اور شام ٹھہر گئی

PostHeaderIcon مجھے جانا ہے جاناں کی طرف

مجھے جانا ہے جاناں کی طرف

مجھے جانا ہے جاناں کی طرف

اے دل میرے، ناشاد مرے
ہمزاد مرے، برباد مرے
اک عمر سے اس زندان میں ہوں
پر کھول مرے آزاد تو کر
مرے پیروں میں زنجیرِ وفا
اسے توڑ ذرا، مجھے جوڑ ذرا
مجھے جینے کی تہذیب تو دے
مری سانسوں کو ترتیب تو دے
اب خود کوذرا تُو شاد تو کر
مجھے جیون سے آزاد تو کر
تُو جانتا ہے اس جیون کو

یہ مدفن ہے ہر حسرت کا
یہ جیون ہے اک موت نما
مجھے دور یہاں سے جانا ہے
اُڑنا ہے فلک کی جانب اب
اک زنداں سے زنداں کی طرف
حیراں کی طرف، جاناں کی طرف
ہاں اُس کی طرف جس کی خاطر
یہ آنکھیں برسی ہیں شب بھر
جو خوشبو دیس کا باسی ہے
اور جس کو نہیں اب میری خبر

اے دل میرے میں خاک نشیں
کیا چاند کو اب تسخیر کروں
کس خواب کو کیوں تعبیر کروں؟

تاریک سا یہ جو جیون ہے
اب کیسے اسے تنویر کروں؟
اک رنگ جو ہے دامن میں مرے
اسے کتنی دفعہ تصویر کروں؟
دکھ سارے کیوں تحریر کروں؟

ہمزاد مرے، ناشاد مرے
اے دل میرے، برباد مرے
اب خود کو ذرا تُو شاد تو کر
اب تُو مجھ کو آزاد تو کر
مجھے جانا ہے جاناں کی طرف
حیراں کی طرف زنداں کی طرف
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon ہجر مجھ کو ملا وصل کی شام میں

اجنبی شہر کی اجنبی شام میں 
زندگی ڈھل گئی ملگجی شام میں

شام آنکھوں میں اتری اسی شام کو 
زندگی سے گئی زندگی شام میں

درد کی لہر میں زندگی بہہ گئی 
عمر یوں کٹ گئی ہجر کی شام میں

عشق پر آفریں جو سلامت رہا
اس بکھرتی ہوئی سرمئی شام میں 

میری پلکوں کی چلمن پر جو خواب تھے 
وہ تو سب جل گئے اُس بجھی شام میں 

ہر طرف اشک اور سسکیاں ہجر کی 
درد ہی درد ہے ہر گھڑی شام میں

آخری بار آیا تھا ملنے کوئی 
ہجر مجھ کو ملا وصل کی شام میں

رات شاہینؔ آنکھوں میں کٹنے لگی 
اس طرح گم ہوئی روشنی شام میں

PostHeaderIcon بے بسی کی شام پر سسکی ہے پہروں زندگی

شام کی دہلیز پر لیں درد نے انگڑائیاں
جاگ اٹھے ہیں غم سبھی اور رو پڑیں تنہائیاں

راستوں پر خاک ہے ، پھولوں سے خوشبو کھو گئی 
دن کا اب امکاں نہیں ہے کھو گئیں رعنائیاں

جب وفا گھائل ہوئی ، دنیا میں جب سائل ہوئی 
گم ہوئیں خوشیاں سبھی ہم کو ملیں رسوائیاں 

ایسے تحریریں مٹیں اور ساری تنویریں بجھیں
ہچکیاں ہی ہچکیاں اب سو گئیں پروائیاں

بے بسی کی شام پر سسکی ہے پہروں زندگی
خواب کی خواہش میں ہم تو کھو چکے بینائیاں

PostHeaderIcon پھر مصر کے بازار میں نیلام ہوا کیوں؟

پھر مصر کے بازار میں نیلام ہوا کیوں؟
اے عشق بتا تیرا یہ انجام ہوا کیوں؟

ہم باعثِ راحت جسے سمجھے تھے وہ لمحہ
اب اپنے لئے باعثِ آلام ہوا کیوں؟

اے عشق فلک پر تجھے لکھا جو خدا نے
پھر تیرا مقدر بھلا ابہام ہوا کیوں؟

اے عشق ترا نام ہے جب سچ کی علامت
اے عشق تُورسوا یوں سرِ عام ہوا کیوں؟

جب ایک ہی سجدے میں ترا بھید چھپا ہے
پھر سنگِ ملامت ہی ترا دام ہوا کیوں؟

اے آنکھ تُو بے خواب ہے خوابوں کی طلب میں
یہ ہجر ہی آخر ترا انعام ہوا کیوں؟

چہرے پہ ترے کس لئے حیرت ہے ابھی تک
یہ اتنی وضاحت پہ بھی ابہام ہوا کیوں؟

اس دل کو ہے محبوب وہی درد کا نغمہ
اس دل میں تعجب ہے یہ کہرام ہوا کیوں؟

جو تیری محبت کو سمجھ ہی نہیں پایا
شاہین یہ دل اُس کے بھلا نام ہوا کیوں؟

phir misr

phir misr

PostHeaderIcon کس کی آس امید پہ اے دل! آنکھیں روز بچھاتے ہیں

188684_1914354064861_1734217_nکس کی آس امید پہ اے دل! آنکھیں روز بچھاتے ہیں
دن بھر اس کی راہ تکتے ہیں، شب بھر دئیے جلاتے ہیں

خون کے آنسو روتے ہیں، فرقت کی لمبی راتوں میں
شب بھر تارے گنتے ہیں، ہم چاند سے آنکھ چراتے ہیں

صدیوں سے ہے ریت ہماری اور ہمارا شیوہ بھی
چاہے جتنی عمر بسر ہو، اپنا عہد نبھاتے ہیں

جان لبوں پہ آجائے تو دشتِ وفا کے ہم سفرو!
اپنے آنسو پی لیتے ہیں، من کی پیاس بجھاتے ہیں

سینے میں کسک سی رہتی ہے، آنکھوں میں جلن سی ہوتی ہے
شاہین شبِ ہجراں میں کیسے اپنا وقت نبھاتے ہیں

PostHeaderIcon لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں

salam2
سلام

دکھوں کی تفصیل لکھنے بیٹھوں تو اشک اپنے تمام لکھوں
لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں

وہ جس نے سجدے میں سر کٹا کے ہمیں نوازا بلندیوں سے
وفا کے سجدوں کے شاہ کو ہی میں آج شاہ و اما م لکھوں

یہاں سکینہ کا، اصغر ،اکبر کا اور قاسم کا تذکرہ ہے
ورق ورق پر ہیں اشک پھیلے میں حرف حرف احترام لکھوں

مجھے شہیدوں کا ذکر کرنا ہے سوچ کو معتبر تو کر لوں
قطار میں سارے لفظ رکھوں ،ملے جنہیں پھر دوام لکھوں

ہماری گلیوں میں قتل کب تک روا رہے گا ،سوال پوچھوں
ہمارے ظلمت کدے میں کب ہو گا روشنی کا قیام لکھوں

یہی تقدس ہے اب تو میرا،اسی سے نجمہ مری حفاظت
میں اپنی چادر کے چاروں کونوں پہ بی بی زینب کا نام لکھوں

PostHeaderIcon اس سے بڑھ کر مری وفا کا کوئی نہیں گواہ

اس سے بڑھ کر مری وفا کا کوئی نہیں گواہ
غزلیں ، نظمیں ، سجدے،آنسو اور اِک شب سیاہ

ہر اِک گام پہ ہوتا ہے کیوں ارمانوں کا خون
صرف سلامت رہ جاتے ہیں کیوں منصب اور جاہ

اسی لیے تو روشن مصرعے روشنیاں پھیلائے
آنکھ میں روشن تارہ چمکے ، سوچ میں کامل ماہ

اک لمحے کی خوشی کا ایسے دینا ہے تاوان
ہم نے دکھ سے کرنا ہے اب ساری عمر نبھاہ

پھول بھی شاہیں بن جاتے ہیں ارمانوں کی دھول
سیج کی راہ جو بن جاتی ہے بس مقتل کی راہ

nnnn

PostHeaderIcon دوستی کے لہجے میں دشمنی نے ماراہے

دوستی کے لہجے میں دشمنی نے ماراہے
دکھ تو یہ ہے ہم کو بس اک خوشی نے ماراہے

تیرگی کا ہم کریں اب گلہ بھلا کیسے
ہم کو چاند راتوں میں چاندنی نے مارا ہے

دردِ نا رسائی اب ہم کو کیسے مارے گا
الوداعی لمحوں کی بے بسی نے مارا ہے

دوش کیا رقیبوں کو آج دیں کہ ہم کو تو
اپنی ہی محبت کی بے حسی نے مارا ہے

شہر میں جو رہتا تھا اجنبی سا دیوانہ
سب کو علم ہے اس کو آگہی نے مارا ہے

آرزو شکستہ ہے ، دل اداس رہتاہے
بس تمہاری یادوں سے دوستی نے مارا ہے

ہر قدم پہ اپنی یہ زندگی سلگتی ہے
شہر یہ جفا کا تھا ، مخلصی نے مارا ہے

mara hy

PostHeaderIcon چاندنی چپ رہی ، روشنی چپ رہی

چاندنی چپ رہی ، روشنی چپ رہی
میری ہر بات پر زندگی چپ رہی

ہم تو گھٹ گھٹ کے اک روز مر جائیں گے
اس گھٹن میں اگر آنکھ بھی چپ رہی

درد میرا بیاں اِن سے کب ہو سکا
شعر خاموش تھے ، شاعری چپ رہی

اک یقیں تھا پلٹ آئے گا وہ ابھی
میں تو بس اُس کی رہ دیکھتی چپ رہی

مجھ کو مقتل میں جس روز بھیجا گیا
سوچتی ہوں میں کیوں اُس گھڑی چپ رہی

میں نے شاہین جیون گزارا ہے یوں

نیند میں بات کی ، جاگتی چپ رہی

chup rahi

PostHeaderIcon نظم ۔۔ سہارا ماں ہے

دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہے
میں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے

اُس کے قدموں میں جو جنت ہے تو مطلب یہ ہے
آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے

خوشبو ایسی کہ مری روح تلک مہکی ہے
روشنی ایسی کہ بس نور کا دھارا ماں ہے

تپتے صحراؤں میں کس طرح بھٹک سکتی ہوں
مجھ کو جو راہ دکھائے وہ ستارہ ماں ہے

اُس کے ہر دکھ کو میں لفظوں میں سموتی کیسے
میں نے اشکوں سے بس اک لفظ اُبھارا ’’ماں‘‘ ہے

سب نے پوچھا کہ بھنور سے تُو بچے گی کیسے
میں نے بے ساختہ نجمہ یہ پکارا ’’ماں ہے‘‘

maan

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits