مضامین

PostHeaderIcon اور وہ چلی گئی۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

aor-woh-5th-december
ابھی اپنی بے چینی کو قراردینے کے لئے کاغذ ،قلم لے کے بیٹھی ہی تھی کہ ایک بُر ی خبر نے آنکھیں مزید نم کر دیں۔آج کادن ویسے بھی میرے لیے انتہائی نامعتبر ہے کیونکہ معتبر زمانے کیلئے کسی بیٹی کی پیدائش شاید اتنی معتبر نہیں ہوتی۔چاہے وہ بیٹی دنیا میں لائق ترین ہویا شہزادی ہی کیو ں نہ ہو۔5دسمبر کو مجھے نہیں یا د کہ میں نے کبھی خوشی محسوس کی ہو۔ایک خاموش سی اداسی نے ہمیشہ اس دن کوسوگوارکیااور اس کی شام کو کربناک بنایا۔میں لوگوں کو ان کی سالگرہ کی خوشیاں مناتے دیکھتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں لیکن ضروری تونہیں کہ میری آنکھ کی حیرانی بجا ہو۔آخر یہ دن یادگارہوتاہے تو لوگ خوشیاں مناتے ہیں۔یہ دنیا میں ان کی آمد کادن ہوتا ہے۔ تو پھر بھلا وہ کیوں نہ خوش ہوں۔اگر میں نہ ہوتی تو شایدیہ صدیوں سے بھٹکتی اداسی کسی اور روح میں سما جاتی۔ڈاکٹر آمنہ وقار میرے شہر کی ایک نامور،معتبر ہستی ،ایک ایسی ڈاکٹر کہ جب وہ پریکٹس کررہی تھیں تو نہ جانے میرے جیسی کتنی ڈاکٹرز ان پر رشک کرتی تھیں۔ہروقت ہنسنے مسکرانے والی،ابھی کچھ ہی دن ہوئے کہ میری ایک سٹاف ممبر نے مجھے اطلاع دی کہ ڈاکٹر آمنہ وقارآئی ہیں ۔میں دس منٹ پہلے ہی ظہر کی نمازپڑھنے کیلئے ہسپتال سے ملحقہ اپنے گھر میں آئی تھی۔میں ان کی آمد کی اطلاع پر کچھ حیران ہوئی کیونکہ میرا خیال تھا کہ ڈاکٹر آمنہ کچھ نک چڑھی اور مغرورخاتون ہیں جواپنی ساتھیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتیں۔بہرحال میں نے سٹاف سے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں تو اس نے بتایا کہ انہیں آفس میں بٹھا دیا ہے۔میں نے کہا انہیں جلدی سے گھر لے آؤ ۔ڈاکٹر صاحبہ جیسے ہی گھر آئیں تو اتنے والہانہ انداز میں ملیں جیسے مجھ سے برسوں کی شناسائی ہو۔ ان کا وہ ہنستا مسکراتا چہرہ اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ جس نے اپنے دل میں نہ جانے کتنادرد چھپا رکھاتھا۔آج وہ کینسر جیسے موذی مرض سے شکست کھاگئیں۔موت تو برحق ہے لیکن کبھی کبھار وہ ذہن و دل کواس طرح جھنجوڑ دیتی ہے کہ انسان خود کو بہت بے بس اور لاچارمحسوس کرتا ہے۔یوں تو کتنے ہی دل ہیں کہ جن کے اندر موت کارقص جاری ہے۔زندہ ہونے کے باوجود وہ زندہ نہیں۔اپنے سانس لینے پرمیری طرح حیران ہیں۔پریشان ہیں مگر اے موت تجھ سے شکوہ یہ ہے کہ تُو ان ہستیوں کو لے جاتی ہے جن کی ہمیں ضرورت ہے جن کی اس جیون کو ضرورت ہے ۔ اے موت تُو اپنا سفر بے شک جاری رکھ لیکن ذرا دھیرے دھیرے ۔

PostHeaderIcon دسمبر ترا نام تو ہجر ہوتا ۔

nn
نہ جانے ادیبوں‌ شاعروں نے دسمبر پر کیسے رومانوی نظمیں کہہ ڈالیں‌؟ کیسے اسے اپنی غزلوں کا موضوع بنا لیا؟ ۔۔ ہمیں تو جب بھی یہ ستم گر ملا اس کے دامن میں ہجر ہی ہجر ملا ۔۔ اس کی آہٹوں میں ، اس کی یخ بستہ راتوں اور کہر آلود صبحوں میں بس بین کرتے ہجر کی آہٹیں ہی سنائی دیں‌۔ سسکیاں‌ہی سنائی دیں تاریکیاں ہی دکھائی دیں‌ ۔ ماتم کرتے لمحے عطا کئے اس نے ہمیں ، درد بھرے نوحے دان کئے ۔ دسمبر نے آنگنوں‌میں‌کھلے گلاب ٹہنیوں‌ سے نوچ ڈالے اور ہماری آنکھوں‌ کو لہو رنگ کر دیا ۔ دکھوں‌ اور ہجر کو ہمارے سنگ کر دیا ۔ کہر لمحوں‌ میں‌ بھی اس نے ہمیں‌دھوپ بخشی ، دلوں‌ اک ہوک بخشی ۔ تاریکیاں ہم پر مہربان ہوئیں ۔ ویرانیاں اسی دسمبر کے مہینے میں‌ ہماری شان ہوئیں ۔ ابھی تو ہماری آنکھوں میں وہی ہجر سلامت ہے جو دسمبر کی شاموں نے ہمیں خوابوں کی جگہ بخشا تھا ۔ ابھی تو ہم 16 دسمبر کی وہ خوں‌رنگ صبح نہیں‌بھولے تھے جو اپنے دامن میں تاریکیاں لے کر آئی تھی اور جس نے اسی روز ہونے والے سقوط ڈھاکہ کے المیئے کو بھی مات کر دیا ۔ہم سے ہمارے جگمگاتے ستارے چھین لئے ہمارے روشن مستقبل کو سیاہ اور بد نما دھبہ لگا دیا ۔ ابھی تو وہی زخم تازہ تھے بلکہ اب تو وہ ناسور بن چکے ہیں‌۔ ابھی انہی زخموں سے لہو رِس رہا تھا ، ابھی تو ہاتھ وہی نوحے لکھ رہے تھے ۔ ابھی تو آنکھیں‌اسی المیئے پر گریہ کناں تھیں‌اور دکھیاری مائوں کے کانوں‌میں‌اپنے شہزادوں‌کی چیخیں‌ تھیں‌اور کان دروازے پر آہٹ کے منتظر تھے ۔ ابھی تو وہ بے بسی کے ساتھ اور ا پنی ویران آنکھوں‌ سے آسمان کو تکتی تھیں‌۔ اے دسمبر ابھی تو وہی ایک زخم مندمل نہیں‌ہوا تھا کہ تیرے ٹھٹھرتی شام نے اپنی یخ بستگی سے نجات حاصل کرنے کے لئے پھر سے شعلے اگل دئے۔ آہ یہ کیسی بے بسی ہے ، یہ کیسا المیہ ہے کہ جانے والا مدینے والے کا پیغام عام کرتا کرتا مدینے والے کے پاس چلا گیا ۔ دنیا کی ٹیڑھی اور رنگین راہوں کو چھوڑ کر چکا چوند اور چندھیا دینےوالی روشنیوں سے دور ، بہت دور ۔ حق سچ کا اور نور کی حقیقی روشنی کا ہالہ اپنے گرد لپیٹے وہ چلے گئے ۔ جنید جمشید ہم سے بچھڑ گئے ۔ انہوں نے چترال کی سرزمیں‌کو جنت کا ٹکڑا کہا اس جنت کے ٹکڑے پر اپنی آخری تصویر بنوائی ۔ وہاں آخری نماز ادا کی اور پھر جنت کے سفر پر روانہ ہو گئے ۔ ایک جنید جمشید ہی نہیں‌گئے ، ایک سچا راہبر ایک سچا انسان ، انسانیت کا خدمت گزار ہی نہیں گیا اور بھی بہت سے لوگ اگلے جہان کو سدھار گئے ۔ کتنے ہی گھر اجڑ گئے ، مائوں کے لختِ جگر گئے سہاگنوں کے دلبر گئے اور دسمبر ہمیں پھر سے ہجر دے گیا ۔ میں کیسے پرسہ دوں ان ہجر کے ماروں کہ مجھے معلوم ہے ہجر وہ زخم ہے جس کا کوئی مرہم نہیں ۔ یہ وہ درد ہے جس کی دوا نہیں اور یہ وہ دکھ ہے جس کا کوئی دلاسہ نہیں‌۔ سو اے دسمبر تو ہمیں ایک اور دکھ دے گیا
اسے کہنا کہ حیرانی مجھے حیرت سے تکتی ہے
مرے جیون پہ خود بھی زندگی روتی ہے ہنستی ہے
نظر جب بھی ہتھیلی کی لکیروں سے الجھتی ہے
ان آنکھوں سے جھڑی ساون کی
پھر کچھ ایسی لگتی ہے
مرا دل رک سا جاتا ہے
مہینہ ہجر کا جب بھی
مرے آنگن میں آتا ہے
اداسی کے ہر اک منظر کو وہ موجود پاتا ہے
نگاہوں کو جھکا کر بس دسمبر لوٹ جاتا ہے

PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔

1970828_10202298186548837_1894711580_n1970828_10202298186548837_1894711580_n

PostHeaderIcon کیا آج معیاری ادب تخلیق ہورہا ہے؟

[کیا آج معیاری ادب تخلیق ہورہا ہے؟ [ادب پیچھے ادیب آگے11260783_932949113452032_3089940291249910928_n

ایک مشکل سا سوال، مگر ایک آسان اور سیدھا سادہ جواب کہ ’’نہیں‘‘ یہ سچ ہے کہ آجغزل، نظم اور افسانہ لکھنے والے بہت لوگ ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے تخلیق کار کتنے ہیں۔ ایک تخلیق کار بننے کے لیے درد، کرب، ظلم و ستم اور جبر کے خلاف مزاحمت کا جو ایک سفر طے کرنا پڑتا ہے وہ آج کے اس آسائشوں کے دور میں کہاں؟
قلم کی طاقت کو جبر کی طاقت سے جیتنے کے لیے بہت سی آسائشوں اور سہولتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے جو کہ ظاہر ہے آج ممکن نہیں۔ آج ایک لکھنے والا بڑے زور و شور سے ایک دن لکھتا ہے اور دوسرے دن اس کے قلم کو خاموش کرنے کے لیے اس کی حق گوئی اور بے باک سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کے لیے صدر یا وزیراعظم کا ایک بلاوہ ہی کافی ہوتا ہے۔
آج ادب یکسانیت کا شکار ہے۔ ادیب اور شاعر اپنی شناخت کھو چکے ہیں۔ پہلے کتابیں اتنی زیادہ تعداد میں شائع نہیں ہوتی تھیں، اخبارات بھی چند ایک ہی ہوتے تھے۔ چند برسوں پہلے تک جو ادبی رسائل و جرائد چھپ رہے تھے ان کا ایک نام اور معیار تھا۔ ادبی محفلیں آباد تھیں، قہوہ خانوں، ادبی بیٹھکوں اور تنقیدی محافل میں شعراء و ادباء شامل ہوتے اور ادب پر تنقیدی اور تخلیقی گفتگو ہوتی اور اس باہمی مشاورت میں بہترین ادب تخلیق ہوتا۔
آج اخبارات کے رنگین صفحات پر شاعروں، ادیبوں کے فوٹو سیشن اور انٹرویوز باقاعدگی کے ساتھ ہورہے ہیں، ادب پیچھے رہ گیا اور ادیب نمایاں ہوگیا۔
کچھ شاعر اور ادیب خاص طور پر بیرون ملک مقیم ادیب و شعراء اپنی دولت کے بل بوتے پر اپنے لیے خصوصی اشاعتوں کا انتظام کراتے ہیں، پھر ایسی اشاعتوں اور تقریبات کی خصوصی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کے ساتھ مخصوص لفافے لف کیے جاتے ہیں جو ان کی اشاعت کو ممکن بناتے ہیں۔ ان کا ادبی حوالہ صرف چند غزلیں اور نظمیں ہوتی ہیں۔ بلکہ آج کل تو شعر و ادب کے مکمل مسودے خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ ایسے میں ادب کیسے تخلیق ہو۔ کیسے اقبال، میر، غالب، مومن، جوش اور فیض پیدا ہوں۔ تخلیق شعور و آگہی کا سفر ہے اور شعور وہ احساس ہے جو زمانے کی تپتی دھوپ، کرب سے ایک تخلیق کار کے اندر جنم لیتا ہے اور تخلیق کار اپنے شعور کی روشنائی سے اس احساس کو سپردِ قلم کرتا ہے اور یوں تخلیق جنم لیتی ہے۔
پہلے کسی شاعر کا تعارف صرف اور صرف اچھی شاعری اور وہ تخلیق ہوتی تھی جس میں لفظ بولتے تھے ۔۔لفظوں میں چھپا ہوا درد اور کرب اور شعور و آگہی خود روشنی بن کر ادیب کو نمایاں کرتا ،،،ادب صرف بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانوں اور بڑے نام والے ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ تصاویر بنوا کر فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ حقیقی شاعروں کے حقیقی اور خوبصورت لفظ خود روشنی بن کر اس کی شاعری اور شخصیت کا تعارف بنتے ،،،آج ادب صرف چند گروپوں اور چند ٹولوں تک محدود ہے جس میں ؛اندھا بانٹے ریوڑیاں اور اپنوں ہی اپنوں کو دے ؛کے مصداق صرف ایک دوسرے کو نوازا اور سراھا جاتا ھے ،،،
پہلے مشاعرے باقاعدگی سے منعقد ہوتے تھے اور لوگ بہت ذوق و شوق سے مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ پنڈال کھچا کھچ بھر جاتے تھے اور دور دور سے لوگ مشاعرے میں شریک ہوتے تھے اور رات رات بھر مشاعرے سنتے تھے۔ آج اچھے مشاعرے کی محفل منعقد کرنے کے لیے سرکاری سرپرستی لازمی ہے اور آج وہ سننے والے سامعین بھی نہیں رہے۔
غیر روایتی شعراء اور غیر روایتی سامعین نے مشاعروں کا ماحول تبدیل کردیا ہے۔ آج وہ شاعر بھی نہیں اور وہ سامعین بھی نہیں۔ کیونکہ آج کی تخلیق میں وہ حق و سچائی بھی نہیں، پھر جھوٹ کو آخر کب تک زندہ رکھا جائے۔ وہ ادب بھی نہیں رہا، وہ تخلیق بھی نہیں رہی

۔ڈاکٹر نجمہ شاہین ؔ کھوسہ

 

 

PostHeaderIcon کیا شاعری سب بیان کرتی ہے؟

ddd
یہ دکھ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ تنہائیوں، محرومیوں،محبتوں اور جدائیوں کے دکھ ، کہیں انت ہی نہیں ٹھہرتاان کا۔
کبھی گھٹن بن کر دل کو مٹھی میں کر لیتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انت ہو گیا اور کبھی دور پرے کھڑے مسکراتے اُسی گھٹن کو کم کرتے ہیں ، روشنی بنتے ہیں اور اپنی ذات کی تلاش پھر سے شروع ہو جاتی ہے ۔اِک چاک مل جاتا ہے جس پر ہم گھومتے ہیں اور اِک محور مل جاتا ہے جو ہمیں اپنے گرد دائرہ در دائرہ گھماتا ہے۔ ہم اپنی جستجو میں ہوتے ہیں مگر بھلا دائرے میں بھی کوئی جستجو مکمل ہو ئی ؟ دائرہ بن کے گھومنا تو بس گھومنا ہے جب رُک گئے تو دائرے میں گھومنے والا ہر ذرہ صرف اپنی جگہ سمٹ کر رُک جائے گا وہ اُس خلا کو پُر نہیں کر سکے گا جو اُسے ذات کے اندر قطار در قطار کھڑے دُکھوں ، گرد بنتی ہواؤں اور پس منظر میں سمٹتی ، جدائیاں بانٹتی رفاقتوں نے عطا کیا۔
ایسی رفاقتیں جو اداسی ، ہجر ، خاموشی ، اضطراب ، امید، یاس ، سُکھ، دُکھ، ہنسی، آنسو ، آرزو، خلش اور کسک بانٹتی ہیں۔ جو دل کی دنیا کو غم کے اندھیروں کے باوجود روشن و منور کرتی ہیں۔ سرِشام یادوں کے دےئے جلائے ، دل کے اندر بہتے لہو کے آنسو ؤں سے اپنی لَو کو جلانے کی صدیوں پرانی روایت پر ڈگر بہ ڈگر چلتی جاتی ہیں اور بھلا ایسا کیوں نہ ہو یہ رفاقتیں وہی تو ہیں جنہیں اپنی اہمیت کا احساس ہے جنہیں فخر اور غرور ہے اپنے ہونے کا اور دوسروں کے دل میں سب سے اونچی مسند پانے کا۔جنھیں معلوم ہے کہ وہ کوئی مرہم رکھیں یا نہ رکھیں دل کا زخم ناسور بنتا رہے گا اور بن بن کے بگڑے گامگر ازل تا ابد ختم نہیں ہو گا۔انہیں تا حشر اپنی ذات کا زعم ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ ایسی لوح تو کہیں کہیں ملتی ہے کہ جس پر کسی انمٹ سیاہی سے جو نقش کندہ کر دیا جائے وہ پھر مٹا نہیں کرتا۔یہ سُکھ ، یہ آرزوئیں ، یہ سانسیں ، یہ حرف ، یہ لفظ ، یہ شاعری غلام ہی تو ہیں بس اُن رفاقتوں کے۔یہ جستجوئے ذات جو شروع تو اپنی ذات سے ہوتی ہے مگر اس کا ہر رُخ ،ہر موڑاُن رفاقتوں تک محدود ہوتا ہے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دُکھ کبھی کبھی تھکا دیتے ہیں کسی سُکھ کو پانے کی تمنا میں دل مچل اُٹھتا ہے ، روح کی تھکن بڑھ جاتی ہے اور روشنیاں بانٹتی اس دنیا میں چاند کی کرنوں سے چند کرنیں لے کر اپنا جیون روشن کرنے کو دل کرتا ہے۔چاند جو منور ہے ، روشن ہے ، جس کی ٹھنڈی چاندنی جب اَوج پر ہو تو ساحل کی لہروں میں طوفان برپا کر دیتی ہے اور جب بے آب و گیاہ صحرا پر پڑتی ہے تو سراب پیدا کرتی ہے مگر یہ دنیا ہے یہاں تو ہم نے کبھی کبھی کہیں کہیں چاند کو بھی اندھیرے بانٹتے دیکھا ہے۔پہاڑ جیسی ہجر کی شاموں سے لے کر بھیانک اندھیری راتوں میں کہیں اِس کی ایک کرن بھی نہیں ملتی کہ زیست کو بتانے کا کوئی حوصلہ ہی مل سکے۔
ایسے میں سُکھ کی یہ خواہش خودبخود اپنی موت مر جاتی ہے ۔پھر ذات کی وہی تنہائی اور دُکھ کا وہی لامحدود صحرا ۔ اور ازل سے لے کر ابد تک اکیلے پن کا وہی سفر ، وہی ریزہ ریزہ خوابوں کی چُبھتی کرچیاں ، محرومیوں کے بوجھ تلے دبی خواہشیں ، دم توڑتی محبتوں کی بے ترتیب ہچکیاں ، پا بُریدہ حسرتوں کی لاشیں ۔۔بھلا اِس اُجاڑ سفر میں کون کسی کا ساتھ دے، کون مجروح جذبوں پر دلاسوں کے ’’ُ پھاہے‘‘ رکھے ۔ کون ساتھ دے
سوائے اپنے ہی دُکھ اور تنہائی کے۔اور اسی تنہائی کے بنجر بن میں گئی رُتوں سے یادوں کے چراغ جلا کر، جذبوں کی محفلیں سجانا اور اُن محفلوں میں گلاب اُگانا اور اپنے بے ربط اور بے ترتیب بہہ جانے والے آنسوؤں سے ان گلابوں کو سراب کرنااور ان سرابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے رنگوں اور روشنیوں سے سیاہی بنانا اور اسے صفحہء قرطاس پر لفظوں کی صورت بکھیرنا اِسی کا نام شاعری ہے۔
مگر کیا شاعری سب بولتی ہے ۔ کیاشاعری وہ سب کہہ سکتی ہے جو کہا جانا چاہئے ؟ اِن سنگلاخ درد کے پہاڑوں سے گزرتی، اپنی ناتواں جاں پر تندو تیز ہواؤں کے طوفان برداشت کرتی کرب کی اِن مسلسل راتوں کی کہانی ، بے یقنی اور مایوسی کی دُھول سے اٹی ہوئی بے خواب راتوں کی کہانی ، یہ رتجگوں کے عذاب اندھی راتوں میں اِک امید سحر باندھے مسلسل جاگتی ،بینائی کھوتی اُن آنکھوں کی کہانی ، کیا یہ شاعری کہہ سکے گی مگر کہاں ؟
یہ لفظ بے شک بہت توقیر والے سہی، جذبوں کی جاگیر سے گُندھے ہوئے ، دل کی لو سے چراغ جلاتے ۔۔مگر یہ لفظ کبھی حرفوں کی صورت میں بول اُٹھتے ہیں۔اور کبھی کبھی دیوان بن کر بھی صرف ردی کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ انہیں اس سے کیا کہ انہیں لکھنے والے کس
اذیت اور کرب سے گُزرے ہیں۔

درد میرا بیاں اِن سے کب ہو سکا
شعر خاموش تھے ، شاعری چپ رہی

[اور شام ٹھہر گئی ]
ڈاکٹر نجمہ شا ہین کھوسہ

PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔ دوسرا حصہ ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

epaper_img_1423618156

PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔ پہلا حصہ ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

epaper_img_1423010530

PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔

1970828_10202298186548837_1894711580_n

PostHeaderIcon جاوید احسن ۔۔ جمالِ صحرا سے چشمِ غزال تک ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

5؍ اکتوبر بروز اتوار میں اپنی امی کے ہاں میلاد میں شامل ہونے کے بعد مغرب کی نماز پڑھ رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی ، میرے بیٹے نے فون اٹھایا اور جب میں نماز پڑھ چکی تو اس نے اطلاع دی کہ آنٹی بشری قریشی کا فون تھا وہ اطلاع دے رہی تھیں کہ جاوید احسن صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔ یہ بات سن کر میری عجیب سی کیفیت ہوگئی۔ میں ا یکدم مغرب (شام) اور شام کی اداسی میں کھو گئی۔ یہ مغرب (شام) کا وقت بھی بڑا عجیب ہے۔ سارے محسنوں کو، سارے پیاروں کو اپنے سائے میں لپیٹ کر لے جاتا ہے اور پیچھے صرف یادیں چھوڑ جاتا ہے جو کبھی کبھی تحریر بن کر کاغذ پر عکس بناتی ہیں۔
میں نے بشریٰ کو فون کرکے خبر کی تصدیق کی اور آخری دیدار کے لیے اپنے شوہر کے ساتھ جاوید صاحب کے گھر گئی اور جاوید صاحب کا چہرہ دیکھ کر زندگی کی بہار اور موت کی خزاں میں فرق دیکھنے لگی۔ ابھی پندرہ دن پہلے ہی تو جاوید صاحب اپنے بیٹے جہانزیب کے ساتھ میرے ہسپتال میں مجھ سے اس بات کا شکریہ ادا کرنے آئے کہ میں نے ان کی کتاب کی تقریب رونمائی (جو کچھ دن پہلے نیشنل آرٹس کونسل ڈیرہ غازیخان میں ہوئی تھی )میں ان پر اچھا مضمون پڑھا۔ وہ اس دن بہت ہشاش بشاش تھے اور آج ان کا خزاں چہرہ دیکھ کر غم کا بوجھ دل پہ پتھر سا بن گیا۔
تھل اور روہی کی اداسی کو لفظوں کا پیرہن دینے والے اس شاعر نے اپنی رخصتی کا وقت بھی ایسا چنا جب ساری دنیا عید کی خوشیوں کو منانے کی تیاریوں میں مصروف تھی اور جب چاند رات میں کتنے ہی بچھڑے ساتھی اپنے بچھڑوں سے ملنے کی آس لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔
جاوید صاحب سے میری پہلی ملاقات میری پہلی کتاب ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘ کی اشاعت کے بعد ڈاکٹر غنی عاصم صاحب کی طرف سے منعقدہ ایک ادبی تقریب میں ہوئی۔ جاوید احسن جب میری کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دینے کے لیے میرے ہسپتال آئے اور میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو سدھارنے میں میری مدد کیا کریں۔ انہوں نے حامی بھر لی، مگر پھر میں اپنی چند غزلوں کی اصلاح کے بعد یہ سلسلہ اپنی پروفیشنل (طبی) مصروفیات کی وجہ سے برقرار نہ رکھ سکی۔ اسکے با وجود جاوید صاحب ہمیشہ میرے نئے کلام کی اشاعت کے بعد مجھے مبارکباد دینے آتے اور میں ان کے بڑے پن کی معترف رہتی۔
میں ادب کی دنیا میں بالکل نووارد اور اس کے نشیب و فراز سے اور بھول بھلیوں سے بالکل نا آشنا۔ اور ان بھول بھلیوں میں راستہ تلاش کرنے کے لیے میں نے جب بھی جاوید صاحب کو آواز دی تو انہوں نے نہایت خلوص اور مشفقانہ طریقے سے میری مدد کی۔ وہ میرے لیے صرف ایک استاد ہی نہیں بلکہ ایک بزرگ اور والد کی سی حیثیت رکھتے تھے۔ میں نے کسی بھی ادبی تقریب میں شرکت کرنا ہوتی تو میں ان سے مشورہ ضرور کرتی اور وہ مجھے مخلصانہ طریقے سے گائیڈ کرتے کہ مجھے کہاں جانا چاہیے اور کہاں نہیں اور مجھے کوئی بھی بڑی کا میابی ملتی تو بہت خوش ہوتے۔ بشری اور میں ان کی ادبی اولاد کی طرح تھے۔ بشری کو بار بار چھیڑتے کہ نجمہ اتنی مصروف ہونے کے باوجود بھی باقاعدہ لکھ رہی ہے تم کیوں نہیں لکھتی۔ اب ہم دونوں کس سے پوچھیں گی کہ ہمیں کہاں جانا چاہیے، کہاں نہیں۔ جب گلستان ادب کا مالی ہی نہیں رہا تو پھول کیا کریں؟
جاوید احسن یکم دسمبر 1948ء کو احمد خان سدوزئی کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ نے ایم اے اردو اور ایم اے سرائیکی کیا۔ 1960ء سے شاعری کررہے تھے۔ نیشنل سنٹر ڈیرہ غازی خان میں بطور پروگرام منیجر تعینات رہے ۔ ’’جمال صحرا‘‘ اردو شاعر ی پر مشتمل کتاب 1991ء کو شائع ہوئی۔ حکومتِ پنجاب نے ان کی کتاب ’’سرائیکی ثقافت‘‘ پر انہیں بہترین کتاب کے ’’لاہور ٹرسٹ ایوارڈ‘‘ سے نوازا ، اور اسی کتاب پرمسعود کھدر پوش ایوارڈ اور دوسرے ایوارڈز میں ’’سرائیکی سانجھ لیہ‘‘ایوارڈقابل قدرہیں۔
دوسری کتابیں ’’فی احسن تقویم‘‘ اور ’’لوح شفاعت‘‘ ہیں۔ وسیبی حالات ہوں یا ملکی یا بین الاقوامی حالات جاوید احسن نے ہر موضوع پر بڑے مفصل انداز میں لکھا ہے۔ جاوید احسن نے اپنی شاعری میں بڑی مہارت سے رومانی، معاشرتی، اخلاقی اور دیگر موضوعات پر شعری تصویروں میں بڑے دلفریب انداز میں رنگ بھرے ہیں۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اورمعروف شاعروں کی صف میں شامل ہوگئے۔
۔ چشم غزال صحرائی جمالیات کا بھی مرکزی حوالہ ہے بلکہ یہ کہنے میں مضائقہ نہیں کہ چشم غزال کے بغیر جمالِ صحرا کی تکمیل ممکن نہیں۔ صحرا اپنے اندر جو وسعت رکھتا ہے وہی وسعت ہمیں جاوید احسن صاحب کی شاعری میں بھی ملتی ہے۔ تہہ در تہہ معانی، غزل کا خاص آہنگ اور جذبوں کا بھرپور اظہار ان کی شاعری کی بنیادی خوبی ہے۔ صحرا کی ویرانی، سورج کی تابانی اور اشکوں کی طغیانی اور اس کے ساتھ ساتھ پریم کہانی ان کی شاعری سے جھلکتی ہے۔
ہم نے دیکھے خواب سہانے، خالی خواب جوانی میں!
سب قصے ہیں فرضی بابا، اپنی پریم کہانی میں
وہ بھی نیل گگن سے اترے جھیل کے گہرے پانی میں
ہم بھی گھنٹوں گھنٹوں ڈوبے اشکوں کی طغیانی میں
حالات و واقعات کا وہی تناظر جس کو شاعر نے کھلی آنکھوں سے دیکھا اور معاشرے کی بدلتی ہوئی اقدار، سماجی حالات، سیاسی انتشار اور بے یقینی کی جس کیفیت سے شاعر گذرے ۔ ان تمام کیفیات اور محسوسات کو لفظوں کا ملبوس عطا کرکے آپ نے قاری کو بھی شریک سفر کرلیا اور آپ کے کلام میں کہیں بھی مایوسی کا دخل نہیں۔
قوس قزح کے رنگ ہیں حسنِ خیال میں
صحرا سمٹ کے آگیا، چشم غزال میں
ان کی شخصیت میں عجیب سی طمانیت بھری ہوئی تھی حالانکہ انہوں نے نامساعد حالات میں زندگی گزاری مگر جب بھی ان سے بات ہوئی تو ہمیشہ زندگی کے مثبت پہلو پر بات کرتے اور اطمینان ظاہر کرتے۔
جاوید ہر وجود کا اپنا ہے مرتبہ
ہر چیز بے مثال ہے اپنے جمال میں
وہ اپنی غزلوں میں جہاں روہی اور دامان کی شان بیان کرتے ہیں وہیں ان کے کلام میں ہمیں تھل کی آن بان بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری کا بنیادی آہنگ دراسل دھرتی کے ساتھ ان کی محبت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی زمین اور وسیب سے اپنا تعلق برقرار رکھا اور اسی مناسبت سے صحرا، تھل، ریت، پیاس، دامان، سلیمان اور اسی طرح کے کئی لفظ ان کی شاعری میں خاص معنویت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں پاکستانی تہذیب اور اپنے وسیب کی خوشبو رچی بسی ہوئی ہے۔ دھرتی سے پیار ان کی ذات کا حصہ بن چکا ہے اور ذات کا یہی اظہار ان کا پیرائیہ اظہار بھی ہے۔
جاوید احسن کا یہ کمال ہے کہ وہ اپنے دکھوں کو دھرتی کے دکھوں کے ساتھ ہم آہنگ کرلیتے ۔ یوں ان کا دکھ صرف ان کی ذات تک ہی محدود نہیں رہتا۔ بلکہ ان کا کلام پورے معاشرے کی آواز بن جاتا ہے۔ جبر کا نظام ہو معاشی یا معاشرتی ناہمواریاں، اخلاقی دیوالیہ پن ہو یا سیاسی زبوں حالی، ان کی شاعری میں تمام موضوعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی نظر میں شاعری صرف لفظوں کا کھیل نہیں بلکہ فکر و نظر کی وہ گہرائی اور گیرائی ہے جو شعور کو بالیدگی عطا کرتی ہے۔
جاوید احسن نے وطن، ملت، معاشرے کے علاوہ بین الاسلامی، عالمی و آفاقی موضوعات پر بڑی تفصیل سے اظہارِ خیال کیا ہے۔ ان کا مطالعہ نہ صرف ذوقی مسرت فراہم کرتا ہے بلکہ تفکر حیات اور عصری حیات سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔

آپ متاع درد کے ساتھ ساتھ مزاجِ قلندرانہ بھی رکھتے جس کے بغیر کوئی شاعر عظمت حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی اہل قلم مسندِ دانشوری پر جلوہ افروز ہوسکتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ادبی لحاظ سے ڈیرہ غازیخان یتیم ہوگیا ہے۔ جاوید احسن ڈیرہ غازیخان کے نو آموز شعراء کے لیے ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتے تھے۔ انتہائی پر خلوص اور شفیق انسان تھے جن سے بحیثیت شاعر ہی نہیں بحیثیت انسان بھی اگر کوئی مشورہ لیا جاتا تو انتہائیخلوص کے ساتھ اپنے مشورہ سے فیض مند کرتے۔ ان کا شمار ایسے قلمکاروں میں ہوتا جو کسی ستائش کی پرواہ کیے بغیر علم و ادب کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ بلاشبہ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اس دھرتی کوفخر ہے اور ایسے ہی لوگ دھرتی کے حقیقی وارث ہوتے ہیں۔

javed ehsan

PostHeaderIcon آنچل کے زیرِ اہتمام مشاعرہ

روزنامہ نوائے وقت ملتان .. 18 ستمبر 2013

روزنامہ نوائے وقت ملتان .. 18 ستمبر 2013

My Facebook
Counter
Total Visits: Total Visits