محفوظات برائے November, 2014

PostHeaderIcon دائمی ہے عشق اور اک دائمی آواز ہے

دائمی ہے عشق اور اک دائمی آواز ہے
میرے کانوں میں ابھی تک بس وہی آواز ہے

ساتھ میرے رات بھر جو جاگتی آواز ہے
کون جانے یہ تو میری روح کی آواز ہے

ہجر کے لمحوں میں اب تک یہ خبر کب ہو سکی
جاگتی ہوں میں یا کوئی جاگتی آواز ہے

ہجر جیسے وصل میں اُس کو سنا تو یوں لگا
موت جیسی زندگی میں زندگی آواز ہے

اُس کے دم سے دھڑکنیں رکتی بھی ہیں چلتی بھی ہیں‌
وہ کبھی اک خامشی ہے اور کبھی آواز ہے

شور میں اک دوسرے کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں سب
کچھ نہیں معلوم کس کی کونسی آواز ہے

اجنبی سی منزلوں کی اجنبی سی راہ
اک مکمل خواب اور اک خواب سی آواز ہے

آنے والے دور میں شاہین رہنا ہے مجھے
سب کہیں گے یہ وہی اک دکھ بھری آواز ہے
10808001_10205640526278765_437767600_n

PostHeaderIcon سُن میری سہیلی ،بات تو سُن

سُن میری سہیلی ،بات تو سُن
کٹی کیسے عمر کی رات تو سُن
اک شام کی لالی اوڑھ کے جب
اک یاد میں خود کو توڑ کے جب
میں آئینہ بن کر کھڑی رہی
گویا اس ہجر کے زیور میں
مَیں موتی بن کر جڑی رہی
مہ و سال کے دیپک بجھ بھی گئے
اک صورت دل میں گڑی رہی
مرا وقت وہیں پر تھم سا گیا
بس گرد کی صورت آنکھوں میں
اک شام کا لمحہ جم سا گیا
ہے رستہ ایک جدائی کا
صحرا میں آبلہ پائی کا
امید کا ریشم بنتی رہی
ہر کرچی دل کی چنتی رہی
پھر بھی میں ضد پر اڑی رہی
بکھرے پتوں کی صورت بس
ویراں آنگن میں پڑی رہی
سب لیکھ کے پورے ہو گئے گُن
اب کھو گئی عشق قفس کی دھن

تجھ کو معلوم ہے یہ بازی
کیونکر اور کیسے ہاری میں
وہ روشن تارا فلک کا ہے
اندھی تقدیر کی ماری میں
سُن میری سہیلی بات تو سُن
کٹی کیسے عمر کی رات تو سُن

10370436_747369608676651_6177352282012676667_n

PostHeaderIcon تُو نے کس کی خاطر شعر کہے

تُو جانتا ہے ہمزاد مرے
اے دل میرے، ناشاد مرے
جس نام کے سارے حرفوں کو
اور نظم کے سارے مصرعوں کو
اے دل تُو نے سو بار لکھا
اور عشق کے زرد سے موسم کو
ہر بار مثالِ بہار لکھا
پر آج ترے چارہ گر نے
اے دل تیرے کوزہ گر
ان عشق مسافت جذبوں کو
ان ہجر ریاضت لمحوں کو
بس شعروں کا ہی نام دیا
اور ہنس کر یہ بھی پوچھ لیا
تُو نے کس خاطر اے لڑکی
اس زیست کو یہ انجام دیا؟

10346005_10205563837961605_5814832035410557741_n

PostHeaderIcon شاعرہ جادو والی ۔۔ جاوید احسن

اُس کی آنکھوں میں عجب چیز ہے جادو والی
لوگ کہتے ہیں جسے شاعرہ خوشبو والی

گنگ جذبوں کی زباں ہے گھنے ابرو والی
بھیگے موسم میں لچکتے قد و گیسو والی

اس کے ہر شعر میں احساس کی لو روشن ہے
اس کے ہر اشک میں تنویر ہے جگنو والی

منتظر دشت میں ہے اسکی ابھی چشمِ غزال
شاخِ زیتوں ہے، امر بیل ہے، مہ رُو والی

javed ehsan

PostHeaderIcon کوچہ ء عشق سے اس طرح رہا بھی کیوں ہوں

آج تھک ہار کے ہم نے تو عجب سوچا ہے
تیری یادوں سے کہیں دور بہت دور کہیں
ایسی نگری میں ہی اب جا کے بسیرا کر لیں
ہجر لمحہ نہ جہاں گریہ کناں ہو کوئی
تری یادوں سے نہ اٹھتا سا دھواں ہو کوئی
ایسی بستی نہ جہاں وصل تمنا جاگے
اور کبھی دل نہ کسی دید کا پرسہ مانگے
آنکھ کے بند دریچوں میں نہ جھانکے کوئی
اور کبھی خواب نہ تعبیر کا توشہ مانگے
بس وہاں درد و الم کا نہ کہیں ہو عالم
اور کبھی ہجر نہ پھر وصل کا جھونکا مانگے

آج تھک ہار کے ہم نے توعجب سوچا تھا
اب تلک دل تو ہمارا ہے وہی شیدائی
اس کی ویران رگوں میں ہے تری رعنائی

دل کی نگری میں تو ہر سُو ہے خدائی تیری
ہم تماشا جو بنے خلق امڈکر آئی
در و دیوار پہ بس تیرا تصور ابھرے
شبِ تاریک میں بانٹے جو مری تنہائی
دل بہر طور فقط تیری رفاقت مانگے
چین لینے ہی نہیں دیتا ہمیں ہرجائی

آج تھک ہار کے اب ہم نے یہی سوچا ہے
ہم اگر ایسے نگر میں بھی بسیرا کر لیں
جز تری یاد بھلا زادِ سفر کیا رکھیں؟
تجھ سے بچھڑیں تو بھلا دستِ ہنر کیا رکھیں؟
بے خبر ہو کے بھی ہم اپنی خبر کیا رکھیں؟
ہم نے سوچا ہے ہم اب تجھ سے خفا بھی کیوں ہوں؟
اتنی تنہائی میں ہم خود سے جدا بھی کیوں ہوں؟
تیرے ہوتے ہوئے ہم وقفِ قضا بھی کیوں ہوں؟
کوچہ ء عشق سے اس طرح رہا بھی کیوں ہوں؟

koocha e ishq

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits