نئی شاعری

PostHeaderIcon میں ہو گئی تری مثال پیا

ہوں عشق میں مالا مال پیا
ہر سو بس تری دھمال پیا

ہو اک پل صرف وصال پیا
میں ہجر میں ترے نڈھال پیا

ترے خیال میں گزرے سال پیا
یہ عشق نظر کا کمال پیا

جس نگری عشق کا راج ہوا
کیاِ ِ ’’میں‘‘ ’’تو‘‘ کا جنجال پیا

تو روگ مرا ، تو جوگ مرا
میں ہو گئی تری مثال پیا

ترا حکم کہ میری راکھ ا’ڑے
انکار کروں ‘ نہ مجال پیا

میں تیری رضا پر راضی ہوں
جس راہ پہ اب تو ڈال پیا

اک بار تو دیکھ ‘ اک بار تو سن
ترے بن میرا کیا حال پیا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon سکھی آج یہ کیسی نیند آئی

سکھی آج یہ کیسی نیند آئی
بے خواب آنکھوں کو خواب میں اُس
بچھڑے ماہی کی دید آئی
اب ڈر کے نہ میں آنکھیں کھولوں
اک لفظ نہ خواب میں بھی بولوں
کہیں اُس سے بچھڑ نہ جاؤں میں

جیتے جی مر ہی نہ جاؤں میں

ss

PostHeaderIcon جو نوحے کسی کی جدائی پہ لکھے

جو نوحے کسی کی جدائی پہ لکھے

زمانے کی ہرزہ سرائی پہ لکھے
وہ سب زخم اب پھول بننے لگے ہیں
مرے ہجر پر اُس کی یادوں کے دیپک
بہت ہنس رہے ہیں
مچلنے لگے ہیں
یہ دل ایک بنجر زمیں کی طرح تھا
یہاں ہم نے جو اشک بوئے تھے اک شب
وہ اب میری نظموں میں ڈھلنے لگے ہیں
جو غم تھے وہ سب ہاتھ ملنے لگے ہیں
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
jo nauhay

jo nauhay

PostHeaderIcon اپنے پیروں کے چھالوں اور دل کے زخم کو پھول لکھا

اپنے پیروں کے چھالوں اور دل کے زخم کو پھول لکھا
ہم نے وصل کی خواہش کو بہکے جذبوں کی بھول لکھا

ہم تقدیر کی چال کو تال بنا رقص کناں تو ہیں
وقت نے در بدری کو ہمارے جیون کا معمول لکھا

phool likha

PostHeaderIcon مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی

مل رہی ہیں چار سو کیوں وحشتیں بہکی ہوئی
کس گلی میں رہ گئیں وہ قربتیں نکھری ہوئی

اب مہک تیری مری ہر پور میں یوں رچ گئی
منتظر ہیں آنکھ میں کچھ حیرتیں دہکی ہوئی

ہجر کی وحشت نے دل کو کر دیا رنجور اب
بھولتی جاتی ہوں میں اب صورتیں دیکھی ہوئی

اب کہاں اور کس رفاقت میں مجھے لینی ہے سانس
شہر میں ملتی ہیں ہر جا فر قتیں بکھری ہوئی

وادیوں میں دل کی اب خاموش سی اک شام ہے
دشت میں کھو ہی گئیں وہ شدتیں مہکی ہوئی

پائی تھیں نے ہم نے کبھی رنگوں بھرے اس شہر میں
گم ہو ئیں چاہت بھری وہ نکہتیں نکھری ہوئی

mehki hui

mehki hui

PostHeaderIcon سال تو کم ہیں مقدر میں ترے صدیاں چاہوں

سال تو کم ہیں مقدر میں ترے صدیاں چاہوں
غم کبھی بھی نہ ملیں ایسی میں خوشیاں چاہوں

خار تقدیر بنیں گردِ سفر کی جاناں
تیرے حصے میں فقط پھول اور کلیاں چاہوں

اس سفر میں تجھے رستے ملیں اجلے اجلے
راہ میں جتنی بھی روشن ہیں وہ گلیاں چاہوں

یہ جو خوشیوں کا نگر ہے یونہی آباد رہے
دکھ کی نگری کو میں ہر حال میں ویراں چاہوں

میں نے شاہین کبھی اپنے لئے مانگا کب ہے
ہر دعا تیرے لئے ہی تومیں اے جاناں چاہوں

30 ju

PostHeaderIcon زمیں ملے کہیں ہمیں ، کہیں تو آسماں ملے

زمیں ملے کہیں ہمیں ، کہیں تو آسماں ملے
دکھوں کی دھوپ میں شجر کوئی تو مہرباں ملے

ترے فراق میں جئے ، ترے فراق میں مرے
چلو یہ خواب ہی سہی ، وصال کا گماں ملے

الم کی شام آگئی ، لو میرے نام آ گئی
چراغ لے کے راہ میں اے کاش مہرباں ملے

ابھی تلک فغاں ہوں میں ، مثالِ داستاں ہوں میں
ملے تو ایک پل کبھی ، کہیں تو کارواں ملے

عجیب سے وہ رنگ تھے ، سبھی کے ہاتھ سنگ تھے
ہمیں تو غیر بھی سبھی ، مثالِ دوستاں ملے

جبیں ، جبیں نہیں رہی ، تو مہ جبیں نہیں رہی
نہ لوگ وہ کہیں ملے ، نہ تجھ کو آستاں ملے

aasman milay

PostHeaderIcon گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی

گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی
مَیں چاہتوں کی ریاضتوں میں تمہیں ملوں گی

تم اپنی منزل کے راستوں میں جو دیکھ پاؤ
تو راستوں کی صعوبتوں میں تمہیں ملوں گی

نہیں ملوں گی کسی بھی وصل آشنا سفر میں
مَیں ہجر موسم کی شدتوں میں تمہیں ملوں گی

کہ مَیں نے چاہت کو بھی عقیدہ بنا لیا ہے
اگر ملی تو عقیدتوں میں تمہیں ملوں گی

مَیں جانتی ہوں کہ تیرے ادراک میں نہیں ہوں
مگر وفا کی شباہتوں میں تمہیں ملوں گی

ہو قیدتم اپنی ذات کے خول میں اگرچہ
بس ایک خوشبو ہوں دستکوں میں تمہیں ملوں گی

وہ بنتِ حوا کو گو نظر سے گرا رہے ہیں
مگر وہ کہتی ہے رفعتوں میں تمہیں ملوں گی

نہیں ہے شاہین خواب پر اعتبار مجھ کو
سو زندگی کی حقیقتوں میں تمہیں ملوں گی

10438806_10204302300023945_956481180_n

PostHeaderIcon آئینہ تھا ،میں تھی اور اُس کی نگاہوں کا حصار

آئینہ تھا ،میں تھی اور اُس کی نگاہوں کا حصار
اِس رعایا کو ملا یوں بادشاہوں کا حصار

دشت میں زادِ سفر اتنا ہی تھا میرے لئے
اشک تھے اورساتھ تھا بس میری آہوں کا حصار

کیا کریں ہم کو تو بڑھنے ہی نہیں دیتا کہیں
گم شدہ منزل کا اور کچھ الجھی راہوں کا حصار

سانس لینے سے بھی اکثر روک دیتے ہیں ہمیں
جان لیوا ہو چلا ہے خیر خواہوں کا حصار

اس لئے تو کاروانِ دل ابھی بھٹکا نہیں
اک جبینِ عشق ہے اور سجدہ گاہوں کا حصار

خود خدا تاریکیوں میں راہ دکھلائے ہمیں
خود خدا بنتا ہے شاہیں بے گناہوں کا حصار

hisaar

hisaar

PostHeaderIcon مجھ کو وہ حسرتوں کی یوں تصویر کر گیا

مجھ کو وہ حسرتوں کی یوں تصویر کر گیا
چنری کو تپتی دھوپ کی جاگیر کر گیا

خواہش تو تھی کہ گل کی طرح سے کھلوں مگر
وہ زرد سی رتیں ہی بس تقدیر کر گیا

جیسے ہی میں دہلیز کے اس پار آگئی
دیوارِ ہجر اک نئی تعمیر کر گیا

قصہ جنونِ عشق کا تم پوچھتے ہو کیوں
ہر ایک دکھ وہ باعثِ توقیر کر گیا

اس داستاں میں کون سا کردار ہے مرا
سوہنی ہوں، صاحباں ہوں یا کہ ہیر کر گیا؟

مدت سے ایک چاک پرہے رقص میں حیات
وہ کوزہ گر کچھ اس طرح تسخیر کر گیا

جیون میں روشنی کی ضمانت بھی ہے وہی
اک دائمی سی رات جو تحریر کر گیا

chunri

My Facebook
Counter
Total Visits: Total Visits