نئی شاعری

PostHeaderIcon نہ حدود میں،نہ قیود میں،مرا دل ترے ہی وجود میں

یہ جو عشق مسندکے لوگ ہیں،انہیں رمز سارے سکھا پیا!
یہ جنونِ عشق کی داستاں، انھیں حرف حرف سناپیا!

مرے چارہ گر،میں ہوں در بدر،میں تو تھک گئی،ہے عجب سفر
مری بے نشاں سی ہیں منزلیں،مجھے راستہ بھی دکھا پیا!

نہ حدود میں،نہ قیود میں،مرا دل ترے ہی وجود میں
یہ سجود کا حسیں پیرہن مر ی روح پر تو سجا پیا!

میں تو آس تھی،میں تو پیاس تھی،کسی پھول کی میں بھی باس تھی
مری پتیاں گریں جا بجا، انہیں شاخ پر تو سجا پیا!

میں فقیر ہوں،میں حقیر ہوں۔کسی خواب کی نہ اسیر ہوں
میں عزیز ہو ں تو تجھے ہی بس، سو عزیز تر ہی بنا پیا!

میں فلک سے آئی خطا مری،اسے ڈھونڈناہے وفا مری
یہ جفا کی جو ہیں حقیقتیں،مری آنکھ کو وہ دکھا پیا!

مرے آسماں مرے سا ئباں،توُ ہی رازداں،توُ ہی مہرباں
جہاں لا مکاں کے ہیں سلسلے، وہیں میرا گھر بھی بنا پیا!

یہ جو آرزو و ں کا دیس ہے، یہ جو خاک خاک سا بھیس ہے
جو ازل ابد کا یہ بھید ہے،اسے بھید ہی میں بتا پیا!

یہ قدم قدم پہ بشارتیں، یہ نظر نظر میں زیارتیں
یہ بصارتیں،یہ بجھارتیں،مرے شہر دل کو دکھا پیا!

یہ جو میرے من میں ہے روشنی،یہی زندگی،یہی بندگی
مری فکر میں ترے ذکر میں جو چراغ ہیں وہ جلا پیا!
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی

مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی
کس گلی میں رہ گئیں وہ قربتیں نکھری ہوئی

اب مہک تیری مری ہر پور میں یوں رچ گئی
منتظر ہیں آنکھ میں کچھ حیرتیں دہکی ہوئی

ہجر کی وحشت نے دل کو کر دیا رنجور اب
بھولتی جاتی ہوں میں اب صورتیں دیکھی ہوئی

اب کہاں اور کس رفاقت میں مجھے لینی ہے سانس
شہر میں ملتی ہیں ہر جا فر قتیں بکھری ہوئی

وادیوں میں دل کی اب خاموش سی اک شام ہے
دشت میں کھو ہی گئیں وہ شدتیں مہکی ہوئی

پائی تھیں نے ہم نے کبھی رنگوں بھرے اس شہر میں
گم ہو ئیں چاہت بھری وہ نکہتیں نکھری ہوئی

mehki hui

mehki hui

PostHeaderIcon  عشق کے راز نہ پو چھو صاحب ،،عشق کو دار پہ چڑھتے دیکھا

عشق کو آنکھ میں جلتے دیکھا

پھول کو آگ میں کھِلتے دیکھا

عشق کے راز نہ پو چھو صاحب

عشق کو دار پہ چڑھتے دیکھا

عشق ہے واجب ،اس کو ہم نے

جسم اور جاں میں اترتے دیکھا

عشق کے دام بھی لگ جاتے ہیں

مصر میں اس کو بِکتے دیکھا

فلک بھی حیرت سے تکتا تھا

دشت میں اِس کو پَلتے دیکھا

عشق انوکھا منظرجس میں

راز کو خواب میں ڈھلتے دیکھا

ہجر کا زخم تو زخم ہے ایسا

بخیہ گروں سے بھی کھلتے دیکھا

عشق وہ باغ ہے جس کو ہم نے

ہجر کی رت میں مہکتے دیکھا

اس کو ہوس کا نام نہ دینا

لوح پہ اس کو لکھتے دیکھا

غم کیا ہجر و وصال کا ا س کو

عشق میں جس کو بھٹکتے دیکھا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

 

PostHeaderIcon میں ہو گئی تری مثال پیا

ہوں عشق میں مالا مال پیا
ہر سو بس تری دھمال پیا

ہو اک پل صرف وصال پیا
میں ہجر میں ترے نڈھال پیا

ترے خیال میں گزرے سال پیا
یہ عشق نظر کا کمال پیا

جس نگری عشق کا راج ہوا
کیاِ ِ ’’میں‘‘ ’’تو‘‘ کا جنجال پیا

تو روگ مرا ، تو جوگ مرا
میں ہو گئی تری مثال پیا

ترا حکم کہ میری راکھ ا’ڑے
انکار کروں ‘ نہ مجال پیا

میں تیری رضا پر راضی ہوں
جس راہ پہ اب تو ڈال پیا

اک بار تو دیکھ ‘ اک بار تو سن
ترے بن میرا کیا حال پیا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon دسمبر لوٹ جاتا ہے،،،

dec

PostHeaderIcon سکھی آج یہ کیسی نیند آئی

سکھی آج یہ کیسی نیند آئی
بے خواب آنکھوں کو خواب میں اُس
بچھڑے ماہی کی دید آئی
اب ڈر کے نہ میں آنکھیں کھولوں
اک لفظ نہ خواب میں بھی بولوں
کہیں اُس سے بچھڑ نہ جاؤں میں

جیتے جی مر ہی نہ جاؤں میں

ss

PostHeaderIcon جو نوحے کسی کی جدائی پہ لکھے

جو نوحے کسی کی جدائی پہ لکھے

زمانے کی ہرزہ سرائی پہ لکھے
وہ سب زخم اب پھول بننے لگے ہیں
مرے ہجر پر اُس کی یادوں کے دیپک
بہت ہنس رہے ہیں
مچلنے لگے ہیں
یہ دل ایک بنجر زمیں کی طرح تھا
یہاں ہم نے جو اشک بوئے تھے اک شب
وہ اب میری نظموں میں ڈھلنے لگے ہیں
جو غم تھے وہ سب ہاتھ ملنے لگے ہیں
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
jo nauhay

jo nauhay

PostHeaderIcon اپنے پیروں کے چھالوں اور دل کے زخم کو پھول لکھا

اپنے پیروں کے چھالوں اور دل کے زخم کو پھول لکھا
ہم نے وصل کی خواہش کو بہکے جذبوں کی بھول لکھا

ہم تقدیر کی چال کو تال بنا رقص کناں تو ہیں
وقت نے در بدری کو ہمارے جیون کا معمول لکھا

phool likha

PostHeaderIcon سال تو کم ہیں مقدر میں ترے صدیاں چاہوں

سال تو کم ہیں مقدر میں ترے صدیاں چاہوں
غم کبھی بھی نہ ملیں ایسی میں خوشیاں چاہوں

خار تقدیر بنیں گردِ سفر کی جاناں
تیرے حصے میں فقط پھول اور کلیاں چاہوں

اس سفر میں تجھے رستے ملیں اجلے اجلے
راہ میں جتنی بھی روشن ہیں وہ گلیاں چاہوں

یہ جو خوشیوں کا نگر ہے یونہی آباد رہے
دکھ کی نگری کو میں ہر حال میں ویراں چاہوں

میں نے شاہین کبھی اپنے لئے مانگا کب ہے
ہر دعا تیرے لئے ہی تومیں اے جاناں چاہوں

30 ju

PostHeaderIcon زمیں ملے کہیں ہمیں ، کہیں تو آسماں ملے

زمیں ملے کہیں ہمیں ، کہیں تو آسماں ملے
دکھوں کی دھوپ میں شجر کوئی تو مہرباں ملے

ترے فراق میں جئے ، ترے فراق میں مرے
چلو یہ خواب ہی سہی ، وصال کا گماں ملے

الم کی شام آگئی ، لو میرے نام آ گئی
چراغ لے کے راہ میں اے کاش مہرباں ملے

ابھی تلک فغاں ہوں میں ، مثالِ داستاں ہوں میں
ملے تو ایک پل کبھی ، کہیں تو کارواں ملے

عجیب سے وہ رنگ تھے ، سبھی کے ہاتھ سنگ تھے
ہمیں تو غیر بھی سبھی ، مثالِ دوستاں ملے

جبیں ، جبیں نہیں رہی ، تو مہ جبیں نہیں رہی
نہ لوگ وہ کہیں ملے ، نہ تجھ کو آستاں ملے

aasman milay

My Facebook
Aanchal Facebook
Total Visits: Total Visits