میں آنکھیں بند رکھتی ہوں

PostHeaderIcon خود کو بھول جانے کا وعدہ کر رہے ہیں ہم

خود کو بھول جانے کا وعدہ کر رہے ہیں ہم
بن ترے ہی جینے کا ارادہ کر رہے ہیں ہم

روح و جاں کا رشتہ بس ٹوٹنے ہی والا ہے
اور اب غموں کو ہی لبادہ کر رہے ہیں ہم

سیدھے سادھے لفظوں میں اس کو ہم نے مانگا ہے
اک دعا جو الجھی تھی سادہ کر رہے ہیں ہم

لے کر اپنے دامن میں جو تھکن ہے صدیوں کی
آج تو جنوں سے استفادہ کر رہے ہیں ہم

ہم کو اس طرح سے ہی اب سکوں سا ملتا ہے
درد اپنے دل میں کچھ زیادہ کر رہے ہیں ہم

دیکھ تیری آنکھوں میں اشک اب یہ کیسے ہیں

دیکھ مسکرانے کا وعدہ کر رہے ہیں ہم

kr rahay

PostHeaderIcon اک شخص میری عمر کے عنوان لے گیا

اک شخص میری عمر کے عنوان لے گیا
میرے یقین کا ہر اک سامان لے گیا

کچھ خواب تھے، کہ پھول تھے، تعبیر تھی یہاں
جاتے ہوئے وہ اپنے سب پیمان لے گیا

یادوں کے پھول جس میں سجاتی رہی تھی میں
ہاتھوں سے میرے کون یہ گلدان لے گیا

تنکوں کا آشیاں جو بنایا تھا شوق سے
وہ بھی اڑا کے ساتھ میں طوفان لے گیا

وعدہ بھی ساتھ لے گیا جاتے ہوئے وہ آج
ملنے کا آخری تھا جو امکان لے گیا

nnn

PostHeaderIcon نظم ۔۔ جب بھی میری تصویر دیکھے

اسے کہو جب بھی وہ میری تصویر دیکھے
میری آنکھوں میں چھپے گرداب پڑھ لے

مرے بے رنگ ہونٹوں کی خموش زباں کو سمجھے
اور میری ژویدہ پیشانی مانند کتاب پڑھ لے

میرے اوراق میں بکھرے ہوئے لفظوں کو سمیٹے
گردش دوراں سے جو ملے وہ عذاب پڑھ لے

میرے شب و روز کا محور ہے اسکا ہجر و فراق
دشت جنوں میں جو پائے ہیں وہ عتاب پڑھ لے

اسے کہو کہ میری روح کے کرب کو بھی سوچ
ظلمت دوراں نے جو کیے ہیں بر با د
میرے وہ خواب پڑھ لے
اسے کہو میں اسکے ذکر میں رہوں نہ رہوں
وہ ہے میرا حرف طلب ، میرا انتساب پڑھ لے

tasweer

PostHeaderIcon نظم ۔۔ اک خیال

اے میرے بے چین و بے قرار دل
کیا تجھے معلوم ہے
اسکابھی کوئی پل ایسا گزرتا ہو گا
جیسے تو نے اسے پل پل سوچا
اس نے بھی تجھ کو سوچا ہو گا
جیسے یادیں ڈستی ہیں تجھے
وہ بھی تو یاد کرتا ہو گا
جب کوئی خوشی اسے ملتی ہو گی
تیری طرح کسی کی یاد میں
اسکی آنکھ کا کونہ بھی بھیگتا ہو گا
جب دنیا کے درد اسے ستاتے ہوں گے
وہ تیرے خیالوں میں پناہ لیتا ہو گا
اور تیری تسلیاں سوچ کر
من ہی من میں مسکراتا ہو گا
اے میرے بے چین و بے قرار دل
کیا واقعی ایسا ہوتا ہو گا

 

ik khayal

ik khayal

 

PostHeaderIcon محبت کا چاند گرہن !

ماں کہتی تھی
میری ننھی سی گڑیا
آج باہر نہ نکل
کیا تجھ کو معلوم نہیں
آج سورج گرہن ہے
روایت کہتی ہے
سورج گرہن ہو تو
دیکھنے سے آنکھیں بینائی کھو دیتی ہیں
چہرے مرجھاجاتے ہیں
ان پہ زردی چھا جاتی ہے
مہکتے تن ومن کُملاجاتے ہیں
پھول اوڑھ لیتے ہیں زرد رتوں کا پیرہن
بہاریں خزاں میں ڈھل جاتی ہیں
یہاں تک کے سمندر کے بھنور
اور زمین کے مدو جزر بھی بدل جاتے ہیں
مری گڑیا
تو باہر نہ نکل
کہ تیری غزالی آنکھوں اور روپہلے چہرے کو
کہیں چاٹ نہ لے یہ سورج گرہن
مگر آج ماں کو بتائے کون
اس کی گڑیا کو
جسے زرد کر نہ سکا سورج گرہن
اسے ڈَس گیا محبت کا چاند گرہن

chand grehn

chand grehn

PostHeaderIcon نظم ۔۔ کب دل اس کی بات مانے گا ؟

وہ کہتا !
کیا رکھا ہے یادوں کے جھروکوں میں
تلخیاں ہی تلخیاں ہیں ماضی کے دریچوں میں
چلو چھوڑیں نادانیاں عقل سے کام لیں
آؤ ! زمانے کا ساتھ دیں ، خوشی کا ہاتھ تھام لیں
آؤ !
دکھ کے اندھیروں سے پہلے
اپنی سحر سویرا کر لیں
ہے جہاں جہاں روشنی
آنکھیں خیرہ کر لیں
یہ درد دل اور وفاؤں کی باتیں
بہت پرانی باتیں ہیں
کیا رکھا ہے ان باتوں میں
بس یہ درد کی سوغاتیں ہیں
آؤ ہنستے ہنستے بچھڑ جائیں
مری جاں میرا کہنا مان لو
اب زہرِ جدائی پینا ہے
ذہن و دل سے جان لو
وفا کی ڈگر پہ چلتے چلتے تم بھی تھک ہی جاؤ گے
صدیوں پرانی ریت پریت کب تک تم نبھاؤ گی
جب میں ہی نہیں ہوں ساتھ تیرے
پھر کس کو تم بلاؤ گی
کیسی وفا ہے جس کو تم آزماؤ گی
تھک ہار کے مری جاں
تم بھی زمانے کی ہو جاؤ گی
دیتے دیتے یونہی صدائیں
آخرلَوٹ جاؤ گی
اک عمر گزری ، صدیاں بیتیں
مگر آج بھی یہی سوچتی ہوں میں
آخرکب وہ دن آئے گا
اُس کی طرح ، میرا دل بھی
عقل کو اپنائے گا
اس کی باتوں کو مان کر
اُسی کو بھول جائے گا
ہاں اسی کو بھول جائے گا

PostHeaderIcon مکالماتی نظم ۔۔آخری ملاقات کا منظر

میں کہتی کیسا لگتا ہے بعد برسوں کے
پھر اک حسیں ملاقات کا منظر
وہ کہتا !
دیکھ رہا ہوں اس دنیا میں قبول
حرفِ مناجات کا منظر
میں کہتی !
کیا اب بھی یاد ہے برسوں پہلے کے
اس آخری ملاقات کا منظر
وہ کہتا !
ذہن و دل پہ نقش ہے اب تک
ان اجلی آیات منظر
میں کہتی !
وہ کون تھاجس نے ہمیں برباد کیا ناشاد کیا
وہ کہتا !
بھول جاؤ گزرے ہوئے اْن تلخ لمحات کا منظر
میں کہتی!
تم بھی بے قرار سے لگتے ہو!
کس غم میں گُھلتے رہتے ہو
وہ کہتا !
آنکھوں میں رہتا ہے اب تک
اک اجڑی ہوئی بارات کا منظر
میں کہتی !
کس دیس گئے ، کیوں چاند بنے میری عید کا
وہ کہتا !
کیوں نقش ہوا تم پہ اب تک
پہلے پیار کی برسات کامنظر
میں کہتی !
کیا بھر جائیں گے کبھی یہ زخم جدائی کے
یہ ظلم تجھ ہر جائی کے
وہ کہتا !
بدلتا رہتا ہے پل پل میں
سبھی کے درجات کا منظر
وہ کہتا !
آؤ ہاتھ ملائیں ، وقت جدائی آ پہنچا ہے
بچھڑنا ہے پھر سے ، حکم خدائی آ پہنچا ہے
میں کہتی !
تجھ سے ہی تھا قائم میری حیات کا منظر
اب نہ بھولوں گی میں اپنی موت کی مدارات کا منظر
رہے گا قائم یہ موت و حیات کا منظر

30292_1449299478787_3501481_n

PostHeaderIcon نظم ۔۔ وہ رت اب نہ آئے گی

کبھی جو لوٹ کے تم آؤ گے جاناں
تم کو یاد آئیں گے دن وہ سارے
وہ بیتی باتیں وہ لمحے پیارے
جب انجانی ، ان دیکھی گلیوں میں
دو دل مہک رہے تھے
ایک منزل کے بن کے متلاشی
انجان راہوں میں بھٹک رہے تھے
یونہی بے دھیانی کے کسی ایک پل میں
جب بھی جاناں تم کو خیال آئیگا
بھول کے سارے اندیشہ و غم
دل تمہارا بھی مسکرائے گا
اور یونہی چلتے چلتے کبھی
جب ان راہوں سے گزرو گے جاناں
جہاں ایک شجر قصہ سنائے گا تم کو
دو روحوں کا ملنا دکھائے گا تم کو
وصل و فراق کی روداد وہ ساری
ٹھہر ٹھہر کے سسکیوں کے درمیاں بتائیگا تم کو
تو ایسے بے کل ، بے قرار لمحوں میں کہیں
آنکھیں تو تیری بھی بھر آئیں گی
رہ رہ کر بھولا وہ منظر دہرائیں گی
پھر وہ جدائی کا منظر و محشر
رہ رہ کے تم کو بھی یاد آئے گا
مگر موسم ووقت کی لکیروں میں جاناں
رُت وہ محبت کی بدل جائے گی
چاند کی چاندنی بھی ڈھل جائے گی
وہ پھول تارے بھی ہوں گے شاید
وہ لوگ پیارے بھی ہوں گے شاید
نگاہیں تمہاری جنہیں ڈھونڈتی ہوں گی
وہ تمھارے پیارے نہ ہوں گے شاید
ہاں ہم تمہارے نہ ہوں گے شاید

PostHeaderIcon نظم ۔۔ کتنا سکوں ہے یہاں ۔۔(ایک ہی سوچ)

میں اُس سے کہتی !
یوں اپنے سینے پہ میرا سر نہ رکھو
میں صدیوں کی جاگی ہوں
مجھے نیند آجائیگی
وہ بڑے مان سے بازو پھیلاتا
مجھے سینے سے لگاتا اور بہت پیار سے
سرگوشیوں میں کہتا
آؤ ۔۔۔۔۔۔
آؤ میری جاں
میرے بازوؤ ں میں سو جاؤ
ابھی جدائی میں کچھ وقت باقی ہے
تم بھی چند سانسیں جی لو
آؤ زندگی میں کھو جاؤ
بساؤ خواب آنکھوں میں
کچھ دیر کو سو جاؤ
اور جب وصل و قُرب کے ان حسین لمحوں میں
مجھے نیند سی آنے لگتی
میں دل میں سوچتی
’’ کتنا سکون ہے یہاں ‘‘
اتنے میں سر شا ر سے مدہوش لہجے میں
اپنی بھر پور صدا میں وہ کہتا
کتنا سکون ہے یہاں

PostHeaderIcon نظم ۔۔ آکاس بیل

کبھی بچے تھے تو سنتے تھے
آکاس بیل تناور درخت کو جکڑ لے
تو اس کی طاقت ، اس کے حسن کو
اپنی بانہیں پھیلا کر ختم کر دیتی ہے
تب پہروں بیٹھ کے سوچا کرتے تھے
آکاس بیل ہوتی ہے کیا
جب عشق ہجر کے دکھ نے
من کے تناور شجر کو گھیرا تو
تب معلوم ہوا
آکاس بیل ہوتی ہے کیا
آکاس بیل کے معنی ہیں کیا

akaas bail

akaas bail

My Facebook
Counter
Total Visits: Total Visits