پھول خوشبو اور تارہ

PostHeaderIcon کہاں پہ رہنا تھا مجھ کو،مگر کہاں پہ رہی

کہاں پہ رہنا تھا مجھ کو،مگر کہاں پہ رہی
میرا جہان ہی کب ہے یہ،میں جہاں پہ رہی

بجھے تھے درد کے جو بھی دئیے تھے آنکھوں میں
جہاں پہ درد کا ڈیرہ تھا ،میں وہاں پہ رہی 

جو شور مجھ میں بپا تھا وہ ختم ہو نہ سکا 
کہیں یقین کو کھویا ،کہیں گماں پہ رہی

نہ اس میں دوش تھا میرا ،نہ اس زما نے کا
حیا ت موت کی خواہش میں خود سناں پہ رہی

ہزار پردوں میں اس نے چھپا کے بھیجا جسے 
وہ خود نمائی کی خواہش میں خود دکاں پہ رہی

کہاں تھا میرا ٹھکانہ سمجھ نہ آیا مجھے
میں لامکان سے گزری تو کس مکاں پہ رہی

میں چپ تھی جب تو کوئی تذکرہ نہیں تھا کہیں 
لیا جو نام ترا پھر تو ہر زباں پہ رہی
ڈاکٹرنجمہ شاہین کھوسہ 

PostHeaderIcon

کہاں پہ رہنا تھا مجھ کو،مگر کہاں پہ رہی
میرا جہان ہی کب ہے یہ،میں جہاں پہ رہی

بجھے تھے درد کے جو بھی دئیے تھے آنکھوں میں
جہاں پہ درد کا ڈیرہ تھا ،میں وہاں پہ رہی 

جو شور مجھ میں بپا تھا وہ ختم ہو نہ سکا 
کہیں یقین کو کھویا ،کہیں گماں پہ رہی

نہ اس میں دوش تھا میرا ،نہ اس زما نے کا
حیا ت موت کی خواہش میں خود سناں پہ رہی

ہزار پردوں میں اس نے چھپا کے بھیجا جسے 
وہ خود نمائی کی خواہش میں خود دکاں پہ رہی

کہاں تھا میرا ٹھکانہ سمجھ نہ آیا مجھے
میں لامکان سے گزری تو کس مکاں پہ رہی

میں چپ تھی جب تو کوئی تذکرہ نہیں تھا کہیں 
لیا جو نام ترا پھر تو ہر زباں پہ رہی
ڈاکٹرنجمہ شاہین کھوسہ 

PostHeaderIcon یہ عشق عجب لمحہ ء توقیر ہے جاناں

 

یہ عشق عجب لمحہ ء توقیر ہے جاناں
خود میرا خدا اس کی ہی تفسیر ہے جاناں
جو نام ہتھیلی کی لکیروں میں نہیں تھا
کیوں آج تلک دل پہ وہ تحریر ہے جاناں

اس خواب کی تعبیر تو ممکن ہی نہیں تھی
آنکھوں میں مگر اس کی ہی تاثیر ہے جاناں

مانا کہ ترے ہاتھوں میں ہیں پھول ابھی تک
لیکن ترے پیروں میں جو زنجیر ہے جاناں

کیا جانئے کس روز بکھر جائے کہیں بھی
اس آس کی دل میں جو اک تنویر ہے جاناں

یہ روگ کہیں مجھ کو ہی مسمار نہ کر دے
آ لوٹ کر آ تُو ہی تو اکسیر ہے جاناں

تو ہجر میں ڈوبی ہوئی نَیّا کا کنارہ
جیون کی ترے پاس ہی تدبیر ہے جاناں

یہ زخم جدائی کے کبھی سلنے نہیں ہیں
تُو جان لے اپنی یہی تقدیر ہے جاناں

اُس آگ کے شعلوں میں وہ پھولوں کا تبسم
اک سجدہء بے مثل کی تصویر ہے جاناں

اب دن کی طلب ہی نہیں شاہین مجھے تو

اک شام ہی اب تو مری جاگیر ہے جاناں
nnnn

 

