محفوظات برائے April, 2019

PostHeaderIcon کیسے گزرے تجھِ بن رین میرے بادشاہا

کیسے گزرے تجھِ بن رین میرے بادشاہا
تجھ کو ترسے پیاسے نین میرے بادشاہا

اَبد تلک میں بیٹھی ہوں بس آس لگائے تیری
ہے تجھ سے ہی دل کو چین میرے بادشاہا

تو جو ملا تو مہک ا’ٹھے گا مرے وجود کا گلشن
پھر دکھ آپ کرے گا بین میرے بادشاہا

اَدھ اَدھوری ذات کی بس تکمیل ہی تم سے ہو گی
میرے عشق کا تم ہی عَین ،میرے بادشاہا

دل کے اَندھیارے آنگن میں چمکا آج چندرما
ر’ک گئے میری آنکھ کے رین میرے بادشاہا

سن اب بات تو سن میں کیسے کاٹوں جیون رات
مری وفا کو مت لکھ غین میرے بادشاہا

لیکھ سے ہاری ،ہجراں ماری کو ہی دیکھ لے آکر
در در پھرتی ہے بے چین میرے بادشاہا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ 

PostHeaderIcon

کیسے گزرے تجھِ بن رین میرے بادشاہا
تجھ کو ترسے پیاسے نین میرے بادشاہا

اَبد تلک میں بیٹھی ہوں بس آس لگائے تیری
ہے تجھ سے ہی دل کو چین میرے بادشاہا

تو جو ملا تو مہک ا’ٹھے گا مرے وجود کا گلشن
پھر دکھ آپ کرے گا بین میرے بادشاہا

اَدھ اَدھوری ذات کی بس تکمیل ہی تم سے ہو گی
میرے عشق کا تم ہی عَین ،میرے بادشاہا

دل کے اَندھیارے آنگن میں چمکا آج چندرما
ر’ک گئے میری آنکھ کے رین میرے بادشاہا

سن اب بات تو سن میں کیسے کاٹوں جیون رات
مری وفا کو مت لکھ غین میرے بادشاہا

لیکھ سے ہاری ،ہجراں ماری کو ہی دیکھ لے آکر
در در پھرتی ہے بے چین میرے بادشاہا

PostHeaderIcon مجھے جانا ہے جاناں کی طرف

مجھے جانا ہے جاناں کی طرف

مجھے جانا ہے جاناں کی طرف

اے دل میرے، ناشاد مرے
ہمزاد مرے، برباد مرے
اک عمر سے اس زندان میں ہوں
پر کھول مرے آزاد تو کر
مرے پیروں میں زنجیرِ وفا
اسے توڑ ذرا، مجھے جوڑ ذرا
مجھے جینے کی تہذیب تو دے
مری سانسوں کو ترتیب تو دے
اب خود کوذرا تُو شاد تو کر
مجھے جیون سے آزاد تو کر
تُو جانتا ہے اس جیون کو

یہ مدفن ہے ہر حسرت کا
یہ جیون ہے اک موت نما
مجھے دور یہاں سے جانا ہے
اُڑنا ہے فلک کی جانب اب
اک زنداں سے زنداں کی طرف
حیراں کی طرف، جاناں کی طرف
ہاں اُس کی طرف جس کی خاطر
یہ آنکھیں برسی ہیں شب بھر
جو خوشبو دیس کا باسی ہے
اور جس کو نہیں اب میری خبر

اے دل میرے میں خاک نشیں
کیا چاند کو اب تسخیر کروں
کس خواب کو کیوں تعبیر کروں؟

تاریک سا یہ جو جیون ہے
اب کیسے اسے تنویر کروں؟
اک رنگ جو ہے دامن میں مرے
اسے کتنی دفعہ تصویر کروں؟
دکھ سارے کیوں تحریر کروں؟

ہمزاد مرے، ناشاد مرے
اے دل میرے، برباد مرے
اب خود کو ذرا تُو شاد تو کر
اب تُو مجھ کو آزاد تو کر
مجھے جانا ہے جاناں کی طرف
حیراں کی طرف زنداں کی طرف
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits