محفوظات برائے April, 2015

PostHeaderIcon یوں تیری قربت بھلا رہی ہوں

یوں تیری قربت بھلا رہی ہوں
کہ جیسے دنیا سے جا رہی ہوں

رہے تری بے رخی سلامت
میں رسمِ الفت نبھا رہی ہوں

کسی کی یادیں سلا کر اب تک
میں خود کو کیوں کر جگا رہی ہوں

کوئی مجھے روز توڑتا ہے
میں روز خود کو بنا رہی ہوں

وہ بات جو بات ہی نہیں ہے
وہ بات سب کو بتا رہی ہوں

جلا کے اس نے بجھا دیا تھا
میں بجھ کے خود کو جلا رہی ہوں

سماعتوں کا ہے قحط پھر بھی
وفا کے نغمے سنا رہی ہوں

بھلا سکی ہوں کہاں سے تجھ کو
یہ یاد خود کو دلا رہی ہوں

نہ کوئی پونچھے گا اشک میرے
سو دردِ دل اب چھپا رہی ہوں

nn

PostHeaderIcon ڈیرہ غازی خان میں‌تقریبات

PostHeaderIcon محبت کی شاعرہ ۔۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے تاثرات

آج کا اردو شاعر اس عبوری دور میں سانس لے رہا ہے ‘ جہاں اس کے پیچھے کلاسیکی غزل کی وہ تابناک روایت بھی ہے جو بیسویں صدی کے شروع میں ہی ختم ہوگئی اور پھر وہ اندھا کنواں بھی ہے جس میں سکہ بند روائتی غزل آج تک ڈوبی ہوئی ہے۔ڈاکٹر نجمہ شاھیں کھوسہ کی ’’اور شام ٹھہر گئی‘‘ میں مشمولہ غزلوں پر میں رائے دینے سے احتراز کروں گا لیکن ان کی نظموں نے مجھے یقیناًمتاثر کیا ہے۔ ان کی نظمیں دیگر معتاد ، اسٹیریو ٹائپ شعرا کی طرح گذشتہ نصف صدی کے شہرہ ور نظم گو شاعروں ،(بطورِ خاص فیض احمد فیضؔ ) کی لفظیات کے دسترخوان کے باقی ماندہ بچے کھچے ٹُکڑوں سے پاک ہیں جن پر قانع رہ کر بہت سے شاعر آج تک غزلیں اور نظمیں لکھے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ جدیدیت کی تحریک میں بہہ کر مضمون ‘ متن ‘ اور اسلوب کی سطحوں پر انتشار ‘ افشار ‘ ایہام اور یادہ گوئی کا شکار ہونے سے بالکل بچ رہی ہیں ۔ انہوں نے اس تحریک کا اثر بالکل قبول نہیں کیا۔ ان کی کچھ نظمیں یقیناً ’’بڑی ‘‘ نظمیں ہیں جنہیں سراہا جانا چاہیے۔ محبت ایک پاک جذبہ ہے، اس میں صوفیانہ عشق کی آسماں بدست بلندی سے لے کر تعشق اور ہوس کی تحت الثرا تک شاعروں نے طبع آزمائی کی ہے۔ نجمہ شاھیں کی نظموں میں یہ جذبہ ان دو بے نہایت حدود کے درمیان اس سطح مرتفع پر قائم ہے، جسے ہم ’’من و تو‘‘ کا علاقہ قرار دے سکتے ہیں۔ا س ’ من و تو ‘ میں ’من ‘ تو یقیناً شاعرہ کا واحد متکلم ہے ‘ وہ خود ہے یا اس کی انا ہے لیکن ’ تو ‘ محبوب بھی ہوسکتا ہے ‘ دوست بھی ہوسکتا ہے ‘ نامہرباں آسماں بھی ہوسکتا ہے اور ظالم و حاکم بھی ۔ اس کی ایک وجہ تو غزل کی چار سو برس پرانی اور مستحکم وہ روایت ہے جس نے غزل ہی کو نہیں بلکہ اردو نظم کو بھی اب تک ’ من و تو ‘ کے حصار میں قید کر رکھا ہے اور دوسری وجہ آسان راہوں کے سفر کو پرپیچ راستوں پر فوقیت دینا ہے۔ “محبت اک ضرورت ہے‘‘، ’’یہ عشق بستی بسانے والو”، “محبتوں کا یہ طورِ سینا”، ” موسمِ وصل کے استعارے میں ہوں”، “تجھے تو خبر ہے”، “گر ہم کو تم جھٹلاؤ گے” جیسی کئی اور نظمیں اس پاک و صاف جذبے کو جہاں خوشروئی اور شائستگی سے بیانیہ یا مکالمہ کے فارمیٹ میں ڈھالتی ہیں، وہاں پُرکاری اورسحر کاری کا انداز بھی اپناتی ہیں۔ وصل اور ہجر تو کیفیات ہیں، لیکن ان کے تہہ در تہہ معانی میں وفاداری یا بے وفائی اور ان کے متعلقات کے بیسیوں حصاروں میں مقیدتازہ کاری سے مزین وہ مضامین بھی ہیں جو شاعرہ کی غزلوں اور نظموں دونوں میں بکثرت موجود ہیں۔ مجھے نجمہ شاھیں کھوسہ کی شاعری سے بہت امیدیں ہیں۔ ((ڈاکٹر) ستیہ پال آنند واشنگٹن ، ڈی سی، امریکا ۱۵ / اپریل ۲

satya pall

PostHeaderIcon مجھے جانا ہے جاناں کی طرف

اے دل میرے ، ناشاد مرے
ہمزاد مرے، برباد مرے
اک عمر سے اس زندان میں ہوں
پر کھول مرے آزاد تو کر
مرے پیروں میں زنجیرِ وفا
اسے توڑ ذرا ،مجھے جوڑ ذرا
مجھے جینے کی تہذیب تو دے
مری سانسوں کو ترتیب تو دے
اب خود کوذرا تُو شاد تو کر
مجھے جیون سے آزاد تو کر
تُو جانتا ہے اس جیون کو
یہ مدفن ہے ہر حسرت کا
یہ جیون ہے اک موت نما
مجھے دور یہاں سے جانا ہے
اُڑنا ہے فلک کی جانب اب
اک زنداں سے زنداں کی طرف
حیراں کی طرف، جاناں کی طرف
ہاں اُس کی طرف جس کی خاطر
یہ آنکھیں برسی ہیں شب بھر
جو خوشبو دیس کا باسی ہے
اور جس کو نہیں اب میری خبر
اے دل میرے میں خاک نشیں
کیا چاند کو اب تسخیر کروں
کس خواب کو کیوں تعبیر کروں؟
تاریک سا یہ جو جیون ہے
اب کیسے اسے تنویر کروں؟
اک رنگ جو ہے دامن میں مرے
اسے کتنی دفعہ تصویر کروں؟
دکھ سارے کیوں تحریر کروں؟

ہمزاد مرے،ناشاد مرے
اے دل میرے،برباد مرے
اب خود کو ذرا تُو شاد تو کر
اب تُو مجھ کو آزاد تو کر
مجھے جانا ہے جاناں کی طرف
حیراں کی طرف زنداں کی طرف

11026124_1553837571571794_2253187699835421359_n

PostHeaderIcon کہاں سے ٹوٹی ہوئی ہوں مَیں اور ابھی تلک ہوں کہاں سلامت

کہاں سے ٹوٹی ہوئی ہوں مَیں اور ابھی تلک ہوں کہاں سلامت

فریبِ ہستی میں رہنے والے رہے ترا یہ جہاں سلامت

نہ کوئی بستی یہاں سلامت ،نہ اس میں کوئی مکاں سلامت

یہی بہت ہے ہر ایک چہرے پہ بس ہے اشکِ رواں سلامت

پگھل چکا ہے وجود سارا ، سلگ رہی ہے ہماری ہستی

چراغِ جاں کب کا بجھ چکا ہے، مگر ابھی تک دھواں سلامت

بس ایک لمحہ تھا روشنی کا ، گرفت سے جو نکل گیا ہے
کوئی نشانی کہاں بچی ہے ؟ مگر ہے دل پر نشاں سلامت

کسی سے شکوہ بھی کیا کریں اب ، چمن پہ حق ہی نہیں تھا اپنا
بکھرنے والا یہ کہہ رہا ہے رہے ترا آشیاں سلامت

جنوں کے رستوں پہ میرے ہم دم ،شمار زخموں کا کیوں کروں اب؟
تمہارا ہرایک وار مجھ پر رہے گا اے مہرباں سلامت

یہ بے سبب سی اداسیاں ہیں ، یہ روگ سہتی سی داسیاں ہیں
نئے زمانوں میں رہنے والو، رہے تمہارا زماں سلامت

اجڑ گیا ہے بکھر گیا ہے ، یہ عشق آخر کو مٹ گیا ہے
کمین گاہوں میں رہنے والو ،رہے تمہاری کماں سلامت

وہ حسن بانہوں میں سو گیا ہے، تو عشق راہوں میں کھو گیا ہے
یقیں کی منزل تو کھو چکی ہوں، مگر ابھی ہے گماں سلامت

ابھی تو زندہ ہیں ہم جہاں میں ، ابھی کہانی نہیں بچے گی
تمام کردار جب مریں گے ،رہے گی پھر داستاں سلامت

nnn1

 

PostHeaderIcon دمان کے توانا لہجے کی شاعرہ ۔۔ تحریر ۔۔ قاسم شہانی

najma art

PostHeaderIcon زخم اپنے گلاب کر دینا

زخم اپنے گلاب کر دینا
روح کو ماہتاب کر دینا

ڈال کر اک نظر محبت کی
وقت کو لا جواب کر دینا

روح کے زخم روشنی دیں گے
ہجر کو آفتاب کر دینا
پتھروں سے اگر جو بچنا ہو
عکس کو بھی سراب کر دینا

باب لکھنا ہو زندگی کا اگر
چاہتوں کو نصاب کر دینا

اپنی تعبیر ڈھونڈنے کے لئے
اپنی آنکھوں کو خواب کر دینا

خود کو مسمار کر کے شاہیں تم
اک ستارہ شہاب کر دینا

kr dyna

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits