پھول سے بچھڑی خوشبو

PostHeaderIcon محبتیں بھی ہیں عارضی اور یہ رفاقتیں سب جداجداہیں


یہ راستے سب جداجداہیں،یہ منزلیں سب جداجداہیں
یہ آئینے سب الگ الگ ہیں،یہ صورتیں سب جداجداہیں

کسی کے لفظوں کا اعتبار اب کریں تو کیسے کریں بھلاہم
کہ لفظ ہیں سب کے ایک جیسے،ضرورتیں سب جداجداہیں

مقدروں کے جو کھیل ہیں یہ بہت نرالے ہیں اس جہاں میں
کہ صورتیں تو بھلی ہیں لیکن یہ سیرتیں سب جداجداہیں

خلوص کی اب کسی کو کوئی نہیں ضرورت کہ اب تو سب کی
محبتیں بھی ہیں عارضی اور یہ رفاقتیں سب جداجداہیں

جہاں جسے جو بھی سوجھتا ہے وہ سوچتا ہے وہ بولتا ہے
سو سب مثالیں الگ الگ ہیں کہاوتیں سب جداجداہیں

PostHeaderIcon کیسے عجیب دکھ تھے،دل میں چھپا کے لائے

sunaa-ky-laiy
کیسے عجیب دکھ تھے،دل میں چھپا کے لائے
گردِ سفرتھی رہ میں ،بس ہم اٹھا کے لائے

ہر رہ گزرپہ اُس کو رکھنا تھا یاد سو ہم
انجان راستوں میں، خود کو بھلا کے آئے

جیون کی دھوپ میں یوں تنہا سفر تھا اپنا
سکھ سب کو بانٹ ڈالے، بس دکھ اٹھا کے لائے

اپنے تھے یا پرائے لہجوں میں بس چبھن تھی
مسکان اپنے لب پر پھر بھی سجا کے لائے

پڑھتا نہیں ہے کو ئی پھر بھی لکھا ہے ہم نے
سنتا نہیں ہے کو ئی لیکن سنا کے آئے

اس واسطے تو شا ہیں مری روح جل رہی ہے
جیون کی آگ میں ہم خود کو جلا کے آئے
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon مرا درد شاہیں ٹھہر گیا،یا ہے ضبط میراکمال کا؟

maah-o-saal-ka
آحساب کر کسی روز اب ،کسی گزرے ماہ کاسال کا
شب وروز کے اسی ہجرکا،کسی خواب خواب وصال کا

وہ جوہمسفر تھا بچھڑ گیا،وہ غبار رہ میں کدھرگیا؟
مگراک ادھوراجواب تھا،مرے ان کہے سے سوال کا

نہ ہے جستجو کسی راہ کی،نہ ہی آرزو کسی چاہ کی
نہ ہی رنجشیں کسی ہجرکی،نہ خیال تیرے ملال کا

وہ جوگیت تھاوہ سنا نہیں ،وہ جو پھول تھا وہ کھلانہیں
مگرآج بھی مجھ یوں لگے ،وہ گمان سا تھاغزال کا

یہ جوحسن ہے مری نظم میں ،یہ جوجذب ہے مرے شعرمیں
یہ مرے قلم کا کمال ہے،یا ہے عکس تیرے جمال کا؟

نہ ہی میرا دل بے قرارہے،نہ ہی بے بسی ،نہ ہی بے کلی
مرا درد شاہیں ٹھہر گیا،یا ہے ضبط میراکمال کا؟
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon قاتلوں کی صورت میں چارہ گرہی ملتے ہیں

bay-samar-shajjar
چاہتوں کے رستے میں گو شجرہی ملتے ہیں
ہاں مگر یہ دکھ ہے سب بے ثمرہی ملتے ہیں

کس سے آج پوچھیں ہم کس نگروہ رہتاہے؟
ہم کوسب مسافر تو بے خبر ہی ملتے ہیں

اب خوشی کے لمحوں پراعتبارکیسے ہو؟
جب دکھوں کے لمحے سب معتبرہی ملتے ہیں

قاتلوں سے اب ہم کو خوف ہی نہیں آتا
قاتلوں کی صورت میں چارہ گرہی ملتے ہیں

اس لئے ہیں سب رستے منزلوں سے بیگانے
راہزن نہیں کوئی ، راہبرہی ملتے ہیں

کس طرح سے میں شاہین اُس کومانگ سکتی ہوں
لفظ جب دعاکے سب بے اثرہی ملتے ہیں

PostHeaderIcon وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا

14212739_10211084473334039_7972558674200796211_n
پھول سے بچھڑی خوشبو ۔۔ پہلا شعری مجموعہ

ہنسی نہ دے سکا مگر مجھے ملال دے گیا
وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا

وفا کو پھر لغات میں فریب ہی لکھا گیا
وہ چاہتوں کو دیکھئے عجب مثال دے گیا

پھر آئینے کے روبرو تمام عکس کھو گئے
بے چہرگی کو بھی نئے وہ خدو خال دے گیا

تمام عمر ہم جواب ڈھونڈتے رہیں گے اب
کمال یہ کیا ہمیں نیا سوال دے گیا

مقدروں سے کھیلتے رہیں گے روز و شب مرے
وہ وقت کی بساط پر نئی ہی چال دے گیا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon خوش گمانی کوسلام اس بدگمانی کوسلام ،،،کررہی ہوں پیار کی ہر مہربانی کوسلام

salaaaaaaaaaam

خوش گمانی کوسلام اس بدگمانی کوسلام
کررہی ہوں پیار کی ہر مہربانی کوسلام

وحشتوں کے سائے ہی اپنامقدرہوگئے
وہ جومرجھانے لگی ہے اُس جوانی کوسلام

ہم مسافرہیں جنوں کے راستے پرگامزن
بے سروسامان ہیں اپنی کہانی کوسلام

راہ میں کھائے ہیں جو پتھربہت ہیں معتبر
رائیگاں موسم کی ہراک رائیگانی کوسلام

ہررکاوٹ اورہرمشکل کو آداب وخلوص
اور مرے ہرایک دکھ کی اس روانی کوسلام

ہے عقیدت بکھرے خوابوں کے لئے شاہین اور
اپنی آنکھوں سے چھلکنے والے پانی کوسلام

PostHeaderIcon پھول سے بچھڑی خوشبو

ہے گردشوں میں دیکھئے مری سحر ابھی
غموں کی رات کیسے ہو گی مختصر ابھی ؟

یقیں تو ہے وہ ایک دن ضرور لوٹ آئے گا
مگر کٹھن وفاؤں کی ہے رہگزر ابھی

گو باغباں نے کوششیں تمام کیں مگر
وفا کی شاخ پر نہ آئے گا ثمر ابھی

سبھی کو علم ہے جو میرا حال ہے یہاں
خبر نہیں وہ کس لئے ہے بے خبر ابھی

غزل پیام بن سکے کہ حالِ دل ہو نظم میں
میں آزما رہی ہوں اپنا ہر ہنر ابھی

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
sahar abhi

PostHeaderIcon ‎پھول سے بچھڑی خوشبو ۔۔ پہلا شعری مجموعہ‎.

اب برسوں بعد ملے ہو تو کچھ اپنا حال احوال کہو
کہو کیسے ہجر کی رات کٹی اور کتنے ملے ہیں ملال کہو؟

کیا ہجر کا دکھ زندہ ہے ابھی کسی آتے جاتے موسم میں؟
یا ماضی کا قصہ ٹھہرا ہے آج وہ عہدِ وصال کہو؟

مرے بام و در میں سجا ہوا چہرہ بھی وہی آنکھیں بھی وہی
کیا بدل گئے ہیں تمہاری طرف اب سارے خد وخال کہو؟

اس دل کے سہارے کاٹا ہے اب تک کا سفر یہ مسافر نے
ورنہ کیسے کٹتے سوچو مشکل کے یہ ماہ اور سال کہو؟

تری یاد کی دھوپ میں جلتے اور چلتے ہی رہے جو رستے میں
کبھی ان تنہا لوگوں کا بھی تمہیں آیا ہے کوئی خیال کہو ؟

تج ڈالا تمہاری خواہش میں شاہین اپنی ہر خواہش کو
بھلا ہم جیسے دیوانوں کی کہیں ملے گی کوئی مثال کہو ؟

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہmisaal kaho

PostHeaderIcon وہ ہلالِ عید کو دیکھ کر بھی اداس ہے

وہ ہلالِ عید کو دیکھ کر بھی اداس ہے
اسے یاد ہے کسی عید پر
کہیں چاہتوں کی نوید پر
کوئی کہہ گیا تھا اُسے کبھی
کہ میں چاند ہوں تری عید کا
مرے بن منانا نہ عید تُو
کہ میں آؤں گاترے پاس جب
کسی ایک وصل کے سال میں
کسی خواب میں کہ خیال میں
کبھی جس گھڑی مری دید ہو
وہی ایک پل تری عید ہو
وہی ایک لمحہ نوید ہو
اُسے یاد ہے وہ جو ایک لمحہ تھا عید کا
وہی ایک لمحہ نوید کا، کسی دید کا
وہی لمحہ اس کا حصار ہے
وہی لمحہ اب تک ادھار ہے
وہ ہلالِ عید کو دیکھ کر جو اداس ہے
اسے بس ملن کی ہی آس ہے
اُسے اب کسی سے گلہ نہیں
وہ جو ایک لمحہ ادھار تھا وہ ملا نہیں
مگر اس کو اب بھی یقین ہے
کہ جو چاند ہے کسی بام پر
وہ ملے گا اک دن اسے کہیں
کسی موڑپر ، کسی گام پر
وہ جو کہہ گیا تھا اسے کبھی
کہ میں چاند ہوں تری عید کا

udaaas eid

PostHeaderIcon میری پہلی نظم ۔۔۔ملاقات آخری

مجھ کو رہے گی یاد ملاقات آخری
ہونٹوں پہ رہ گئی تھی کوئی بات آخری 
آنکھوں کے دشت میں تھے نگینے سجے ہوئے 
چاہت کی جس طرح سے ہو سوغات آخری 
ٹھہرا ہوا سا د ن تھا اور 
گہری اداس شام 
دل کے نگر میں چھائی تھی 
جذبوں کی وہ نمی 
بھولوں گی کس طرح سے میں
لمحات آخری 
وہ ملاقات آخری 
رک رک کے مڑ کے دیکھتا تھا بے نوا کوئی 
اور دوڑتی تھی سائے کے پیچھے میں بے خطر
اک شام سے تھا رات کا تنہا کٹھن سفر
مرجھا گیا چمن میں ہر اک پھول ہر شجر
آہوں کا سسکیوں کا سمندر تھا موجزن
اس کا خیال روح کے اندر تھا موجزن
ہو گی نہ اب کبھی بھی وہ برسات آخری
مجھ کو رہے گی یاد ملاقات آخری
کیسا وہ آشنا تھا اور کیسا تھا اجنبی
اپنے لئے یہ دکھ بھی بہت ہی عجیب تھا
گو فاصلے بہت تھے مگر وہ قریب تھا
شکوہ مرے لبوں پہ تو آیا نہ تھا کبھی 
وہ کہہ رہا تھا ہجر ہی اپنا نصیب ہے 
بھولوں گی کس طرح سے میں کلمات آخری 
وہ ملاقات آخری 
پھر اس کے بعد روح میں پھیلا وہ انتشار 
جیسے پکارتے ہوں وہ جذبے سے بے قرار 
دشتِ طلب میں جیسے کوئی روئے زار زار 
پھولوں کو چھوڑ کر لئے کانٹوں کے ہم نے ہار 
دن رات کا سفر بھی کٹے ایک آس پر
ممکن ہے نام لے وہ مرا پھر سے بار بار
دل بے قرار ہو کوئی دھڑکن بھی لے پکار 
لیکن میں جانتی ہو ں ہر اک موج رنگ میں 

اس دن چھلک رہے تھے وہ جذبات آخری 
اب توبس اک امید ہے اک آس ہے مجھے 
ممکن ہے اس طرح سے بھی ا ک روز ہو کبھی 
خوابوں کے اس نگر میں یونہی لوٹ آئے و ہ 
دل پر دیں دستکیں اگر جذبے وہی کبھی 
چھا جائے پھر سے شام کبھی سرد سی وہی 
دل کی خلش تو اب نہ مٹے گی تمام عمر
آنے پہ اس کے ہوں گی رسومات آخری
میرے کٹیں گے ایسے اب لمحات آخری
بھولوں گی اس طرح سے ملاقات آخری

mulaqat aakhri

My Facebook
Counter
Total Visits: Total Visits