کتابیں

PostHeaderIcon وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا

14212739_10211084473334039_7972558674200796211_n
پھول سے بچھڑی خوشبو ۔۔ پہلا شعری مجموعہ

ہنسی نہ دے سکا مگر مجھے ملال دے گیا
وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا

وفا کو پھر لغات میں فریب ہی لکھا گیا
وہ چاہتوں کو دیکھئے عجب مثال دے گیا

پھر آئینے کے روبرو تمام عکس کھو گئے
بے چہرگی کو بھی نئے وہ خدو خال دے گیا

تمام عمر ہم جواب ڈھونڈتے رہیں گے اب
کمال یہ کیا ہمیں نیا سوال دے گیا

مقدروں سے کھیلتے رہیں گے روز و شب مرے
وہ وقت کی بساط پر نئی ہی چال دے گیا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon پھر مصر کے بازار میں نیلام ہوا کیوں؟

پھر مصر کے بازار میں نیلام ہوا کیوں؟
اے عشق بتا تیرا یہ انجام ہوا کیوں؟

ہم باعثِ راحت جسے سمجھے تھے وہ لمحہ
اب اپنے لئے باعثِ آلام ہوا کیوں؟

اے عشق فلک پر تجھے لکھا جو خدا نے
پھر تیرا مقدر بھلا ابہام ہوا کیوں؟

اے عشق ترا نام ہے جب سچ کی علامت
اے عشق تُورسوا یوں سرِ عام ہوا کیوں؟

جب ایک ہی سجدے میں ترا بھید چھپا ہے
پھر سنگِ ملامت ہی ترا دام ہوا کیوں؟

اے آنکھ تُو بے خواب ہے خوابوں کی طلب میں
یہ ہجر ہی آخر ترا انعام ہوا کیوں؟

چہرے پہ ترے کس لئے حیرت ہے ابھی تک
یہ اتنی وضاحت پہ بھی ابہام ہوا کیوں؟

اس دل کو ہے محبوب وہی درد کا نغمہ
اس دل میں تعجب ہے یہ کہرام ہوا کیوں؟

جو تیری محبت کو سمجھ ہی نہیں پایا
شاہین یہ دل اُس کے بھلا نام ہوا کیوں؟

phir misr

phir misr

PostHeaderIcon محبتیں بھی ہیں عارضی اور یہ رفاقتیں سب جداجداہیں


یہ راستے سب جداجداہیں،یہ منزلیں سب جداجداہیں
یہ آئینے سب الگ الگ ہیں،یہ صورتیں سب جداجداہیں

کسی کے لفظوں کا اعتبار اب کریں تو کیسے کریں بھلاہم
کہ لفظ ہیں سب کے ایک جیسے،ضرورتیں سب جداجداہیں

مقدروں کے جو کھیل ہیں یہ بہت نرالے ہیں اس جہاں میں
کہ صورتیں تو بھلی ہیں لیکن یہ سیرتیں سب جداجداہیں

خلوص کی اب کسی کو کوئی نہیں ضرورت کہ اب تو سب کی
محبتیں بھی ہیں عارضی اور یہ رفاقتیں سب جداجداہیں

جہاں جسے جو بھی سوجھتا ہے وہ سوچتا ہے وہ بولتا ہے
سو سب مثالیں الگ الگ ہیں کہاوتیں سب جداجداہیں

PostHeaderIcon قاتلوں کی صورت میں چارہ گرہی ملتے ہیں

bay-samar-shajjar
چاہتوں کے رستے میں گو شجرہی ملتے ہیں
ہاں مگر یہ دکھ ہے سب بے ثمرہی ملتے ہیں

کس سے آج پوچھیں ہم کس نگروہ رہتاہے؟
ہم کوسب مسافر تو بے خبر ہی ملتے ہیں

اب خوشی کے لمحوں پراعتبارکیسے ہو؟
جب دکھوں کے لمحے سب معتبرہی ملتے ہیں

قاتلوں سے اب ہم کو خوف ہی نہیں آتا
قاتلوں کی صورت میں چارہ گرہی ملتے ہیں

اس لئے ہیں سب رستے منزلوں سے بیگانے
راہزن نہیں کوئی ، راہبرہی ملتے ہیں

کس طرح سے میں شاہین اُس کومانگ سکتی ہوں
لفظ جب دعاکے سب بے اثرہی ملتے ہیں

PostHeaderIcon مرا درد شاہیں ٹھہر گیا،یا ہے ضبط میراکمال کا؟

maah-o-saal-ka
آحساب کر کسی روز اب ،کسی گزرے ماہ کاسال کا
شب وروز کے اسی ہجرکا،کسی خواب خواب وصال کا

وہ جوہمسفر تھا بچھڑ گیا،وہ غبار رہ میں کدھرگیا؟
مگراک ادھوراجواب تھا،مرے ان کہے سے سوال کا

نہ ہے جستجو کسی راہ کی،نہ ہی آرزو کسی چاہ کی
نہ ہی رنجشیں کسی ہجرکی،نہ خیال تیرے ملال کا

وہ جوگیت تھاوہ سنا نہیں ،وہ جو پھول تھا وہ کھلانہیں
مگرآج بھی مجھ یوں لگے ،وہ گمان سا تھاغزال کا

یہ جوحسن ہے مری نظم میں ،یہ جوجذب ہے مرے شعرمیں
یہ مرے قلم کا کمال ہے،یا ہے عکس تیرے جمال کا؟

نہ ہی میرا دل بے قرارہے،نہ ہی بے بسی ،نہ ہی بے کلی
مرا درد شاہیں ٹھہر گیا،یا ہے ضبط میراکمال کا؟
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon محبت کا چاند گرہن !

ماں کہتی تھی
میری ننھی سی گڑیا
آج باہر نہ نکل
کیا تجھ کو معلوم نہیں
آج سورج گرہن ہے
روایت کہتی ہے
سورج گرہن ہو تو
دیکھنے سے آنکھیں بینائی کھو دیتی ہیں
چہرے مرجھاجاتے ہیں
ان پہ زردی چھا جاتی ہے
مہکتے تن ومن کُملاجاتے ہیں
پھول اوڑھ لیتے ہیں زرد رتوں کا پیرہن
بہاریں خزاں میں ڈھل جاتی ہیں
یہاں تک کے سمندر کے بھنور
اور زمین کے مدو جزر بھی بدل جاتے ہیں
مری گڑیا
تو باہر نہ نکل
کہ تیری غزالی آنکھوں اور روپہلے چہرے کو
کہیں چاٹ نہ لے یہ سورج گرہن
مگر آج ماں کو بتائے کون
اس کی گڑیا کو
جسے زرد کر نہ سکا سورج گرہن
اسے ڈَس گیا محبت کا چاند گرہن

chand grehn

chand grehn

PostHeaderIcon کس کی آس امید پہ اے دل! آنکھیں روز بچھاتے ہیں

188684_1914354064861_1734217_nکس کی آس امید پہ اے دل! آنکھیں روز بچھاتے ہیں
دن بھر اس کی راہ تکتے ہیں، شب بھر دئیے جلاتے ہیں

خون کے آنسو روتے ہیں، فرقت کی لمبی راتوں میں
شب بھر تارے گنتے ہیں، ہم چاند سے آنکھ چراتے ہیں

صدیوں سے ہے ریت ہماری اور ہمارا شیوہ بھی
چاہے جتنی عمر بسر ہو، اپنا عہد نبھاتے ہیں

جان لبوں پہ آجائے تو دشتِ وفا کے ہم سفرو!
اپنے آنسو پی لیتے ہیں، من کی پیاس بجھاتے ہیں

سینے میں کسک سی رہتی ہے، آنکھوں میں جلن سی ہوتی ہے
شاہین شبِ ہجراں میں کیسے اپنا وقت نبھاتے ہیں

PostHeaderIcon ‎پھول سے بچھڑی خوشبو ۔۔ پہلا شعری مجموعہ‎.

اب برسوں بعد ملے ہو تو کچھ اپنا حال احوال کہو
کہو کیسے ہجر کی رات کٹی اور کتنے ملے ہیں ملال کہو؟

کیا ہجر کا دکھ زندہ ہے ابھی کسی آتے جاتے موسم میں؟
یا ماضی کا قصہ ٹھہرا ہے آج وہ عہدِ وصال کہو؟

مرے بام و در میں سجا ہوا چہرہ بھی وہی آنکھیں بھی وہی
کیا بدل گئے ہیں تمہاری طرف اب سارے خد وخال کہو؟

اس دل کے سہارے کاٹا ہے اب تک کا سفر یہ مسافر نے
ورنہ کیسے کٹتے سوچو مشکل کے یہ ماہ اور سال کہو؟

تری یاد کی دھوپ میں جلتے اور چلتے ہی رہے جو رستے میں
کبھی ان تنہا لوگوں کا بھی تمہیں آیا ہے کوئی خیال کہو ؟

تج ڈالا تمہاری خواہش میں شاہین اپنی ہر خواہش کو
بھلا ہم جیسے دیوانوں کی کہیں ملے گی کوئی مثال کہو ؟

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہmisaal kaho

PostHeaderIcon میری پہلی نظم ۔۔۔ملاقات آخری

مجھ کو رہے گی یاد ملاقات آخری
ہونٹوں پہ رہ گئی تھی کوئی بات آخری 
آنکھوں کے دشت میں تھے نگینے سجے ہوئے 
چاہت کی جس طرح سے ہو سوغات آخری 
ٹھہرا ہوا سا د ن تھا اور 
گہری اداس شام 
دل کے نگر میں چھائی تھی 
جذبوں کی وہ نمی 
بھولوں گی کس طرح سے میں
لمحات آخری 
وہ ملاقات آخری 
رک رک کے مڑ کے دیکھتا تھا بے نوا کوئی 
اور دوڑتی تھی سائے کے پیچھے میں بے خطر
اک شام سے تھا رات کا تنہا کٹھن سفر
مرجھا گیا چمن میں ہر اک پھول ہر شجر
آہوں کا سسکیوں کا سمندر تھا موجزن
اس کا خیال روح کے اندر تھا موجزن
ہو گی نہ اب کبھی بھی وہ برسات آخری
مجھ کو رہے گی یاد ملاقات آخری
کیسا وہ آشنا تھا اور کیسا تھا اجنبی
اپنے لئے یہ دکھ بھی بہت ہی عجیب تھا
گو فاصلے بہت تھے مگر وہ قریب تھا
شکوہ مرے لبوں پہ تو آیا نہ تھا کبھی 
وہ کہہ رہا تھا ہجر ہی اپنا نصیب ہے 
بھولوں گی کس طرح سے میں کلمات آخری 
وہ ملاقات آخری 
پھر اس کے بعد روح میں پھیلا وہ انتشار 
جیسے پکارتے ہوں وہ جذبے سے بے قرار 
دشتِ طلب میں جیسے کوئی روئے زار زار 
پھولوں کو چھوڑ کر لئے کانٹوں کے ہم نے ہار 
دن رات کا سفر بھی کٹے ایک آس پر
ممکن ہے نام لے وہ مرا پھر سے بار بار
دل بے قرار ہو کوئی دھڑکن بھی لے پکار 
لیکن میں جانتی ہو ں ہر اک موج رنگ میں 

 

اس دن چھلک رہے تھے وہ جذبات آخری 
اب توبس اک امید ہے اک آس ہے مجھے 
ممکن ہے اس طرح سے بھی ا ک روز ہو کبھی 
خوابوں کے اس نگر میں یونہی لوٹ آئے و ہ 
دل پر دیں دستکیں اگر جذبے وہی کبھی 
چھا جائے پھر سے شام کبھی سرد سی وہی 
دل کی خلش تو اب نہ مٹے گی تمام عمر
آنے پہ اس کے ہوں گی رسومات آخری
میرے کٹیں گے ایسے اب لمحات آخری
بھولوں گی اس طرح سے ملاقات آخری

 

mulaqat aakhri

PostHeaderIcon کیسے عجیب دکھ تھے،دل میں چھپا کے لائے

sunaa-ky-laiy
کیسے عجیب دکھ تھے،دل میں چھپا کے لائے
گردِ سفرتھی رہ میں ،بس ہم اٹھا کے لائے

ہر رہ گزرپہ اُس کو رکھنا تھا یاد سو ہم
انجان راستوں میں، خود کو بھلا کے آئے

جیون کی دھوپ میں یوں تنہا سفر تھا اپنا
سکھ سب کو بانٹ ڈالے، بس دکھ اٹھا کے لائے

اپنے تھے یا پرائے لہجوں میں بس چبھن تھی
مسکان اپنے لب پر پھر بھی سجا کے لائے

پڑھتا نہیں ہے کو ئی پھر بھی لکھا ہے ہم نے
سنتا نہیں ہے کو ئی لیکن سنا کے آئے

اس واسطے تو شا ہیں مری روح جل رہی ہے
جیون کی آگ میں ہم خود کو جلا کے آئے
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits