کسی کو میں اب تک خدا لکھ رہی ہوں
کسی کو میں اب تک خدا لکھ رہی ہوں میں مجرم نہیں پر سزا لکھ رہی ہوں کیا جس نے دامن کو خوشیوں سے خالی اس کیلئے بھی دعا لکھ رہی ہوں بنا ہے جو اب تک سبب تیرگی کا ستاروں کی اس کو ردا لکھ رہی ہوں کیا
تازہ ترین
کسی کو میں اب تک خدا لکھ رہی ہوں میں مجرم نہیں پر سزا لکھ رہی ہوں کیا جس نے دامن کو خوشیوں سے خالی اس کیلئے بھی دعا لکھ رہی ہوں بنا ہے جو اب تک سبب تیرگی کا ستاروں کی اس کو ردا لکھ رہی ہوں کیا
جہاں جہاں گئی نظر، وہاں وہاں ملا ہے تو فرش سے عرش تک بس میرے پاک خدا ہے تو ہیں رنگ و نور کی بارشیں، جلوے ہیں تیرے سرِ آسماں چمن چمن دمن دمن جمالِ دلربا ہے تو کہیں تو سوز بلال میں ، کہیں یوسف کے
مِل رہی ہیں چار سُو کیوں وحشتیں بکھری ہوئی کس گلی میں رہ گئیں وہ قربتیں نکھری ہوئی اب مہک تیری ، مری ہر پور میں یوں رچ گئی منتظر ہیں آنکھ میں کچھ حیرتیں دہکی ہوئی ہجر کی وحشت نے دل کو کر دیا
جب سے تجھ سے دور ہوئے ہم صدموں سے مہجور ہوئے ہم عشق کا کب یارا تھا ہم کو فطرت سے مجبور ہوئے ہم
آپ کے ہیں روبرو میں اور میری زندگی جلوۃ صد آرزو میں اور میری زندگی آپ ہی ہیں بزم آرا اور بزمِ ناز بھی پھر رہے ہیں کو بہ کو میں اور میری زندگی گرشِ دوراں سے ہیں دست و گریباں دیر سے صورتِ جام و سبو
ہجر میں بھی یہ مری سانس اگر باقی ہے اس کا مطلب ہے محبت میں اثر باقی ہے چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے تم ستم گر ہو نہ گھبراؤ مری حالت پر زخم سہنے کا ابھی مجھ