PostHeaderIcon نظم ۔۔ عید حیران ہے

عید مہندی کا، خوشیوں کا
رنگوں کا ، خوشبو کا
اور کانچ کی چوڑیوں کی کھنک
میں بسی آرزوؤ ں کا اک نام ہے
عید انعام ہے
عید امید ہے
عید تجدید ہے
عید جیسے کوئی روشنی کی کرن
ایک وعدے ، کہانی ، فسانے کی یا
ہجر موسم میں لپٹے ہوئے وصل کے
دکھ کی تمہید ہے
عید امید ہے
ایک گھر میں تو خوشیو ں کا سامان ہے
ایک گھر میں مگر دکھ کاطوفان ہے
عید حیران ہے
عید ہیرا نہیں ، عید موتی نہیں
عید ہنستی نہیں ، عید روتی نہیں
ایک آنگن کہیں کوئی ایسا بھی ہے
جس میں شہزادی صدیوں سے سوتی نہیں
شاہزادے کی جب دید ہوتی نہیں
عید کے دن بھی پھرعید ہوتی نہیں

1149033_10201948904630531_1540115532_n

PostHeaderIcon تخت نشین تھی عشق کی پھر بھی، دل کی بازی ہاری سائیں

تخت نشین تھی عشق کی پھر بھی، دل کی بازی ہاری سائیں
تیرا مذہب دنیا داری، میں الفت کی ماری سائیں

مثلِ خوشبو مہکی تھی مَیں، اس کے وصل کی چھاؤں میں کل
سر پر تپتی دھوپ کھڑی اب ، ساتھ میں ہجر کی باری سائیں

ہر اک موڑ پہ دل نے تجھ کو کیسے اپنا مان لیا ہے
مجھ کو مار گئی ہے تیری، جھوٹی یہ دلداری سائیں

گھِر کر آیا درد کا ساون ، جل تھل جل تھل من کا آنگن
دکھ کے آنسو کب رک پائیں، ان کی برکھا جاری سائیں

لازم ہے اب دل بھی اجڑے، ساجن سے ساجن بھی بچھڑے
ہر جانب اک شور کا میلہ ، اور دولت کے پجاری سائیں

تیرے ہر اک زخم کو اپنی روح کا اس نے زیور جانا
کیسے سج کر پھرتی ہے، اب تیری راج دلاری سائیں

درد وچھوڑا تُو کیا جانے، من مندر کو تُو کب مانے
دل کی دھڑکن کب پہچانے، تُو جذبوں سے عاری سائیں

کل سوچا تھا شعر میں تجھ سے سارے شکوے کر ڈالوں گی
آج غز ل کہنے بیٹھی تو کیوں اتنی دشواری سائیں

اپنے من کو آگ لگائی ، اور پھر اس کی راکھ اُڑائی
یوں ہی جلتے بجھتے شاہیں ساری عمر گزاری سائیں

 
saain
ڈ

PostHeaderIcon یہ سجود کا حسیں پیرہن مر ی روح پر تو سجا پیا!

یہ جو عشق مسندکے لوگ ہیں،انہیں رمز سارے سکھا پیا!
یہ جنونِ عشق کی داستاں، انھیں حرف حرف سناپیا!

مرے چارہ گر،میں ہوں در بدر،میں تو تھک گئی،ہے عجب سفر
مری بے نشاں سی ہیں منزلیں،مجھے راستہ بھی دکھا پیا!

نہ حدود میں،نہ قیود میں،مرا دل ترے ہی وجود میںcc

میں تو آس تھی،میں تو پیاس تھی،کسی پھول کی میں بھی باس تھی
مری پتیاں گریں جا بجا، انہیں شاخ پر تو سجا پیا!

میں فقیر ہوں،میں حقیر ہوں۔کسی خواب کی نہ اسیر ہوں
میں عزیز ہو ں تو تجھے ہی بس، سو عزیز تر ہی بنا پیا!

میں فلک سے آئی خطا مری،اسے ڈھونڈناہے وفا مری
یہ جفا کی جو ہیں حقیقتیں،مری آنکھ کو وہ دکھا پیا!

مرے آسماں مرے سا ئباں،توُ ہی رازداں،توُ ہی مہرباں
جہاں لا مکاں کے ہیں سلسلے، وہیں میرا گھر بھی بنا پیا!

یہ جو آرزو و ں کا دیس ہے، یہ جو خاک خاک سا بھیس ہے
جو ازل ابد کا یہ بھید ہے،اسے بھید ہی میں بتا پیا!

یہ قدم قدم پہ بشارتیں، یہ نظر نظر میں زیارتیں
یہ بصارتیں،یہ بجھارتیں،مرے شہر دل کو دکھا پیا!

یہ جو میرے من میں ہے روشنی،یہی زندگی،یہی بندگی
مری فکر میں ترے ذکر میں جو چراغ ہیں وہ جلا پیا!
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon اے مکین دل تجھے، اب نئے خواب ہوں مبارک

اے مکین دل تجھے، اب نئے خواب ہوں مبارک
ہے گناہ عشق میرا ،یہ ثواب ہوں مبارک

ترے آئینے میں روشن سا چراغ تھی سو مجھ کو 
نئے عکس ہوں مبارک،یہ عذاب ہوں مبارک

نہ ہی چوڑیاں نہ مہندی ،نہ ہی پھول ہیں نہ گجرے
مرے تن کو دکھ کے سارے یہ سحاب ہوں مبارک

مری آنکھ دشت میں ،جو ہے یہ ہجر آن بیٹھا
مری گردِ رہگزر کو ، یہ سراب ہوں مبارک 

نہیں اب مقدروں سے گلہ، کوئی مجھ کو صاحب 
مجھے شب نصیب ، تجھکو مہ تاب ہوں مبارک 

شب غم کی تیرگی میں یہ ہجوم ِ آہ و گریہ
دلِ پرملال تجھ کو یہ رباب ہوں مبارک 

نہ سمیٹ پائے شاہیں ،کوئی دل کی کرچیوں کو 
مرے ماتمی سفر کو یہ سراب ہوں مبارک

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ 

PostHeaderIcon مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی

مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی
کس گلی میں رہ گئیں وہ قربتیں نکھری ہوئی

اب مہک تیری مری ہر پور میں یوں رچ گئی
منتظر ہیں آنکھ میں کچھ حیرتیں دہکی ہوئی

ہجر کی وحشت نے دل کو کر دیا رنجور اب
بھولتی جاتی ہوں میں اب صورتیں دیکھی ہوئی

اب کہاں اور کس رفاقت میں مجھے لینی ہے سانس
شہر میں ملتی ہیں ہر جا فر قتیں بکھری ہوئی

وادیوں میں دل کی اب خاموش سی اک شام ہے
دشت میں کھو ہی گئیں وہ شدتیں مہکی ہوئی

پائی تھیں نے ہم نے کبھی رنگوں بھرے اس شہر میں
گم ہو ئیں چاہت بھری وہ نکہتیں نکھری ہوئی

mehki hui

mehki hui

PostHeaderIcon  عشق کے راز نہ پو چھو صاحب ،،عشق کو دار پہ چڑھتے دیکھا

عشق کو آنکھ میں جلتے دیکھا

پھول کو آگ میں کھِلتے دیکھا

عشق کے راز نہ پو چھو صاحب

عشق کو دار پہ چڑھتے دیکھا

عشق ہے واجب ،اس کو ہم نے

جسم اور جاں میں اترتے دیکھا

عشق کے دام بھی لگ جاتے ہیں

مصر میں اس کو بِکتے دیکھا

فلک بھی حیرت سے تکتا تھا

دشت میں اِس کو پَلتے دیکھا

عشق انوکھا منظرجس میں

راز کو خواب میں ڈھلتے دیکھا

ہجر کا زخم تو زخم ہے ایسا

بخیہ گروں سے بھی کھلتے دیکھا

عشق وہ باغ ہے جس کو ہم نے

ہجر کی رت میں مہکتے دیکھا

اس کو ہوس کا نام نہ دینا

لوح پہ اس کو لکھتے دیکھا

غم کیا ہجر و وصال کا ا س کو

عشق میں جس کو بھٹکتے دیکھا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

 

PostHeaderIcon میں ہو گئی تری مثال پیا

ہوں عشق میں مالا مال پیا
ہر سو بس تری دھمال پیا

ہو اک پل صرف وصال پیا
میں ہجر میں ترے نڈھال پیا

ترے خیال میں گزرے سال پیا
یہ عشق نظر کا کمال پیا

جس نگری عشق کا راج ہوا
کیاِ ِ ’’میں‘‘ ’’تو‘‘ کا جنجال پیا

تو روگ مرا ، تو جوگ مرا
میں ہو گئی تری مثال پیا

ترا حکم کہ میری راکھ ا’ڑے
انکار کروں ‘ نہ مجال پیا

میں تیری رضا پر راضی ہوں
جس راہ پہ اب تو ڈال پیا

اک بار تو دیکھ ‘ اک بار تو سن
ترے بن میرا کیا حال پیا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

My Facebook
Aanchal Facebook
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits