mera sahib saain ishq hy tu

PostHeaderIcon الجھے لیکھ ہیں میرے سائیاں، درد مجھے ہیں گھیرے سائیاں

ریزہ ریزہ ٹوٹ رہی ہوں،اب تومجھ کو جوڑ وے سائیاں
رنج اور غم کا یہ کاسہ اب اپنے کرم سے توڑ وے سائیاں
 
دامن میرا خالی خالی، آنکھیں بھی ہیں مری سوالی
راہ مسلسل ہے یہ جیون، منزل ول اب موڑ وے سائیاں
 
کوئی وظیفہ میں کب جانوں، اپنا من کیا میں پہچانوں
میری منزل تیرا در ہے مت رستے میں چھوڑ وے سائیاں
 
الجھے لیکھ ہیں میرے سائیاں، درد مجھے ہیں گھیرے سائیاں
جیتے جی میں مرہی نہ جاؤں،رحمت کو جھنجھوڑ وے سائیاں
 
جس نے مجھ کو ماردیا ہے ،یہ اجڑاسنساردیا ہے
اس بدبختی اور اس سختی کی اب آنکھیں پھوڑ وے سائیاں
 
میرے اندر مر گیا کوئی، درد سمندر بھر گیا کوئی
ڈوبنے والی جیون کشتی رخ ساحل ول موڑ وے سائیاں
 
ادھ ادھوری ذات ہے میریِ ،بے تاثیر سی بات ہے میری
سن شاہین کی بپتا اب تو ،مت اس کا دل توڑ وے سائیاں
 
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

 

PostHeaderIcon گواہی دیں گے محشر میں یہ میری آنکھ کے آنسو ۔

گواہی دیں گے محشر میں یہ میری آنکھ کے آنسو
زمیں کے نا خداؤں کا لئے احسان زندہ ہوں

ترے در کی مسافر ہوں،مجھے رستہ دیا ہوتا
میں تیرے عشق کا مولا لئے وجدان زندہ ہوں

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

PostHeaderIcon اے عشق !ترے در پہ میں حیران کھڑی ہوں

آنکھوں میں لئے درد کا طوفان کھڑی ہوں
اے عشق !ترے در پہ میں حیران کھڑی ہوں

ان تیز ہواؤں میں گھِرا میرا نشیمن 
خوابوں کا جہاں لے کے ،میں ویران کھڑی ہوں

محشر میں مرے اشک گواہی مری دیں گے
دنیا کے خدا کا لئے احسان کھڑی ہوں

یہ زخم ہیں کیسے ، نہیں جن کا کوئی مرہم 
چاہت کا لئے پھر بھی میں عنوان کھڑی ہوں

اک خواب کے تاوان میں آنکھوں کو گنوایا۔
بے روح ہوئی ہوں،یہاں بے جان کھڑی ہوں

یہ کیسی اذیت ہے ، کبھی کم نہیں ہوتی
قربت میں لئے ہجر کا ، امکان کھڑی ہوں

اپنے تھے جو ہاتھوں میں لئے رہتے تھے خنجر 
اک بھول تھی ، جس کا لئے ارمان کھڑی ہوں

خود سے ہی اگر میری شناسائی نہیں ہے
میں اپنے ہی گھر کیوں بھلا مہمان کھڑی ہوں

اس نے تو کبھی لوٹ کے آنا بھی نہیں تھا
پلکوں کو بچھائے وہیں نادان کھڑی ہوں

کیا آس تھی جس نے مری دنیا ہی بدل دی 
ہے راہ عجب جس پہ میں حیران کھڑی ہوں

مجھے رستہ دیا ہوتا، مسافر تھی ترے در کی 
میں عشق کا لے کر ترے وجدان کھڑی ہوں

اک وصل کا پل کوئی ، عطا ہو مرے مولا
صدیوں سے لئے ہجر کا سامان کھڑی ہوں

جو راستہ ہموار تھا ۔خود چھوڑ کے آئی
اب سامنے میرے ہے یہ ڈھلوان ،کھڑی ہوں

اے چارہ گر ! آدیکھ ، ترے دست ہنر سے
جھوٹے میں وفا کے لئے پیمان کھڑی ہوں

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits