محفوظات برائے December, 2018

PostHeaderIcon مگر میں کیسے پرسہ دوں؟

مرے کانوں میں چیخیں ہیں

مرے معصوم بچوں کی 
مری آنکھوں کے تاروں کی 
کہ جن کے کھیلنے کے دن تھے 
لیکن ظالموں نے ان سے کیسا کھیل کھیلاتھا 
مرے بچوں سے اس دن موت کھیلی تھی مری آنکھوں میں منظر ہیں 
بہت سفا ک منظر ہیں 
کہیں بکھری کتابیں ہیں 
کہ جن پر موت لکھی ہے 
کہیں بستہ ہے کاپی ہے 
کہ جن پر خون کے دھبے رُلائیں خون کے آنسو 
کسی منظر میں مائیں ، بین کرتی ہیں 
کہیں پھولوں کی لاشوں پر 
بہت سے پھول رکھے ہیں 
مجھے ماؤں کی چیخیں رات بھر سونے نہیں دیتی 
کہ میں ان سر د رراتوں میں 
یہ گھنٹوں سو چتی ہوں بس
میں پرسہ دے سکوں گی کیا 
انہیں اب اپنی نظموں سے ؟
میں کیسے ان کے دکھ کو اپنی نظم میں ڈھا لوں؟ 
خدا سے پوچھنا چاہوں
کہ یارب تیری دھرتی پر اگریہ ظلم ٹوٹا ہے 
زمیں کیوں کر سلامت ہے؟ 
قیامت کیوں نہیں آئی؟
میں شکوہ کرنہیں سکتی ، جواب آئے گا شکوے کا 
تمہارا فرض بھی کچھ تھا 
اگر تم قوم بن جاتے
تو یہ دن بھی نہیں آتا 
مجھے شکوہ نہیں کرنا 
مجھے پرسہ تو دینا ہے 
مجھے ان سب دکھوں کو اپنی نظموں میں بھی لکھنا ہے
مرے آنسو بھی حاضر ہیں
مری یہ نظم نذرانہ 
مگر میں کیسے پر سہ دوں 
کہ یا رب میں بھی توماں ہوں
سو ماں کا دکھ سمجھتی ہوں
مجھے معلوم ہے ایسے دکھوں کاتیری دنیا میں 
مداوا ہو نہیں سکتا 
کبھی بھی دل گرفتہ ماں کو پرسہ ہو نہیں سکتا
تڑپتی مامتا کواب دلاسہ ہو نہیں سکتا

pursa

pursa

PostHeaderIcon اللہ بڑا منصف ہے

ہم ایسی دنیا میں محبت کی سچائی کیوں تلاش کرتے ہیں کہ جس میں محبت کے نام لیواؤں نے محبت کی بنیاد ہی دھوکا ،فریب اور ہوس پر رکھی ہو،۔ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ جنھوں نے اپنے فائدے اور دنیاوی ہوس اور چمک دمک کیلیئے مخلصی کو ٹھکرایا ہو اور اپنے ہی بولے لفظوں اور قسموں کے ساتھ دھوکا کیا ہو وہ کبھی کسی کے ساتھ مخلص بھی ہو سکتے ہیں۔ایسے لوگ ایک ایسی رنگین دنیا کے راہگیر ہوتے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی اور یہ صرف دکھاوے اور دولت و ہوس کیلیئے اپنے ہی جسم و جاں کی فصیل میں اپنے ہی ذہن و دل کی تاریکی میں زندگی جیتے ہیں ،ان کیلئیے ان کی اپنی ہی روح اور اس کی روشنی کوئی معانی نہیں رکھتی ،یہ تو یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے اور سب فانی ہے، ۔

PostHeaderIcon زمانے کو خدا کیا


زمانے کو خدا کیا
   

نہ درد کو دوا کیا 

نہ حرف کو صدا کیا
بس اپ نے تو ہم کو ہجر سے ہی آشنا کیا
لگا کے اپنے دام آپ خود سے خود کو ہی جدا کیا
جو لوگ مہربان نہ تھے 
آپ ان پہ مہرباں ہوئے
جو مہر بان ساعتیں تھیں ،ان سے ہی دغا کیا
دعا کو اپنے ہاتھ سے ہی یوں بد دعا کیا
لے کے نام عشق کا وفا کو ہی جفا کیا 
عشق رسوا ہو گیا

زمانے کو خدا کیا
حیران ہے یہ آسماں 
کہ آپ نے یہ کیا کیا
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

 

 

 

 

 

 

 

PostHeaderIcon

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits