اور شام ٹھہر گئی

نظم ۔۔ یہ مرا انت ہے

میرے مقتل کو جس دن سجایا گیا بے بسی کو سہیلی بنایا گیا ایک شہنائی کی دھن پہ جس روز اک ماتمی گیت مجھ کو سنایا گیا ایسے لمحوں میں نے تڑپتے ہوئے آسماں کو پکارا مدد کے لئے میں نے دیکھا فلک کے ستارے

جب سے تجھ سے دور ہوئے ہم لفظ سے معنی بچھڑ گئے ہیں

جب سے تجھ سے دور ہوئے ہم لفظ سے معنی بچھڑ گئے ہیں فصلِ گُل یہ کیسی آئی موسم دل کے اُجڑ گئے ہیں میں کیوں تجھ کو ڈھونڈ رہی ہوں بخت کی ریکھاؤں میں آخر وہ جو شجر تھے چاہت والے ، سب آندھی میں اکھڑ گئے ہیں

ہر ایک خواب میں حرف و بیاں میں رہتا ہے

ہر ایک خواب میں حرف و بیاں میں رہتا ہے وہ ایک شخص جو دل کے مکاں میں رہتا ہے نہ دن نکلتا ہے اُس کا ،نہ شام ہوتی ہے اب اِس طرح سے بھی کوئی جہاں میں رہتا ہے یقین ہے کہ وہ مجھ پر یقین رکھتا ہے گمان

محبت نے مری ہستی میں خشتِ آستاں رکھ دی

محبت نے مری ہستی میں خشتِ آستاں رکھ دی جبینِ شوق میں خوئے نیازِ دلبراں رکھ دی متاعِ دین و ایماں ہے ہمارا داغِ پیشانی وہیں پر بن گیا کعبہ جبیں اپنی جہاں رکھ دی ہمارے زخمِ دل دیکھو گلابوں سے حسین