میرے بارے میں

PostHeaderIcon ڈاکٹر نجمہ شاہین,,, البم ..سال بہ سال

پی ایم اے کے اجلاس میں لیڈی واٰئس پریذیڈنٹ کے طور پر حلف اٹھانے کی تقریب میں

PostHeaderIcon “کتاب” ایپ کی انتظامیہ کا بہت بہت شکریہ

13502120_10210307338746160_2323021329828438074_n
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.kitaab.idealideaz.kitaabapp

PostHeaderIcon From Newspaper۔۔۔۔۔۔اآرٹیکل مختلف اخباروں میں

فروغِ ادب میں جنوبی پنجاب کی شاعرات کا کردار ۔۔

روزنامہ نوائے وقت ملتان .. 18 ستمبر 2013

روزنامہ دنیا لاہور .. 18 ستمبر 2013

روزنامہ سما لاہور ۔۔ 3 ستمبر 2013

جنگ لاہور ۔۔ 30 نومبر 2012

نوائے وقت ۔۔ 23 جون 2013

روزنامہ سما لاہور ۔۔ 3 ستمبر 2013

2400

12919677_552736484888897_5029447974105628189_n-1

PostHeaderIcon ’’شاعری نجمہ شاہین کی زندگی ہے‘،،،حسن عبا سی ،لاہور

>
’’شاعری نجمہ شاہین کی زندگی ہے‘‘

میں نے کہیں پڑھا تھا ’’تخلیق کار کو اپنی تخلیق کے لیے جو پانی درکار ہوتا ہے اس کے لیے افسانہ نویس اپنے گھر کے اندر نلکا لگاتا ہے۔ ناول نگار وہ پانی دریا سے بھر کر لاتا ہے جبکہ شاعر بادلوں کا انتظار کرتا ہے‘‘
ڈاکٹر نجمہ شاہین کی شاعری پڑھنے کے بعد میں یہی کہوں گا اسے اپنی تخلیق کے لیے جو پانی درکار تھا وہ اس نے اپنی آنکھوں سے حاصل کیا ہے۔ مصرعہ مصرعہ لفظوں کے ساتھ اپنے آنسو بھی پروئے ہیں۔ اس لیے نامعلوم سی اداسی نے چڑیلوں کی طرح اس کی غزلوں اور نظموں میں اپنے گھونسلے بنالیے ہیں۔ اک عمر کی رفاقت کے بعد خود نجمہ بھی اب اس اداسی سے مانوس ہوچکی ہے اور اسی فضا میں رہنا چاہتی ہے جس سے اس کی تخلیق کے سرچشمے پھوٹتے ہیں۔ دریا کے کنارے رہنے والی لڑکیوں کی آنکھوں اور لہروں میں زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔ گھر کے کنارے بہنے والا دریا اچانک آنکھوں سے بہنے لگتا ہے۔ زندگی میں سیلاب آتے ہیں تو دل کی بنجر زمینوں کو زرخیز اور شاداب کرجاتے ہیں۔ یہی زرخیزی اور شادابی نجمہ شاہین کی شخصیت اور شاعری میں دیکھی جاسکتی ہے۔ شعری مجموعوں کے بیک ٹائٹلز پر جو نجمہ شاہین کی تصاویر ہیں ان کو دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ اسے کوئی دکھ بھی رہا ہوگا اور اس کی شاعری پڑھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ خوشیوں سے کبھی آشنا بھی رہی ہوگی۔ ان ذات میں دکھ چھپانے کا یہ ہنر دنیا کی ہر لڑکی جانتی ہے۔ اگر اس کی آنکھیں اس کا ساتھ دیں۔ میرا نہیں خیال کہ تخلیق کے لمحوں میں نجمہ کی آنکھیں اس سے وفا کرتی ہوں گی ورنہ ایسی شبنم جو پھولوں کی پتیوں پر ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ اس کی غزلوں اور نظموں پر نظر نہ آتی۔
نجمہ کی شاعری گاؤں کے میلے میں پہلی بار کھلونوں کی دکانیں دیکھنے وا لی بچی کی طرح سادہ ہے۔ وہی حیرت غزلوں میں ملتی ہے، وہی تجسس نظموں میں نظر آتا ہے۔ نجمہ شاہین جس دل پذیر سرائیکی لہجہ میں اُردو بولتی ہے وہی دل پذیر لہجہ اس کی شاعری کا بھی خاصہ ہے۔ اس کی شاعری مکمل سچ اور مکمل سادگی کا مظہر ہے۔ اس میں جھوٹ کی آمیزش زیروفیصد ہے۔ کوئی دو رخی نظر نہیں آتی جس طرح عموماً لوگوں کی شاعری ان کی زندگی سے الگ تھلگ کوئی چیز نظر آتی ہے نجمہ شاہین کے ہاں ایسا بالکل نہیں ہے۔
نجمہ کو اس کی شاعری میں با آسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ملاقات کی جاسکتی ہے۔ اسے دریافت کیا جاسکتا ہے۔ نجمہ کی شاعری میں اداسی کے رنگوں سے جو پینٹنگ ہمیں دکھائی دیتی ہے اس کی غزلوں اور نظموں پر نظر نہ آتی۔
اس میں اس کے خال و خد واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ زندگی اور شاعری اس کے نزدیک دو الگ چیزیں نہیں ہیں۔ وہ شاعری کی فضا میں ہی اپنے روز و شب بسر کرتی ہے۔ اس نے ایک سلجھی ہوئی گھریلو عورت کی طرح اپنی زندگی کی تمام یادوں کو شاعری کی الماری میں سلیقے سے رکھا ہوا ہے۔
نجمہ کی شاعری پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے ابھی تک اپنے اردگرد کے ماحول، موسموں، راستوں اور چیزوں سے سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ ناہموار راستوں پر چلنے کا ہنر تو سیکھا ہے لیکن انہیں قبول نہیں کیا ہے۔ وہ جیسا منظر نامہ اپنے اندر باہر دیکھنا چاہتی تھی وہ اسے نظر نہیں آرہا۔ اس لیے اس نے شاعری میں پناہ لے رکھی ہے۔
شاعری نجمہ شاہین کی زندگی ہے اور نجمہ شاہین کی زندگی اس کی شاعری ہے۔
چند اشعار نذر قارئین۔
یہ نیا پھول ہے اور یہ خوشبو نئی
یہ نئی شام ہے اور نیا درد ہے

زخم کیسا ہے بھرتا نہیں ہے کبھی
درد ہوتا نہیں ہے یہ کیا درد ہے

ہم تو گھٹ گھٹ کے اک روز مر جائیں گے
اس گھٹن میں اگر آنکھ بھی چپ رہی

کہیں یہ گرد کہیں پر ہوا بناتی ہوں
میں خود کو اب تو بس اپنے سوا بناتی ہوں

بکھر گئے تھے کسی نام کے حروف کہیں
اب ان کو جوڑ کے اک آئینہ بناتی ہوں

اُجالتا ہے یہ تاریکیاں مرے دل کی
تمہاری یاد کو ہر پل دیا بناتی ہوں
ڈاکٹر نجمہ شاہین اور ان کی شاعری کیلئے ڈھیروں دعائیں۔
حسن عباسی ۔۔۔
نستعلیق مطبوعات ،،لاہور
1800390_10204300969217913_7113716944586276436_n

PostHeaderIcon عورت اور عورت ہے ”بشری اعجاز

عورت اور عورت ہے

پھول ،خوشبو اور تارہ کا مسودہ میرے ہاتھ میں ہے۔۔۔ جسے دیکھتے ہوئے سنسکرت کے رومانی شاعر امارو کی نظم یاد آرہی ہے۔۔۔
جس کا عنوان۔۔۔ عورت اور عورت ہے۔۔۔!
ابھی تھوری دیر ہوئی کہ وہ مجھے سدا کے لئے چھوڑ گیا
لیکن میں ہمت سے کام لوں گی
اور کوئی بھی میری ناامیدی کو دیکھ نہ پائے گا
میں مسکراتی ہوں
میں تو مسکرا رہی ہوں
تمہاری مسکراہٹ میں ویسی ہی اداسی ہے
جیسی اس صبح میں
جو کسی آتش زدہ گاؤں پر نمودار ہوئی ہو۔۔۔
مجھے ڈاکٹر نجمہ کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی اداسی دیکھنے کا موقع تو نہیں ملا۔۔۔مگر پھول خوشبو اور تارہ کے مسودے کو دیکھتے ہوئے نجانے کیوں مجھے اس پر عورت اور عورت کا گمان گزر تا رہا ۔۔۔یعنی عورت کا عورت سے مکالمہ۔۔۔!
عورت بھی وہ جو ڈاکٹر ہے، ماں ہے ،فرماں بردار بیٹی اور بیوی ہے، مگر اس کی ذات کے کچھ حصے شاید ان تمام حیثتوں کے درمیان ان بوجھے۔۔۔ ان کہے رہ گئے ہیں
ہم عورتوں کے ساتھ اکثر یہی ہوتا ہے بظاہر مکمل۔۔۔ اندر سے ٹوٹی اور بکھری ہوئیں۔۔۔ کسی پرانے درخت کی جروں کی طرح درد کی زمین میں دور دور تک پھیلی ہوئیں۔۔۔
کسی حل نہ ہو سکنے والے معمے کی طرح ان بوجھی۔۔۔، پرانی حویلیوں کے دالانوں کے پیچھے دبکی ان تنگ و تاریک کوٹھڑیوں جیسی۔۔۔ جن میں دن کو بھی اندھیرا ہی چھایا رہتا ہے۔۔۔
سورج کی ایک بھولی بھٹکی کرن بھی نہیں جاگتی جن کے اندھے اندھیروں میں۔۔۔
لہٰذا دن میں بھی چراغ جلائے بغیر وہاں سے کچھ ڈھونڈ نکالناممکن نہیں ہوتا۔۔۔ یہی وجہ۔۔۔اس نے شاعری کا چراغ جلا لیا۔۔۔ اور ذات کی تاریک کوٹھڑی میں جا گھسی۔۔۔
ابھی تک لوٹی نہیں۔۔۔وہیں کھڑی کہہ رہی ہے۔۔۔
جرم بس یہ تھا کہ منزل کا تعین کر لیا
پھر سدا رہنا پڑا ہم کو سفر کے درمیاں
اس سفر کی ابتدا کیسے ہوئی؟بظاہر
ایک ڈائری سے جس میں چھپ چھپ کر وہ تمام ایسی باتیں لکھتی رہی۔۔۔ جو کسی سے کہہ نہ سکتی تھی ۔۔۔کسی کو سنا نہ سکتی تھی۔۔۔
بھول جانے والی باتیں۔۔۔اور بھول کر بھی یاد رہ جانے والی باتیں۔۔۔! وہ باتیں جو راتوں کی تنہائیوں میں چاند کی اداسی کے کاغذ پر سرگوشیوں کی صورت لکھی جاتی ہیں۔۔۔ اور پھر ان سرگوشیوں کو دل کے پلو سے باندھ لیا جاتا ہے۔۔۔ احتیاط سے۔۔۔ حفاظت سے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے۔۔۔! پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔۔۔ ڈائیری اسکیباقاعدہ رازدان بن گئی۔۔۔ بعد میں جب اس راز سے پردہ اٹھاتو۔۔۔
انکشاف کی طرح۔۔۔اسکی پہلی کتاب پھول سے بچھڑی خوشبو۔۔۔ سب کیسامنے آئی۔۔۔
بالکل ایسے ہی جیسے آج سے بیس برس پہلے میں نے ڈائیری میں سفرِ حج کے تاثرات رقم کئے تھے تو۔۔۔ مجھ پر اک انکشاف کی طرح سفر نامہِٗ حج عرضِ حال اترا تھا۔۔۔اور مجھے۔۔۔ دفعتاََ ادراک ہوا تھا۔۔۔ کہ میری ذات کے بہت سے ان کہے حصوں میں سے یہ صرف ایک حصہ تھا۔۔۔ اور یہ کہ ابھی زات کی تاریک کوٹھڑیوں میں انگنت چراغ جلنے کے منتظر ہیں۔۔۔ جو بعد میں آہستہ آہستہ جلتے چلے گئے۔۔۔!
ایسے ہی جیسے۔۔۔ڈاکٹر نجمہ کی ذات کی تاریک کوٹھڑی میں رکھاہوا۔۔۔ یہ چوتھا چراغ۔۔۔
جسکے متعلق خود ڈاکٹر نجمہ کہتی ہیں۔۔۔ اگر میں مصروف ڈاکٹر نہ ہوتی تو شاید اب تک میری پندرہ بیس کتابیں آ چکی ہوتیں۔۔۔!
میں ڈاکٹرنجمہ کی اس بات سے سو فیصد اتفاق کر تی ہوں۔۔۔کہ اپنی پرو فیشنل لائف میں جس dedicatio سے وہ کام کرتی ہے۔
اور اپنی توانائی ، اور توجہ جس طرح اپنے مریضوں پر پوری پوری نچھاور کر دیتی ہے۔اس کے بعد شاعری کو وقت دینا اور پوری دیانت داری سے اپنی ذات کی دریافت کے سفر پر روانہ ہونا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ایسا وہی کر سکتے ہیں ..جنہیں لگن لگی ہوتی ہے لگن خود کو بوجھنے کی۔۔۔اپنا بوجھا ہوا …سلیقے سے زمانے کے سامنے پیش کرنے کی اور پورے وقار کے ساتھ۔۔۔ اپنے لکھے ہوئے ہر لفظ کو اون کرنے کی چاہے زمانہ کچھ بھی کہے کچھ بھی کرے۔۔۔ اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے جب کوئی تخلیق کار پوری سچائی سے خود کو بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتا۔۔۔!
میں پہلی دفعہ جب ڈاکٹر نجمہ سے ملی تو یہ وصف میں نے اسکی زات میں نمایاں دیکھا اس نے نہایت دھیمے لہجے میں پوری سچائی سے بتایا ۔۔۔ اس کا تعلق جس قبیلے سیہے۔۔۔ وہاں دور دور تک شا عر تو کیا ڈاکٹر بھی کوئی نہیں۔۔۔!
اور یہ کہ اس قبیلے کی لڑکیاں آنکھین بند رکھتی ہیں۔۔۔!
انہیں آنکھیں کھولنے کی اجازت نہیں۔۔۔
انکی زندگیوں کے فیصلے دالانوں اور حجروں میں بیٹھ کرگھر کے مرد کیا کرتے ہیں۔۔۔
انہیں صرف اطلاع دی جاتی ہے۔۔۔
اور اس اطلاع کے ہمراہ یہ ہدایت ایک وارننگ کی طرح نتھی ہوتی ہے۔۔۔
کہ سرخ جوڑا پہن کر ڈو لی چڑ ھنا تو جاتے ہوئے اپنے قدموں کے نشان مٹاتی جانا۔۔۔!
سو اس نے بھی ایسا ہی کیا۔۔۔ ڈولی چڑھی تو مڑ کر پیچھے کبھی نہ دیکھا۔۔۔
سفر مسلسل سفر۔۔۔قیام کہیں نہیں۔۔۔
اس سفر میں اسکی روح پر کیا گزری ،اس کے دل نے کیا کچھ سہا۔۔۔
اور ایک حساس انسان ہونے کی وجہ سے زندگی کامشاہدہ کیسا رہا۔۔۔
اسکی شاعری یہ سب کچھ تو نہیں بتاتی البتہ۔۔۔ اتنا ضرور کہتی ہے۔۔۔
کہ اک ہمہ وقت اداسی اور تنہائی اس کے ہمراہ رہی۔۔۔ جس سے اس کا ہمیشہ مکالمہ رہا۔۔۔
اس وقت بھی جب وہ شب کی آخری ساعتوں میں خود سے ہم کلام ہوئی اور اسوقت بھی۔۔۔ جب کسی بھیڑ بکری نما عورت کی ڈونتی نبضوں کو بحال کرنے میں اسکی مسیحائی نے اپنی پوری قوت لگا دی۔۔۔ اس وقت بھی جب وہ اپنی پہلی نظم۔۔۔ ملاقات آخری لکھتے ہوئے، درد کی اک اچھوتی واردات سے گزر رہی تھی۔۔۔ اور اس وقت بھی۔۔۔ جب عمر اور حمزہ نے اس کی گود میں آکر اسے ماں بننے کی آسودگی سے ہم کنار کیا تھا۔۔۔ کہ ہر آسودہ اور ناآسودہ جزبے کا تعلق انسان کی جزباتی دنیا سے ہے۔۔۔ اور ایک سچے تخلیق کار کی جزباتی دنیا کم وبیش ایسی ہی ہوتی ہے ۔۔۔ ہمہ وقت زیروزبرسی۔۔۔ جس کا کسی ایسی کیفیت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔۔۔جس میں ٹھہراؤ ہو۔۔۔ اور آرام جیسا کوئی احساس ہو۔۔۔
ہمہ وقتی اضطراب اور بے چینی، جس کا اظہار داکٹر نجمہ کی شاعری ہے۔۔۔
حالانکہ بظاہر اس کی ذات میں ٹھہراؤ بھی ہے۔۔۔ اور آرام بھی۔۔۔ مگر زیریں سطح پر دبا دبا احتجاج، چھپی چھپی بغاوت۔۔۔ صاف دکھائی دیتی ہے۔
اگرچہ ڈاکٹرنجمہ نے نہایت عقلمندی سے اس احتجاج، اس بغاوت کو سات پروں میں چھپایا ہوا ہے مگر اسکی شاعری اس کا چیخ چیخ کر اعلان کرتی ہے۔۔۔
اور وہ کہتی ہے۔
سانس لینے سے بھی اکثر روک دیتے ہیں ہمیں
جان لیوا ہو چلا ہے خیر خواہوں کا حصار
اور
دشمنوں سے تو مجھے خوف نہیں تھا لیکن
رہ میں اپنوں کی مگر گھات ،نہ پوچھو میاُ
وہ محبت کی شاعر ہے۔
ہر شاعر محبت کا شاعر ہی ہوتا ہے۔ چاہے وہ محبت جنسِ مخالف کی ہو۔
مخلوقِ خدا کی۔۔۔ یا پھر خود خدا کی۔۔۔
کہ شاعر کی تخلیقی کائنات میں نفرت کی کوئی جگہ ہی نہیں۔۔۔
وہ محبت کے علاوہ کچھ کر رہی نہیں سکتا۔
چنانچہ یہ محبت تمام مضامین میں اسکی ہم رکاب ہوتی ہے۔
ڈاکٹر نجمہ کی شاعری میں یہ محبت ہجر کے گاڑھے شیرے میں ڈوبی ہوئی ہے۔
اسی لئے ٹپ ٹپ ٹپکتی ہے۔۔۔ پورے پکے ہوئے آم کی طرح۔۔۔
آدھے ادھورے آنسو کی طرح۔۔۔
اس موتی کی طرح جسے سیپ کسی بے اختیاری لمحے میں سمندر سے اچانک اگل دیتی ہے۔۔۔!
میں نے اس کی شاعری میں جا بجا یہ کیفیت محسوس کی ہے۔ جس کی آنچ میں کبھی وہ شعر پرو رہی ہے اور کبھی نظم بن رہی ہے۔
یہی کیفیت سچی شاعری کا جوہر ہے۔ جس کے بغیر نہ تخلیق مکمل ہوتی ہے، نہ تخلیق کار۔۔۔
ڈاکٹر نجمہ جس عمدگی سے اس کیفیت کو اپنی شاعری میں سمو رہی ہیے۔
اسے دیکھتے ہوئے اس کے شعری سفر کی کامیابی کی امید روشن لگنے لگتی ہے۔
میری دعا ہے وہ اس سفر میں اس مقام پر پہنچ جائے۔
جہاں پہنچ کر منزلیں آسان ہو جاتی ہیں۔
اور مسافر تمام تر تھکن کے باوجود سرشاری جیسی کیفیت میں یہ کہہ اٹھتا ہے۔
نہیں ملوں گی کسی بھی وصل آشنا سفر میں
میں ہجر موسم کی شدتوں میں تمہیں ملوں گی
اب بتائیں ایسے شعر کہنے والی شاعرہ کی شاعری پر مجھے عورت اور عورت کا گمان کیسے نہ گزرے۔۔۔
اور اس کی مسکراہٹ اس مسکراہٹ سے مشابہ کیونکر نہ لگے۔۔۔
جو کسی آتش زدہ گاؤں پر اچانک نمودار ہوتی ہے!
ہو جزبے ،ہر اظہار میں نمایاں ہے ..وہ ہے اس کا عورت ہونا۔۔۔
بشری اعجاز[لاہور]

PostHeaderIcon روزنامہ جنگ میں شا یعّ ہونے والا انٹر ویو

jang interview published

PostHeaderIcon روزنامہ خبریں ، ملتان، لاہور،مظفر آباد ۔۔ 8 اگست 2015

PostHeaderIcon محبت کی شاعرہ ۔۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے تاثرات

آج کا اردو شاعر اس عبوری دور میں سانس لے رہا ہے ‘ جہاں اس کے پیچھے کلاسیکی غزل کی وہ تابناک روایت بھی ہے جو بیسویں صدی کے شروع میں ہی ختم ہوگئی اور پھر وہ اندھا کنواں بھی ہے جس میں سکہ بند روائتی غزل آج تک ڈوبی ہوئی ہے۔ڈاکٹر نجمہ شاھیں کھوسہ کی ’’اور شام ٹھہر گئی‘‘ میں مشمولہ غزلوں پر میں رائے دینے سے احتراز کروں گا لیکن ان کی نظموں نے مجھے یقیناًمتاثر کیا ہے۔ ان کی نظمیں دیگر معتاد ، اسٹیریو ٹائپ شعرا کی طرح گذشتہ نصف صدی کے شہرہ ور نظم گو شاعروں ،(بطورِ خاص فیض احمد فیضؔ ) کی لفظیات کے دسترخوان کے باقی ماندہ بچے کھچے ٹُکڑوں سے پاک ہیں جن پر قانع رہ کر بہت سے شاعر آج تک غزلیں اور نظمیں لکھے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ جدیدیت کی تحریک میں بہہ کر مضمون ‘ متن ‘ اور اسلوب کی سطحوں پر انتشار ‘ افشار ‘ ایہام اور یادہ گوئی کا شکار ہونے سے بالکل بچ رہی ہیں ۔ انہوں نے اس تحریک کا اثر بالکل قبول نہیں کیا۔ ان کی کچھ نظمیں یقیناً ’’بڑی ‘‘ نظمیں ہیں جنہیں سراہا جانا چاہیے۔ محبت ایک پاک جذبہ ہے، اس میں صوفیانہ عشق کی آسماں بدست بلندی سے لے کر تعشق اور ہوس کی تحت الثرا تک شاعروں نے طبع آزمائی کی ہے۔ نجمہ شاھیں کی نظموں میں یہ جذبہ ان دو بے نہایت حدود کے درمیان اس سطح مرتفع پر قائم ہے، جسے ہم ’’من و تو‘‘ کا علاقہ قرار دے سکتے ہیں۔ا س ’ من و تو ‘ میں ’من ‘ تو یقیناً شاعرہ کا واحد متکلم ہے ‘ وہ خود ہے یا اس کی انا ہے لیکن ’ تو ‘ محبوب بھی ہوسکتا ہے ‘ دوست بھی ہوسکتا ہے ‘ نامہرباں آسماں بھی ہوسکتا ہے اور ظالم و حاکم بھی ۔ اس کی ایک وجہ تو غزل کی چار سو برس پرانی اور مستحکم وہ روایت ہے جس نے غزل ہی کو نہیں بلکہ اردو نظم کو بھی اب تک ’ من و تو ‘ کے حصار میں قید کر رکھا ہے اور دوسری وجہ آسان راہوں کے سفر کو پرپیچ راستوں پر فوقیت دینا ہے۔ “محبت اک ضرورت ہے‘‘، ’’یہ عشق بستی بسانے والو”، “محبتوں کا یہ طورِ سینا”، ” موسمِ وصل کے استعارے میں ہوں”، “تجھے تو خبر ہے”، “گر ہم کو تم جھٹلاؤ گے” جیسی کئی اور نظمیں اس پاک و صاف جذبے کو جہاں خوشروئی اور شائستگی سے بیانیہ یا مکالمہ کے فارمیٹ میں ڈھالتی ہیں، وہاں پُرکاری اورسحر کاری کا انداز بھی اپناتی ہیں۔ وصل اور ہجر تو کیفیات ہیں، لیکن ان کے تہہ در تہہ معانی میں وفاداری یا بے وفائی اور ان کے متعلقات کے بیسیوں حصاروں میں مقیدتازہ کاری سے مزین وہ مضامین بھی ہیں جو شاعرہ کی غزلوں اور نظموں دونوں میں بکثرت موجود ہیں۔ مجھے نجمہ شاھیں کھوسہ کی شاعری سے بہت امیدیں ہیں۔ ((ڈاکٹر) ستیہ پال آنند واشنگٹن ، ڈی سی، امریکا ۱۵ / اپریل ۲

satya pall

PostHeaderIcon دمان کے توانا لہجے کی شاعرہ ۔۔ تحریر ۔۔ قاسم شہانی

najma art

PostHeaderIcon شاعرہ جادو والی ۔۔ جاوید احسن

اُس کی آنکھوں میں عجب چیز ہے جادو والی
لوگ کہتے ہیں جسے شاعرہ خوشبو والی

گنگ جذبوں کی زباں ہے گھنے ابرو والی
بھیگے موسم میں لچکتے قد و گیسو والی

اس کے ہر شعر میں احساس کی لو روشن ہے
اس کے ہر اشک میں تنویر ہے جگنو والی

منتظر دشت میں ہے اسکی ابھی چشمِ غزال
شاخِ زیتوں ہے، امر بیل ہے، مہ رُو والی

javed ehsan

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits