محفوظات برائے November, 2015

PostHeaderIcon ہر دل عشق دے قابل نا ہیں ،،،،،

یقیں اور گماں اور یہ زندگی بس ایک سفر ہی تو ہے ، ایک سوال ہی تو ہے ،
رواں دواں ، دکھ اور سکھ کا ، لمحوں اور کردار کے بدلتے مناظر لیے ، آس اور نا امیدی
کا چاہت اور ضرورت کا ۔ ھاں اور ناں کا ، عشق اور وحشت کا ،
الہام اور یقیں کا۔ یہ سب ایک ہی کہانی کے کئی کردار ہیں ۔
ان کرداروں میں سے کچھ اَمر ہیں اور کچھ اپنی قوت اور طاقت اس اَمرکردار پہ صرف کرنے والے،
خود کو فنا کر کے اسے بقاو دینے والے
یقیں اور گماں کے اس سفر میں دکھ ہی وہ کردار ہے جو اپنا لگنے لگتا ہے اور دکہ ایسا ساتھ دینے لگتا ہے
کہ لگتا ہے زندگی میں جیسے سکھ کوئی معنٰی ہی نہ رکھتا ہو۔
اور انسان دکھ اور سکھ دونوں کے اظہار میں مختلف رویے اور طریقہ اپناتا ہے
کہ یہ دونوں تو وقت کی گردش میں وقت گزارنے کا بس بہانہ ہیں۔
اور وقت کا کام گزرنا ہے اس کو اس سے کوئی سرو کار نہیں کہ کون کیسے جی رہا ہے کبھی اپنی صدیوں
کے اس کٹھن سفر میں چند ایسے لمحے چھوڑ جاتا ہے جو بقا ء ہیں جو انسانی ارتقا ء کواس کے آغاز سے
انجام تک پہنچاتے ہیں اور وہ لمحے بہت عجیب ہوتے ہیں
’’ جو نہ جینے دیتے ہیں نہ مرنے دیتے ہیں مگر وہی اثاثہ ہوتے ہیں ‘‘
ایک ایسا اثاثہ جو زندگی کے اس کٹھن سفر میں زادِ راہ ہوتا ہے کہ اس کے بغیر زندگی کا خرچ کہاں سے لایا جائے
کہ اس کے بغیر زندگی کا سفر کیسے کٹے
سفر چاہے خوشی کا ہو یا دکھ کا
بہر حال خرچ تو مانگتا ہے ۔اثاثہ تو مانگتا چاہے وہ اثاثہ ساری زندگی کے بدلے چند لمحوں کا ہی کیوں نہ ہو
اور وہی چند لمحے ہی تو حقیقت ہوتے ہیں بے شک باقی سارا سفر خوابوں کا ہو۔
اور خوابوں کا کام تو ٹو ٹنا ہے ،انہیں بھلا ٹوٹنے سے کون روک سکتا ہے ۔
اُن کو ٹوٹنے میں تو بس آگہی کا ایک ہی لمحہ کافی ہے اور آگہی کو پانے کیلئے کبھی صدیاں کافی نہیں ہوتیں
اور کبھی ایک
لمحہ کئی صدیوں پہ بھاری ہوتا ہے

لیکھ کی لکیریں سب کی برابر نہیں
کسی کے چند آنسو پونچھنے کیلئے ہزاروں ہاتھ لے آتی ہیں اور کسی کی سمندر آنکھوں کو تنہائی اور خاک کا ڈھیر دے جاتی ہیں
کہ جس پہ سمندر آنکھیں بھی صحرا ہو جاتی ہیں
اور دل میں غم کی ایسی گھٹن بن جاتی ہے کہ جس کو فرار چاہیے ہوتا ہے سانسوں کو برقرار رکھنے کیلئے ۔ اور یہ فرار کبھی
’’ دشت وحشت ‘ ‘ میں لے جاتا ہے اور کبھی دشت تنہائی میں محفلیں سجاتا ہے ۔
لفظوں کی خیالوں کی ، دکھ اور سکھ سے سجے موتیوں کی ، یادوں کے ڈھیر پہ اٹھنے والی چنگاریوں کو
شعلہ بنانے کی اور دل کی بنجر زمین پہ یادوں کے پھول اگانے کی۔
کتنا دھوکہ دیتا ہے خود کو انسان ، ہار کے بھی جیت کے خیال سے خود کو خوش رکھتا ہے۔
خوش فہمیوں میں ایک خیال کو اپنے سلیقہ ہنر سے کس کما ل کا بت بنا دیتا ہے۔اور اسے
ہی پوجتارہتا ہے۔اِک ایسا پجاری بن بیٹھتا ہے جو عقل و شعور اور ادراک کے معنٰی
کھو چکا ہے۔جو اپنے ہاتھوں بنائے پیکر کو خدا سمجھ رہا ہے مگر اسے کون شعور دے کہ
لا حاصل عشق میں تو سب رائیگاں جاتا ہے۔
خلوص ، چاہت ، مروت ، وفا ، سب اس گونگے ، بہرے ، اندھے
لا حاصل عشق میں رائیگاں ہیں اور جب کبھی شعور پہ منکشف بھی ہو تو تب بھی
عشق اندھا بہرہ ہے
عشق کو تو بس ایک پیکر چاہیے
پوجنے کیلئے ، اسے اس سے کوئی مطلب نہیں کہ وہ پیکر کیسا ہے ،اس کا طلبگار ہے
بھی یا نہیں
اسے تو سارا سرو کار اسی پیکر سے ہے اور جب وقت کا دیو اس سے وہ پیکر چھین لے تو عشق کا
انجام صرف گوررہ جاتا ہے اکہ اسے بھلا اس پیکر کے بغیر بقاء کیسے ملے وہ کیسے جیئے ، وفا کیسے نبھے
اپنے ہاتھوں سے بنائے اس پیکر کوخدا سمجھنے والا یہ عشق حیراں و پریشاں ، پا پیادہ بے سروساماں اس
پیکر کو ڈھونڈنے لگ جاتا ہے اور آخر یونہی ڈھونڈتے ڈھونڈتے وقت کا دیو اسے نگل جاتا ہے۔
لاحاصل عشق کا یہ سفر بہت کٹھن ہوتا ہے بے بسی اور گھٹن سے بھر پور ،لمحہ لمحہ جسم و جاں سے لہو کو نچوڑ
کر آنکھوں کے راستے باہر نکالنے والا ، بے منزل ، بے نشاں راستہ ، جس کا انجام صرف موت
اور حشر کی امید ، اور یہ امید ایک طفل تسلی ، کہ بھلا حشر میں بھی مالک حقیقی کیا قدر کر ے کہ جس کی معبودیت
چھوڑ کے اک خیال کو معبود بنا لیا ہو ۔اور
روز حشر بھی تو وہی ساتھ ہوں گی جہاں طالب و مطلوب کا عشق ایک معنی رکھتا ہو ۔
وہاں بھلا صرف طالب کا عشق کیامعنی رکھے گا اور وہاں بھی عشق لا حاصل قدرت کی اصولوں کے مطابق۔

اور یہی انت یہی انجام ڈاکٹر نجمہ شاہین

PostHeaderIcon چاند کو بھی اندھیرے بانٹتے دیکھا ہے۔

چاند کو بھی اندھیرے بانٹتے دیکھا ہے۔

یہ دکھ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ تنہائیوں، محرومیوں،محبتوں اور جدائیوں کے دکھ ، کہیں انت ہی نہیں ٹھہرتاان کا۔
کبھی گھٹن بن کر دل کو مٹھی میں کر لیتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انت ہو گیا اور کبھی دور پرے کھڑے مسکراتے اُسی گھٹن کو کم کرتے ہیں ، روشنی بنتے ہیں اور اپنی ذات کی تلاش پھر سے شروع ہو جاتی ہے ۔اِک چاک مل جاتا ہے جس پر ہم گھومتے ہیں اور اِک محور مل جاتا ہے جو ہمیں اپنے گرد دائرہ در دائرہ گھماتا ہے۔ ہم اپنی جستجو میں ہوتے ہیں مگر بھلا دائرے میں بھی کوئی جستجو مکمل ہو ئی ؟ دائرہ بن کے گھومنا تو بس گھومنا ہے جب رُک گئے تو دائرے میں گھومنے والا ہر ذرہ صرف اپنی جگہ سمٹ کر رُک جائے گا وہ اُس خلا کو پُر نہیں کر سکے گا جو اُسے ذات کے اندر قطار در قطار کھڑے دُکھوں ، گرد بنتی ہواؤں اور پس منظر میں سمٹتی ، جدائیاں بانٹتی رفاقتوں نے عطا کیا۔
ایسی رفاقتیں جو اداسی ، ہجر ، خاموشی ، اضطراب ، امید، یاس ، سُکھ، دُکھ، ہنسی، آنسو ، آرزو، خلش اور کسک بانٹتی ہیں۔ جو دل کی دنیا کو غم کے اندھیروں کے باوجود روشن و منور کرتی ہیں۔ سرِشام یادوں کے دےئے جلائے ، دل کے اندر بہتے لہو کے آنسو ؤں سے اپنی لَو کو جلانے کی صدیوں پرانی روایت پر ڈگر بہ ڈگر چلتی جاتی ہیں اور بھلا ایسا کیوں نہ ہو یہ رفاقتیں وہی تو ہیں جنہیں اپنی اہمیت کا احساس ہے جنہیں فخر اور غرور ہے اپنے ہونے کا اور دوسروں کے دل میں سب سے اونچی مسند پانے کا۔جنھیں معلوم ہے کہ وہ کوئی مرہم رکھیں یا نہ رکھیں دل کا زخم ناسور بنتا رہے گا اور بن بن کے بگڑے گامگر ازل تا ابد ختم نہیں ہو گا۔انہیں تا حشر اپنی ذات کا زعم ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ ایسی لوح تو کہیں کہیں ملتی ہے کہ جس پر کسی انمٹ سیاہی سے جو نقش کندہ کر دیا جائے وہ پھر مٹا نہیں کرتا۔یہ سُکھ ، یہ آرزوئیں ، یہ سانسیں ، یہ حرف ، یہ لفظ ، یہ شاعری غلام ہی تو ہیں بس اُن رفاقتوں کے۔یہ جستجوئے ذات جو شروع تو اپنی ذات سے ہوتی ہے مگر اس کا ہر رُخ ،ہر موڑاُن رفاقتوں تک محدود ہوتا ہے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دُکھ کبھی کبھی تھکا دیتے ہیں کسی سُکھ کو پانے کی تمنا میں دل مچل اُٹھتا ہے ، روح کی تھکن بڑھ جاتی ہے اور روشنیاں بانٹتی اس دنیا میں چاند کی کرنوں سے چند کرنیں لے کر اپنا جیون روشن کرنے کو دل کرتا ہے۔چاند جو منور ہے ، روشن ہے ، جس کی ٹھنڈی چاندنی جب اَوج پر ہو تو ساحل کی لہروں میں طوفان برپا کر دیتی ہے اور جب بے آب و گیاہ صحرا پر پڑتی ہے تو سراب پیدا کرتی ہے مگر یہ دنیا ہے یہاں تو ہم نے کبھی کبھی کہیں کہیں چاند کو بھی اندھیرے بانٹتے دیکھا ہے۔پہاڑ جیسی ہجر کی شاموں سے لے کر بھیانک اندھیری راتوں میں کہیں اِس کی ایک کرن بھی نہیں ملتی کہ زیست کو بتانے کا کوئی حوصلہ ہی مل سکے۔
ایسے میں سُکھ کی یہ خواہش خودبخود اپنی موت مر جاتی ہے ۔پھر ذات کی وہی تنہائی اور دُکھ کا وہی لامحدود صحرا ۔ اور ازل سے لے کر ابد تک اکیلے پن کا وہی سفر ، وہی ریزہ ریزہ خوابوں کی چُبھتی کرچیاں ، محرومیوں کے بوجھ تلے دبی خواہشیں ، دم توڑتی محبتوں کی بے ترتیب ہچکیاں ، پا بُریدہ حسرتوں کی لاشیں ۔۔بھلا اِس اُجاڑ سفر میں کون کسی کا ساتھ دے، کون مجروح جذبوں پر دلاسوں کے ’’ُ پھاہے‘‘ رکھے ۔ کون ساتھ دے
سوائے اپنے ہی دُکھ اور تنہائی کے۔اور اسی تنہائی کے بنجر بن میں گئی رُتوں سے یادوں کے چراغ جلا کر، جذبوں کی محفلیں سجانا اور اُن محفلوں میں گلاب اُگانا اور اپنے بے ربط اور بے ترتیب بہہ جانے والے آنسوؤں سے ان گلابوں کو سراب کرنااور ان سرابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے رنگوں اور روشنیوں سے سیاہی بنانا اور اسے صفحہء قرطاس پر لفظوں کی صورت بکھیرنا اِسی کا نام شاعری ہے۔
مگر کیا شاعری سب بولتی ہے ۔ کیاشاعری وہ سب کہہ سکتی ہے جو کہا جانا چاہئے ؟ اِن سنگلاخ درد کے پہاڑوں سے گزرتی، اپنی ناتواں جاں پر تندو تیز ہواؤں کے طوفان برداشت کرتی کرب کی اِن مسلسل راتوں کی کہانی ، بے یقنی اور مایوسی کی دُھول سے اٹی ہوئی بے خواب راتوں کی کہانی ، یہ رتجگوں کے عذاب اندھی راتوں میں اِک امید سحر باندھے مسلسل جاگتی ،بینائی کھوتی اُن آنکھوں کی کہانی ، کیا یہ شاعری کہہ سکے گی مگر کہاں ؟
یہ لفظ بے شک بہت توقیر والے سہی، جذبوں کی جاگیر سے گُندھے ہوئے ، دل کے سے چراغ جلاتے ۔۔مگر یہ لفظ کبھی حرفوں کی صورت میں بول اُٹھتے ہیں۔اور کبھی کبھی دیوان بن کر بھی صرف ردی کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ انہیں اس سے کیا کہ انہیں لکھنے والے کس
اذیت اور کرب سے گُزرے ہیں۔

درد میرا بیاں اِن سے کب ہو سکا
شعر خاموش تھے ، شاعری چپ رہی
[اور شام ٹھہر گئی ]

PostHeaderIcon کیا آج معیاری ادب تخلیق ہورہا ہے؟

[کیا آج معیاری ادب تخلیق ہورہا ہے؟ [ادب پیچھے ادیب آگے11260783_932949113452032_3089940291249910928_n

ایک مشکل سا سوال، مگر ایک آسان اور سیدھا سادہ جواب کہ ’’نہیں‘‘ یہ سچ ہے کہ آجغزل، نظم اور افسانہ لکھنے والے بہت لوگ ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے تخلیق کار کتنے ہیں۔ ایک تخلیق کار بننے کے لیے درد، کرب، ظلم و ستم اور جبر کے خلاف مزاحمت کا جو ایک سفر طے کرنا پڑتا ہے وہ آج کے اس آسائشوں کے دور میں کہاں؟
قلم کی طاقت کو جبر کی طاقت سے جیتنے کے لیے بہت سی آسائشوں اور سہولتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے جو کہ ظاہر ہے آج ممکن نہیں۔ آج ایک لکھنے والا بڑے زور و شور سے ایک دن لکھتا ہے اور دوسرے دن اس کے قلم کو خاموش کرنے کے لیے اس کی حق گوئی اور بے باک سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کے لیے صدر یا وزیراعظم کا ایک بلاوہ ہی کافی ہوتا ہے۔
آج ادب یکسانیت کا شکار ہے۔ ادیب اور شاعر اپنی شناخت کھو چکے ہیں۔ پہلے کتابیں اتنی زیادہ تعداد میں شائع نہیں ہوتی تھیں، اخبارات بھی چند ایک ہی ہوتے تھے۔ چند برسوں پہلے تک جو ادبی رسائل و جرائد چھپ رہے تھے ان کا ایک نام اور معیار تھا۔ ادبی محفلیں آباد تھیں، قہوہ خانوں، ادبی بیٹھکوں اور تنقیدی محافل میں شعراء و ادباء شامل ہوتے اور ادب پر تنقیدی اور تخلیقی گفتگو ہوتی اور اس باہمی مشاورت میں بہترین ادب تخلیق ہوتا۔
آج اخبارات کے رنگین صفحات پر شاعروں، ادیبوں کے فوٹو سیشن اور انٹرویوز باقاعدگی کے ساتھ ہورہے ہیں، ادب پیچھے رہ گیا اور ادیب نمایاں ہوگیا۔
کچھ شاعر اور ادیب خاص طور پر بیرون ملک مقیم ادیب و شعراء اپنی دولت کے بل بوتے پر اپنے لیے خصوصی اشاعتوں کا انتظام کراتے ہیں، پھر ایسی اشاعتوں اور تقریبات کی خصوصی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کے ساتھ مخصوص لفافے لف کیے جاتے ہیں جو ان کی اشاعت کو ممکن بناتے ہیں۔ ان کا ادبی حوالہ صرف چند غزلیں اور نظمیں ہوتی ہیں۔ بلکہ آج کل تو شعر و ادب کے مکمل مسودے خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ ایسے میں ادب کیسے تخلیق ہو۔ کیسے اقبال، میر، غالب، مومن، جوش اور فیض پیدا ہوں۔ تخلیق شعور و آگہی کا سفر ہے اور شعور وہ احساس ہے جو زمانے کی تپتی دھوپ، کرب سے ایک تخلیق کار کے اندر جنم لیتا ہے اور تخلیق کار اپنے شعور کی روشنائی سے اس احساس کو سپردِ قلم کرتا ہے اور یوں تخلیق جنم لیتی ہے۔
پہلے کسی شاعر کا تعارف صرف اور صرف اچھی شاعری اور وہ تخلیق ہوتی تھی جس میں لفظ بولتے تھے ۔۔لفظوں میں چھپا ہوا درد اور کرب اور شعور و آگہی خود روشنی بن کر ادیب کو نمایاں کرتا ،،،ادب صرف بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانوں اور بڑے نام والے ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ تصاویر بنوا کر فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ حقیقی شاعروں کے حقیقی اور خوبصورت لفظ خود روشنی بن کر اس کی شاعری اور شخصیت کا تعارف بنتے ،،،آج ادب صرف چند گروپوں اور چند ٹولوں تک محدود ہے جس میں ؛اندھا بانٹے ریوڑیاں اور اپنوں ہی اپنوں کو دے ؛کے مصداق صرف ایک دوسرے کو نوازا اور سراھا جاتا ھے ،،،
پہلے مشاعرے باقاعدگی سے منعقد ہوتے تھے اور لوگ بہت ذوق و شوق سے مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ پنڈال کھچا کھچ بھر جاتے تھے اور دور دور سے لوگ مشاعرے میں شریک ہوتے تھے اور رات رات بھر مشاعرے سنتے تھے۔ آج اچھے مشاعرے کی محفل منعقد کرنے کے لیے سرکاری سرپرستی لازمی ہے اور آج وہ سننے والے سامعین بھی نہیں رہے۔
غیر روایتی شعراء اور غیر روایتی سامعین نے مشاعروں کا ماحول تبدیل کردیا ہے۔ آج وہ شاعر بھی نہیں اور وہ سامعین بھی نہیں۔ کیونکہ آج کی تخلیق میں وہ حق و سچائی بھی نہیں، پھر جھوٹ کو آخر کب تک زندہ رکھا جائے۔ وہ ادب بھی نہیں رہا، وہ تخلیق بھی نہیں رہی

۔ڈاکٹر نجمہ شاہین ؔ کھوسہ

 

 

PostHeaderIcon کیا شاعری سب بیان کرتی ہے؟

ddd
یہ دکھ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ تنہائیوں، محرومیوں،محبتوں اور جدائیوں کے دکھ ، کہیں انت ہی نہیں ٹھہرتاان کا۔
کبھی گھٹن بن کر دل کو مٹھی میں کر لیتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انت ہو گیا اور کبھی دور پرے کھڑے مسکراتے اُسی گھٹن کو کم کرتے ہیں ، روشنی بنتے ہیں اور اپنی ذات کی تلاش پھر سے شروع ہو جاتی ہے ۔اِک چاک مل جاتا ہے جس پر ہم گھومتے ہیں اور اِک محور مل جاتا ہے جو ہمیں اپنے گرد دائرہ در دائرہ گھماتا ہے۔ ہم اپنی جستجو میں ہوتے ہیں مگر بھلا دائرے میں بھی کوئی جستجو مکمل ہو ئی ؟ دائرہ بن کے گھومنا تو بس گھومنا ہے جب رُک گئے تو دائرے میں گھومنے والا ہر ذرہ صرف اپنی جگہ سمٹ کر رُک جائے گا وہ اُس خلا کو پُر نہیں کر سکے گا جو اُسے ذات کے اندر قطار در قطار کھڑے دُکھوں ، گرد بنتی ہواؤں اور پس منظر میں سمٹتی ، جدائیاں بانٹتی رفاقتوں نے عطا کیا۔
ایسی رفاقتیں جو اداسی ، ہجر ، خاموشی ، اضطراب ، امید، یاس ، سُکھ، دُکھ، ہنسی، آنسو ، آرزو، خلش اور کسک بانٹتی ہیں۔ جو دل کی دنیا کو غم کے اندھیروں کے باوجود روشن و منور کرتی ہیں۔ سرِشام یادوں کے دےئے جلائے ، دل کے اندر بہتے لہو کے آنسو ؤں سے اپنی لَو کو جلانے کی صدیوں پرانی روایت پر ڈگر بہ ڈگر چلتی جاتی ہیں اور بھلا ایسا کیوں نہ ہو یہ رفاقتیں وہی تو ہیں جنہیں اپنی اہمیت کا احساس ہے جنہیں فخر اور غرور ہے اپنے ہونے کا اور دوسروں کے دل میں سب سے اونچی مسند پانے کا۔جنھیں معلوم ہے کہ وہ کوئی مرہم رکھیں یا نہ رکھیں دل کا زخم ناسور بنتا رہے گا اور بن بن کے بگڑے گامگر ازل تا ابد ختم نہیں ہو گا۔انہیں تا حشر اپنی ذات کا زعم ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ ایسی لوح تو کہیں کہیں ملتی ہے کہ جس پر کسی انمٹ سیاہی سے جو نقش کندہ کر دیا جائے وہ پھر مٹا نہیں کرتا۔یہ سُکھ ، یہ آرزوئیں ، یہ سانسیں ، یہ حرف ، یہ لفظ ، یہ شاعری غلام ہی تو ہیں بس اُن رفاقتوں کے۔یہ جستجوئے ذات جو شروع تو اپنی ذات سے ہوتی ہے مگر اس کا ہر رُخ ،ہر موڑاُن رفاقتوں تک محدود ہوتا ہے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دُکھ کبھی کبھی تھکا دیتے ہیں کسی سُکھ کو پانے کی تمنا میں دل مچل اُٹھتا ہے ، روح کی تھکن بڑھ جاتی ہے اور روشنیاں بانٹتی اس دنیا میں چاند کی کرنوں سے چند کرنیں لے کر اپنا جیون روشن کرنے کو دل کرتا ہے۔چاند جو منور ہے ، روشن ہے ، جس کی ٹھنڈی چاندنی جب اَوج پر ہو تو ساحل کی لہروں میں طوفان برپا کر دیتی ہے اور جب بے آب و گیاہ صحرا پر پڑتی ہے تو سراب پیدا کرتی ہے مگر یہ دنیا ہے یہاں تو ہم نے کبھی کبھی کہیں کہیں چاند کو بھی اندھیرے بانٹتے دیکھا ہے۔پہاڑ جیسی ہجر کی شاموں سے لے کر بھیانک اندھیری راتوں میں کہیں اِس کی ایک کرن بھی نہیں ملتی کہ زیست کو بتانے کا کوئی حوصلہ ہی مل سکے۔
ایسے میں سُکھ کی یہ خواہش خودبخود اپنی موت مر جاتی ہے ۔پھر ذات کی وہی تنہائی اور دُکھ کا وہی لامحدود صحرا ۔ اور ازل سے لے کر ابد تک اکیلے پن کا وہی سفر ، وہی ریزہ ریزہ خوابوں کی چُبھتی کرچیاں ، محرومیوں کے بوجھ تلے دبی خواہشیں ، دم توڑتی محبتوں کی بے ترتیب ہچکیاں ، پا بُریدہ حسرتوں کی لاشیں ۔۔بھلا اِس اُجاڑ سفر میں کون کسی کا ساتھ دے، کون مجروح جذبوں پر دلاسوں کے ’’ُ پھاہے‘‘ رکھے ۔ کون ساتھ دے
سوائے اپنے ہی دُکھ اور تنہائی کے۔اور اسی تنہائی کے بنجر بن میں گئی رُتوں سے یادوں کے چراغ جلا کر، جذبوں کی محفلیں سجانا اور اُن محفلوں میں گلاب اُگانا اور اپنے بے ربط اور بے ترتیب بہہ جانے والے آنسوؤں سے ان گلابوں کو سراب کرنااور ان سرابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے رنگوں اور روشنیوں سے سیاہی بنانا اور اسے صفحہء قرطاس پر لفظوں کی صورت بکھیرنا اِسی کا نام شاعری ہے۔
مگر کیا شاعری سب بولتی ہے ۔ کیاشاعری وہ سب کہہ سکتی ہے جو کہا جانا چاہئے ؟ اِن سنگلاخ درد کے پہاڑوں سے گزرتی، اپنی ناتواں جاں پر تندو تیز ہواؤں کے طوفان برداشت کرتی کرب کی اِن مسلسل راتوں کی کہانی ، بے یقنی اور مایوسی کی دُھول سے اٹی ہوئی بے خواب راتوں کی کہانی ، یہ رتجگوں کے عذاب اندھی راتوں میں اِک امید سحر باندھے مسلسل جاگتی ،بینائی کھوتی اُن آنکھوں کی کہانی ، کیا یہ شاعری کہہ سکے گی مگر کہاں ؟
یہ لفظ بے شک بہت توقیر والے سہی، جذبوں کی جاگیر سے گُندھے ہوئے ، دل کی لو سے چراغ جلاتے ۔۔مگر یہ لفظ کبھی حرفوں کی صورت میں بول اُٹھتے ہیں۔اور کبھی کبھی دیوان بن کر بھی صرف ردی کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ انہیں اس سے کیا کہ انہیں لکھنے والے کس
اذیت اور کرب سے گُزرے ہیں۔

درد میرا بیاں اِن سے کب ہو سکا
شعر خاموش تھے ، شاعری چپ رہی

[اور شام ٹھہر گئی ]
ڈاکٹر نجمہ شا ہین کھوسہ

PostHeaderIcon Najma-3

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits