محفوظات برائے August, 2018

PostHeaderIcon

PostHeaderIcon نظم ۔۔ عید حیران ہے

عید مہندی کا، خوشیوں کا
رنگوں کا ، خوشبو کا
اور کانچ کی چوڑیوں کی کھنک
میں بسی آرزوؤ ں کا اک نام ہے
عید انعام ہے
عید امید ہے
عید تجدید ہے
عید جیسے کوئی روشنی کی کرن
ایک وعدے ، کہانی ، فسانے کی یا
ہجر موسم میں لپٹے ہوئے وصل کے
دکھ کی تمہید ہے
عید امید ہے
ایک گھر میں تو خوشیو ں کا سامان ہے
ایک گھر میں مگر دکھ کاطوفان ہے
عید حیران ہے
عید ہیرا نہیں ، عید موتی نہیں
عید ہنستی نہیں ، عید روتی نہیں
ایک آنگن کہیں کوئی ایسا بھی ہے
جس میں شہزادی صدیوں سے سوتی نہیں
شاہزادے کی جب دید ہوتی نہیں
عید کے دن بھی پھرعید ہوتی نہیں

1149033_10201948904630531_1540115532_n

PostHeaderIcon غازی میڈیکل کالج ڈیرہ غازی خان میں ادبی و ثقافتی تنظیم آنچل کے اشتراک سے مشاعرے کا اہتمام

ڈیرہ غازی خان میں نام ورشاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ نے جمعہ کے روز ایک ایسی محفلِ سخن آراستہ کی کہ جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا ۔ پی ایم اےڈیرہ غازی خان اور غازی میڈیکل کالج نے اس مشاعرے کا اہتمام ڈیرہ غازی خان کی خواتین کے لئے کام کرنے والی پہلی ادبی و ثقافتی تنظیم آنچل کے اشتراک سے کیا تھا ۔ آنچل کی روحِ رواں ڈاکٹر نجمہ شاہین ہیں جنہوں نے یہ تنظیم آج سے کئی برس قبل اس وقت قائم کی تھی جب وہاں اکا دکا خواتین شعر و ادب میں اپنی پہچان کرا رہی تھیں ۔غازی میڈیکل کالج میں ہونے والا یہ مشاعرہ پی ایم اے کی ایک کانفرنس کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریبات کا حصہ تھا ۔ نام ور شاعر امجد اسلام امجد ، اور زاہد فخری دیار غیر سے آئے ہوئے خوبصورت شاعر شوکت فہمی کے ہمراہ اس مشاعرے میں شرکت کے لئے ڈیرہ غازی خان آئے ، ملتان سے شاکر حسین شاکر نے بھی اس محفل میں شرکت کی ۔ رات گئے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں ڈیرہ غازی خان اور گرد و نواح کے تمام نمائندہ شاعر موجود تھے ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ اور پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر عبدالرحمان قیصرانی نےبہت خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ڈیرہ غازی خان میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد سعید بھی میزبان کی حیثیت سے شعرائے کرام کی پذیرائی میں مصروف رہے ۔ باذوق سامعین کی رات گئے تک پنڈال میں موجودگی اور بھر پور داد سے خوشگوار حیرت ہوئی اور احساس ہوا کہ محسن نقوی اور کیف انصاری کی آواز بھی ان آوازوں میں سنائی دے رہی ہے ۔

PostHeaderIcon یہ سجود کا حسیں پیرہن مر ی روح پر تو سجا پیا!

یہ جو عشق مسندکے لوگ ہیں،انہیں رمز سارے سکھا پیا!
یہ جنونِ عشق کی داستاں، انھیں حرف حرف سناپیا!

مرے چارہ گر،میں ہوں در بدر،میں تو تھک گئی،ہے عجب سفر
مری بے نشاں سی ہیں منزلیں،مجھے راستہ بھی دکھا پیا!

نہ حدود میں،نہ قیود میں،مرا دل ترے ہی وجود میںcc

میں تو آس تھی،میں تو پیاس تھی،کسی پھول کی میں بھی باس تھی
مری پتیاں گریں جا بجا، انہیں شاخ پر تو سجا پیا!

میں فقیر ہوں،میں حقیر ہوں۔کسی خواب کی نہ اسیر ہوں
میں عزیز ہو ں تو تجھے ہی بس، سو عزیز تر ہی بنا پیا!

میں فلک سے آئی خطا مری،اسے ڈھونڈناہے وفا مری
یہ جفا کی جو ہیں حقیقتیں،مری آنکھ کو وہ دکھا پیا!

مرے آسماں مرے سا ئباں،توُ ہی رازداں،توُ ہی مہرباں
جہاں لا مکاں کے ہیں سلسلے، وہیں میرا گھر بھی بنا پیا!

یہ جو آرزو و ں کا دیس ہے، یہ جو خاک خاک سا بھیس ہے
جو ازل ابد کا یہ بھید ہے،اسے بھید ہی میں بتا پیا!

یہ قدم قدم پہ بشارتیں، یہ نظر نظر میں زیارتیں
یہ بصارتیں،یہ بجھارتیں،مرے شہر دل کو دکھا پیا!

یہ جو میرے من میں ہے روشنی،یہی زندگی،یہی بندگی
مری فکر میں ترے ذکر میں جو چراغ ہیں وہ جلا پیا!
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits