محفوظات برائے December, 2016

PostHeaderIcon اور وہ چلی گئی۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

aor-woh-5th-december
ابھی اپنی بے چینی کو قراردینے کے لئے کاغذ ،قلم لے کے بیٹھی ہی تھی کہ ایک بُر ی خبر نے آنکھیں مزید نم کر دیں۔آج کادن ویسے بھی میرے لیے انتہائی نامعتبر ہے کیونکہ معتبر زمانے کیلئے کسی بیٹی کی پیدائش شاید اتنی معتبر نہیں ہوتی۔چاہے وہ بیٹی دنیا میں لائق ترین ہویا شہزادی ہی کیو ں نہ ہو۔5دسمبر کو مجھے نہیں یا د کہ میں نے کبھی خوشی محسوس کی ہو۔ایک خاموش سی اداسی نے ہمیشہ اس دن کوسوگوارکیااور اس کی شام کو کربناک بنایا۔میں لوگوں کو ان کی سالگرہ کی خوشیاں مناتے دیکھتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں لیکن ضروری تونہیں کہ میری آنکھ کی حیرانی بجا ہو۔آخر یہ دن یادگارہوتاہے تو لوگ خوشیاں مناتے ہیں۔یہ دنیا میں ان کی آمد کادن ہوتا ہے۔ تو پھر بھلا وہ کیوں نہ خوش ہوں۔اگر میں نہ ہوتی تو شایدیہ صدیوں سے بھٹکتی اداسی کسی اور روح میں سما جاتی۔ڈاکٹر آمنہ وقار میرے شہر کی ایک نامور،معتبر ہستی ،ایک ایسی ڈاکٹر کہ جب وہ پریکٹس کررہی تھیں تو نہ جانے میرے جیسی کتنی ڈاکٹرز ان پر رشک کرتی تھیں۔ہروقت ہنسنے مسکرانے والی،ابھی کچھ ہی دن ہوئے کہ میری ایک سٹاف ممبر نے مجھے اطلاع دی کہ ڈاکٹر آمنہ وقارآئی ہیں ۔میں دس منٹ پہلے ہی ظہر کی نمازپڑھنے کیلئے ہسپتال سے ملحقہ اپنے گھر میں آئی تھی۔میں ان کی آمد کی اطلاع پر کچھ حیران ہوئی کیونکہ میرا خیال تھا کہ ڈاکٹر آمنہ کچھ نک چڑھی اور مغرورخاتون ہیں جواپنی ساتھیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتیں۔بہرحال میں نے سٹاف سے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں تو اس نے بتایا کہ انہیں آفس میں بٹھا دیا ہے۔میں نے کہا انہیں جلدی سے گھر لے آؤ ۔ڈاکٹر صاحبہ جیسے ہی گھر آئیں تو اتنے والہانہ انداز میں ملیں جیسے مجھ سے برسوں کی شناسائی ہو۔ ان کا وہ ہنستا مسکراتا چہرہ اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ جس نے اپنے دل میں نہ جانے کتنادرد چھپا رکھاتھا۔آج وہ کینسر جیسے موذی مرض سے شکست کھاگئیں۔موت تو برحق ہے لیکن کبھی کبھار وہ ذہن و دل کواس طرح جھنجوڑ دیتی ہے کہ انسان خود کو بہت بے بس اور لاچارمحسوس کرتا ہے۔یوں تو کتنے ہی دل ہیں کہ جن کے اندر موت کارقص جاری ہے۔زندہ ہونے کے باوجود وہ زندہ نہیں۔اپنے سانس لینے پرمیری طرح حیران ہیں۔پریشان ہیں مگر اے موت تجھ سے شکوہ یہ ہے کہ تُو ان ہستیوں کو لے جاتی ہے جن کی ہمیں ضرورت ہے جن کی اس جیون کو ضرورت ہے ۔ اے موت تُو اپنا سفر بے شک جاری رکھ لیکن ذرا دھیرے دھیرے ۔

PostHeaderIcon دسمبر ترا نام تو ہجر ہوتا ۔

nn
نہ جانے ادیبوں‌ شاعروں نے دسمبر پر کیسے رومانوی نظمیں کہہ ڈالیں‌؟ کیسے اسے اپنی غزلوں کا موضوع بنا لیا؟ ۔۔ ہمیں تو جب بھی یہ ستم گر ملا اس کے دامن میں ہجر ہی ہجر ملا ۔۔ اس کی آہٹوں میں ، اس کی یخ بستہ راتوں اور کہر آلود صبحوں میں بس بین کرتے ہجر کی آہٹیں ہی سنائی دیں‌۔ سسکیاں‌ہی سنائی دیں تاریکیاں ہی دکھائی دیں‌ ۔ ماتم کرتے لمحے عطا کئے اس نے ہمیں ، درد بھرے نوحے دان کئے ۔ دسمبر نے آنگنوں‌میں‌کھلے گلاب ٹہنیوں‌ سے نوچ ڈالے اور ہماری آنکھوں‌ کو لہو رنگ کر دیا ۔ دکھوں‌ اور ہجر کو ہمارے سنگ کر دیا ۔ کہر لمحوں‌ میں‌ بھی اس نے ہمیں‌دھوپ بخشی ، دلوں‌ اک ہوک بخشی ۔ تاریکیاں ہم پر مہربان ہوئیں ۔ ویرانیاں اسی دسمبر کے مہینے میں‌ ہماری شان ہوئیں ۔ ابھی تو ہماری آنکھوں میں وہی ہجر سلامت ہے جو دسمبر کی شاموں نے ہمیں خوابوں کی جگہ بخشا تھا ۔ ابھی تو ہم 16 دسمبر کی وہ خوں‌رنگ صبح نہیں‌بھولے تھے جو اپنے دامن میں تاریکیاں لے کر آئی تھی اور جس نے اسی روز ہونے والے سقوط ڈھاکہ کے المیئے کو بھی مات کر دیا ۔ہم سے ہمارے جگمگاتے ستارے چھین لئے ہمارے روشن مستقبل کو سیاہ اور بد نما دھبہ لگا دیا ۔ ابھی تو وہی زخم تازہ تھے بلکہ اب تو وہ ناسور بن چکے ہیں‌۔ ابھی انہی زخموں سے لہو رِس رہا تھا ، ابھی تو ہاتھ وہی نوحے لکھ رہے تھے ۔ ابھی تو آنکھیں‌اسی المیئے پر گریہ کناں تھیں‌اور دکھیاری مائوں کے کانوں‌میں‌اپنے شہزادوں‌کی چیخیں‌ تھیں‌اور کان دروازے پر آہٹ کے منتظر تھے ۔ ابھی تو وہ بے بسی کے ساتھ اور ا پنی ویران آنکھوں‌ سے آسمان کو تکتی تھیں‌۔ اے دسمبر ابھی تو وہی ایک زخم مندمل نہیں‌ہوا تھا کہ تیرے ٹھٹھرتی شام نے اپنی یخ بستگی سے نجات حاصل کرنے کے لئے پھر سے شعلے اگل دئے۔ آہ یہ کیسی بے بسی ہے ، یہ کیسا المیہ ہے کہ جانے والا مدینے والے کا پیغام عام کرتا کرتا مدینے والے کے پاس چلا گیا ۔ دنیا کی ٹیڑھی اور رنگین راہوں کو چھوڑ کر چکا چوند اور چندھیا دینےوالی روشنیوں سے دور ، بہت دور ۔ حق سچ کا اور نور کی حقیقی روشنی کا ہالہ اپنے گرد لپیٹے وہ چلے گئے ۔ جنید جمشید ہم سے بچھڑ گئے ۔ انہوں نے چترال کی سرزمیں‌کو جنت کا ٹکڑا کہا اس جنت کے ٹکڑے پر اپنی آخری تصویر بنوائی ۔ وہاں آخری نماز ادا کی اور پھر جنت کے سفر پر روانہ ہو گئے ۔ ایک جنید جمشید ہی نہیں‌گئے ، ایک سچا راہبر ایک سچا انسان ، انسانیت کا خدمت گزار ہی نہیں گیا اور بھی بہت سے لوگ اگلے جہان کو سدھار گئے ۔ کتنے ہی گھر اجڑ گئے ، مائوں کے لختِ جگر گئے سہاگنوں کے دلبر گئے اور دسمبر ہمیں پھر سے ہجر دے گیا ۔ میں کیسے پرسہ دوں ان ہجر کے ماروں کہ مجھے معلوم ہے ہجر وہ زخم ہے جس کا کوئی مرہم نہیں ۔ یہ وہ درد ہے جس کی دوا نہیں اور یہ وہ دکھ ہے جس کا کوئی دلاسہ نہیں‌۔ سو اے دسمبر تو ہمیں ایک اور دکھ دے گیا
اسے کہنا کہ حیرانی مجھے حیرت سے تکتی ہے
مرے جیون پہ خود بھی زندگی روتی ہے ہنستی ہے
نظر جب بھی ہتھیلی کی لکیروں سے الجھتی ہے
ان آنکھوں سے جھڑی ساون کی
پھر کچھ ایسی لگتی ہے
مرا دل رک سا جاتا ہے
مہینہ ہجر کا جب بھی
مرے آنگن میں آتا ہے
اداسی کے ہر اک منظر کو وہ موجود پاتا ہے
نگاہوں کو جھکا کر بس دسمبر لوٹ جاتا ہے

PostHeaderIcon From Newspaper۔۔۔۔۔۔اآرٹیکل مختلف اخباروں میں

فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔

روزنامہ نوائے وقت ملتان .. 18 ستمبر 2013

روزنامہ دنیا لاہور .. 18 ستمبر 2013

روزنامہ سما لاہور ۔۔ 3 ستمبر 2013

جنگ لاہور ۔۔ 30 نومبر 2012

نوائے وقت ۔۔ 23 جون 2013

روزنامہ سما لاہور ۔۔ 3 ستمبر 2013

2400

12919677_552736484888897_5029447974105628189_n-1

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits