محفوظات برائے October, 2018

PostHeaderIcon محبتیں بھی ہیں عارضی اور یہ رفاقتیں سب جداجداہیں


یہ راستے سب جداجداہیں،یہ منزلیں سب جداجداہیں
یہ آئینے سب الگ الگ ہیں،یہ صورتیں سب جداجداہیں

کسی کے لفظوں کا اعتبار اب کریں تو کیسے کریں بھلاہم
کہ لفظ ہیں سب کے ایک جیسے،ضرورتیں سب جداجداہیں

مقدروں کے جو کھیل ہیں یہ بہت نرالے ہیں اس جہاں میں
کہ صورتیں تو بھلی ہیں لیکن یہ سیرتیں سب جداجداہیں

خلوص کی اب کسی کو کوئی نہیں ضرورت کہ اب تو سب کی
محبتیں بھی ہیں عارضی اور یہ رفاقتیں سب جداجداہیں

جہاں جسے جو بھی سوجھتا ہے وہ سوچتا ہے وہ بولتا ہے
سو سب مثالیں الگ الگ ہیں کہاوتیں سب جداجداہیں

PostHeaderIcon گفتگو۔خبریں سنڈے میگزین ۔رازش لیاقت پوری

ڈاکٹر نجمہ شا ہین کھو سہ سے گفتگو 

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ،انہوں نے ابتدائی تعلیم کیلئے پرائمری سکول جندانی والا میں داخلہ لیا اور سوم کلاس میں تھیں کہ اپنے گاؤں سے نانی کے گھر ڈیرہ غازیخان شہر میں منتقل ہوئیں اور دو سال تک نانی کے گھر رہے اور پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ پھر اسی شہر سے والدین کے منتقل ہونے کے بعد گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سے میٹرک اور ڈگری کالج سے ایف ایس سی کی اور نشتر میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا۔ سکول مذکورہ میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں اچھی کارکردگی کی بنا پر ان کا نام پرنسپل آفس بورڈ پر آویزاں کیا گیا۔ وہ اپنے آبائی علاقہ ٹرائبل ایریا کی واحد لڑکی تھی جس نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ میڈیکل جیسے خوبصورت شعبے میں جاکر انہیں اپنی صلاحیتوں کو منوانے اور اپنے پسماندہ علاقہ کے لوگوں کی خدمت کرنے کا بھی موقع ملا۔ان کی اب تک کئی کتب منظر عام پر آچکی ہیں ،ان سے ہونے والی گفتگو نذرقارئین ہے 

سوال :آپ نے موجودہ کامیابیوں کا سفر کیسے طے کیا ،کچھ اپنی داستان تو بتائیں؟

جواب: جی اس میں میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد اپنے والد کی دل و جان سے مشکور ہوں کہ جنہوں نے خاندان کے 
ہزار رکاوٹیں ڈالنے کے باوجود مجھے بیٹوں کی طرح پالا اور میری تعلیم میں ہر موڑ پر میرا ساتھ دیا۔ آج میں جو 
کچھ ہوں صرف اور صرف اپنی ماں کی قربانیوں اور باپ کی محبتوں کی بدولت ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے 
ٹرائبل ایریا میں آج بھی لڑکی کو گھر کی بھیڑ بکری سے زیادہ اہمیت نہیں۔ ایسے ماحول میں میرا ڈاکٹر بننا کسی 
معجزے سے کم نہیں تھا۔ باقی جہاں تک شاعری میں تعاون کا تعلق ہے تو ابھی تک میں ایک لڑائی لڑرہی ہوں۔ 
اس شعبے کو منوانے کی۔ ابھی بھی ایک شاعر کی حیثیت سے پورے خاندان کی مخالفت کا سامنا ہے۔ میرا لکھنا 
کسی کو بھی پسند نہیں۔ میں خود بھی کوشش کرتی ہوں کہ ایسی تقریبات یا فنکشن یا مشاعروں میں نہ جاؤں جہاں 
میری فیملی پسند نہ کرے۔ میں صرف چند ایک ایسی تقریبات میں جاتی ہوں اور جو میری کتابوں کے حوالے 
سے منعقد کی جارہی ہوں یا پھر چند ایک بڑے مشاعروں میں ، جہاں مجھے شوہر کی اجازت مل جائے اور وہ 
جانے کیلئے بھی میرا ساتھ دیں۔ تمام دن بھر کے کاموں کے بعد کوئی کتاب پڑھنا یا ڈائری لکھنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ یوں سمجھیں ڈائری میری سہیلی بن چکی تھی اور آہستہ آہستہ ڈائری میں لکھے لفظ شاعری کی صورت اختیار کر گئے۔

یوں تو میں 1996 سے لکھ رہی ہوں۔ بلکہ اس سے پہلے بھی میری چھوٹی موٹی کاوش نشتر میڈیکل کالج کے ادبی میگزین کا حصہ بنتی تھیں۔ لیکن میں اپنی پہلی نظم 1996میں لکھی ہوئی ’’ملاقات آخری‘‘ کو قرار دیتی ہوں۔
2007 میں گائنی کی کانفرنس میں جاتے ہوئے میں ایک حادثے کا شکار ہوئی اور دو ماہ تک مکمل طور پر بستر کا حصہ بن گئی۔ ایک مصروف بندے کیلئے فراغت کسی سزا سے کم نہیں ہوتی ۔ سو میں نے اُن دو ماہ میں اپنی ڈائری کو ترتیب دی اور اُس میں نثر اور شاعری علیحدہ علیحدہ کیں۔ ایک بزرگ شاعر چاچا رمضان طالب باقاعدہ میری عیادت کو آتے تھے۔ انہوں نے ضد کر کے اور میری فیملی سے اجازت لے کر میری شاعری والے حصے ایک کتاب کی صورت میں شائع کرائے جس کا نام میں نے اپنی نظم ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘ سے لیا۔ یوں ایک ڈاکٹر ایک شاعرہ کے روپ میں سامنے آئی۔اگر میں ایک مصروف ڈاکٹر نہ ہوتی تو شاید اتنے عرصے میں میری پندرہ بیس کتابیں آچکی ہوتیں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ذمہ داری نبھاتے ہوئے کوئی خوبصورت خیال ذہن میں آتا ہے مگر میں اُسے مناسب وقت پر کاغذ پر اتار نہیں سکتی جس کی وجہ سے بہت کچھ لکھنے کو رہ جاتا ہے۔ اور ایک چیز طے ہے کہ اگر وقت پر نہ لکھیں تو وہ خیال اُسی صورت میں موجود نہیں رہتا۔محو ہو جاتا ہے پھر جتنا بھی سوچیں وہ چیز نہیں رہتی۔شاعری کا سفرایک خاتون شاعرہ کیلئے کانٹوں سے بھرپورراستہ ہے۔

ایک ڈاکٹر کے باوجود مجھے بھی ایک شاعرہ ہونے کے ناطے سے بے پناہ رکاوٹوں اور یہاں تک کہ خاندان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاندان کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اگر باہر بھی دیکھیں تو ایک خاتون شاعرہ کیلئے کوئی اچھے حالات نہیں اُسے ہر طرح کے تنقیدی سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے جب ایک خاتون شاعرہ سامنے آتی ہے تو دو چار لائنیں لکھنے والا ہر مرد اُس خاتون کی شاعری کا تنقید نگار یا اصلاح کار بن جاتا ہے۔ اور آئے روز اُس شاعرہ کو اس مدد کی بن مانگے آفر مل رہی ہوتی ہے کہ اگر آپ کو کہیں اصلاح کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔ 
مجھے تو اس بات پر حیرت ہوتی تھی جب میرے کانوں تک یہ بات پہنچتی کہ آپ اتنی مصروف ڈاکٹر ہیں۔ آپ کو کون شاعری لکھ کے دیتا ہے۔ اس طرح کی باتوں پر بہت غصہ بھی آتا اور دکھ بھی۔ کہ بھلا مجھے میرے علاوہ کون لکھ سکے گا۔ کون میری سوچوں اور جذبوں کو اُسی طرح سے صفحہ قرطاس پر بکھیرے گا جو میں خود کر سکتی ہوں۔ 

س: آپ کی کوئی پسندیدہ اپنی تخلیق؟ مزید کتنی کتب زیر طبع ہیں؟

ج: ایک تخلیق کار جب کوئی تخلیق کرتا ہے تو وہ ایک کرب اور تخیل سے گزرتا ہے اور اسے اپنی ہر تخلیق دوسری سے بڑھ کر لگتی ہے جیسے ایک ماں کو اپنا ہر بچہ پیارا ہوتا ہے اور وہ یہ کبھی نہیں کہہ سکتی کہ اُسے کسی ایک بچے سے زیادہ پیار ہے۔ اسی طرح تخلیق کار کو بھی اپنی تخلیق پیاری ہوتی ہے مجھے بھی اپنا سارا کلام اور تخلیق پیاری ہے۔ چاہے وہ پھول سے ’’بچھڑی خوشبو ہو‘‘، ’’میںآنکھیں بند رکھتی ہوں‘‘ یا ’’اورشام ٹھہر گئی؛یا ’’پھول خوشبو اور تارہ‘‘ ایک ناول اور ایک شاعری کی کتاب اور ایک نثر کی کتاب زیر عمل ہیں
ڈاکٹری میراپیشہ ہی نہیں بلکہ عشق بھی ہے اورشاعری تحلیل نفسی(کتھارسس) کاذریعہ۔۔۔ میرے لیے دونوں بہت اہم ہیں۔اوراحساس کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی۔

سوال: شاعری کیوں کرتی ہیں؟ کیا شاعری سماج سدھارنے کا ذریعہ ہے یا ذاتی کتھارسس کا؟

جواب: جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ جواب دے چکی ہوں 
کہ میں شاعری کیوں کرتی ہوں۔ شاعری میری ذات کا اظہار بھی ہے اور شکست و ریخت کا شکار ہونے والے 
اس معاشرے کا نوحہ بھی۔ لوگوں کو حیرت ہوتی ہے اور وہ یہ سوال مجھ سے بار بار پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹر ہونے کے 
ناطے اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے شاعری کیلئے / کیسے وقت نکالتی ہو تو جواب صرف اتنا سا ہے کہ شاعری 
میرے لیے زندگی کی علامت ہے اور زندہ رہنے کیلئے سانس لینا ضروری ہے اور سانس لینے کیلئے وقت نہیں 
نکالنا پڑتا۔اب تو وہ شاعری زیادہ پسند کی جاتی ہے جس میں سماجی مسائل کا بھی اظہار ہو،اب شاعر بھی عشقیہ شاعری کرنے کے بجائے سماجی مسائل پر مبنی شاعری کررہے ہیں ، 
سوال: اپنا پسندیدہ شعر:
چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو ،
زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے

سوال: آپ کا تعلق جس گھرانے یا قبیلے سے ہے اس میں ادبی محرکات کم دیکھے گئے پھر آپ کیسے؟ 

جواب:جی ایسا ہی ہے ہمارے قبیلے میں شاعری تو کجا ایک لڑکی کا پڑھنا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا،،لیکن اب تعلیم کو کچھ ترجیح حاصل ہو گئی ہے میری پہلی کتاب میری وہ ڈائری تھی جو میں عملی زندگی میں آنے کے بعد دن بھر کی 
تھکاوٹ کے بعد لکھا کرتی تھی جو ایکبار ہمارے شہر کے ایک بزرگ شاعر جو ایکیسیڈنٹ کے بعد میری عیادت کو 
آتے تھے پڑھنے کیلئے لے گئے اور پھر انہوں نے وہ ڈائری کتاب کی صورت میں شائع کراکے مجھے تحفتاً دی، اس کتاب کی تقریب رونمائی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازیخان نے رکھی اور بہت سراہا جس کی وجہ سے مجھے بھی اچھا لگنے لگا کہ 
میں لکھوں۔ مجھے لگا کہ لکھنے سے زندگی کے حبس زدہ موسم میں جیسے تازہ ہوا کا جھونکا مل جاتا ہوں، جب میں لفطوں 
کو کاغذوں پر جوڑتی اور انہیں مجسم شکل دینے کی کوشش کرتی تو مجھے لگتا کہ تھکن اور کٹھن سے چور راہوں میں یہ 
لفظ ایک مجسم روپ لیکر میرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ تب تنہائی گھٹن اور حبس کا احساس قدرے کم محسوس 
ہوتا۔میں نے ادبی تنظیم آنچل !اپنے خطے کی خواتین کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اس خطے کی لکھاری خواتین کو یکجا 
کرنے اور نئی لکھنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی اور ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کیلئے ایک ادبی تنظیم ’’انچل‘‘ 
کی بنیاد رکھی اور اس کے تحت متعدد ادبی پروگرام خواتین کیلئے کراچکی ہیں۔

سوال: خواتین کے آجکل کیا مسائل ہوتے ہیں ،خاص طور پر جنوبی پنجاب کی خواتین کے؟ 

جواب: ترقی پذیر ممالک میں جن میں ہمارا ملک بھی شامل ہے خواتین کی کم عمری میں ماں بننے اور پیچیدگیوں کا شکار ہونے 
کے باعث ہلاکت کی شرح زیادہ ہے۔ نو مولو د بچے کی صحت میں ماں کی صحت کا کردار بہت اہم ہے”زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں کئی عوامل کار فرماہوتے ہیں،ان میں بلڈ پریشر میں اضافہ سر فہرست ہے ، بعض اوقا ت لواحقین زچہ کو ہسپتال میں اس وقت پہنچاتے ہیں جب دائی کیس خراب کرچکی ہوتی ہے یا پھر زچہ کا با قاعدہ سے چیک اپ نہیں کرایا جا تا بلڈ پریشر میں اضافہ ہونے سے زچگی کے دوران کئی پیچید گیاں بڑھ جاتی ہیں۔زچہ کو جھٹکے لگنے لگتے ہیں جس سے زچہ اور بچہ دونوں کیلئے خطرات پیدا ہو جاتے ہیں خون کا بہہ جا نا بھی زچگی کے دوران مو ت کا ایک اہم عنصر ہے۔

،عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ایک صحت مند جو ڑے کو ایک سال کا وقت دینا چاہیے، اس دوران قدرتی طور پر عورت حاملہ ہو سکتی ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو پھر مرد اور عورت دونوں کو ڈاکٹر سے رجو ع کرنا چاہیے ،اس کے بہت سے مسائل کا علاج ممکن ہو تا ہے۔بعض اوقات کچھ لا علاج مسائل بھی ہوتے ہیں، مثلاً قدرتی طور پر اعضا ہی موجو د نہیں ہیں ، ورنہ ہر مسئلے کا علا ج ممکن ہے۔ابنا رمل بچے وہ ہو تے ہیں جس کے جسم میں کوئی نقص ہو سکتا ہے ۔ ہونٹ کٹے ہوئے ہیں وغیرہ ۔ ان کی پیدائش کی کئی وجو ہا ت ہو تی ہیں ۔ پہلی وجہ تو یہ کہ یہ خاندانی یا مو روثی اثرات ہو سکتے ہیں۔ جس خاندان میں آپس میں شادی کا رجحان ہو تا ہے ان میں ابنارمل بچوں کی شرح بڑھ جاتی ہے ۔بعض اوقات خاندان سے باہر شادی ہونے کی صورت میں بھی ابنارمل بچے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ عورتیں ذیابیطیس کی مریضہ ہوسکتی ہے۔ذیابیطس کی مریضہ کے پیدا ہونے والے بچوں میں ابنارملٹی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ حمل کے ابتدائی ایام میں بچے کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ ذیا بیطس کی ہر مریضہ کے بچے ابنارمل ہوں ۔
خون کی کمی کا شکار خواتین کو کیا کرنا چاہیے؟خون کی کمی میں مبتلا خواتین کو باقاعدگی سے اپنا چیک اپ کرانے کے ساتھ ساتھ فولاد کی گولیاں استعمال کرنی چاہیں ۔ حاملہ خواتین گوشت،انڈا، گندم ، چاول، دودھ اور پھلوں کا استعمال کرتی رہیں تو پیدا ہونے والا بچہ تندرست رہتاہے۔ مجھے روزانہ ایسی کئی مریضوں سے سامنا کرنا پڑ تا ہے جو تعلیم نہ ہونے کے با عث اپنی صحت کی حفا ظت نہیں کر پا تیں،انہیں صحت کے اصولوں سے آگاہی نہیں ہوتی بیشتر خواتین دائیوں کا شکار ہو کر پہنچتی ہیں جب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہوتاہے ۔ایسے میں جس حد تک بھی ہو سکتاہے ان کا علاج کیا جاتا ہے اور انہیں یہ بھی بتا یا جاتاہے کہ ایسی صورت میں انہیں کیا کرنا چاہیے تھا اورآئندہ اگر ایسی صورت حال کا سامنا ہو تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔ہمارے پہاڑی اور پسماندہ علاقوں میں حکومت اور این جی اوز مل کر ہفتہ وار میڈیکل کیمپ منعقد کریں ان کیمپوں میں وہاں کے لوگوں کو صحت کے اصول بتائے جائیں ، انہیں مفت طبی سہولت فراہم کی جائے مریضوں کا چیک اپ ہو نا چاہیے تاکہ انہیں بر وقت ہسپتال منتقل یا کسی ماہر ڈاکٹر کو ریفر کیاجاسکے۔

ہمارے علاقوں میں ونی ،کالا کالی اور دوسری دقیانوسی روایات کی وجہ سے سرائیکی وسیب کی خواتین کچلی جارہی ہیں ،ان مسائل کو بھی میں کئی مرتبہ لکھ بھی چکی ہوں ،اب عملی طور پر ان کے خلاف لڑ بھی رہی ہوں تاکہ خواتین کو حوصلہ ملے

سوال؛مضافاتی ادب میں خواتین کی شاعری بارے آپ کیا کہیں گی؟ 

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ :خواتین اپنی شاعری کے ذریعے ایک خوبصورت معاشرے کی تشکیل میں اپنا بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں ۔ظلم ، جبر اور نا انصافیوں کے خلاف ان کی توانا آواز صرف خواتین کو ہی نہیں معاشرے کے ہر طبقے کو حوصلہ دے رہی ہے ۔دبی ہوئی سسکیاں اب چیخ بن کر سامنے آ رہی ہیں اور دنیا کو ان کے مسائل کی جانب متوجہ کر رہی ہے ۔ صدیوں سے زندانوں میں پڑے غلام اب زنجیریں توڑ رہے ہیں ۔وسیب کی یہ خواتین اردو شاعری میں ایک نئے اسلوب کو جنم دے رہی ہیں ایک ایسا اسلوب جو ان کی پہچان بن رہاہے اور جس کے ذریعے ان کی شاعری دور ہی سے نمایاں ہوتی ہے۔ان کے ہاں ہمیں نا آسودہ خواہشیں ،لہو لہان پاؤں ،ریزہ ریزہ خواب اور چلچلاتی دھوپ میں بے سمت سفر تو دکھائی دیتا ہے لیکن ان کی شاعری کی ایک اپنی سمت ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان کی شاعری کایہ سفر کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ایک ایسے ماحول میں جہاں اشاعت و طباعت کوئی زیادہ آسان نہیں ،جہاں محفلوں اور مشاعروں کا ماحول بھی خواتین کیلئے موزوں نہیں اور جہاں قدم قدم پر انہیں گھریلو ،سماجی و معاشرتی رکاوٹوں کاسامنا کرناپڑتا ہے۔اس ماحول میں بھی اگر کچھ خواتین نے اپنے آپ کو منوالیا ہے تو ہمیں ان کی تعظیم کرنی چاہیے اورانہیں سلام پیش کرنا چاہیے۔کیونکہ ہمارے ہاں ابھی تک سرکاری ادارے ادب اور ثقافت پر بہت کم کام کررہے ہیں اس وجہ سے یہان کا ٹیلنٹ ابھی بھی ابھر کر سامنے نہیں آرہا ،پی ٹی وی ملتان نے بھی مایوس کیا ہے ،ریڈیواور ارٹس کونسلیں بھی کبھی کبھار متحرک ہوتی ہیں ،اکادمی ادبیات تو بالکل سو چکا ہے ،وسیب کے ادارے ادبی ھوالے سے کچھ بھی نہیں کررہے انہیں متحرک کرنے کی ضرورت ہے 
ہمارے ہاں ابھی بھی قدیم روایات موجود ہیں۔ میں بہت کچھ کر نا چاہتی تھی لیکن خاندانی روایا ت سے بغاوت نہ کرسکی اور مجھے اسی شعبے تک محدود ہونا پڑا ۔ میں لوگوں سے درخواست کر تی ہوں خصوصاً والدین سے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے ضرو سنواریں تاکہ ان میں زندگی گزارنے کا شعور اجاگر ہو۔وسیب کی عورت کو تھک کر بیٹھ نہیں جاناچاہیئے بلکہ ہمیں مزید متحرک ہونا پڑے گا کیونکہ عمران خان نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ ضرور تبدیلی لائیں گے جس سے ہمیں بھی فائدہ ہوگا ،پی ٹی آئی کی حکومت کو چاہیئے کہ وہ وسیب کی خواتین کی بہتری کے لیے ہی کام کریں کیونکہ یہاں کی عورت زیادہ پسماندہ ہے 

PostHeaderIcon تجدید عشق ؟ اور مرا اظہار ، معذرت

آنکھوں میں پھر سے خواب ہوں،دلدار معذرت
سرکار معذرت ، مرے سرکار ، معذرت

برسوں سے جن کی یاد میں برسی ہے میری آنکھ
سوچوں میں ہوں وہی درو دیوار ، معذرت

جذبات آ گئے ہیں غموں کی صلیب پر 
تجدید عشق ؟ اور مرا اظہار ، معذرت

مدت سے میرا دستِ دعا تو بلند ہے
سب خواہشیں ہو ں کیسے ثمر بار، معذرت 

جینے کو تیرے ہجر کا سامان ہے بہت
کیوں کر بسائیں پھر نیا سنسار، معذرت

بستی بہت ہی دور ہے میری اناؤں کی
ڈ ھونڈوں میں تیرے شہر کے پندار، معذرت

دوچار گام ساتھ نہ چل پاؤ گے مرے 
شاہیں یہ راستہ تو ہے دشوار، معذرت

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon یہ عشق عجب لمحہ ء توقیر ہے جاناں

 

یہ عشق عجب لمحہ ء توقیر ہے جاناں
خود میرا خدا اس کی ہی تفسیر ہے جاناں
 
جو نام ہتھیلی کی لکیروں میں نہیں تھا
کیوں آج تلک دل پہ وہ تحریر ہے جاناں
 
اس خواب کی تعبیر تو ممکن ہی نہیں تھی
آنکھوں میں مگر اس کی ہی تاثیر ہے جاناں
 
مانا کہ ترے ہاتھوں میں ہیں پھول ابھی تک
لیکن ترے پیروں میں جو زنجیر ہے جاناں
 
کیا جانئے کس روز بکھر جائے کہیں بھی
اس آس کی دل میں جو اک تنویر ہے جاناں
 
یہ روگ کہیں مجھ کو ہی مسمار نہ کر دے
آ لوٹ کر آ تُو ہی تو اکسیر ہے جاناں
 
تو ہجر میں ڈوبی ہوئی نَیّا کا کنارہ
جیون کی ترے پاس ہی تدبیر ہے جاناں

 

یہ زخم جدائی کے کبھی سلنے نہیں ہیں

تُو جان لے اپنی یہی تقدیر ہے جاناں

 

اُس آگ کے شعلوں میں وہ پھولوں کا تبسم
اک سجدہء بے مثل کی تصویر ہے جاناں

 

اب دن کی طلب ہی نہیں شاہین مجھے تو

اک شام ہی اب تو مری جاگیر ہے جاناں
 
nnnn

 

PostHeaderIcon اب نہیں وہ منتظر مجھ کو یہی تو ہے یقیں 

تو نہیں تو جانِ جاں پھر یہ جہاں کچھ بھی نہیں 
جز ترے رنگینیء کون و مکاں کچھ بھی نہیں

منتظر کوئی نہیں اب جل بجھے ہیں راستے 
مجھ کو مت بہلاؤ تم اب تو وہاں کچھ بھی نہیں

اب نہیں وہ منتظر مجھ کو یہی تو ہے یقیں 
ہے یقیں کا ہی یقیں ، وہم و گماں کچھ بھی نہیں

کس طرف ہیں خال و خد اور کس طرف ہیں خواب سب 
ہر طرف اب ہے دھواں مجھ پر عیاں کچھ بھی نہیں‌

ہم بھٹکتے پھر رہے ہیں رہنما کے ساتھ ہی 
در بدر ہیں سب اگر تو کارواں کچھ بھی نہیں

جس میں شاہیں ذکر میرے خال و خد کا ہی نہیں 
رد ہے ساری داستاں وہ داستاں کچھ بھی نہیں

PostHeaderIcon پھر کارگاہِ عشق میں لایاگیامجھے

پھر کارگاہِ عشق میں لایاگیامجھے
پھر زندگی کاخواب دکھایاگیامجھے

اک درد لادوامر ے حصے میں ڈال کر
سپنوں کے دیس سے بھی جگایاگیامجھے

حیرت زدہ ہے آنکھ اورحیراں ہے زندگی 
آئینہ خانے میں جو بلایاگیامجھے

ہنستی ہے میری آنکھ تو روتا ھے میرادل
سوزوالم کے گیت میں گایاگیا مجھے

کھلنے لگ ہیں زخم گلابوں کے رنگ میں
رنگِ خزاں میں ایسے سجایاگیامجھے

عشق ووفاکے ساتھ ہی اک ہجرِناتمام
کیسے خمیر۔ِ غم سے بنایا گیامجھے

تشنہ سی زندگی ہے جو دل کے فرات پر 
کرب وبلاکاروپ دکھایاگیامجھے

جس میں دہک رہا تھا مرے خواب کا آلاؤ۔۔۔
ایسی فصیلِ جاں میں جلایاگیامجھے

اب حوصلہ نہیں ہے کہ میں کرچیاں چنوں
اک بھربھری زمیں میں چھپایاگیامجھے

اذنِ سفر ملا تھا یوں شب کی سفیر کو 
جگنو میں ماہتاب دکھایا گیا مجھے

ہونے لگے ہیں آس کے سارے چراغ گل 
شاہین تیرگی میں بسایاگیامجھے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon

PostHeaderIcon چاہت تو صدیوں روتی ہے 

چاہت تو صدیوں روتی ہے 

چاہت تو صدیوں روتی ہے 
ہجر کا چولا پہن کے اکثر 
وصل کے خواب لئے آنکھوں میں 
تعبیروں کی اک ست رنگی 
مالا روز پروتی ہے یہ 
بلک بلک کر روتی ہے یہ 
ہاتھ میں خالی کاسہ لے کر 
موسم _گل کو پت جھڑ کر کے 
دشت_ جنوں میں بادل کر کے 
اور خرد کو پاگل کر کے 
ویراں ویراں بانجھ دلوں میں 
وصل کے بیج بھی یہ بوتی ہے 
درد سے درد کو جب دھوتی ہے 
پھر خود بھی صدیوں روتی ہے 
آج تلک یہ سمجھ نہ آیا 
رونا ہی جب لیکھ ہے اس کا 
کیوں پھر خواب پروتی ہے یہ؟

بلک بلک کر روتی ہے یہ

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ 

PostHeaderIcon

چاہتوں کے تخت پر ہم کو بٹھایا ،شکریہ 
اور بٹھا کر پھر نظر سے بھی گرایا ،شکریہ

تھا بڑا ہی شوق جس کو قربتوں کا کل تلک 
راستہ بھی ہجر کا اس نے دکھایا، شکریہ

ڈھونڈتا تھا عکس اپنا میرے خال و خد میں جو 
آج مٹی میں مجھے اس نے ملایا شکریہ

روشنی کہہ کر دھوئیں میں مجھ کو اس نے گم کیا 
دل لگی ، دل کی لگی کو ہی بنایا ،شکریہ

میری اک مسکان پر قربان ہوتا تھا کبھی 
پھر اسی سنگ دل نے ہی مجھ کو رلایا ،شکریہ

سامنے دریا کی صورت میں ہے جو صحرا قبول 
زندگی جو رنگ بھی تو نے دکھایا، شکریہ

اک تمہاری ہی وفا پر مان تھا شاہین کو 
سنگ سب سے پہلے تم نے ہی اٹھایا، شکریہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits