Uncategorized

PostHeaderIcon کیسے گزرے تجھِ بن رین میرے بادشاہا

کیسے گزرے تجھِ بن رین میرے بادشاہا
تجھ کو ترسے پیاسے نین میرے بادشاہا

اَبد تلک میں بیٹھی ہوں بس آس لگائے تیری
ہے تجھ سے ہی دل کو چین میرے بادشاہا

تو جو ملا تو مہک ا’ٹھے گا مرے وجود کا گلشن
پھر دکھ آپ کرے گا بین میرے بادشاہا

اَدھ اَدھوری ذات کی بس تکمیل ہی تم سے ہو گی
میرے عشق کا تم ہی عَین ،میرے بادشاہا

دل کے اَندھیارے آنگن میں چمکا آج چندرما
ر’ک گئے میری آنکھ کے رین میرے بادشاہا

سن اب بات تو سن میں کیسے کاٹوں جیون رات
مری وفا کو مت لکھ غین میرے بادشاہا

لیکھ سے ہاری ،ہجراں ماری کو ہی دیکھ لے آکر
در در پھرتی ہے بے چین میرے بادشاہا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ 

PostHeaderIcon

کیسے گزرے تجھِ بن رین میرے بادشاہا
تجھ کو ترسے پیاسے نین میرے بادشاہا

اَبد تلک میں بیٹھی ہوں بس آس لگائے تیری
ہے تجھ سے ہی دل کو چین میرے بادشاہا

تو جو ملا تو مہک ا’ٹھے گا مرے وجود کا گلشن
پھر دکھ آپ کرے گا بین میرے بادشاہا

اَدھ اَدھوری ذات کی بس تکمیل ہی تم سے ہو گی
میرے عشق کا تم ہی عَین ،میرے بادشاہا

دل کے اَندھیارے آنگن میں چمکا آج چندرما
ر’ک گئے میری آنکھ کے رین میرے بادشاہا

سن اب بات تو سن میں کیسے کاٹوں جیون رات
مری وفا کو مت لکھ غین میرے بادشاہا

لیکھ سے ہاری ،ہجراں ماری کو ہی دیکھ لے آکر
در در پھرتی ہے بے چین میرے بادشاہا

PostHeaderIcon عورت ہونے کی سزا

میری نا رسائی
(عورت ہونے کی سزا)

میں کیسے کروں بیاں اپنی نا رسائی
اک عورت ہونے کی کیا میں نے ہے سزا پائی
میں جو بیٹی بہن اور ماں کا روپ ہوں 
جو سچ پو چھو تو گود سے گورتک
ان رشتوں کے لئے ٹھنڈی چھا ؤں اور 
خود کے لیے کڑی دھوپ ہوں
میرے جنم نے میری ماں کو سوچوں میں تھا اُلجھایا
میرا ہی وجود اُس کے لیے تاریکیاں لایا
کبھی تو بھائی نے مجھ کو حقارت سے ٹھکرایا
کبھی خود باپ نے مجھ کو کہیں پر زندہ دفنایا
کبھی وتو قت نے چھین لی مجھ سے مرے بچپن کی رعنائی
کبھی میرے معصوم ننھے ہاتھوں کو
کھلونے کی جگہ روشِ دوراں سکھلائی
میری روشن چمکتی آنکھوں کو
زمانے کی تیرگی دکھلائی
اور چھین لی مجھ سے میری بینائی
اور میری تقدیرپردل کھول کر روتی تھی شہنائی
کبھی تو قتل کر ڈالے حنا کے نام پر ارماں
کبھی ڈولی بٹھا کر نا خداؤں نے کیا قرباں
خطا کے نام پر دیوار میں چنوا دیا مجھ کو
اور وفا کے نام پر کچا گھڑا پکڑا دیا مجھ کو
میں جو تتلی کی طرح ہوا کے دوش پر اڑتی
اپنے آنچل میں تاروں کے حسین رنگ بھرتی
تمہیں اب کیا کہوں کہ
مجھے دنیا نے کیسے نیلام کیا
ناحق میرے خوابوں کو بدنام کیا
تمہیں اب کیا کہوں کہ
اس جہاں میں میرے کتنے ہی منصف بنائے گئے
فرائض کے سبھی حساب مجھ سے ہی چکائے گئے
جتنے بھی تھے آگہی کے باب مجھ سے چھپائے گئے
شہر کی مقتل میں میرے خواب لٹائے گئے
ستم جتنے بھی تھے مجھ پر ہی آزمائے گئے
یوں زندگی موت کے پیرہن میں مرے پاس آئی 
احساس کے قاتل لوگوں نے
میری روح کی کرچیوں سے
دنیا کی مقتل سجائی
مت پوچھ مجھ سے میری نارسائی
اک عورت ہونے کی کیا میں نے ہے سزا پائ

 

 

PostHeaderIcon بے بسی کی شام پر سسکی ہے پہروں زندگی

شام کی دہلیز پر لیں درد نے انگڑائیاں
جاگ اٹھے ہیں غم سبھی اور رو پڑیں تنہائیاں

راستوں پر خاک ہے ، پھولوں سے خوشبو کھو گئی 
دن کا اب امکاں نہیں ہے کھو گئیں رعنائیاں

جب وفا گھائل ہوئی ، دنیا میں جب سائل ہوئی 
گم ہوئیں خوشیاں سبھی ہم کو ملیں رسوائیاں 

ایسے تحریریں مٹیں اور ساری تنویریں بجھیں
ہچکیاں ہی ہچکیاں اب سو گئیں پروائیاں

بے بسی کی شام پر سسکی ہے پہروں زندگی
خواب کی خواہش میں ہم تو کھو چکے بینائیاں

PostHeaderIcon سلام قول من رب رحیم ۔۔’’ فبای الا ربکما تکذبن‘

سلام قول من رب رحیم 
سردیوں کی تھٹھرتی صبحیں ہوتیں یا گرمیوں کی خوشگوار صبحیں وہ بلا ناغہ روزانہ خوش الہانی آواز سے پڑھتی رھتیں الحمد سے صراط مستقیم کا مطالبہ کرتے خود کو اور اپنے پیاروں کو آیت الکرسی کی حفاظت کے تصور میں دیکھتے جب وہ انتہائی خوبصورت اور پر سوز آواز میں سلام قول من رب رحیم تک پہنچتیں تو رک سی جاتیں ۔اور دینا کا سارا درد، دکھ ،خوبصورتی اپنے لہجے میں سمیٹ کر پڑھتی رھتیں ۔
سلام قول من رب رحیم ۔سلام قول من رب رحیم
یہ انکا روزانہ کا معمول تھا کہ وہ یہ سورت پڑھتے ہوئے سات دفعہ یہ آیت دہراتیں ۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ یہ آیت پانچ دفعہ پڑھتیں ۔ میرا دل ٹھہرجاتا انتظار کرتا کہ وہ سات دفعہ پڑھیں ۔ چار پانچ سال کی عمر میں ان کی تلاوت کی آواز سنکر میں رضائی سے نہ جانے کیسے سر نکالتی اور انتظار میں رہتی کہ وہ کب سلام قول من رب رحیم پر پہنچیں اور میں کب ان لفظوں کی خوشبو سے اپنی سماعت کو معطر کروں ۔ نہ جانے ایسا کیوں تھا ۔ وہ عمر جب مجھے ان لفظوں کے مفہوم کا کوئی شعور نہیں تھا کچھ پتہ نہیں تھا نہ جانے یہ کیسا انتظار ہوتا تھا ۔ جس کے سکون کو اتنی چھوٹی عمر میں بھی میں ڈھونڈتی ۔ اگر کبھی ماں پانچ دفعہ یہ آیت پڑھتیں تو میرا دل چاہتا کہ وہ سات دفعہ پڑھیں شاید وہ سات آسمانوں والے کے در کھولنے اور اُسکی وحدانیت و معبودیت کے آگے سر جھکائے اپنے مسجود ہونے اور اپنی روح کی سر شاری اور سکون کیلئے سات دفعہ پڑھیتں ۔ یا ان کی اس سورت کی اسطرح تلاوت اور اس آیت کی سات دفعہ دھرانے کا کوئی اور مطلب و معانی ہوتا تھا جو مجھے نہیں پتہ تھا اور نہ ہی میں مطالبہ کر سکتی تھی کہ مطلب پوچھوں کیونکہ میں ماں کی آنکھ کے سوال ڈرتی تھی کہ بھلا کیوں پوچھا ۔ پھر ان کی تلاوت جب اور آگے بڑھتی تو اکثر شام کے ملگجے سائے میں وہ ’’ فبای الا ربکما تکذبن‘‘ پڑھتیں تو میں ایک دم کہیں بھی ہوتی رک سی جاتی ۔ رک ہی جاتی ۔ واہ ماں کتنی خوبصورت آواز ہے تیری ۔ اتنی خوبصورت لوری اتنا خوبصورت شکریہ رب تعالیٰ کا :
’’ فبای الا ربکما تکذبن‘‘ ( اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ) بس سنتی جاتی سنتی ہی جاتی اور دل میں اس بنیاد کی اینٹ پہ اینٹ رکھتی جاتی ۔ایک خوبصورت عمارت بنتی جاتی ۔ جس میں چاندنی ہی چاندنی تھی ۔ کوئی میل کوئی اندھیرا نہیں تھا ۔ دکھوں کے گہرے سائے بھی اُس چاند نی کو کم نہ کر سکے جوانی دیوانی بھی کوئی ایسا میل نہ لاسکی جو ان لفظوں کی چاندنی اور شکریہ کی اس پرات میں کوئی کمی کرتا۔۔۔ نصابی کتابوں میں سر کھپانے سے پہلے لاڈلی ناجی بھی اپنی روح کو تیرے سلام ’’ سلام قول من رب رحیم ‘‘ سے سر شار کرتی اور اپنی صبح کو منور کرتے ہوئے شام کو ’’ فبای الا ربکما تکذبن‘‘ پڑھنے کا انتظار کرتی ۔ سب دن گزر گئے کہ زندگی کب کسی ایک شام میں ٹھہرتی ہے وہ شام کہ جس کی نہ کوئی رات ہو،اور جب رات نہیں تو صبح کیسے ہو ۔ مگر زندگی تو گزرنی ہے جیسے بھی گزرے آج بھی میرے ربا میں اسی مقام پہ ٹھہری ہوں،،تیری دنیا میں چاہت کا خسارہ ہی خسارہ دیکھا ہے ،میل ہی میل ہے یہاں دل کے میلے لوگوں میں ۔آج بھی روز پڑھتی ہوں سلام قوم من رب رحیم ۔ میرے مولا مگر سب کچھ ہوتے ہوئے ، سمجھتے ہوئے کونسی ایسی گرد آتی ہے ۔ کونسا ایسا اندھیرا آیا ہے جو میری آنکھوں کے سامنے آکر میری زبان میں لکنت لا کر میرے ہونٹوں کو ’’ فبای الا ربکما تکذبن‘‘ ادا کرنے سے روک دیتا ھے،،یہ کیسی دھند ہے ا ور آنکھوں کی نمی ہے جو ان لفظوں تک پہنچنے اور تیرے شکریے کی سر شاری تک پہنچنے اور ’’ فبای الا ربکما تکذبن‘‘ ادا کرتے روک دیتی ہے ۔یا اللہ آپ رحمن و رحیم ہیں ،رحم کیجیئے اپنی تخلیق پہ، معاف کر دیجئیے ۔ یا اللہ لوٹا دیجیئے اپنی عاشق کو وہ سارے خوبصورت لفظ کہ عشق کرنے والوں سے اظہار کی قوت نہیں چھینتے۔ بدنصیب ناجی آج بھی اپنی ماں کی طرح سلام سے نعمت تک کے وہ سارے لفظ ادا کرنا چاہتی ہے ۔ اپنے عشق میں سر شار ناجی کو اسکے لفظ لوٹا’ دیجئیے‘ ۔ لوٹا دیجیئے
سلام قول من رب رحیم ۔۔’’ فبای الا ربکما تکذبن‘‘

PostHeaderIcon نشتر میڈیکل کالج ،،،،کلاس فیلوز کے ساتھ ایک یادگار دن18-12-29

PostHeaderIcon کچھ یادیں۔۔۔۔۔کچھ یادگار پروگراموں کی یادگار تصاویر

ملتان اکادمی ادبیات پاکستان کے دفتر کے افتتاح کے موقع پر سٹیج پر مہمان خصوصی گورنر ملک محمد رفیق رجوانہ ،مشیر وزیر اعظم براۓ قومی تاریخ وادبی ورثہ عرفان صدیقی ،معروف شاعر خالد مسعود ،معروف ادیب ومحقق پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری ،ڈاکٹر نجمہ شاھین کھوسہ ،جناب اظہر مجوکہ ،چئیر مین اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو و دیگر موجود ھیں !!

ملتان اکادمی ادبیات پاکستان کے دفتر کے افتتاح کے موقع پر سٹیج پر مہمان خصوصی گورنر ملک محمد رفیق رجوانہ ،مشیر وزیر اعظم براۓ قومی تاریخ وادبی ورثہ عرفان صدیقی ،معروف شاعر خالد مسعود ،معروف ادیب ومحقق پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری ،ڈاکٹر نجمہ شاھین کھوسہ ،جناب اظہر مجوکہ ،چئیر مین اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو و دیگر موجود ھیں !!

ریجنل آفس اکادمی ادبیات پاکستان کا افتتاح

ریجنل آفس اکادمی ادبیات پاکستان کا افتتاح

ادبی تنظیم آنچل پی ایم اےڈیرہ اورغازی میڈیکل کالج مشاعرہ

memorable events,,, article presentation at istanbul university

تعارفی تقریب پھول ، خوشبو اور تارہ

PostHeaderIcon اللہ بڑا منصف ہے

ہم ایسی دنیا میں محبت کی سچائی کیوں تلاش کرتے ہیں کہ جس میں محبت کے نام لیواؤں نے محبت کی بنیاد ہی دھوکا ،فریب اور ہوس پر رکھی ہو،۔ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ جنھوں نے اپنے فائدے اور دنیاوی ہوس اور چمک دمک کیلیئے مخلصی کو ٹھکرایا ہو اور اپنے ہی بولے لفظوں اور قسموں کے ساتھ دھوکا کیا ہو وہ کبھی کسی کے ساتھ مخلص بھی ہو سکتے ہیں۔ایسے لوگ ایک ایسی رنگین دنیا کے راہگیر ہوتے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی اور یہ صرف دکھاوے اور دولت و ہوس کیلیئے اپنے ہی جسم و جاں کی فصیل میں اپنے ہی ذہن و دل کی تاریکی میں زندگی جیتے ہیں ،ان کیلئیے ان کی اپنی ہی روح اور اس کی روشنی کوئی معانی نہیں رکھتی ،یہ تو یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے اور سب فانی ہے، ۔

PostHeaderIcon

PostHeaderIcon نعت رسول مقبولﷺ

نعت رسول مقبولﷺ

؁طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی
ملتی ہے اِس جہاں کو مدینے کی روشنی

کھاتے تھے زخم سب کی ہدایت کے واسطے
پھیلا رہے تھے آپ ؐ قرینے کی روشنی

اے موجبِ اوارض و سما اب کیجیئے عطا
یا صاحبِ لولاک مدینے کی روشنی

شَق الصَدر سے ہو گئے حیران جبرائیل
پھیلی تھی کلُ جہان میں سینے کی روشنی

رمضان ہو کہ ما ہ ربیع الا ولی ہو بس
چاروں طرف ہے ان کے مہینے کی روشنی

اک صاحبِ کمال کا وہ حسن با کمال 
مہکا رہا تھا اُن کے پسینے کی روشنی

یزداں بھی اُن پہ بھیجتا ہے رات دن درود
شمس و قمر سے بڑھ کے نگینے کی روشنی

جس وصلِ بے مثال میں طاری تھی بے خودی
بخشش میں تھی نماز خزینے کی روشنی

سرکار آپِٖٖؐ کی ہی گدا ہوں ٗکرم ہو بس 
درکار ہے مجھے بھی خزینے کی روشنی

شاہیں نبی کے دم سے ہی مجھ کو ہو ئی عطا 
مرتے ہوئے وجود میں جینے کی روشنی
دعاؤں کی طلبگار؛

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

My Facebook
Facebook Pagelike Widget
Aanchal Facebook
Facebook Pagelike Widget
تبصرہ جات
Total Visits: Total Visits