اور شام ٹھہر گئی

نظم ۔۔ یہ مرا انت ہے

میرے مقتل کو جس دن سجایا گیا بے بسی کو سہیلی بنایا گیا ایک شہنائی کی دھن پہ جس روز اک ماتمی گیت مجھ کو سنایا گیا ایسے لمحوں میں نے تڑپتے ہوئے آسماں کو پکارا مدد کے لئے میں نے دیکھا فلک کے ستارے