محفوظات برائے October, 2016

PostHeaderIcon یادوں کے سائباں میں بسر کر رہی ہے رات

raat
یادوں کے سائباں میں بسر کر رہی ہے رات
خاکے میں زندگی کے دھنک بھر رہی ہے رات

مجھ سے ہے ہم کلام یا تجھ سے ہے اس کی بات
ویران راستوں کا سفر کر رہی ہے رات

مدت سے جل رہے ہیں یہاں آس کے دئے
بجھتے چراغ کو بھی قمر کر رہی ہے رات

ان کی مہک ہے آج مرے دل سے دور کیوں؟
پھولوں سے جھولیوں کو اگر بھر رہی ہے رات

دل کو کیا ملول اور ویران آنکھ کو
کچھ یوں بھی جسم و جاں میں قدم دھر رہی ہے رات

رکھ کر ردائے عشق میں کچھ پھول اور خواب
شاہین آج میری طرح مر رہی ہے رات

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں

salam2
سلام

دکھوں کی تفصیل لکھنے بیٹھوں تو اشک اپنے تمام لکھوں
لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں

وہ جس نے سجدے میں سر کٹا کے ہمیں نوازا بلندیوں سے
وفا کے سجدوں کے شاہ کو ہی میں آج شاہ و اما م لکھوں

یہاں سکینہ کا، اصغر ،اکبر کا اور قاسم کا تذکرہ ہے
ورق ورق پر ہیں اشک پھیلے میں حرف حرف احترام لکھوں

مجھے شہیدوں کا ذکر کرنا ہے سوچ کو معتبر تو کر لوں
قطار میں سارے لفظ رکھوں ،ملے جنہیں پھر دوام لکھوں

ہماری گلیوں میں قتل کب تک روا رہے گا ،سوال پوچھوں
ہمارے ظلمت کدے میں کب ہو گا روشنی کا قیام لکھوں

یہی تقدس ہے اب تو میرا،اسی سے نجمہ مری حفاظت
میں اپنی چادر کے چاروں کونوں پہ بی بی زینب کا نام لکھوں

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits