محفوظات برائے June, 2015

PostHeaderIcon رحیم یار خان میں کل پاکستان مشاعرہ ۔۔ 14 جون 2015

PostHeaderIcon نظم ۔۔ اک بختوں والے کا قصہ

 

سکھی آج میں تیرے واسطے پھر
اک نئی کہانی لائی ہوں
اک درد نیا سا ہے اس میں گو بات پرانی لائی ہوں
سُن سکھی کہانی سُن میری
اک بار پرانی سُن میری
اک دن کے اُجالے کا قصہ
اک بختوں والے کا قصہ
اک مہربان سے لمحے میں
اک سرد ہوا کے جھونکے میں
مَیں اک دن اس کو دیکھ رہی تھی
اور پھر اپنے مَن ہی مَن میں جانے کیا کیا سوچ رہی تھی
مَیں سوچ رہی تھی جذبوں کی کیا آنچ یہ سرد نہیں ہو گی ؟
جو ایک خوشی ہے جیون میں کیا کل بھی یہیں کہیں ہو گی ؟
مَیں سوچ رہی تھی ہجر کی جو اونچی ہیں فصیلیں چار طرف
کیا ان مضبوط فصیلوں کو ہم قیدی مل کر توڑ سکیں گے؟
اور خوشیوں کا رخ ہم اک دن پھراپنی جانب موڑ سکیں گے؟
اسی وفور سے لمحے میں پھر
چُپ کا پہرہ ٹوٹ گیا تھا
کیا جانے کیا سوچ کے اس نے
میرے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا تھا
میرا کنگن چُھو کر اُس نے
میری کلائی پر موجود وہ ایک سیہ تِل دیکھ لیا تھا
اور سیہ بختی کی علامت دیکھ کے اُس بختوں والے کے
چہرے پر اک کرب ابھرا تھا
اس ریشم سے لمحے میں بس
میری آنکھ کا سارا دریا ایک ہی قطرے میں سمٹا تھا
پلکوں کا وہ قیدی قطرہ
آنکھ فصیل کو توڑ کے اس کے ہاتھ پہ آخر آن گرا تھا
لیکن ہجر کا آبِ زم زم اُس نے ہاتھ سے جھٹک دیا تھا
درد کا وہ انمول سا قطرہ
وصل کا اک انمول سا لمحہ
اُس پل خاک میں خاک ہوا تھا
ہجر کے دریا کے شعلوں میں
میرا جیون راکھ ہوا تھا
11535834_10207332227210231_552170081164470247_n

 

PostHeaderIcon نظم ۔۔ صبح توہوگی

یہاں پرصبح توہوگی

یہاں سورج تونکلے گا
یہ ممکن ہے کہ ان روشن دنوں کابھی نہ کوئی منتظرہوتب
نہ امیدِسحرہواورنہ جیون کی طلب ہوتب
جواک اندھے سے اوربنجرسے رستے پرمسافرہے
وہ جوصدیوں سے تنہاہے
کسی کی راہ تکتاہے
یہ ممکن ہے کہ جب سورج نکل آئے
تواس کی شام ڈھل جائے
یہاں پرصبح توہوگی
یہاں سورج تونکلے گا
بھلے سورج نکلنے پرشب ہجراں سلامت ہو
کسی کی چشمِ ویراں میں غم جاناں امانت ہو
بھلے سورج نکل کربھی نہ سورج کونکلناہو
کسی نے عمر بھریونہی برہنہ پابھٹکناہو
بھلے زندان میں امیدکادیپک نہ جلناہو
کسی نے دورتک اس دشت میں تنہاہی چلناہو
یہاں پرصبح توہوگی
یہاں سورج تونکلے گا
بھلے پھرعشق موسم باعث دیدارہو،ناہو
یہاں خود سے بھلے کوئی برسرپیکارہو،ناہو
بھلے زندان کی دیواربھی مسمارہو،ناہو
مگرسورج تونکلے گا
جودامن میں امیدوصل کے جگنوسلامت ہیں
جوآنکھوں میں ابھی تک چند یہ آنسوامانت ہیں
سلامت ہی رکھوان کو
امانت ہی رکھوان کو
تمھیں معلوم ہے آنکھوں میں اب تک بھی وہی ویرانیاں سی ہیں
کسی حیرت زدہ منظرکی کچھ حیرانیاں سی ہیں
کسی مشکل گھڑی میں بھی کئی آسانیاں سی ہیں
انہیں حیران رہنے دو
انہیں ویران رہنے دو
انہیں آسان رہنے دو
یہاں پرصبح توہوگی
بھلے پھرمنتظرآنکھوں میں کوئی گریہ کناں مت ہو
جہاں کوئی آج ہے ممکن ہے پھروہ بھی وہاں مت ہو
کسی کاکوئی جہاں مت ہو
کہیں کوئی داستاں مت ہو
مگرسورج تونکلے گا
یہاں پرصبح توہوگی
پھراس سورج ابھرنے سے
یہ ممکن ہے کہ محبت کے وہ سب جذبے
ہمیشہ کیلئے ہی ماند پڑجائیں
امیدوصل کے جتنے شجر ہیں سب اکھڑجائیں
جواِن آنکھوں میں خوابوں کے کئی میلے سجے ہیں اب
یہ ممکن ہے اجڑجائیں
اگرچہ آج نفرت نے سبھی کچھ راکھ کرڈالا
وہ جواک شام کی لالی تھی اس کوبھی
سیہ بختی کی آندھی نے خس وخاشاک کرڈالا
مگرامیدکادل میں ابھی جگنو سلامت ہے
کسی کی آنکھ میں اب بھی کوئی آنسوسلامت ہے
اگرچہ ہم نہیں ہوں گے مگرامیدکاجگنو
کسی کی آنکھ کاآنسوہی جیون کی ضمانت ہے
اسی سے روشنی ہوگی ،اسی سے زندگی ہوگی
سوتم اس بے یقیں موسم میں بس اتنایقیں رکھنا
غروبِ جاں کے لمحوں میں
کوئی سورج توابھرے گا
طلوع وصل کالمحہ فضاؤں میں جونکھرے گا
اسی بے رنگ دنیامیں
وہ رنگ جاوداں اس دن
میری سانسوں میں اترے گا
جواَب خودکھوچکاہے وہ
اسی دن مجھ کوڈھونڈے گا
subh

 

PostHeaderIcon نظم ۔۔ اجنبی مسافر تم

اجنبی مسافر تم
اجنبی سی راہوں کے
اجنبی مسافر تم
اجنبی سی راہوں کے
اجنبی مسافر ہم
جانے کتنی صدیوں سے
زندگی کے رستے پر
اوراس سفرمیں تم
ایک پل کورکتے ہو
اجنبی سی راہوں کی
اجنبی مسافت میں
دردکی صداؤں کو
ایک سازدیتے ہو
سرپھری ہواؤں کو
دل کے اس دریچے میں
وصلِ جاں کے لمحوں کا
ایک راز دیتے ہو
بے جواز لمحوں کو
کیوں جواز دیتے ہو؟
11426259_10207297413299905_6155754370953907136_n
My Facebook
Aanchal Facebook
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits