محفوظات برائے May, 2016

PostHeaderIcon 13293224_10208097566889721_563455033_n

PostHeaderIcon ’’شاعری نجمہ شاہین کی زندگی ہے‘،،،حسن عبا سی ،لاہور

>
’’شاعری نجمہ شاہین کی زندگی ہے‘‘

میں نے کہیں پڑھا تھا ’’تخلیق کار کو اپنی تخلیق کے لیے جو پانی درکار ہوتا ہے اس کے لیے افسانہ نویس اپنے گھر کے اندر نلکا لگاتا ہے۔ ناول نگار وہ پانی دریا سے بھر کر لاتا ہے جبکہ شاعر بادلوں کا انتظار کرتا ہے‘‘
ڈاکٹر نجمہ شاہین کی شاعری پڑھنے کے بعد میں یہی کہوں گا اسے اپنی تخلیق کے لیے جو پانی درکار تھا وہ اس نے اپنی آنکھوں سے حاصل کیا ہے۔ مصرعہ مصرعہ لفظوں کے ساتھ اپنے آنسو بھی پروئے ہیں۔ اس لیے نامعلوم سی اداسی نے چڑیلوں کی طرح اس کی غزلوں اور نظموں میں اپنے گھونسلے بنالیے ہیں۔ اک عمر کی رفاقت کے بعد خود نجمہ بھی اب اس اداسی سے مانوس ہوچکی ہے اور اسی فضا میں رہنا چاہتی ہے جس سے اس کی تخلیق کے سرچشمے پھوٹتے ہیں۔ دریا کے کنارے رہنے والی لڑکیوں کی آنکھوں اور لہروں میں زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔ گھر کے کنارے بہنے والا دریا اچانک آنکھوں سے بہنے لگتا ہے۔ زندگی میں سیلاب آتے ہیں تو دل کی بنجر زمینوں کو زرخیز اور شاداب کرجاتے ہیں۔ یہی زرخیزی اور شادابی نجمہ شاہین کی شخصیت اور شاعری میں دیکھی جاسکتی ہے۔ شعری مجموعوں کے بیک ٹائٹلز پر جو نجمہ شاہین کی تصاویر ہیں ان کو دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ اسے کوئی دکھ بھی رہا ہوگا اور اس کی شاعری پڑھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ خوشیوں سے کبھی آشنا بھی رہی ہوگی۔ ان ذات میں دکھ چھپانے کا یہ ہنر دنیا کی ہر لڑکی جانتی ہے۔ اگر اس کی آنکھیں اس کا ساتھ دیں۔ میرا نہیں خیال کہ تخلیق کے لمحوں میں نجمہ کی آنکھیں اس سے وفا کرتی ہوں گی ورنہ ایسی شبنم جو پھولوں کی پتیوں پر ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ اس کی غزلوں اور نظموں پر نظر نہ آتی۔
نجمہ کی شاعری گاؤں کے میلے میں پہلی بار کھلونوں کی دکانیں دیکھنے وا لی بچی کی طرح سادہ ہے۔ وہی حیرت غزلوں میں ملتی ہے، وہی تجسس نظموں میں نظر آتا ہے۔ نجمہ شاہین جس دل پذیر سرائیکی لہجہ میں اُردو بولتی ہے وہی دل پذیر لہجہ اس کی شاعری کا بھی خاصہ ہے۔ اس کی شاعری مکمل سچ اور مکمل سادگی کا مظہر ہے۔ اس میں جھوٹ کی آمیزش زیروفیصد ہے۔ کوئی دو رخی نظر نہیں آتی جس طرح عموماً لوگوں کی شاعری ان کی زندگی سے الگ تھلگ کوئی چیز نظر آتی ہے نجمہ شاہین کے ہاں ایسا بالکل نہیں ہے۔
نجمہ کو اس کی شاعری میں با آسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ملاقات کی جاسکتی ہے۔ اسے دریافت کیا جاسکتا ہے۔ نجمہ کی شاعری میں اداسی کے رنگوں سے جو پینٹنگ ہمیں دکھائی دیتی ہے اس کی غزلوں اور نظموں پر نظر نہ آتی۔
اس میں اس کے خال و خد واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ زندگی اور شاعری اس کے نزدیک دو الگ چیزیں نہیں ہیں۔ وہ شاعری کی فضا میں ہی اپنے روز و شب بسر کرتی ہے۔ اس نے ایک سلجھی ہوئی گھریلو عورت کی طرح اپنی زندگی کی تمام یادوں کو شاعری کی الماری میں سلیقے سے رکھا ہوا ہے۔
نجمہ کی شاعری پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے ابھی تک اپنے اردگرد کے ماحول، موسموں، راستوں اور چیزوں سے سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ ناہموار راستوں پر چلنے کا ہنر تو سیکھا ہے لیکن انہیں قبول نہیں کیا ہے۔ وہ جیسا منظر نامہ اپنے اندر باہر دیکھنا چاہتی تھی وہ اسے نظر نہیں آرہا۔ اس لیے اس نے شاعری میں پناہ لے رکھی ہے۔
شاعری نجمہ شاہین کی زندگی ہے اور نجمہ شاہین کی زندگی اس کی شاعری ہے۔
چند اشعار نذر قارئین۔
یہ نیا پھول ہے اور یہ خوشبو نئی
یہ نئی شام ہے اور نیا درد ہے

زخم کیسا ہے بھرتا نہیں ہے کبھی
درد ہوتا نہیں ہے یہ کیا درد ہے

ہم تو گھٹ گھٹ کے اک روز مر جائیں گے
اس گھٹن میں اگر آنکھ بھی چپ رہی

کہیں یہ گرد کہیں پر ہوا بناتی ہوں
میں خود کو اب تو بس اپنے سوا بناتی ہوں

بکھر گئے تھے کسی نام کے حروف کہیں
اب ان کو جوڑ کے اک آئینہ بناتی ہوں

اُجالتا ہے یہ تاریکیاں مرے دل کی
تمہاری یاد کو ہر پل دیا بناتی ہوں
ڈاکٹر نجمہ شاہین اور ان کی شاعری کیلئے ڈھیروں دعائیں۔
حسن عباسی ۔۔۔
نستعلیق مطبوعات ،،لاہور
1800390_10204300969217913_7113716944586276436_n

PostHeaderIcon وہ مرا آغاز تھا او ر یہ مرا انجام ہے

13217152_1102947109768318_6704301716905640348_ochaar janib shaam

چار جانب شام ہے یا گردشِ ایام ہے
پھول ، خوشبو اور تارہ زندگی کا نام ہے

زندگی کے کھیل کا شاہین عجب انجام ہے
حسرتوں کی لاش ہے ، اشکوں بھری اک شام ہے

پھول ہے گم ذات میں ، خوشبو گھری حالات میں
ہجر کا لمحہ ہی بس اب عشق کا انعام ہے

زندگی خیرات میں لی موت کی اب التجا
وہ مرا آغاز تھا او ر یہ مرا انجام ہے

میں بہت خوش ہوں کہ دامن میں خوشی کوئی نہیں
کامیابی تو یہی ہے ز ندگی ناکام ہے

نفرتوں کی بارشیں ،سب بہہ چکی ہیں خواہشیں
درد کا طوفان ہے اور ہر طرف کہرام ہے

عشق تیری راہ کے سب منفرد ہیں سلسلے
دام میں آیا ہوا پنچھی یہاں بے دام ہے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے

maan
دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہے
میں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے

اُس کے قدموں میں جو جنت ہے تو مطلب یہ ہے
آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے

خوشبو ایسی کہ مری روح تلک مہکی ہے
روشنی ایسی کہ بس نور کا دھارا ماں ہے

تپتے صحراؤں میں کس طرح بھٹک سکتی ہوں
مجھ کو جو راہ دکھائے وہ ستارہ ماں ہے

اُ س کے ہر دکھ کو میں لفظوں میں سموتی کیسے
میں نے اشکوں سے بس اک لفظ ابھارا ’’ماں‘‘ ہے

سب نے پوچھا کہ بھنور سے تُو بچے گی کیسے
میں نے بے ساختہ نجمہ یہ پکارا ’’ماں ہے‘‘

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits