محفوظات برائے February, 2018

PostHeaderIcon مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی

مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی
کس گلی میں رہ گئیں وہ قربتیں نکھری ہوئی

اب مہک تیری مری ہر پور میں یوں رچ گئی
منتظر ہیں آنکھ میں کچھ حیرتیں دہکی ہوئی

ہجر کی وحشت نے دل کو کر دیا رنجور اب
بھولتی جاتی ہوں میں اب صورتیں دیکھی ہوئی

اب کہاں اور کس رفاقت میں مجھے لینی ہے سانس
شہر میں ملتی ہیں ہر جا فر قتیں بکھری ہوئی

وادیوں میں دل کی اب خاموش سی اک شام ہے
دشت میں کھو ہی گئیں وہ شدتیں مہکی ہوئی

پائی تھیں نے ہم نے کبھی رنگوں بھرے اس شہر میں
گم ہو ئیں چاہت بھری وہ نکہتیں نکھری ہوئی

mehki hui

mehki hui

PostHeaderIcon محبت کا چاند گرہن !

ماں کہتی تھی
میری ننھی سی گڑیا
آج باہر نہ نکل
کیا تجھ کو معلوم نہیں
آج سورج گرہن ہے
روایت کہتی ہے
سورج گرہن ہو تو
دیکھنے سے آنکھیں بینائی کھو دیتی ہیں
چہرے مرجھاجاتے ہیں
ان پہ زردی چھا جاتی ہے
مہکتے تن ومن کُملاجاتے ہیں
پھول اوڑھ لیتے ہیں زرد رتوں کا پیرہن
بہاریں خزاں میں ڈھل جاتی ہیں
یہاں تک کے سمندر کے بھنور
اور زمین کے مدو جزر بھی بدل جاتے ہیں
مری گڑیا
تو باہر نہ نکل
کہ تیری غزالی آنکھوں اور روپہلے چہرے کو
کہیں چاٹ نہ لے یہ سورج گرہن
مگر آج ماں کو بتائے کون
اس کی گڑیا کو
جسے زرد کر نہ سکا سورج گرہن
اسے ڈَس گیا محبت کا چاند گرہن

chand grehn

chand grehn

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits