نئی شاعری

PostHeaderIcon چاہتوں کے تخت پر ہم کو بٹھایا ،شکریہ 

چاہتوں کے تخت پر ہم کو بٹھایا ،شکریہ 
اور بٹھا کر پھر نظر سے بھی گرایا ،شکریہ

تھا بڑا ہی شوق جس کو قربتوں کا کل تلک 
راستہ بھی ہجر کا اس نے دکھایا، شکریہ

ڈھونڈتا تھا عکس اپنا میرے خال و خد میں جو 
آج مٹی میں مجھے اس نے ملایا شکریہ

روشنی کہہ کر دھوئیں میں مجھ کو اس نے گم کیا 
دل لگی ، دل کی لگی کو ہی بنایا ،شکریہ

میری اک مسکان پر قربان ہوتا تھا کبھی 
پھر اسی سنگ دل نے ہی مجھ کو رلایا ،شکریہ

سامنے دریا کی صورت میں ہے جو صحرا قبول 
زندگی جو رنگ بھی تو نے دکھایا، شکریہ

اک تمہاری ہی وفا پر مان تھا شاہین کو 
سنگ سب سے پہلے تم نے ہی اٹھایا، شکریہ

PostHeaderIcon کہاں پہ رہنا تھا مجھ کو،مگر کہاں پہ رہی

کہاں پہ رہنا تھا مجھ کو،مگر کہاں پہ رہی
میرا جہان ہی کب ہے یہ،میں جہاں پہ رہی

بجھے تھے درد کے جو بھی دئیے تھے آنکھوں میں
جہاں پہ درد کا ڈیرہ تھا ،میں وہاں پہ رہی 

جو شور مجھ میں بپا تھا وہ ختم ہو نہ سکا 
کہیں یقین کو کھویا ،کہیں گماں پہ رہی

نہ اس میں دوش تھا میرا ،نہ اس زما نے کا
حیا ت موت کی خواہش میں خود سناں پہ رہی

ہزار پردوں میں اس نے چھپا کے بھیجا جسے 
وہ خود نمائی کی خواہش میں خود دکاں پہ رہی

کہاں تھا میرا ٹھکانہ سمجھ نہ آیا مجھے
میں لامکان سے گزری تو کس مکاں پہ رہی

میں چپ تھی جب تو کوئی تذکرہ نہیں تھا کہیں 
لیا جو نام ترا پھر تو ہر زباں پہ رہی
ڈاکٹرنجمہ شاہین کھوسہ 

PostHeaderIcon تجدید عشق ؟ اور مرا اظہار ، معذرت

آنکھوں میں پھر سے خواب ہوں،دلدار معذرت
سرکار معذرت ، مرے سرکار ، معذرت

برسوں سے جن کی یاد میں برسی ہے میری آنکھ
سوچوں میں ہوں وہی درو دیوار ، معذرت

جذبات آ گئے ہیں غموں کی صلیب پر 
تجدید عشق ؟ اور مرا اظہار ، معذرت

مدت سے میرا دستِ دعا تو بلند ہے
سب خواہشیں ہو ں کیسے ثمر بار، معذرت 

جینے کو تیرے ہجر کا سامان ہے بہت
کیوں کر بسائیں پھر نیا سنسار، معذرت

بستی بہت ہی دور ہے میری اناؤں کی
ڈ ھونڈوں میں تیرے شہر کے پندار، معذرت

دوچار گام ساتھ نہ چل پاؤ گے مرے 
شاہیں یہ راستہ تو ہے دشوار، معذرت

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon اب نہیں وہ منتظر مجھ کو یہی تو ہے یقیں 

تو نہیں تو جانِ جاں پھر یہ جہاں کچھ بھی نہیں 
جز ترے رنگینیء کون و مکاں کچھ بھی نہیں

منتظر کوئی نہیں اب جل بجھے ہیں راستے 
مجھ کو مت بہلاؤ تم اب تو وہاں کچھ بھی نہیں

اب نہیں وہ منتظر مجھ کو یہی تو ہے یقیں 
ہے یقیں کا ہی یقیں ، وہم و گماں کچھ بھی نہیں

کس طرف ہیں خال و خد اور کس طرف ہیں خواب سب 
ہر طرف اب ہے دھواں مجھ پر عیاں کچھ بھی نہیں‌

ہم بھٹکتے پھر رہے ہیں رہنما کے ساتھ ہی 
در بدر ہیں سب اگر تو کارواں کچھ بھی نہیں

جس میں شاہیں ذکر میرے خال و خد کا ہی نہیں 
رد ہے ساری داستاں وہ داستاں کچھ بھی نہیں

PostHeaderIcon پھر کارگاہِ عشق میں لایاگیامجھے

پھر کارگاہِ عشق میں لایاگیامجھے
پھر زندگی کاخواب دکھایاگیامجھے

اک درد لادوامر ے حصے میں ڈال کر
سپنوں کے دیس سے بھی جگایاگیامجھے

حیرت زدہ ہے آنکھ اورحیراں ہے زندگی 
آئینہ خانے میں جو بلایاگیامجھے

ہنستی ہے میری آنکھ تو روتا ھے میرادل
سوزوالم کے گیت میں گایاگیا مجھے

کھلنے لگ ہیں زخم گلابوں کے رنگ میں
رنگِ خزاں میں ایسے سجایاگیامجھے

عشق ووفاکے ساتھ ہی اک ہجرِناتمام
کیسے خمیر۔ِ غم سے بنایا گیامجھے

تشنہ سی زندگی ہے جو دل کے فرات پر 
کرب وبلاکاروپ دکھایاگیامجھے

جس میں دہک رہا تھا مرے خواب کا آلاؤ۔۔۔
ایسی فصیلِ جاں میں جلایاگیامجھے

اب حوصلہ نہیں ہے کہ میں کرچیاں چنوں
اک بھربھری زمیں میں چھپایاگیامجھے

اذنِ سفر ملا تھا یوں شب کی سفیر کو 
جگنو میں ماہتاب دکھایا گیا مجھے

ہونے لگے ہیں آس کے سارے چراغ گل 
شاہین تیرگی میں بسایاگیامجھے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon یہ سجود کا حسیں پیرہن مر ی روح پر تو سجا پیا!

یہ جو عشق مسندکے لوگ ہیں،انہیں رمز سارے سکھا پیا!
یہ جنونِ عشق کی داستاں، انھیں حرف حرف سناپیا!

مرے چارہ گر،میں ہوں در بدر،میں تو تھک گئی،ہے عجب سفر
مری بے نشاں سی ہیں منزلیں،مجھے راستہ بھی دکھا پیا!

نہ حدود میں،نہ قیود میں،مرا دل ترے ہی وجود میںcc

میں تو آس تھی،میں تو پیاس تھی،کسی پھول کی میں بھی باس تھی
مری پتیاں گریں جا بجا، انہیں شاخ پر تو سجا پیا!

میں فقیر ہوں،میں حقیر ہوں۔کسی خواب کی نہ اسیر ہوں
میں عزیز ہو ں تو تجھے ہی بس، سو عزیز تر ہی بنا پیا!

میں فلک سے آئی خطا مری،اسے ڈھونڈناہے وفا مری
یہ جفا کی جو ہیں حقیقتیں،مری آنکھ کو وہ دکھا پیا!

مرے آسماں مرے سا ئباں،توُ ہی رازداں،توُ ہی مہرباں
جہاں لا مکاں کے ہیں سلسلے، وہیں میرا گھر بھی بنا پیا!

یہ جو آرزو و ں کا دیس ہے، یہ جو خاک خاک سا بھیس ہے
جو ازل ابد کا یہ بھید ہے،اسے بھید ہی میں بتا پیا!

یہ قدم قدم پہ بشارتیں، یہ نظر نظر میں زیارتیں
یہ بصارتیں،یہ بجھارتیں،مرے شہر دل کو دکھا پیا!

یہ جو میرے من میں ہے روشنی،یہی زندگی،یہی بندگی
مری فکر میں ترے ذکر میں جو چراغ ہیں وہ جلا پیا!
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon اے مکین دل تجھے، اب نئے خواب ہوں مبارک

اے مکین دل تجھے، اب نئے خواب ہوں مبارک
ہے گناہ عشق میرا ،یہ ثواب ہوں مبارک

ترے آئینے میں روشن سا چراغ تھی سو مجھ کو 
نئے عکس ہوں مبارک،یہ عذاب ہوں مبارک

نہ ہی چوڑیاں نہ مہندی ،نہ ہی پھول ہیں نہ گجرے
مرے تن کو دکھ کے سارے یہ سحاب ہوں مبارک

مری آنکھ دشت میں ،جو ہے یہ ہجر آن بیٹھا
مری گردِ رہگزر کو ، یہ سراب ہوں مبارک 

نہیں اب مقدروں سے گلہ، کوئی مجھ کو صاحب 
مجھے شب نصیب ، تجھکو مہ تاب ہوں مبارک 

شب غم کی تیرگی میں یہ ہجوم ِ آہ و گریہ
دلِ پرملال تجھ کو یہ رباب ہوں مبارک 

نہ سمیٹ پائے شاہیں ،کوئی دل کی کرچیوں کو 
مرے ماتمی سفر کو یہ سراب ہوں مبارک

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ 

PostHeaderIcon مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی

مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی
کس گلی میں رہ گئیں وہ قربتیں نکھری ہوئی

اب مہک تیری مری ہر پور میں یوں رچ گئی
منتظر ہیں آنکھ میں کچھ حیرتیں دہکی ہوئی

ہجر کی وحشت نے دل کو کر دیا رنجور اب
بھولتی جاتی ہوں میں اب صورتیں دیکھی ہوئی

اب کہاں اور کس رفاقت میں مجھے لینی ہے سانس
شہر میں ملتی ہیں ہر جا فر قتیں بکھری ہوئی

وادیوں میں دل کی اب خاموش سی اک شام ہے
دشت میں کھو ہی گئیں وہ شدتیں مہکی ہوئی

پائی تھیں نے ہم نے کبھی رنگوں بھرے اس شہر میں
گم ہو ئیں چاہت بھری وہ نکہتیں نکھری ہوئی

mehki hui

mehki hui

PostHeaderIcon  عشق کے راز نہ پو چھو صاحب ،،عشق کو دار پہ چڑھتے دیکھا

عشق کو آنکھ میں جلتے دیکھا

پھول کو آگ میں کھِلتے دیکھا

عشق کے راز نہ پو چھو صاحب

عشق کو دار پہ چڑھتے دیکھا

عشق ہے واجب ،اس کو ہم نے

جسم اور جاں میں اترتے دیکھا

عشق کے دام بھی لگ جاتے ہیں

مصر میں اس کو بِکتے دیکھا

فلک بھی حیرت سے تکتا تھا

دشت میں اِس کو پَلتے دیکھا

عشق انوکھا منظرجس میں

راز کو خواب میں ڈھلتے دیکھا

ہجر کا زخم تو زخم ہے ایسا

بخیہ گروں سے بھی کھلتے دیکھا

عشق وہ باغ ہے جس کو ہم نے

ہجر کی رت میں مہکتے دیکھا

اس کو ہوس کا نام نہ دینا

لوح پہ اس کو لکھتے دیکھا

غم کیا ہجر و وصال کا ا س کو

عشق میں جس کو بھٹکتے دیکھا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

 

PostHeaderIcon میں ہو گئی تری مثال پیا

ہوں عشق میں مالا مال پیا
ہر سو بس تری دھمال پیا

ہو اک پل صرف وصال پیا
میں ہجر میں ترے نڈھال پیا

ترے خیال میں گزرے سال پیا
یہ عشق نظر کا کمال پیا

جس نگری عشق کا راج ہوا
کیاِ ِ ’’میں‘‘ ’’تو‘‘ کا جنجال پیا

تو روگ مرا ، تو جوگ مرا
میں ہو گئی تری مثال پیا

ترا حکم کہ میری راکھ ا’ڑے
انکار کروں ‘ نہ مجال پیا

میں تیری رضا پر راضی ہوں
جس راہ پہ اب تو ڈال پیا

اک بار تو دیکھ ‘ اک بار تو سن
ترے بن میرا کیا حال پیا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits