پھول خوشبو اور تارہ

PostHeaderIcon میں ہو گئی تری مثال پیا

ہوں عشق میں مالا مال پیا
ہر سو بس تری دھمال پیا

ہو اک پل صرف وصال پیا
میں ہجر میں ترے نڈھال پیا

ترے خیال میں گزرے سال پیا
یہ عشق نظر کا کمال پیا

جس نگری عشق کا راج ہوا
کیاِ ِ ’’میں‘‘ ’’تو‘‘ کا جنجال پیا

تو روگ مرا ، تو جوگ مرا
میں ہو گئی تری مثال پیا

ترا حکم کہ میری راکھ ا’ڑے
انکار کروں ‘ نہ مجال پیا

میں تیری رضا پر راضی ہوں
جس راہ پہ اب تو ڈال پیا

اک بار تو دیکھ ‘ اک بار تو سن
ترے بن میرا کیا حال پیا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon تعارفی تقریب پھول ، خوشبو اور تارہ

PostHeaderIcon نظم ۔۔ عید حیران ہے

عید مہندی کا، خوشیوں کا
رنگوں کا ، خوشبو کا
اور کانچ کی چوڑیوں کی کھنک
میں بسی آرزوؤ ں کا اک نام ہے
عید انعام ہے
عید امید ہے
عید تجدید ہے
عید جیسے کوئی روشنی کی کرن
ایک وعدے ، کہانی ، فسانے کی یا
ہجر موسم میں لپٹے ہوئے وصل کے
دکھ کی تمہید ہے
عید امید ہے
ایک گھر میں تو خوشیو ں کا سامان ہے
ایک گھر میں مگر دکھ کاطوفان ہے
عید حیران ہے
عید ہیرا نہیں ، عید موتی نہیں
عید ہنستی نہیں ، عید روتی نہیں
ایک آنگن کہیں کوئی ایسا بھی ہے
جس میں شہزادی صدیوں سے سوتی نہیں
شاہزادے کی جب دید ہوتی نہیں
عید کے دن بھی پھرعید ہوتی نہیں

1149033_10201948904630531_1540115532_n

PostHeaderIcon نظم ۔۔ اُسے عید مبارک کہتی ہوں

آج بھی برسوں بعد مرے
کانوں میں صدا تیری آئے
مَیں چاند ہوں جاناں ،چاندہوں مَیں
سُن چاند ہوں تیری عید کامَیں
پیغام ہوں ایک نوید کامَیں
رنگوں سے سجی ،خوشبومیں بسی
ہردید کا اک انعام ہوں مَیں
پیغام ہوں مَیں
وہ جوتیری صدا کالمحہ تھا
مری ساکن روح میں اُتر گیا
ُاُس لمحے نے کیسے ہم کو شاداب کیا ،نایاب کیا
دل کی بنجر جومِٹی تھی اس کو کیسے سیراب کیا
ہرخارکو پھول کیا اس نے ،ہرذرے کو مہتاب کیا
وہی لمحہ میری حیات بنا
وجہِ تکمیلِ ذات بنا
اسی اک لمحے میں آج تلک
مری روح کہیں پر اٹک گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔
پھراک لمحہ وہ بھی آیا
جب میرا چاندہی ماند ہوا
کوئی دید رہی ،نہ ہی عید رہی
نہ ہی خوشیوں کی امید رہی
پھر عید نہ اتری آنگن میں
اک لمحہ ایسے محیط ہوا
میں اپنی ذات میں سمٹ گئی
اور خوشیوں کی ہراک رُت پھر
مرے دروازے سے پلٹ گئی
لیکن جب عید کا دن آئے
وہی لمحہ لوٹ کے آتا ہے
وہی لہجہ لوٹ کے آتا ہے
وہی چاند نظر میں سماتا ہے
کس حال میں اب وہ رہتا ہے
کس حال میں اب میں رہتی ہوں
اُسی دھارے میں بس بہتی ہوں
اُسے عید مبارک کہتی ہوں
اُسے عید مبارک کہتی ہوں

11760295_10207615071801169_344007352240848955_n

PostHeaderIcon اس کی طلب میں راہ کو تکتی ہے زندگی

اس کی طلب میں راہ کو تکتی ہے زندگی
آنکھوں میں وقت شام چمکتی ہے زندگی

تیرے لئے جب آنکھ برستی ہے رات کو
پھردل کے ساتھ ساتھ سلگتی ہے زندگی

دکھ سے نڈھال ہوکے جب روتی ہیں بیٹیاں
پھر ان کے لیکھ دیکھ کر ہنستی ہے زندگی

جواک خیال باعث آزار بہت ہے
اس اک خیال سے ہی چہکتی ہے زندگی

کس سے کریں یہ بات کہ جو حال ہیں یہاں
خاموش اگر ہو ں تو بلکتی ہے زندگی

رستوں کوسوچ سوچ پریشان ہیں سبھی
منزل کوکھوج کھوج سسکتی ہے زندگی

چاہت کے جوبھی زخم ہیں رکھیئے سنبھال کر
ان کی ہی باس سے تومہکتی ہے زندگی

اس نے دیا تھا ایک دیا راہ کے لئے
کب تک جلے گاآج توتھکتی ہے زندگی
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہbilakti-zindagi-300x260

PostHeaderIcon زمانے مرے بن بھلا اپنی تکمیل کیسے کرے گا؟

zmn3
زمانے مرے بن بھلا اپنی تکمیل کیسے کرے گا؟

زمانے اگرچہ میں تجھ سے الگ ہوں
ترے ہرچلن سے
ترے بانکپن سے
چمن سے الگ ہوں
زمانے میں تری کہانی میں شامل کہانی توہوں پر
میں قصہ نہیں ہوں
زمانے میں حصہ ترا ہو ں مگر پھربھی حصہ نہیں ہوں
زمانے تری روشنی گرچہ سب کے لیے ہے
مگر جانتی ہوں مرے واسطے تو یہ ہرگز نہیں ہے
زمانے تری سب عنایات اور کے دامن میں ہیں
اورتہی دامنی میرے دامن میں ہے بس
زمانے محبت کا پرچم مرے ہاتھ میں اور
زمانے کی نفرت بھی گلشن میں ہے
زمانے مجھے تجھ سے شکوہ نہیں ہے
زمانے مجھے اب گلہ بھی نہیں ہے
مجھے علم ہے کہ زمانہ ہی ایسا ہے
جس میں جزا بھی نہیں اور صلہ بھی نہیں ہے
زمانے میں تجھ سے الگ ہی سہی لیکن اتنا بتا تو
مرے بن کہانی میں اشکوں کی ترسیل کیسے کرے گا؟
محبت کی تاویل کیسے کرے گا؟
کسی مختصر دکھ کی ترسیل کیسے کرے گا؟
زمانے مرے بن بھلا اپنی تکمیل کیسے کرے گا؟

PostHeaderIcon وہ مرا آغاز تھا او ر یہ مرا انجام ہے

13217152_1102947109768318_6704301716905640348_ochaar janib shaam

چار جانب شام ہے یا گردشِ ایام ہے
پھول ، خوشبو اور تارہ زندگی کا نام ہے

زندگی کے کھیل کا شاہین عجب انجام ہے
حسرتوں کی لاش ہے ، اشکوں بھری اک شام ہے

پھول ہے گم ذات میں ، خوشبو گھری حالات میں
ہجر کا لمحہ ہی بس اب عشق کا انعام ہے

زندگی خیرات میں لی موت کی اب التجا
وہ مرا آغاز تھا او ر یہ مرا انجام ہے

میں بہت خوش ہوں کہ دامن میں خوشی کوئی نہیں
کامیابی تو یہی ہے ز ندگی ناکام ہے

نفرتوں کی بارشیں ،سب بہہ چکی ہیں خواہشیں
درد کا طوفان ہے اور ہر طرف کہرام ہے

عشق تیری راہ کے سب منفرد ہیں سلسلے
دام میں آیا ہوا پنچھی یہاں بے دام ہے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے

maan
دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہے
میں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے

اُس کے قدموں میں جو جنت ہے تو مطلب یہ ہے
آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے

خوشبو ایسی کہ مری روح تلک مہکی ہے
روشنی ایسی کہ بس نور کا دھارا ماں ہے

تپتے صحراؤں میں کس طرح بھٹک سکتی ہوں
مجھ کو جو راہ دکھائے وہ ستارہ ماں ہے

اُ س کے ہر دکھ کو میں لفظوں میں سموتی کیسے
میں نے اشکوں سے بس اک لفظ ابھارا ’’ماں‘‘ ہے

سب نے پوچھا کہ بھنور سے تُو بچے گی کیسے
میں نے بے ساختہ نجمہ یہ پکارا ’’ماں ہے‘‘

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں ،، جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں

baiytiyaanbaiytiyaan

افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں
جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں

PostHeaderIcon پھول خوشبو اور تارہ ،،،”’میرا شاعری کا نیا مجموعہ کلام“

Phol Koshbo Aur Tara Title (1)ref=”http://www.drnajmashaheen.com۔/?

سوچ کا سفر

سفر تو اتنا سا تھا کہ جو پھول سے بچھڑی خوشبو نے ایک زمانے سے دوسرے زمانے تک کرنا تھا۔ ایک فرق روپ کا روح سے اور ایک خیال مکاں سے لامکاں تک کا۔
ہوا جو سب کے وجود کیلئے سانس ہے، آسودگی ہے زندگی ہے مگرپھول سے خوشبو کی جدائی کا سبب بھی یہی ھے، خوشبو جو پھول سے بچھڑی تو اسی ہوا کے سنگ دور تک اڑتی اپنے وجود سے بے خبر، اپنے نشان اپنی منزل سے دور ایسے مقام تک جاپہنچی جہاں اسے اپنی آنکھیں بند رکھنی تھیں کیونکہ اگر وہ آنکھیں کھولتی تو زمانے کی تمام بدصورتیاں اس کے سامنے آتیں جن کو دیکھنے کی اُس میں ہمت نہیں تھی۔ وہ بد صورتیاں چاہے شب کے اندھیروں میں پلتیں یا دن کے اجالوں میں سخت کڑکتی، جلتی دھوپ میں آنکھوں کو چند ھیاتیں سو وہ اس مقام پر ٹھہر گئی جہاں ایک شام اس کے تمام دکھ سکھ اپنی گھٹڑی میں لپیٹے اس کیلئے رکی ہوئی تھی جہاں اس کی منزل، اس کا نشاں، اس کا وجود ٹھہرا تھا۔ ایک ایسی شام جو بے عمیق گہرائیوں میں ڈھل کے بھی رات نہ بن سکی کہ وہ رات بنتی تو اس کا انت سحر ہوتی۔ مگر سحر بچھڑنے والوں کے نصیب میں کہاں۔
پھر شاید وہ اسی شام میں ٹھہرے ٹھہرے سحر کا انتظار کرتے کرتے تھک گئی۔ اس نے نظر بھرکر بیچارگی سے آسماں کو دیکھا اور چاند کے گرد جھلملاتے تاروں کے اور جھانکا اور سوچ میں پڑ گئی کہ شاید ان تاروں میں اس کے لیے بھی تھوڑی سی ضیاء ہو جو اس لامتناہی اندھیرے سفر کو ہلکی سی روشنی دے دے یہ کٹھن سفر کچھ آسان کردے مگر جب سوچ نے سفر کیا تو اس پر یہ منکشف ہوا کہ خوشبو کی منزل پھول ہے کوئی چاند تارہ نہیں اور تارے تو ویسے بھی مانگ کی ضیاء پر جیتے ہیں وہ بھلاکسی کو کیا روشنی دیں گے کہ جن کا اپنا مقدر ہی عمیق گہرائیوں اور اندھیروں میں ٹوٹ کے گرنا ہے۔
اور سوچ کا یہ سفر جب اپنے مرکز کی طرف اپنے دائرے کے گرد پلٹا تو لفظوں کی صورت صفحہ قرطاس پر ابھرا۔ وہ لفظ تاروں کی ضیا کی طرح مانگے کے نہیں تھے ، وہ صدیوں سے رائیگانی میں گذرے۔ ان تمام لمحوں کی ودیعت تھے جو آنکھوں سے بینائی لے لیتے ہیں۔اور ایک ایک لفظ قطرہ قطرہ خونِ دل سے سینچا جاتا ہیں۔
ان اشکوں کا تو دکر ہی کیا ،تجھے عشق لہو سے بھی لکھا۔۔
کبھی پڑھ تو سہی ان نوحوں کو، تجھے علم تو ہو تحریر ہے کیا،،،
اور وہ سب لمحے ہی رائیگاں ہوتے ہیں جو روح اپنے ہمزاد کی تلاش میں گذارتی ہے جسے وہ عشق کہتی ہے اور عشق کی مثال توبس ایسے ہی ہے کہ جسے ایک بیوہ ماں اپنا جگر گوشہ کھودے اور ساری عمر ایک ویران آنگن میں بیٹھے اس آس،اس امید پر روتے روتے گزار دے کہ اس کی کل کائنات ایک دن اس کے پاس اس آنگن میں ضرور پہنچے گی۔ مگر جب سارا سفر طے ہوجائے اور عمر کے سارے برس لکیروں کی صورت چہرے پر تحریر ہو جائیں اور زندگی آخری ہچکیوں تک آپہنچے تب اس پر انکشاف ہو کہ جس کا ئنات کو اس نے جہاں کھویا تھا وہ تو وہیں منوں مٹی تلے دفن ہے اور اس کی امید بھی انہی لمحوں پہ اخیر ہوکہ عمر تو ساری بیت گئی ایک رائیگانی میں روتے، ایک لاحاصل کو تلاشتے۔
وقت بیت جاتا ہے، عمریں گذر جاتی ہیں مگر حقیقتیں وقت کی دھند میں دھندلا کے بھی ختم نہیں ہوتیں۔ زندگی کے جھمیلوں سے تھک ہار کے شام کو اپنے اپنے گھروندوں میں لوٹنے والوں کو کوئی پل ایسا ضرور ملتا ہے جب وہ اپنی ذات کا سفر کرتے ہیں۔ اپنی سوچ کا سفر ، اور سفر تو ساراسوچ کا ہی ہے۔ یہ سوچ ہی تو ہے جو پیٹ کے بل لڑکھراتی عشق کا روپ دھارے گردش زمانہ کی تمام تلخیاں سمیٹے، تمام کٹھن اور اذیت سے بھرپور راہوں کا سفر طے کرتے کرتے اپنے قبلہ و کعبہ تک پہنچتی ہے اور اپنے خلوص کا تحفہ اپنے معشوق کے منتظر ہونے کی صورت میں پاتی ہے اور یہ بھی سوچ ہی کا سفر ہے جو حطیم اور باب قلزم میں مانگی جانے والی دعاؤں کے نتیجے میں بہنے والے آنسو صرف پانی کے چند قطروں میں ڈھل کے اس پاک مٹی میں جب مل جاتے ہیں تو وقعتِ زمانہ انہیں بے وقعت آنسؤوں کا نام دے دیتا ہے۔ محبت سے عشق کا سفر بھی سوچ ہے اور سوچ گردشِ زمانہ میں کہاں جاکے خود کو ڈھونڈے، کہاں جاکے خود کو تلاشے۔ زمانے نے اس کی اب تقسیم کردی ہے۔
اپنے لامتناہی دائروں میں گردش کرتی اپنے خوابوں کو روح کی پاکیزگی میں جا کے ڈھونڈے یا زمانے کی طرح نظر آنے والے کسی مجسم روپ کو ہی اپنا محور بنائے۔ بہرحال خیالات کا دیوتا تو بنانا ہوتا ہے کہ جینے کیلئے خیال ضروری ہے۔ یہ خیالات کا دیوتا بھی کس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ اپنے پیچھے اپنے پوجنے والوں کو ساری زندگی یوں لگائے رکھتا ہے کہ جیسے اس کی اجازت کے بغیر ایک سانس لینا بھی گناہ ہو اور کتنی عجیب بات ہے کہ جب پجاری اس کے عادی ہوکر اسے پوجتے پوجتے مٹی سیدیوتا اور دیوتا سے معبد بنالیتے ہیں تو ایکدم سے سارا منظر ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔
آنکھ کیاجھپکتی ہے کہ معبد گم ، دیوتا گم، مٹی کا پتلا گم، خیالات گم اور ہاتھ خالی خالی ، اور تنہائی کے مکاں میں ویران، حیران و پریشان گم سم خالی خالی آنکھیں
اور خالی خالی آنکھیں۔ دنیا کے کارواں میں ہوا کی سختیاں سہتی ’’پھول سے بچھٹری خوشبو‘‘کا منظر دیکھ رہی ہیں۔ جو کبھی کرب کی اذیت سے اپنی آنکھیں بند رکھتی ہے۔ اور کبھی ایک ٹھہری ہوئی شام کے سائے میں جا کر پناہ ڈھونڈتی ہے اور کبھی بے بسی کے عالم میں آسماں کو تکتی ہے ۔ جہاں فلک پر دور بہت دور ایک تارہ دکھائی دیتا ہے وہ نہیں جانتی کہ وہ تارہ محبت کا استعارہ ہے یا دکھ کا کوئی دھارہ دریا کا کوئی ٹوٹا کنارہ ہے ۔ یا اس کی قسمت کا کوئی ستارہ کہ جس نے گردش ماہ وسال میں ٹوٹ کر بکھرنا ہے اور ریزہ ریزہ ہو کر واپسی اس مٹی کا حصہ بننا ہے جہاں تہہ بہ تہہ مٹی برابر کر کے مالی نے پھر سے پھول لگانا ہے۔جو اس بکھری بچھٹری خوشبو کا مقدر ہو! مگر کیا کہیئے کہ ان آنکھوں کو نہ کوئی منظر ملتاہے نہ ہی ماہ و سال کے زیروبم میں کوئی منتظر ،نہ انتظار ، اور نہ ہی آس و امید کا کوئی جگنو۔
، بس ایک سوال۔
صرف ایک سوال۔
چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو۔
زندگی اتنا بتا ،کتنا سفر باقی ہے۔۔

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
۱۶جنوری ۲۰۱۶

My Facebook
Counter
Total Visits: Total Visits