PostHeaderIcon کہاں پہ رہنا تھا مجھ کو،مگر کہاں پہ رہی

شیئر کیجئے

کہاں پہ رہنا تھا مجھ کو،مگر کہاں پہ رہی
میرا جہان ہی کب ہے یہ،میں جہاں پہ رہی

بجھے تھے درد کے جو بھی دئیے تھے آنکھوں میں
جہاں پہ درد کا ڈیرہ تھا ،میں وہاں پہ رہی 

جو شور مجھ میں بپا تھا وہ ختم ہو نہ سکا 
کہیں یقین کو کھویا ،کہیں گماں پہ رہی

نہ اس میں دوش تھا میرا ،نہ اس زما نے کا
حیا ت موت کی خواہش میں خود سناں پہ رہی

ہزار پردوں میں اس نے چھپا کے بھیجا جسے 
وہ خود نمائی کی خواہش میں خود دکاں پہ رہی

کہاں تھا میرا ٹھکانہ سمجھ نہ آیا مجھے
میں لامکان سے گزری تو کس مکاں پہ رہی

میں چپ تھی جب تو کوئی تذکرہ نہیں تھا کہیں 
لیا جو نام ترا پھر تو ہر زباں پہ رہی
ڈاکٹرنجمہ شاہین کھوسہ 


شیئر کیجئے


تبصرہ کریں



My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits