محفوظات برائے February, 2019

PostHeaderIcon ہجر مجھ کو ملا وصل کی شام میں

اجنبی شہر کی اجنبی شام میں 
زندگی ڈھل گئی ملگجی شام میں

شام آنکھوں میں اتری اسی شام کو 
زندگی سے گئی زندگی شام میں

درد کی لہر میں زندگی بہہ گئی 
عمر یوں کٹ گئی ہجر کی شام میں

عشق پر آفریں جو سلامت رہا
اس بکھرتی ہوئی سرمئی شام میں 

میری پلکوں کی چلمن پر جو خواب تھے 
وہ تو سب جل گئے اُس بجھی شام میں 

ہر طرف اشک اور سسکیاں ہجر کی 
درد ہی درد ہے ہر گھڑی شام میں

آخری بار آیا تھا ملنے کوئی 
ہجر مجھ کو ملا وصل کی شام میں

رات شاہینؔ آنکھوں میں کٹنے لگی 
اس طرح گم ہوئی روشنی شام میں

PostHeaderIcon گواہی دیں گے محشر میں یہ میری آنکھ کے آنسو ۔

گواہی دیں گے محشر میں یہ میری آنکھ کے آنسو
زمیں کے نا خداؤں کا لئے احسان زندہ ہوں

ترے در کی مسافر ہوں،مجھے رستہ دیا ہوتا
میں تیرے عشق کا مولا لئے وجدان زندہ ہوں

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon بے بسی کی شام پر سسکی ہے پہروں زندگی

شام کی دہلیز پر لیں درد نے انگڑائیاں
جاگ اٹھے ہیں غم سبھی اور رو پڑیں تنہائیاں

راستوں پر خاک ہے ، پھولوں سے خوشبو کھو گئی 
دن کا اب امکاں نہیں ہے کھو گئیں رعنائیاں

جب وفا گھائل ہوئی ، دنیا میں جب سائل ہوئی 
گم ہوئیں خوشیاں سبھی ہم کو ملیں رسوائیاں 

ایسے تحریریں مٹیں اور ساری تنویریں بجھیں
ہچکیاں ہی ہچکیاں اب سو گئیں پروائیاں

بے بسی کی شام پر سسکی ہے پہروں زندگی
خواب کی خواہش میں ہم تو کھو چکے بینائیاں

PostHeaderIcon اے عشق !ترے در پہ میں حیران کھڑی ہوں

آنکھوں میں لئے درد کا طوفان کھڑی ہوں
اے عشق !ترے در پہ میں حیران کھڑی ہوں

ان تیز ہواؤں میں گھِرا میرا نشیمن 
خوابوں کا جہاں لے کے ،میں ویران کھڑی ہوں

محشر میں مرے اشک گواہی مری دیں گے
دنیا کے خدا کا لئے احسان کھڑی ہوں

یہ زخم ہیں کیسے ، نہیں جن کا کوئی مرہم 
چاہت کا لئے پھر بھی میں عنوان کھڑی ہوں

اک خواب کے تاوان میں آنکھوں کو گنوایا۔
بے روح ہوئی ہوں،یہاں بے جان کھڑی ہوں

یہ کیسی اذیت ہے ، کبھی کم نہیں ہوتی
قربت میں لئے ہجر کا ، امکان کھڑی ہوں

اپنے تھے جو ہاتھوں میں لئے رہتے تھے خنجر 
اک بھول تھی ، جس کا لئے ارمان کھڑی ہوں

خود سے ہی اگر میری شناسائی نہیں ہے
میں اپنے ہی گھر کیوں بھلا مہمان کھڑی ہوں

اس نے تو کبھی لوٹ کے آنا بھی نہیں تھا
پلکوں کو بچھائے وہیں نادان کھڑی ہوں

کیا آس تھی جس نے مری دنیا ہی بدل دی 
ہے راہ عجب جس پہ میں حیران کھڑی ہوں

مجھے رستہ دیا ہوتا، مسافر تھی ترے در کی 
میں عشق کا لے کر ترے وجدان کھڑی ہوں

اک وصل کا پل کوئی ، عطا ہو مرے مولا
صدیوں سے لئے ہجر کا سامان کھڑی ہوں

جو راستہ ہموار تھا ۔خود چھوڑ کے آئی
اب سامنے میرے ہے یہ ڈھلوان ،کھڑی ہوں

اے چارہ گر ! آدیکھ ، ترے دست ہنر سے
جھوٹے میں وفا کے لئے پیمان کھڑی ہوں

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits