محفوظات برائے November, 2018

PostHeaderIcon نعت رسول مقبولﷺ

نعت رسول مقبولﷺ

؁طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی
ملتی ہے اِس جہاں کو مدینے کی روشنی

کھاتے تھے زخم سب کی ہدایت کے واسطے
پھیلا رہے تھے آپ ؐ قرینے کی روشنی

اے موجبِ اوارض و سما اب کیجیئے عطا
یا صاحبِ لولاک مدینے کی روشنی

شَق الصَدر سے ہو گئے حیران جبرائیل
پھیلی تھی کلُ جہان میں سینے کی روشنی

رمضان ہو کہ ما ہ ربیع الا ولی ہو بس
چاروں طرف ہے ان کے مہینے کی روشنی

اک صاحبِ کمال کا وہ حسن با کمال 
مہکا رہا تھا اُن کے پسینے کی روشنی

یزداں بھی اُن پہ بھیجتا ہے رات دن درود
شمس و قمر سے بڑھ کے نگینے کی روشنی

جس وصلِ بے مثال میں طاری تھی بے خودی
بخشش میں تھی نماز خزینے کی روشنی

سرکار آپِٖٖؐ کی ہی گدا ہوں ٗکرم ہو بس 
درکار ہے مجھے بھی خزینے کی روشنی

شاہیں نبی کے دم سے ہی مجھ کو ہو ئی عطا 
مرتے ہوئے وجود میں جینے کی روشنی
دعاؤں کی طلبگار؛

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon ڈاکٹر نجمہ شاہین,,, البم ..سال بہ سال

پی ایم اے کے اجلاس میں لیڈی واٰئس پریذیڈنٹ کے طور پر حلف اٹھانے کی تقریب میں

PostHeaderIcon وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا

14212739_10211084473334039_7972558674200796211_n
پھول سے بچھڑی خوشبو ۔۔ پہلا شعری مجموعہ

ہنسی نہ دے سکا مگر مجھے ملال دے گیا
وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا

وفا کو پھر لغات میں فریب ہی لکھا گیا
وہ چاہتوں کو دیکھئے عجب مثال دے گیا

پھر آئینے کے روبرو تمام عکس کھو گئے
بے چہرگی کو بھی نئے وہ خدو خال دے گیا

تمام عمر ہم جواب ڈھونڈتے رہیں گے اب
کمال یہ کیا ہمیں نیا سوال دے گیا

مقدروں سے کھیلتے رہیں گے روز و شب مرے
وہ وقت کی بساط پر نئی ہی چال دے گیا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon بے شک وہ سب سے بڑھ کرانصاف کرنے والا ہے

 

 

بیشک اللہ شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے
بے شک وہ سب سے بڑھ کرانصاف کرنے والا ہے 
الرحمن الرحیم

PostHeaderIcon پھر مصر کے بازار میں نیلام ہوا کیوں؟

پھر مصر کے بازار میں نیلام ہوا کیوں؟
اے عشق بتا تیرا یہ انجام ہوا کیوں؟

ہم باعثِ راحت جسے سمجھے تھے وہ لمحہ
اب اپنے لئے باعثِ آلام ہوا کیوں؟

اے عشق فلک پر تجھے لکھا جو خدا نے
پھر تیرا مقدر بھلا ابہام ہوا کیوں؟

اے عشق ترا نام ہے جب سچ کی علامت
اے عشق تُورسوا یوں سرِ عام ہوا کیوں؟

جب ایک ہی سجدے میں ترا بھید چھپا ہے
پھر سنگِ ملامت ہی ترا دام ہوا کیوں؟

اے آنکھ تُو بے خواب ہے خوابوں کی طلب میں
یہ ہجر ہی آخر ترا انعام ہوا کیوں؟

چہرے پہ ترے کس لئے حیرت ہے ابھی تک
یہ اتنی وضاحت پہ بھی ابہام ہوا کیوں؟

اس دل کو ہے محبوب وہی درد کا نغمہ
اس دل میں تعجب ہے یہ کہرام ہوا کیوں؟

جو تیری محبت کو سمجھ ہی نہیں پایا
شاہین یہ دل اُس کے بھلا نام ہوا کیوں؟

phir misr

phir misr

PostHeaderIcon تجھے زندگی میں ہم نے دل و جان سے ہے پوجا ،، کبھی پھر سے ہوں مراسم وہ بحال معذرت ہے

ترے لب پہ ایک جو ہے ، وہ سوال معذرت ہے 
مجھے تجھ سے زندگی اب تو کمال معذرت ہے

یہ کمال معذرت ہے، اے غزال معذرت ہے 
کون اس طرح سے کاٹے مہ و سال معذرت ہے

یہ صدائیں تیری بے کل ، انہیں کون اب سنے گا 
ہمیں عشق آئے تیرا جو خیال معذرت ہے

اک شام میں سفر ہو ،یہاں روز اک صدی کا 
کرے ہجر روز ہم کو جو نڈھال معذرت ہے

یہ تڑپنا اور سسکنا،یہ بلکنا اور بھٹکنا
ہے یہ زندگی دکھوں کا ہی تو جال معذرت ہے

تجھے زندگی میں ہم نے دل و جان سے ہے پوجا
کبھی پھر سے ہوں مراسم وہ بحال معذرت ہے

وہ جو ان کہی سنی تھی مرے دل نے یاد ہے سب
وہ جو عشق کا سفر تھا ،کیوں ملال معذرت ہے

رہے ایک ہی تصور ،رہے ایک ہی وہ پیکر
کبھی خواب کو پھر آئے جو زوال معذرت ہے

رکھے کون تجھ سے نسبت ، کرے کون اب یہ خواہش
کہ نہ آیا راس شاہیں یہ وصال معذرت ہے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon تخت نشین تھی عشق کی پھر بھی، دل کی بازی ہاری سائیں

تخت نشین تھی عشق کی پھر بھی، دل کی بازی ہاری سائیں
تیرا مذہب دنیا داری، میں الفت کی ماری سائیں

مثلِ خوشبو مہکی تھی مَیں، اس کے وصل کی چھاؤں میں کل
سر پر تپتی دھوپ کھڑی اب ، ساتھ میں ہجر کی باری سائیں

ہر اک موڑ پہ دل نے تجھ کو کیسے اپنا مان لیا ہے
مجھ کو مار گئی ہے تیری، جھوٹی یہ دلداری سائیں

گھِر کر آیا درد کا ساون ، جل تھل جل تھل من کا آنگن
دکھ کے آنسو کب رک پائیں، ان کی برکھا جاری سائیں

لازم ہے اب دل بھی اجڑے، ساجن سے ساجن بھی بچھڑے
ہر جانب اک شور کا میلہ ، اور دولت کے پجاری سائیں

تیرے ہر اک زخم کو اپنی روح کا اس نے زیور جانا
کیسے سج کر پھرتی ہے، اب تیری راج دلاری سائیں

درد وچھوڑا تُو کیا جانے، من مندر کو تُو کب مانے
دل کی دھڑکن کب پہچانے، تُو جذبوں سے عاری سائیں

کل سوچا تھا شعر میں تجھ سے سارے شکوے کر ڈالوں گی
آج غز ل کہنے بیٹھی تو کیوں اتنی دشواری سائیں

اپنے من کو آگ لگائی ، اور پھر اس کی راکھ اُڑائی
یوں ہی جلتے بجھتے شاہیں ساری عمر گزاری سائیں

 
saain
ڈ

PostHeaderIcon اے مکین دل تجھے، اب نئے خواب ہوں مبارک

اے مکین دل تجھے، اب نئے خواب ہوں مبارک
ہے گناہ عشق میرا ،یہ ثواب ہوں مبارک

ترے آئینے میں روشن سا چراغ تھی سو مجھ کو 
نئے عکس ہوں مبارک،یہ عذاب ہوں مبارک

نہ ہی چوڑیاں نہ مہندی ،نہ ہی پھول ہیں نہ گجرے
مرے تن کو دکھ کے سارے یہ سحاب ہوں مبارک

مری آنکھ دشت میں ،جو ہے یہ ہجر آن بیٹھا
مری گردِ رہگزر کو ، یہ سراب ہوں مبارک 

نہیں اب مقدروں سے گلہ، کوئی مجھ کو صاحب 
مجھے شب نصیب ، تجھکو مہ تاب ہوں مبارک 

شب غم کی تیرگی میں یہ ہجوم ِ آہ و گریہ
دلِ پرملال تجھ کو یہ رباب ہوں مبارک 

نہ سمیٹ پائے شاہیں ،کوئی دل کی کرچیوں کو 
مرے ماتمی سفر کو یہ سراب ہوں مبارک

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ 

PostHeaderIcon چاہتوں کے تخت پر ہم کو بٹھایا ،شکریہ 

چاہتوں کے تخت پر ہم کو بٹھایا ،شکریہ 
اور بٹھا کر پھر نظر سے بھی گرایا ،شکریہ

تھا بڑا ہی شوق جس کو قربتوں کا کل تلک 
راستہ بھی ہجر کا اس نے دکھایا، شکریہ

ڈھونڈتا تھا عکس اپنا میرے خال و خد میں جو 
آج مٹی میں مجھے اس نے ملایا شکریہ

روشنی کہہ کر دھوئیں میں مجھ کو اس نے گم کیا 
دل لگی ، دل کی لگی کو ہی بنایا ،شکریہ

میری اک مسکان پر قربان ہوتا تھا کبھی 
پھر اسی سنگ دل نے ہی مجھ کو رلایا ،شکریہ

سامنے دریا کی صورت میں ہے جو صحرا قبول 
زندگی جو رنگ بھی تو نے دکھایا، شکریہ

اک تمہاری ہی وفا پر مان تھا شاہین کو 
سنگ سب سے پہلے تم نے ہی اٹھایا، شکریہ

PostHeaderIcon نینوں میں نیر پروتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی

نینوں میں نیر پروتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی
جیون کے ساز پہ روتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی

اک یاد پڑی ہے آنگن میں، اک شام رکھی ہے جیون میں
اک درد کا بوجھ بھی ڈھوتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی

جب ہلکی سی اک آہٹ پر میرا دل چونک سا اٹھتا ہے
پھر دھیان کے دشت میں سوتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی

جب پھول بھرے اس موسم میں پنچھی بھی گیت نہیں گاتے
پھر آس کے بیج کیوں بوتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی

اک چاک پہ رقص میں رہتی ہیں ، یہ لڑکیاں اشک بہاتی ہیں
پھر ان کے جیسی ہوتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی

چنری کے سارے رنگوں میں ، اور پیار پریت کی جنگوں میں
جیون کے رنگ سموتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی

پہلے تو پاگل ہوتی ہے کوئی تنہا کسی کی یادوں میں
پھر ہوتے ہوتے ہوتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی

جیون کی ان زنجیروں سے اور اجڑی ہوئی تصویروں سے
اب درد کا میل بھی دھوتی ہیں ، یہ پایل ،چوڑیاں اور مہندی

میں تو بس جاگتی رہتی ہوں ، یہ کب تک میرا ساتھ دیں اب
تھک کے آخر سوتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی

کوئی ساز نہیں ، ہم راز نہیں ، آواز نہیں، انداز نہیں
شاہیں ایسی بھی ہوتی ہیں ، یہ پائل ،چوڑیاں اور مہندی

drr

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits