محفوظات برائے September, 2016

PostHeaderIcon

SAMSUNG CAMERA PICTURESپی ٹی وی نیوز پر آج شام ٹیلی کاسٹ ہونے والے عید شو کی چند جھلکیاں ۔۔ یہ شو آج شب دو سے تین اور کل جمعرات کو دوپہر دو سے تین بجے ُپی ٹی وی نیوز پر دوبارہ ٹیلی کاسٹ ہو گا

SAMSUNG CAMERA PICTURESپی ٹی وی نیوز پر آج شام ٹیلی کاسٹ ہونے والے عید شو کی چند جھلکیاں ۔۔ یہ شو آج شب دو سے تین اور کل جمعرات کو دوپہر دو سے تین بجے ُپی ٹی وی نیوز پر دوبارہ ٹیلی کاسٹ ہو گا

PostHeaderIcon نظم ۔۔ اُسے عید مبارک کہتی ہوں

آج بھی برسوں بعد مرے
کانوں میں صدا تیری آئے
مَیں چاند ہوں جاناں ،چاندہوں مَیں
سُن چاند ہوں تیری عید کامَیں
پیغام ہوں ایک نوید کامَیں
رنگوں سے سجی ،خوشبومیں بسی
ہردید کا اک انعام ہوں مَیں
پیغام ہوں مَیں
وہ جوتیری صدا کالمحہ تھا
مری ساکن روح میں اُتر گیا
ُاُس لمحے نے کیسے ہم کو شاداب کیا ،نایاب کیا
دل کی بنجر جومِٹی تھی اس کو کیسے سیراب کیا
ہرخارکو پھول کیا اس نے ،ہرذرے کو مہتاب کیا
وہی لمحہ میری حیات بنا
وجہِ تکمیلِ ذات بنا
اسی اک لمحے میں آج تلک
مری روح کہیں پر اٹک گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔
پھراک لمحہ وہ بھی آیا
جب میرا چاندہی ماند ہوا
کوئی دید رہی ،نہ ہی عید رہی
نہ ہی خوشیوں کی امید رہی
پھر عید نہ اتری آنگن میں
اک لمحہ ایسے محیط ہوا
میں اپنی ذات میں سمٹ گئی
اور خوشیوں کی ہراک رُت پھر
مرے دروازے سے پلٹ گئی
لیکن جب عید کا دن آئے
وہی لمحہ لوٹ کے آتا ہے
وہی لہجہ لوٹ کے آتا ہے
وہی چاند نظر میں سماتا ہے
کس حال میں اب وہ رہتا ہے
کس حال میں اب میں رہتی ہوں
اُسی دھارے میں بس بہتی ہوں
اُسے عید مبارک کہتی ہوں
اُسے عید مبارک کہتی ہوں

11760295_10207615071801169_344007352240848955_n

PostHeaderIcon

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا نام اردو شاعری کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔5دسمبر کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئیں ۔ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازی خان سے حاصل کی جس کے بعد نشتر میڈیکل کالج ملتان میں داخلہ لیا۔1996ء میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیااور ہاؤس جاب کے دوران ہی شاعری کا آغاز کیا ۔ ڈاکٹر بننے کے بعد نجمہ شاہین کھوسہ نے انسانیت کی خدمت کے لئے اپنے آبائی شہر کا انتخاب کیا ۔ ابتدا میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں میڈیکل آفیسر کے طور پرکام شروع کیا اور اپنا کلینک قائم کیا جو اب ہسپتال کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔جان سرجیکل ہسپتال کا شمار اب ڈیرہ غازی خان کے معتبر طبی اداروں میں ہوتا ہے۔دور دراز علاقوں سے خواتین کی بڑی تعداد یہاں آتی ہے اور شفا پاتی ہے۔ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ نے ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقوں میں بھی بھر پور طبی خدمات سر انجام کیں۔ اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ نے شاعری کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی ۔2007ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘کے نام سے شائع ہوا تو اپنے منفرد اسلوب اور چونکا دینے والے نام کی وجہ سے اس نے ادبی حلقوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ اسی مجموعے کی اشاعت سے ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں ‘‘2010ء میں شائع ہوا ۔ پہلے شعری مجموعے کی طرح اسے بھی بھر پورپذیرائی ملی اور یہ مجموعہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان کی پہچان بنا۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ غزل اور نظم دونوں میں یکساں مہارت رکھتی ہیں ۔انہوں نے سرائیکی علاقے کی عورت کے دکھوں کو قریب سے دیکھا اور انہی دکھوں کو اپنے شعروں کا موضوع بنایا ۔ آج وہ اس خطے کی عورتوں کی آواز بن چکی ہیں ۔ان کی شاعری میں محبت کی کسک بھی موجود ہے اور سماجی رویوں اور معاشرتی تضادات کا اظہار بھی۔ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں خوشبو رائٹرز ایوارڈ، بے نظیر بھٹو ایوارڈ اور درشن میگزین ایوارڈ قابلِ ذکر ہیں ۔ ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘ ’’اور میں آنکھیں بند رکھتی ہوں‘‘ ’’ اور شام ٹھہر گئی‘‘ کے بعد ’’پھول، خوشبو اور تارا ‘‘جیسی کتابوں کے مطالعے کے بعد شاعرہ کی جو شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ وہ بات کر کے پھولوں کی خوشبو کی طرح لوگوں کے ذہنوں میں اتر جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔وہ سخت سے سخت بات کہنے اور منوانے کے لئے بھی محبت کا دامن نہیں چھوڑتیں
۱۔۔ان کا پہلا شعری مجموعہ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘کے نام سے2007 ء میں شائع ہوا
۲۔۔دوسرا شعری مجموعہ ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں ‘‘ ‘2010ء ‘ء
۳۔۔اور شام ٹہر گٰی،،،،‘شاعری
۴،،،پھول،خوشبو اور تارہ،،،شاعری
۵۔۔اور ایک ناول گرد سفر زیرطبع ہے،،

PostHeaderIcon خوش گمانی کوسلام اس بدگمانی کوسلام ،،،کررہی ہوں پیار کی ہر مہربانی کوسلام

salaaaaaaaaaam

خوش گمانی کوسلام اس بدگمانی کوسلام
کررہی ہوں پیار کی ہر مہربانی کوسلام

وحشتوں کے سائے ہی اپنامقدرہوگئے
وہ جومرجھانے لگی ہے اُس جوانی کوسلام

ہم مسافرہیں جنوں کے راستے پرگامزن
بے سروسامان ہیں اپنی کہانی کوسلام

راہ میں کھائے ہیں جو پتھربہت ہیں معتبر
رائیگاں موسم کی ہراک رائیگانی کوسلام

ہررکاوٹ اورہرمشکل کو آداب وخلوص
اور مرے ہرایک دکھ کی اس روانی کوسلام

ہے عقیدت بکھرے خوابوں کے لئے شاہین اور
اپنی آنکھوں سے چھلکنے والے پانی کوسلام

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits