محفوظات برائے June, 2018

PostHeaderIcon

اے مکین دل تجھے، اب نئے خواب ہوں مبارک
ہے گناہ عشق میرا ،یہ ثواب ہوں مبارک

ترے آئینے میں روشن سا چراغ تھی سو مجھ کو 
نئے عکس ہوں مبارک،یہ عذاب ہوں مبارک

نہ ہی چوڑیاں نہ مہندی ،نہ ہی پھول ہیں نہ گجرے
مرے تن کو دکھ کے سارے یہ سحاب ہوں مبارک

مری آنکھ دشت میں ،جو ہے یہ ہجر آن بیٹھا
مری گردِ رہگزر کو ، یہ سراب ہوں مبارک 

نہیں اب مقدروں سے گلہ، کوئی مجھ کو صاحب 
مجھے شب نصیب ، تجھکو مہ تاب ہوں مبارک 

شب غم کی تیرگی میں یہ ہجوم ِ آہ و گریہ
دلِ پرملال تجھ کو یہ رباب ہوں مبارک 

نہ سمیٹ پائے شاہیں ،کوئی دل کی کرچیوں کو 
مرے ماتمی سفر کو یہ سراب ہوں مبارک

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ 

PostHeaderIcon قاتلوں کی صورت میں چارہ گرہی ملتے ہیں

bay-samar-shajjar
چاہتوں کے رستے میں گو شجرہی ملتے ہیں
ہاں مگر یہ دکھ ہے سب بے ثمرہی ملتے ہیں

کس سے آج پوچھیں ہم کس نگروہ رہتاہے؟
ہم کوسب مسافر تو بے خبر ہی ملتے ہیں

اب خوشی کے لمحوں پراعتبارکیسے ہو؟
جب دکھوں کے لمحے سب معتبرہی ملتے ہیں

قاتلوں سے اب ہم کو خوف ہی نہیں آتا
قاتلوں کی صورت میں چارہ گرہی ملتے ہیں

اس لئے ہیں سب رستے منزلوں سے بیگانے
راہزن نہیں کوئی ، راہبرہی ملتے ہیں

کس طرح سے میں شاہین اُس کومانگ سکتی ہوں
لفظ جب دعاکے سب بے اثرہی ملتے ہیں

PostHeaderIcon مرا درد شاہیں ٹھہر گیا،یا ہے ضبط میراکمال کا؟

maah-o-saal-ka
آحساب کر کسی روز اب ،کسی گزرے ماہ کاسال کا
شب وروز کے اسی ہجرکا،کسی خواب خواب وصال کا

وہ جوہمسفر تھا بچھڑ گیا،وہ غبار رہ میں کدھرگیا؟
مگراک ادھوراجواب تھا،مرے ان کہے سے سوال کا

نہ ہے جستجو کسی راہ کی،نہ ہی آرزو کسی چاہ کی
نہ ہی رنجشیں کسی ہجرکی،نہ خیال تیرے ملال کا

وہ جوگیت تھاوہ سنا نہیں ،وہ جو پھول تھا وہ کھلانہیں
مگرآج بھی مجھ یوں لگے ،وہ گمان سا تھاغزال کا

یہ جوحسن ہے مری نظم میں ،یہ جوجذب ہے مرے شعرمیں
یہ مرے قلم کا کمال ہے،یا ہے عکس تیرے جمال کا؟

نہ ہی میرا دل بے قرارہے،نہ ہی بے بسی ،نہ ہی بے کلی
مرا درد شاہیں ٹھہر گیا،یا ہے ضبط میراکمال کا؟
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits