اور شام ٹھہر گئی

PostHeaderIcon لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں

salam2
سلام

دکھوں کی تفصیل لکھنے بیٹھوں تو اشک اپنے تمام لکھوں
لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں

وہ جس نے سجدے میں سر کٹا کے ہمیں نوازا بلندیوں سے
وفا کے سجدوں کے شاہ کو ہی میں آج شاہ و اما م لکھوں

یہاں سکینہ کا، اصغر ،اکبر کا اور قاسم کا تذکرہ ہے
ورق ورق پر ہیں اشک پھیلے میں حرف حرف احترام لکھوں

مجھے شہیدوں کا ذکر کرنا ہے سوچ کو معتبر تو کر لوں
قطار میں سارے لفظ رکھوں ،ملے جنہیں پھر دوام لکھوں

ہماری گلیوں میں قتل کب تک روا رہے گا ،سوال پوچھوں
ہمارے ظلمت کدے میں کب ہو گا روشنی کا قیام لکھوں

یہی تقدس ہے اب تو میرا،اسی سے نجمہ مری حفاظت
میں اپنی چادر کے چاروں کونوں پہ بی بی زینب کا نام لکھوں

PostHeaderIcon دسمبر لوٹ جاتا ہے

dec

 

 

 

 

 

اُسے کہنا کہ حیرانی مجھے حیرت سے تکتی ہے
مرے جیون پہ خود بھی زندگی روتی ہے ہنستی ہے
نظر جب بھی ہتھیلی کی لکیروں سے الجھتی ہے
ان آنکھوں سے جھڑی ساون کی
پھر کچھ ایسی لگتی ہے
مرا دل رک سا جاتا ہے
مہینہ ہجر کا جب بھی
مرے آنگن میں آتا ہے
اداسی کے ہر اک منظر کو وہ موجود پاتا ہے
نگاہوں کو جھکا کر بس دسمبر لوٹ جاتا ہے

PostHeaderIcon اس سے بڑھ کر مری وفا کا کوئی نہیں گواہ

اس سے بڑھ کر مری وفا کا کوئی نہیں گواہ
غزلیں ، نظمیں ، سجدے،آنسو اور اِک شب سیاہ

ہر اِک گام پہ ہوتا ہے کیوں ارمانوں کا خون
صرف سلامت رہ جاتے ہیں کیوں منصب اور جاہ

اسی لیے تو روشن مصرعے روشنیاں پھیلائے
آنکھ میں روشن تارہ چمکے ، سوچ میں کامل ماہ

اک لمحے کی خوشی کا ایسے دینا ہے تاوان
ہم نے دکھ سے کرنا ہے اب ساری عمر نبھاہ

پھول بھی شاہیں بن جاتے ہیں ارمانوں کی دھول
سیج کی راہ جو بن جاتی ہے بس مقتل کی راہ

nnnn

PostHeaderIcon دوستی کے لہجے میں دشمنی نے ماراہے

دوستی کے لہجے میں دشمنی نے ماراہے
دکھ تو یہ ہے ہم کو بس اک خوشی نے ماراہے

تیرگی کا ہم کریں اب گلہ بھلا کیسے
ہم کو چاند راتوں میں چاندنی نے مارا ہے

دردِ نا رسائی اب ہم کو کیسے مارے گا
الوداعی لمحوں کی بے بسی نے مارا ہے

دوش کیا رقیبوں کو آج دیں کہ ہم کو تو
اپنی ہی محبت کی بے حسی نے مارا ہے

شہر میں جو رہتا تھا اجنبی سا دیوانہ
سب کو علم ہے اس کو آگہی نے مارا ہے

آرزو شکستہ ہے ، دل اداس رہتاہے
بس تمہاری یادوں سے دوستی نے مارا ہے

ہر قدم پہ اپنی یہ زندگی سلگتی ہے
شہر یہ جفا کا تھا ، مخلصی نے مارا ہے

mara hy

PostHeaderIcon چاندنی چپ رہی ، روشنی چپ رہی

چاندنی چپ رہی ، روشنی چپ رہی
میری ہر بات پر زندگی چپ رہی

ہم تو گھٹ گھٹ کے اک روز مر جائیں گے
اس گھٹن میں اگر آنکھ بھی چپ رہی

درد میرا بیاں اِن سے کب ہو سکا
شعر خاموش تھے ، شاعری چپ رہی

اک یقیں تھا پلٹ آئے گا وہ ابھی
میں تو بس اُس کی رہ دیکھتی چپ رہی

مجھ کو مقتل میں جس روز بھیجا گیا
سوچتی ہوں میں کیوں اُس گھڑی چپ رہی

میں نے شاہین جیون گزارا ہے یوں

نیند میں بات کی ، جاگتی چپ رہی

chup rahi

PostHeaderIcon نظم ۔۔ سہارا ماں ہے

دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہے
میں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے

اُس کے قدموں میں جو جنت ہے تو مطلب یہ ہے
آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے

خوشبو ایسی کہ مری روح تلک مہکی ہے
روشنی ایسی کہ بس نور کا دھارا ماں ہے

تپتے صحراؤں میں کس طرح بھٹک سکتی ہوں
مجھ کو جو راہ دکھائے وہ ستارہ ماں ہے

اُس کے ہر دکھ کو میں لفظوں میں سموتی کیسے
میں نے اشکوں سے بس اک لفظ اُبھارا ’’ماں‘‘ ہے

سب نے پوچھا کہ بھنور سے تُو بچے گی کیسے
میں نے بے ساختہ نجمہ یہ پکارا ’’ماں ہے‘‘

maan

PostHeaderIcon نظم ۔۔ اے مرے مہرباں!

پوچھتی ہوں تمہیں اک سوال آج میں
پوچھتی ہوں وہ لمحے کہاں ہیں بھلا
جو ترے پاس تھے
جو مری آس تھے
میرے لمحے بھلا دھول کیسے ہوئے ؟
خواب وہ وقت کی دھول کیسے ہوئے ؟
کیسے بجھنے لگے تھے ستارے سبھی؟
کیسے جگنو اندھیروں میں خود کھو گئے ؟
تتلیاں پھول سے دور کیسے ہوئیں ؟
ابر سے آگ کیسے برسنے لگی؟
زندگی کس لئے مجھ پہ ہنسنے لگی؟

ایک شہنائی میں دب گئیں سسکیاں
سوگ کی کیفیت ، وقت ماتم کناں
ہر طرف شور تھا، ہر طر ف تھی فغاں
بے بسی کے وہ لمحے تھے نا مہرباں
ہو رہی تھی رقم اک نئی داستاں
ایسے لمحات میں سو گئے تم کہاں
چھوڑ کر مجھ کو مقتل میں تنہا بھلا
سو گئے تم کہاں
اے مرے مہرباں!

mehrban

PostHeaderIcon نظم ۔۔ یہ مرا انت ہے

میرے مقتل کو جس دن سجایا گیا
بے بسی کو سہیلی بنایا گیا
ایک شہنائی کی دھن پہ جس روز اک
ماتمی گیت مجھ کو سنایا گیا
ایسے لمحوں میں نے تڑپتے ہوئے
آسماں کو پکارا مدد کے لئے
میں نے دیکھا فلک کے ستارے سبھی
میری حالت پہ بس مسکراتے رہے
چاند ہنستا رہا بس مجھے دیکھ کر

رات گزری تو سورج ابھرنے لگا
مجھ کو سورج سے اتنی سی امید تھی
گر یہ میری مدد کو نہ آیا تو پھر

یہ مری بے بسی پر ہنسے گا نہیں
یہ مگر کیا ہوا ؟
روشنی کی علامت یہ سورج جو ہے
میری تاریکیوں کو بڑھانے لگا
مجھ پہ ہنسنے لگا ، مسکرانے لگا

پھر زمیں کو مدد کے لئے میں نے آواز دی
اُس سے فریاد کی
’’اے زمیں قبر جتنی جگہ چاہئے
ایک حوّا کی بیٹی کی فریاد ہے
بس مدد چاہئے ، ہاں مدد چاہئے ‘‘
مجھ کو معلوم تھا یہ زمیں ماں ہے مجھ کو نہ ٹھکرائے گی
یہ مگر کیا ہوا وہ بھی ہنسنے لگی

میں نے تھک ہار کر پھر پکارا اُسے
وہ جو منسوب تھا
وہ جو محبوب تھا

جس کی خاطر یہ جیون زمانے میں اب اتنا معتوب تھا
یہ مگر کیا ہوا ، وہ بھی ہنسنے لگا
ہر طرف قہقہے ، ہر طرف قہقہے
پھول لاتا تھا میرے لئے جو کبھی
اُس گھڑی اُس کے ہاتھوں میں بھی سنگ تھا
یہ مرا انت ہے
یہ مرا انت تھا

PostHeaderIcon نثری نظم ۔۔ زندگی اب اور نہ آزما مجھے

میں جو زمانے کی تیرگی میں روشنی ہوں
میں جو بے خواب آنکھوں کی جاگتی شبوں کی چاندنی ہوں
میں جو بہار کے پھولوں کی شگفتگی ہوں
تازگی ہوں
میری رگوں کے بہتے خون میں تحلیل ہے
میری وفا کی خوشبو
قدم قدم پر لرزتے لمحوں میں سنبھالتی ہوں
میں اپنے جیون کی آبجو

میں زمانے کے معتبر ہاتھوں سے بچائے پھرتی ہوں
آنچل کی آبرو
مانا اے زندگی!
مانا کہ تیرے شام و سحر کے دائروں میں
بکھری سب رونقیں گلفشاں ہیں
مانا کہ تیری چلچلاتی تپتی دوپہروں میں
چھاؤں کی حسرتیں نہاں ہیں
مانا کہ وصال رتوں کی سب خواہشیں جواں ہیں
مگر اے زندگی!
تیرے دامن تقدیس کی قسم
رکھنا ہے مجھ کو تیرے آنگن میں چمکتی ہوئی آرزوؤں کا بھرم
رکھنا ہے مجھ کو آسمانوں سے اونچااپنی وفاؤں کا علم
اے وقت کی ناؤ میں ٹھہری ہوئی میری ساکن زندگی
وفاؤں کی قتل گاہوں میں
میرے دریدہ دل کو نہ سجا
صدیوں سے جاگتی آنکھوں کو
خواہشوں کے خواب نہ دکھا
مجھے اُجلا مہکتا گلاب رہنے دے

ابھی کچھ وفا رتوں کا حساب رہنے دے
وہ پاکیزہ مہکتی خوشبو بے حساب رہنے دے
راہگذار دشتِ جنوں میں
ہجرتوں کا ثواب رہنے دے
میری پلکوں میں جاگتی شبوں کے
عذاب رہنے دے
میرے سرد جذبوں کی یخ بستگی کو
نوری سحر کا سیماب رہنے دے
میری متاع سخن کو
شوخ لفظوں سے سجی بے ردا
ادا نہ سکھا
میرے دل کی اجلی زمین پر
تاریک شبوں کے اندھیرے نہ بچھا
مجھے اے زندگی اب اور نہ رُلا
مجھے اب اور نہ آزما

PostHeaderIcon جب سے تجھ سے دور ہوئے ہم لفظ سے معنی بچھڑ گئے ہیں

جب سے تجھ سے دور ہوئے ہم لفظ سے معنی بچھڑ گئے ہیں
فصلِ گُل یہ کیسی آئی موسم دل کے اُجڑ گئے ہیں
میں کیوں تجھ کو ڈھونڈ رہی ہوں بخت کی ریکھاؤں میں آخر
وہ جو شجر تھے چاہت والے ، سب آندھی میں اکھڑ گئے ہیں

My Facebook
Counter
Total Visits: Total Visits