مضامین

PostHeaderIcon خوش فہم لوگوں کے پیار کا نغمہ ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

یہ خوش  فہم لوگ بھی خوب ہوتے ہیں ۔سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر یہ دنیا ادھوری ہے۔سمجھتے ہیں کہ یہ اگرنہ ہوں گے توجیسے کاروبار دنیا ہی رک جائے گا۔ ہم جیسے لوگ،بالکل ہم جیسے ،کہ جنہیں کوئی اگریہ کہہ دے کہ سنو میں تمہارے آس پاس ہوں ،خوشبو کی طرح تمہارے چارسُو موجودہوں توہم یہ سوچتے ساری عمر گزاردیں کہ ہمارے چارسُومحبت ،عقیدت کاپہرہ ہے۔کوئی نہیں جو توڑسکے اس حصار کو،اورکوئی نہیں جوجھٹک سکے اس خیال کو ۔بس خوش فہمی ہی خوش فہمی بلکہ خوش فہمی کی انتہااورایسی انتہا کہ جب دکھ بھی بھرپوروار کرے اوراپنی انتہاؤ ں پرہوتوایسے میں یہی خوش فہمی یاخیال ایک مضبوط سہارے کی طرح تھامے رکھے ۔خواہ گردش دوراں کی دھوپ میں پھرجسم وجاں ہی کیوں نہ پگھل جائیں یارگ جاں سے خون تک نچوڑاجارہاہوتوایسے میں بس اک خیال اورایک آسراہی توہوتاہے ناخوش فہم لوگوں کو محبت کا۔اوریہ آسرا سب دکھوں پرحاوی ہوتاہے ۔بھلاکوئی بتاسکتاہے کہ اس خوش فہمی میں صرف خوش فہم لوگ ہی قصوروار ہوتے ہیں یاپھر خوش فہمی کااحساس دلانے والوں کابھی کوئی قصور ہوتاہے ؟حقیقت یہ ہے کہ یہ خوش فہمی پیداکرنے والے تو بے قصور ہوتےہیں ۔ یہ تو معمول کی زندگی جی رہے ہوتے ہیں ۔ان کی خوشیوں ،مشاغل اورروزمرہ کے معمولات میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔انہیں تواس سے کوئی غرض ہی نہیں ہوتی کہ جن کی زندگی انہوں نے اپنی باتوں سے اجیرن کی ،اپنے چند لفظوں سے جن کی نیندیں ،بھوک ،اورلمحہ لمحہ کی خوشی تک چھین لی وہ کس حال میں ہیں ؟ ہاں یہ لوگ خودمزے کی نیند سوئے ،اپنے لمحے لمحے سے خوشیاں کشیدکرکے اپنی زندگی جیئے مگرخوش فہم لوگوں کو توایک پل بھی اپنی زندگی کانہ مل سکا۔اوراچھاہواکہ نہیں ملا۔مل جاتا توخوش فہمی ہی ختم ہوجاتی ۔اداسی اورویرانی ختم ہوجاتی ۔اداسی اورویرانی بھی تو کسی کے مقدرمیں ہونی چاہیے نا ۔۔ اگرہم جیسے خوش فہم اداسی اورویرانی کو گلے نہیں لگائیں گے تو پھر اس کاکون پرسان حال ہوگا؟غالب نے کہاتھا
اُ گ رہاہے درودیوار پہ سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اورگھرمیں بہارآئی ہے
آئی ہوگی مرزاغالب کے گھرمیں بہار اورگئے ہوں گے وہ کسی بیاباں میں ، مگر ہم تو بیاباں میں بھی نہیں جاسکتے اوردرودیوار پرسبزہ بھی موجودنہیں۔ویرانی ایسی کہ اس میں فقط حیرانی ہے موجوں کی نہیں بس اشکوں کی روانی ہے ۔اورجب زندگی ہی نہیں توپھراس میں کسی کی کہانی بھلا کہاں سںے آسکتی ہے ۔ سوخوش فہمی کو سلامت رہنے دیں کہ آنکھوں کے سمندرمیں آشاﺅں کا پانی بھی تو اب ختم ہونے والا ہے ایسے میں بھلاکون لکھے
اک پیارکانغمہ ہے،موجوں کی روانی ہے
زندگی اورکچھ بھی نہیں تیری میری کہانی ہے

PostHeaderIcon

کون کہتا ہے محبت عظیم ہے؟ محبت زندگی ہے ،بندگی ہے ،روشنی ہے ،شگفتگی ہے ،ہوا ہے،دیا ہے،اجالا ہے،سورج ہے،چاندہے۔محبت تو صرف آنکھ کا دھوکا ہے، یہ لفظوں کاکھیل ہے، ہجرکادوسرانام ہے، سراب ہے، عذاب ہے،گلاب ہے، سوال اور جواب ہے،بے تعبیر خوا ب ہے ۔محبت دردہے،زرد ہے،دکھ ہے،روگ ہے،سوگ ہے،اندھیرا ہے ،ٹوٹا ہو ا کنارہ ہے، ہجر میں ڈوبی رات کاستارہ ہے۔ کون کہتا ہے محبت عظیم ہے؟ محبت زندگی ہے ،بندگی ہے ،روشنی ہے ،شگفتگی ہے ،ہوا ہے،دیا ہے،اجالا ہے،سورج ہے،چاندہے۔محبت تو صرف آنکھ کا دھوکا ہے، یہ لفظوں کاکھیل ہے، ہجرکادوسرانام ہے، سراب ہے، عذاب ہے،گلاب ہے، سوال اور جواب ہے،بے تعبیر خوا ب ہے ۔محبت دردہے،زرد ہے،دکھ ہے،روگ ہے،سوگ ہے،اندھیرا ہے ،ٹوٹا ہو ا کنارہ ہے، ہجر میں ڈوبی رات کاستارہ ہے۔ اوریہ ہجر؟یہ تو ازل سے ہے ابد تک رہے گا۔ابھی رب کائنات نے ”کن“کا فیصلہ ہی کیا اور ہجر شروع ہوگیا۔حضرت آدم علیہ السلام کومالک کائنات نے آسمان سے بے دخل کرکے اپنے ہی ہجر سے آشنا کردیا اورزمین کی وسعتوں میں بھٹکتی دو روحوں کو صدیوں کے ہجر سے آشنا کرکے درد کو نئے معانی دیئے۔غم کو نیا سوز دیا۔اور محبت کو ہمیشہ کے لیے مژگاں پر سجادیا اور صدیوں بعد وصل کو معانی ملے بھی تو ہجر درپردہ کھڑا اپنی بقاءپر مسکرارہاتھا اور وصل کو اس کی اوقات یاددلارہا تھا کہ تُو پل دوپل کامسافر اور میں ازل سے ابد تک امر۔ محبت نے جب عبد کے جذبوں کو ا ٓواز دی تو عشق کے چولے میں ہجر کے زرد پھول ہی پائے۔آہ زرد ہجر کے پھول جنہیں کسی آبیاری کی ضرورت نہیں۔کوئی تو پوچھے ان ہجر کے ماروں سے جنہوں نے پہاڑ جیسی زندگی مطلوب کی چاہ میں خاک ہوتے ہوئے کاٹ دی۔جو راکھ ہوئے،ریزہ ریزہ ہوئے،ہوا نے دھول کی طرح انہیں کہاں سے کہاں تک اڑایا مگر محبت کے ان ماروں کی نہ چاہت میں کمی آئی نہ ہی جستجو اورآرزو میں۔اورجب منزل سامنے آئی تو مطلوب نے بڑی ادا سے پوچھا ”آپ کون“؟ پھربھلا محبت کیسے نہ روئے؟کیسے اپنا سفرِ عشق جاری رکھے؟ کون جان سکا طالب کی وہ بے بسی؟ وہ آنکھ کاآنسو جب اس نے خون دل سے روتے ہوئے اپنے رب کوپکارا ہوگا۔زار وقطار گریہ کناں ہوا ہوگا۔اس کی بارگاہ میں اپنی رائےگانی کاسوال کیا ہوگا۔قطاردرقطار بہتے آنسو خاک میں رائیگاں ہوئے ہوں گے۔کون جان سکا اس رائیگاں ہوتی ہوئی ذات کادکھ؟ کون جان سکا ہوگا بے بس آنکھ کاآسمان کی طرف طواف کرنا؟ کون جان سکا لاحاصل عشق کی رائیگانی کاسفر؟ کون جان سکا ہجر میں ڈوبی ہوئی ذات کادکھ؟ کون جان سکا صبح سویرے اترنے والی رات کا دکھ؟ کون جان سکا جیت کے لمحوں میں ہونے والی مات کا دکھ؟ کون کہتا ہے وقت مرہم ہے۔کیا وقت نے کبھی کسی کا نعم البدل پیدا کیا؟کیا وقت نے مڑ کے واپسی کا سفر اختیارکیا ؟ کیا وقت کسی کوکبھی ایک لمحے میں سے نکال کے واپسی کے سفر میں اسی لمحے میں واپس لایا جہاں پہ ٹھہرنے والا یہ بھی بھول گیاتھا کہ وہ کون ہے؟ وہ بھول چکا تھا وہ کیوں ٹھہرا ہے؟ اور کس کامنتظر ہے ؟ اورکیا وقت نے کبھی جانے والے کوروک کے بتایا ہے کہ وہ کیا جرم کرکے جارہاہے؟اورکیسا ہجر کسی کے نصیب میں لکھ کے جارہا ہے؟ جانے والا تو اپنی دنیامیں مگن، نئی اڑانوں کی خوشی میں مست ہوتا ہے اور پل میں کیے ہوئے اپنے سارے وعدے اور دعوے مذاق سمجھ کر فراموش کردیتا ہے اور راہ تکنے والا بس آخری سانسوں کے انتظار کے ساتھ ساتھ ایک آہ،ایک یقین میں جی رہا ہوتا ہے۔اورجب یقین گمان میں بدل جائے تو کیا پھربھی محبت کہیں ہوتی ہے؟ نہیں۔۔صرف آنکھ سے بہتا آنسو،ایک ایسا ہجر جس کاوصال کہیں نہیں۔کسی لمحے میں نہیں۔اور ہجر کے معنی وصال رتوں میں مست بھلا کیونکر جان سکیں۔کیونکہ محبتوں کوعمروں کے حساب کتاب میں شمار کریں۔یاشعور ،لاشعور کے فرق میں ڈھالیں۔یا دکھ سے فرارکا بہانہ کریں۔یا خوشی کوا لحمد اللہ کہہ کرقبول کریں۔ان کی مرضی جس کو معتوب ٹھہرائیں جس کومطلوب مانیں۔کبھی اس محبت کودیکھو جب گود کے بوجھ سے لے کر اپنی ساری جوانی ڈھلنے ،ساری زندگی ختم ہونے تک ماں بچے کوپالتی ہے۔نہ اپنی خبر ،نہ زمانے کی ،ایک پودے کواپنی تمام ترصلاحیتوں، اپنی خوشیوں کے ہرلمحے کوقربان کرکے دکھوں کی آبیاری سے پروان چڑھاتی ہے اورپھر ہجر کوبھی اپنی اولاد کی طرح پروان چڑھتے دیکھتی ہے۔وقت کی آبیاری سے اپنی آنکھوں میں ہجر کے زرد پھول کھلتے دیکھتی ہے تو پھرآنکھ روپڑتی ہے۔دل بلکتا ہے ،محبت آنسو ہے اور آنسو ہی رہتی ہے اورپھر بھلا محبت کوآنسو ہونے سے کون روک سکا ہے؟  کاگا سب تن کھائیو چن چن کھائیو ماس
دونیناں مت کھائیو انہیں پیا ملن کی آس
ازل سے ابد تک اکیلے پن کا سفر کرنے والا عشق ،ریزہ ریزہ خوابوں کی چبھتی کرچیوں اورمحرومیوں کے بوجھ تلے دبی خواہشوں اورحسرتوں کی لاش کے سواءکچھ بھی تونہیں۔ کرب میں گزرتی بے یقینی،مایوسی کی دھول سے اٹی ہوئی بے خواب راتوں کی کہانی،مسلسل جاگتی،بینائی کھوتی ہوئی آنکھوں کی کہانی کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔کون اسے روشنی کانام دے یہ تو شب سیاہ کے سوا کچھ بھی نہیں، ایک سردآہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔خوابوں میں ٹھہرے ہوئے مہر وماہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔یہ کب بھلا جینے کا ہنر دے۔یہ تو خود ہی موت ہے۔زندگی کی ،سانسوں کی،بندگی کی،ریاضت کی ،روح کی اورجسم وجان کی موت۔وقت کے دائروں میں رقصاں وصال کے منتظر جسم وجاں ہمیشہ راکھ ہوجاتے ہیں،خاک ہوجاتے ہیںاس کے زہر سے اورپاتال میں اتری روح اس کے اندھیروں میں اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے کھو دیتی ہے۔یہ تووہ ظالم ہے جوحطیم میں سجدہ ریز روحوں کو اٹھا کر بازار میں سجا لائے اور پھربھی خود کو درویش کہلائے۔ پھربھلا ایسے میں اے محبت تجھے کون نہ روئے؟ تجھے آنسوﺅں کا نام کون نہ دے؟
ان اشکوں کا تو ذکر ہی کیا
تجھے عشق لہو سے بھی لکھا
کبھی پڑھ تو سہی ان نوحوں کو
تجھے علم تو ہوتحریر ہے کیا؟
( بشکریہ : روزنامہ خبریں )

PostHeaderIcon اور وہ چلی گئی۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

aor-woh-5th-december
ابھی اپنی بے چینی کو قراردینے کے لئے کاغذ ،قلم لے کے بیٹھی ہی تھی کہ ایک بُر ی خبر نے آنکھیں مزید نم کر دیں۔آج کادن ویسے بھی میرے لیے انتہائی نامعتبر ہے کیونکہ معتبر زمانے کیلئے کسی بیٹی کی پیدائش شاید اتنی معتبر نہیں ہوتی۔چاہے وہ بیٹی دنیا میں لائق ترین ہویا شہزادی ہی کیو ں نہ ہو۔5دسمبر کو مجھے نہیں یا د کہ میں نے کبھی خوشی محسوس کی ہو۔ایک خاموش سی اداسی نے ہمیشہ اس دن کوسوگوارکیااور اس کی شام کو کربناک بنایا۔میں لوگوں کو ان کی سالگرہ کی خوشیاں مناتے دیکھتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں لیکن ضروری تونہیں کہ میری آنکھ کی حیرانی بجا ہو۔آخر یہ دن یادگارہوتاہے تو لوگ خوشیاں مناتے ہیں۔یہ دنیا میں ان کی آمد کادن ہوتا ہے۔ تو پھر بھلا وہ کیوں نہ خوش ہوں۔اگر میں نہ ہوتی تو شایدیہ صدیوں سے بھٹکتی اداسی کسی اور روح میں سما جاتی۔ڈاکٹر آمنہ وقار میرے شہر کی ایک نامور،معتبر ہستی ،ایک ایسی ڈاکٹر کہ جب وہ پریکٹس کررہی تھیں تو نہ جانے میرے جیسی کتنی ڈاکٹرز ان پر رشک کرتی تھیں۔ہروقت ہنسنے مسکرانے والی،ابھی کچھ ہی دن ہوئے کہ میری ایک سٹاف ممبر نے مجھے اطلاع دی کہ ڈاکٹر آمنہ وقارآئی ہیں ۔میں دس منٹ پہلے ہی ظہر کی نمازپڑھنے کیلئے ہسپتال سے ملحقہ اپنے گھر میں آئی تھی۔میں ان کی آمد کی اطلاع پر کچھ حیران ہوئی کیونکہ میرا خیال تھا کہ ڈاکٹر آمنہ کچھ نک چڑھی اور مغرورخاتون ہیں جواپنی ساتھیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتیں۔بہرحال میں نے سٹاف سے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں تو اس نے بتایا کہ انہیں آفس میں بٹھا دیا ہے۔میں نے کہا انہیں جلدی سے گھر لے آؤ ۔ڈاکٹر صاحبہ جیسے ہی گھر آئیں تو اتنے والہانہ انداز میں ملیں جیسے مجھ سے برسوں کی شناسائی ہو۔ ان کا وہ ہنستا مسکراتا چہرہ اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ جس نے اپنے دل میں نہ جانے کتنادرد چھپا رکھاتھا۔آج وہ کینسر جیسے موذی مرض سے شکست کھاگئیں۔موت تو برحق ہے لیکن کبھی کبھار وہ ذہن و دل کواس طرح جھنجوڑ دیتی ہے کہ انسان خود کو بہت بے بس اور لاچارمحسوس کرتا ہے۔یوں تو کتنے ہی دل ہیں کہ جن کے اندر موت کارقص جاری ہے۔زندہ ہونے کے باوجود وہ زندہ نہیں۔اپنے سانس لینے پرمیری طرح حیران ہیں۔پریشان ہیں مگر اے موت تجھ سے شکوہ یہ ہے کہ تُو ان ہستیوں کو لے جاتی ہے جن کی ہمیں ضرورت ہے جن کی اس جیون کو ضرورت ہے ۔ اے موت تُو اپنا سفر بے شک جاری رکھ لیکن ذرا دھیرے دھیرے ۔

PostHeaderIcon دسمبر ترا نام تو ہجر ہوتا ۔

nn
نہ جانے ادیبوں‌ شاعروں نے دسمبر پر کیسے رومانوی نظمیں کہہ ڈالیں‌؟ کیسے اسے اپنی غزلوں کا موضوع بنا لیا؟ ۔۔ ہمیں تو جب بھی یہ ستم گر ملا اس کے دامن میں ہجر ہی ہجر ملا ۔۔ اس کی آہٹوں میں ، اس کی یخ بستہ راتوں اور کہر آلود صبحوں میں بس بین کرتے ہجر کی آہٹیں ہی سنائی دیں‌۔ سسکیاں‌ہی سنائی دیں تاریکیاں ہی دکھائی دیں‌ ۔ ماتم کرتے لمحے عطا کئے اس نے ہمیں ، درد بھرے نوحے دان کئے ۔ دسمبر نے آنگنوں‌میں‌کھلے گلاب ٹہنیوں‌ سے نوچ ڈالے اور ہماری آنکھوں‌ کو لہو رنگ کر دیا ۔ دکھوں‌ اور ہجر کو ہمارے سنگ کر دیا ۔ کہر لمحوں‌ میں‌ بھی اس نے ہمیں‌دھوپ بخشی ، دلوں‌ اک ہوک بخشی ۔ تاریکیاں ہم پر مہربان ہوئیں ۔ ویرانیاں اسی دسمبر کے مہینے میں‌ ہماری شان ہوئیں ۔ ابھی تو ہماری آنکھوں میں وہی ہجر سلامت ہے جو دسمبر کی شاموں نے ہمیں خوابوں کی جگہ بخشا تھا ۔ ابھی تو ہم 16 دسمبر کی وہ خوں‌رنگ صبح نہیں‌بھولے تھے جو اپنے دامن میں تاریکیاں لے کر آئی تھی اور جس نے اسی روز ہونے والے سقوط ڈھاکہ کے المیئے کو بھی مات کر دیا ۔ہم سے ہمارے جگمگاتے ستارے چھین لئے ہمارے روشن مستقبل کو سیاہ اور بد نما دھبہ لگا دیا ۔ ابھی تو وہی زخم تازہ تھے بلکہ اب تو وہ ناسور بن چکے ہیں‌۔ ابھی انہی زخموں سے لہو رِس رہا تھا ، ابھی تو ہاتھ وہی نوحے لکھ رہے تھے ۔ ابھی تو آنکھیں‌اسی المیئے پر گریہ کناں تھیں‌اور دکھیاری مائوں کے کانوں‌میں‌اپنے شہزادوں‌کی چیخیں‌ تھیں‌اور کان دروازے پر آہٹ کے منتظر تھے ۔ ابھی تو وہ بے بسی کے ساتھ اور ا پنی ویران آنکھوں‌ سے آسمان کو تکتی تھیں‌۔ اے دسمبر ابھی تو وہی ایک زخم مندمل نہیں‌ہوا تھا کہ تیرے ٹھٹھرتی شام نے اپنی یخ بستگی سے نجات حاصل کرنے کے لئے پھر سے شعلے اگل دئے۔ آہ یہ کیسی بے بسی ہے ، یہ کیسا المیہ ہے کہ جانے والا مدینے والے کا پیغام عام کرتا کرتا مدینے والے کے پاس چلا گیا ۔ دنیا کی ٹیڑھی اور رنگین راہوں کو چھوڑ کر چکا چوند اور چندھیا دینےوالی روشنیوں سے دور ، بہت دور ۔ حق سچ کا اور نور کی حقیقی روشنی کا ہالہ اپنے گرد لپیٹے وہ چلے گئے ۔ جنید جمشید ہم سے بچھڑ گئے ۔ انہوں نے چترال کی سرزمیں‌کو جنت کا ٹکڑا کہا اس جنت کے ٹکڑے پر اپنی آخری تصویر بنوائی ۔ وہاں آخری نماز ادا کی اور پھر جنت کے سفر پر روانہ ہو گئے ۔ ایک جنید جمشید ہی نہیں‌گئے ، ایک سچا راہبر ایک سچا انسان ، انسانیت کا خدمت گزار ہی نہیں گیا اور بھی بہت سے لوگ اگلے جہان کو سدھار گئے ۔ کتنے ہی گھر اجڑ گئے ، مائوں کے لختِ جگر گئے سہاگنوں کے دلبر گئے اور دسمبر ہمیں پھر سے ہجر دے گیا ۔ میں کیسے پرسہ دوں ان ہجر کے ماروں کہ مجھے معلوم ہے ہجر وہ زخم ہے جس کا کوئی مرہم نہیں ۔ یہ وہ درد ہے جس کی دوا نہیں اور یہ وہ دکھ ہے جس کا کوئی دلاسہ نہیں‌۔ سو اے دسمبر تو ہمیں ایک اور دکھ دے گیا
اسے کہنا کہ حیرانی مجھے حیرت سے تکتی ہے
مرے جیون پہ خود بھی زندگی روتی ہے ہنستی ہے
نظر جب بھی ہتھیلی کی لکیروں سے الجھتی ہے
ان آنکھوں سے جھڑی ساون کی
پھر کچھ ایسی لگتی ہے
مرا دل رک سا جاتا ہے
مہینہ ہجر کا جب بھی
مرے آنگن میں آتا ہے
اداسی کے ہر اک منظر کو وہ موجود پاتا ہے
نگاہوں کو جھکا کر بس دسمبر لوٹ جاتا ہے

PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔

1970828_10202298186548837_1894711580_n1970828_10202298186548837_1894711580_n

PostHeaderIcon کیا آج معیاری ادب تخلیق ہورہا ہے؟

[کیا آج معیاری ادب تخلیق ہورہا ہے؟ [ادب پیچھے ادیب آگے11260783_932949113452032_3089940291249910928_n

ایک مشکل سا سوال، مگر ایک آسان اور سیدھا سادہ جواب کہ ’’نہیں‘‘ یہ سچ ہے کہ آجغزل، نظم اور افسانہ لکھنے والے بہت لوگ ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے تخلیق کار کتنے ہیں۔ ایک تخلیق کار بننے کے لیے درد، کرب، ظلم و ستم اور جبر کے خلاف مزاحمت کا جو ایک سفر طے کرنا پڑتا ہے وہ آج کے اس آسائشوں کے دور میں کہاں؟
قلم کی طاقت کو جبر کی طاقت سے جیتنے کے لیے بہت سی آسائشوں اور سہولتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے جو کہ ظاہر ہے آج ممکن نہیں۔ آج ایک لکھنے والا بڑے زور و شور سے ایک دن لکھتا ہے اور دوسرے دن اس کے قلم کو خاموش کرنے کے لیے اس کی حق گوئی اور بے باک سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کے لیے صدر یا وزیراعظم کا ایک بلاوہ ہی کافی ہوتا ہے۔
آج ادب یکسانیت کا شکار ہے۔ ادیب اور شاعر اپنی شناخت کھو چکے ہیں۔ پہلے کتابیں اتنی زیادہ تعداد میں شائع نہیں ہوتی تھیں، اخبارات بھی چند ایک ہی ہوتے تھے۔ چند برسوں پہلے تک جو ادبی رسائل و جرائد چھپ رہے تھے ان کا ایک نام اور معیار تھا۔ ادبی محفلیں آباد تھیں، قہوہ خانوں، ادبی بیٹھکوں اور تنقیدی محافل میں شعراء و ادباء شامل ہوتے اور ادب پر تنقیدی اور تخلیقی گفتگو ہوتی اور اس باہمی مشاورت میں بہترین ادب تخلیق ہوتا۔
آج اخبارات کے رنگین صفحات پر شاعروں، ادیبوں کے فوٹو سیشن اور انٹرویوز باقاعدگی کے ساتھ ہورہے ہیں، ادب پیچھے رہ گیا اور ادیب نمایاں ہوگیا۔
کچھ شاعر اور ادیب خاص طور پر بیرون ملک مقیم ادیب و شعراء اپنی دولت کے بل بوتے پر اپنے لیے خصوصی اشاعتوں کا انتظام کراتے ہیں، پھر ایسی اشاعتوں اور تقریبات کی خصوصی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کے ساتھ مخصوص لفافے لف کیے جاتے ہیں جو ان کی اشاعت کو ممکن بناتے ہیں۔ ان کا ادبی حوالہ صرف چند غزلیں اور نظمیں ہوتی ہیں۔ بلکہ آج کل تو شعر و ادب کے مکمل مسودے خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ ایسے میں ادب کیسے تخلیق ہو۔ کیسے اقبال، میر، غالب، مومن، جوش اور فیض پیدا ہوں۔ تخلیق شعور و آگہی کا سفر ہے اور شعور وہ احساس ہے جو زمانے کی تپتی دھوپ، کرب سے ایک تخلیق کار کے اندر جنم لیتا ہے اور تخلیق کار اپنے شعور کی روشنائی سے اس احساس کو سپردِ قلم کرتا ہے اور یوں تخلیق جنم لیتی ہے۔
پہلے کسی شاعر کا تعارف صرف اور صرف اچھی شاعری اور وہ تخلیق ہوتی تھی جس میں لفظ بولتے تھے ۔۔لفظوں میں چھپا ہوا درد اور کرب اور شعور و آگہی خود روشنی بن کر ادیب کو نمایاں کرتا ،،،ادب صرف بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانوں اور بڑے نام والے ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ تصاویر بنوا کر فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ حقیقی شاعروں کے حقیقی اور خوبصورت لفظ خود روشنی بن کر اس کی شاعری اور شخصیت کا تعارف بنتے ،،،آج ادب صرف چند گروپوں اور چند ٹولوں تک محدود ہے جس میں ؛اندھا بانٹے ریوڑیاں اور اپنوں ہی اپنوں کو دے ؛کے مصداق صرف ایک دوسرے کو نوازا اور سراھا جاتا ھے ،،،
پہلے مشاعرے باقاعدگی سے منعقد ہوتے تھے اور لوگ بہت ذوق و شوق سے مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ پنڈال کھچا کھچ بھر جاتے تھے اور دور دور سے لوگ مشاعرے میں شریک ہوتے تھے اور رات رات بھر مشاعرے سنتے تھے۔ آج اچھے مشاعرے کی محفل منعقد کرنے کے لیے سرکاری سرپرستی لازمی ہے اور آج وہ سننے والے سامعین بھی نہیں رہے۔
غیر روایتی شعراء اور غیر روایتی سامعین نے مشاعروں کا ماحول تبدیل کردیا ہے۔ آج وہ شاعر بھی نہیں اور وہ سامعین بھی نہیں۔ کیونکہ آج کی تخلیق میں وہ حق و سچائی بھی نہیں، پھر جھوٹ کو آخر کب تک زندہ رکھا جائے۔ وہ ادب بھی نہیں رہا، وہ تخلیق بھی نہیں رہی

۔ڈاکٹر نجمہ شاہین ؔ کھوسہ

 

 

PostHeaderIcon کیا شاعری سب بیان کرتی ہے؟

ddd
یہ دکھ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ تنہائیوں، محرومیوں،محبتوں اور جدائیوں کے دکھ ، کہیں انت ہی نہیں ٹھہرتاان کا۔
کبھی گھٹن بن کر دل کو مٹھی میں کر لیتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انت ہو گیا اور کبھی دور پرے کھڑے مسکراتے اُسی گھٹن کو کم کرتے ہیں ، روشنی بنتے ہیں اور اپنی ذات کی تلاش پھر سے شروع ہو جاتی ہے ۔اِک چاک مل جاتا ہے جس پر ہم گھومتے ہیں اور اِک محور مل جاتا ہے جو ہمیں اپنے گرد دائرہ در دائرہ گھماتا ہے۔ ہم اپنی جستجو میں ہوتے ہیں مگر بھلا دائرے میں بھی کوئی جستجو مکمل ہو ئی ؟ دائرہ بن کے گھومنا تو بس گھومنا ہے جب رُک گئے تو دائرے میں گھومنے والا ہر ذرہ صرف اپنی جگہ سمٹ کر رُک جائے گا وہ اُس خلا کو پُر نہیں کر سکے گا جو اُسے ذات کے اندر قطار در قطار کھڑے دُکھوں ، گرد بنتی ہواؤں اور پس منظر میں سمٹتی ، جدائیاں بانٹتی رفاقتوں نے عطا کیا۔
ایسی رفاقتیں جو اداسی ، ہجر ، خاموشی ، اضطراب ، امید، یاس ، سُکھ، دُکھ، ہنسی، آنسو ، آرزو، خلش اور کسک بانٹتی ہیں۔ جو دل کی دنیا کو غم کے اندھیروں کے باوجود روشن و منور کرتی ہیں۔ سرِشام یادوں کے دےئے جلائے ، دل کے اندر بہتے لہو کے آنسو ؤں سے اپنی لَو کو جلانے کی صدیوں پرانی روایت پر ڈگر بہ ڈگر چلتی جاتی ہیں اور بھلا ایسا کیوں نہ ہو یہ رفاقتیں وہی تو ہیں جنہیں اپنی اہمیت کا احساس ہے جنہیں فخر اور غرور ہے اپنے ہونے کا اور دوسروں کے دل میں سب سے اونچی مسند پانے کا۔جنھیں معلوم ہے کہ وہ کوئی مرہم رکھیں یا نہ رکھیں دل کا زخم ناسور بنتا رہے گا اور بن بن کے بگڑے گامگر ازل تا ابد ختم نہیں ہو گا۔انہیں تا حشر اپنی ذات کا زعم ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ ایسی لوح تو کہیں کہیں ملتی ہے کہ جس پر کسی انمٹ سیاہی سے جو نقش کندہ کر دیا جائے وہ پھر مٹا نہیں کرتا۔یہ سُکھ ، یہ آرزوئیں ، یہ سانسیں ، یہ حرف ، یہ لفظ ، یہ شاعری غلام ہی تو ہیں بس اُن رفاقتوں کے۔یہ جستجوئے ذات جو شروع تو اپنی ذات سے ہوتی ہے مگر اس کا ہر رُخ ،ہر موڑاُن رفاقتوں تک محدود ہوتا ہے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دُکھ کبھی کبھی تھکا دیتے ہیں کسی سُکھ کو پانے کی تمنا میں دل مچل اُٹھتا ہے ، روح کی تھکن بڑھ جاتی ہے اور روشنیاں بانٹتی اس دنیا میں چاند کی کرنوں سے چند کرنیں لے کر اپنا جیون روشن کرنے کو دل کرتا ہے۔چاند جو منور ہے ، روشن ہے ، جس کی ٹھنڈی چاندنی جب اَوج پر ہو تو ساحل کی لہروں میں طوفان برپا کر دیتی ہے اور جب بے آب و گیاہ صحرا پر پڑتی ہے تو سراب پیدا کرتی ہے مگر یہ دنیا ہے یہاں تو ہم نے کبھی کبھی کہیں کہیں چاند کو بھی اندھیرے بانٹتے دیکھا ہے۔پہاڑ جیسی ہجر کی شاموں سے لے کر بھیانک اندھیری راتوں میں کہیں اِس کی ایک کرن بھی نہیں ملتی کہ زیست کو بتانے کا کوئی حوصلہ ہی مل سکے۔
ایسے میں سُکھ کی یہ خواہش خودبخود اپنی موت مر جاتی ہے ۔پھر ذات کی وہی تنہائی اور دُکھ کا وہی لامحدود صحرا ۔ اور ازل سے لے کر ابد تک اکیلے پن کا وہی سفر ، وہی ریزہ ریزہ خوابوں کی چُبھتی کرچیاں ، محرومیوں کے بوجھ تلے دبی خواہشیں ، دم توڑتی محبتوں کی بے ترتیب ہچکیاں ، پا بُریدہ حسرتوں کی لاشیں ۔۔بھلا اِس اُجاڑ سفر میں کون کسی کا ساتھ دے، کون مجروح جذبوں پر دلاسوں کے ’’ُ پھاہے‘‘ رکھے ۔ کون ساتھ دے
سوائے اپنے ہی دُکھ اور تنہائی کے۔اور اسی تنہائی کے بنجر بن میں گئی رُتوں سے یادوں کے چراغ جلا کر، جذبوں کی محفلیں سجانا اور اُن محفلوں میں گلاب اُگانا اور اپنے بے ربط اور بے ترتیب بہہ جانے والے آنسوؤں سے ان گلابوں کو سراب کرنااور ان سرابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے رنگوں اور روشنیوں سے سیاہی بنانا اور اسے صفحہء قرطاس پر لفظوں کی صورت بکھیرنا اِسی کا نام شاعری ہے۔
مگر کیا شاعری سب بولتی ہے ۔ کیاشاعری وہ سب کہہ سکتی ہے جو کہا جانا چاہئے ؟ اِن سنگلاخ درد کے پہاڑوں سے گزرتی، اپنی ناتواں جاں پر تندو تیز ہواؤں کے طوفان برداشت کرتی کرب کی اِن مسلسل راتوں کی کہانی ، بے یقنی اور مایوسی کی دُھول سے اٹی ہوئی بے خواب راتوں کی کہانی ، یہ رتجگوں کے عذاب اندھی راتوں میں اِک امید سحر باندھے مسلسل جاگتی ،بینائی کھوتی اُن آنکھوں کی کہانی ، کیا یہ شاعری کہہ سکے گی مگر کہاں ؟
یہ لفظ بے شک بہت توقیر والے سہی، جذبوں کی جاگیر سے گُندھے ہوئے ، دل کی لو سے چراغ جلاتے ۔۔مگر یہ لفظ کبھی حرفوں کی صورت میں بول اُٹھتے ہیں۔اور کبھی کبھی دیوان بن کر بھی صرف ردی کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ انہیں اس سے کیا کہ انہیں لکھنے والے کس
اذیت اور کرب سے گُزرے ہیں۔

درد میرا بیاں اِن سے کب ہو سکا
شعر خاموش تھے ، شاعری چپ رہی

[اور شام ٹھہر گئی ]
ڈاکٹر نجمہ شا ہین کھوسہ

PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔ دوسرا حصہ ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

epaper_img_1423618156

PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔ پہلا حصہ ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

epaper_img_1423010530

PostHeaderIcon فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔

1970828_10202298186548837_1894711580_n

My Facebook
Aanchal Facebook
Total Visits: Total Visits