاب کے ’’لاہور ٹرسٹ ایوارڈ‘‘ سے نوازا ، اور اسی کتاب پرمسعود کھدر پوش ایوارڈ اور دوسرے ایوارڈز میں ’’سرائیکی سانجھ لیہ‘‘ایوارڈقابل قدرہیں۔
دوسری کتابیں ’’فی احسن تقویم‘‘ اور ’’لوح شفاعت‘‘ ہیں۔ وسیبی حالات ہوں یا ملکی یا بین الاقوامی حالات جاوید احسن نے ہر موضوع پر بڑے مفصل انداز میں لکھا ہے۔ جاوید احسن نے اپنی شاعری میں بڑی مہارت سے رومانی، معاشرتی، اخلاقی اور دیگر موضوعات پر شعری تصویروں میں بڑے دلفریب انداز میں رنگ بھرے ہیں۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اورمعروف شاعروں کی صف میں شامل ہوگئے۔
۔ چشم غزال صحرائی جمالیات کا بھی مرکزی حوالہ ہے بلکہ یہ کہنے میں مضائقہ نہیں کہ چشم غزال کے بغیر جمالِ صحرا کی تکمیل ممکن نہیں۔ صحرا اپنے اندر جو وسعت رکھتا ہے وہی وسعت ہمیں جاوید احسن صاحب کی شاعری میں بھی ملتی ہے۔ تہہ در تہہ معانی، غزل کا خاص آہنگ اور جذبوں کا بھرپور اظہار ان کی شاعری کی بنیادی خوبی ہے۔ صحرا کی ویرانی، سورج کی تابانی اور اشکوں کی طغیانی اور اس کے ساتھ ساتھ پریم کہانی ان کی شاعری سے جھلکتی ہے۔
ہم نے دیکھے خواب سہانے، خالی خواب جوانی میں!
سب قصے ہیں فرضی بابا، اپنی پریم کہانی میں
وہ بھی نیل گگن سے اترے جھیل کے گہرے پانی میں
ہم بھی گھنٹوں گھنٹوں ڈوبے اشکوں کی طغیانی میں
حالات و واقعات کا وہی تناظر جس کو شاعر نے کھلی آنکھوں سے دیکھا اور معاشرے کی بدلتی ہوئی اقدار، سماجی حالات، سیاسی انتشار اور بے یقینی کی جس کیفیت سے شاعر گذرے ۔ ان تمام کیفیات اور محسوسات کو لفظوں کا ملبوس عطا کرکے آپ نے قاری کو بھی شریک سفر کرلیا اور آپ کے کلام میں کہیں بھی مایوسی کا دخل نہیں۔
قوس قزح کے رنگ ہیں حسنِ خیال میں
صحرا سمٹ کے آگیا، چشم غزال میں
ان کی شخصیت میں عجیب سی طمانیت بھری ہوئی تھی حالانکہ انہوں نے نامساعد حالات میں زندگی گزاری مگر جب بھی ان سے بات ہوئی تو ہمیشہ زندگی کے مثبت پہلو پر بات کرتے اور اطمینان ظاہر کرتے۔
جاوید ہر وجود کا اپنا ہے مرتبہ
ہر چیز بے مثال ہے اپنے جمال میں
وہ اپنی غزلوں میں جہاں روہی اور دامان کی شان بیان کرتے ہیں وہیں ان کے کلام میں ہمیں تھل کی آن بان بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری کا بنیادی آہنگ دراسل دھرتی کے ساتھ ان کی محبت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی زمین اور وسیب سے اپنا تعلق برقرار رکھا اور اسی مناسبت سے صحرا، تھل، ریت، پیاس، دامان، سلیمان اور اسی طرح کے کئی لفظ ان کی شاعری میں خاص معنویت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں پاکستانی تہذیب اور اپنے وسیب کی خوشبو رچی بسی ہوئی ہے۔ دھرتی سے پیار ان کی ذات کا حصہ بن چکا ہے اور ذات کا یہی اظہار ان کا پیرائیہ اظہار بھی ہے۔
جاوید احسن کا یہ کمال ہے کہ وہ اپنے دکھوں کو دھرتی کے دکھوں کے ساتھ ہم آہنگ کرلیتے ۔ یوں ان کا دکھ صرف ان کی ذات تک ہی محدود نہیں رہتا۔ بلکہ ان کا کلام پورے معاشرے کی آواز بن جاتا ہے۔ جبر کا نظام ہو معاشی یا معاشرتی ناہمواریاں، اخلاقی دیوالیہ پن ہو یا سیاسی زبوں حالی، ان کی شاعری میں تمام موضوعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی نظر میں شاعری صرف لفظوں کا کھیل نہیں بلکہ فکر و نظر کی وہ گہرائی اور گیرائی ہے جو شعور کو بالیدگی عطا کرتی ہے۔
جاوید احسن نے وطن، ملت، معاشرے کے علاوہ بین الاسلامی، عالمی و آفاقی موضوعات پر بڑی تفصیل سے اظہارِ خیال کیا ہے۔ ان کا مطالعہ نہ صرف ذوقی مسرت فراہم کرتا ہے بلکہ تفکر حیات اور عصری حیات سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔

آپ متاع درد کے ساتھ ساتھ مزاجِ قلندرانہ بھی رکھتے جس کے بغیر کوئی شاعر عظمت حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی اہل قلم مسندِ دانشوری پر جلوہ افروز ہوسکتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ادبی لحاظ سے ڈیرہ غازیخان یتیم ہوگیا ہے۔ جاوید احسن ڈیرہ غازیخان کے نو آموز شعراء کے لیے ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتے تھے۔ انتہائی پر خلوص اور شفیق انسان تھے جن سے بحیثیت شاعر ہی نہیں بحیثیت انسان بھی اگر کوئی مشورہ لیا جاتا تو انتہائیخلوص کے ساتھ اپنے مشورہ سے فیض مند کرتے۔ ان کا شمار ایسے قلمکاروں میں ہوتا جو کسی ستائش کی پرواہ کیے بغیر علم و ادب کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ بلاشبہ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اس دھرتی کوفخر ہے اور ایسے ہی لوگ دھرتی کے حقیقی وارث ہوتے ہیں۔

javed ehsan

PostHeaderIcon اپنے پیروں کے چھالوں اور دل کے زخم کو پھول لکھا

اپنے پیروں کے چھالوں اور دل کے زخم کو پھول لکھا
ہم نے وصل کی خواہش کو بہکے جذبوں کی بھول لکھا

ہم تقدیر کی چال کو تال بنا رقص کناں تو ہیں
وقت نے در بدری کو ہمارے جیون کا معمول لکھا

phool likha

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits