درد کابوجھ ترے شہر سے لائے ہوئے لوگ
درد کابوجھ ترے شہر سے لائے ہوئے لوگ اب کہاں جائیں یہ زخموں کوسجائے ہوئے لوگ ہیں اس آسیب کے ہر روپ سے انجان ابھی یہ جو ہیں عشق حقیقت کوبھلائے ہوئے لوگ کون کہتا ہے کہ زندہ ہیں بظاہر زندہ روح کا
تازہ ترین
درد کابوجھ ترے شہر سے لائے ہوئے لوگ اب کہاں جائیں یہ زخموں کوسجائے ہوئے لوگ ہیں اس آسیب کے ہر روپ سے انجان ابھی یہ جو ہیں عشق حقیقت کوبھلائے ہوئے لوگ کون کہتا ہے کہ زندہ ہیں بظاہر زندہ روح کا
اللہ ہم شرمندہ ہیں تیرے در پہ آج یہ گریہ کناں ہے زندگی میرے مولا اب تو بس محو فغاں ہے زندگی زمین رو رہی ہے اپنی بے بسی پہ آج کل کہُ دیر اور حرم میں بھی اب فغاں ہے زندگی اک ردائے خوف میں لپٹے ھوئے
آنکھوں میں لئے درد کا طوفان کھڑی ہوں اے عشق !ترے در پہ میں حیران کھڑی ہوں ان تیز ہواؤں میں گھِرا میرا نشیمن خوابوں کا جہاں لے کے ،میں ویران کھڑی ہوں محشر میں مرے اشک گواہی مری دیں گے دنیا
ریزہ ریزہ ٹوٹ رہی ہوں،اب تومجھ کو جوڑ وے سائیاں رنج اور غم کا یہ کاسہ اب اپنے کرم سے توڑ وے سائیاں دامن میرا خالی خالی، آنکھیں بھی ہیں مری سوالی راہ مسلسل ہے یہ جیون، منزل ول اب موڑ وے
گواہی دیں گے محشر میں یہ میری آنکھ کے آنسو زمیں کے نا خداؤں کا لئے احسان زندہ ہوں ترے در کی مسافر ہوں،مجھے رستہ دیا ہوتا میں تیرے عشق کا مولا لئے وجدان زندہ ہوں ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