انٹر ویو ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ


https://fb.watch/1KrruMmsHW/ڈاکٹر نجمہ شا ہین کھو سہ (انٹرویو)
ابتدائی تعلیم کیلئے پرائمری سکول جندانی والا میں داخلہ لیا اور سوم کلاس میں تھی کہ اپنے گاؤں سے نانی کے گھر ڈیرہ غازیخان شہر میں منتقل ہوگئی اور دو سال تک میں اور میری بہن نانی کے گھر رہے اور پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ پھر اسی شہر سے والدین کے منتقل ہونے کے بعد گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سے میٹرک اور ڈگری کالج سے ایف ایس سی کی اور نشتر میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا۔ سکول مذکورہ میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں اچھی کارکردگی کی بنا پر میرا نام پرنسپل آفس بورڈ پر آویزاں کیا گیا۔ میں اپنے آبائی علاقہ ٹرائبل ایریا کی واحد لڑکی تھی جس نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ میڈیکل جیسے خوبصورت شعبے میں جاکر مجھے اپنی صلاحیتوں کو منوانے اور اپنے پسماندہ علاقہ کے لوگوں کی خدمت کرنے کا بھی موقع ملا۔ مجھے اپنے شہر کی بہت محنتی اور با صلاحیت ڈاکٹر ثریا نثار کو دیکھ کر ڈاکٹر بننے کا شوق ہوا تھا اور اللہ کا احسان ہے کہ اُس نے مجھ ناچیز کا یہ خواب پورا کیا۔
سوال:
جواب: جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ خدمت کا وہ جذبہ سلامت ہے یا نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدمت کے جو
جذبات کل میرے دل میں تھے وہی جذبات آج بھی ویسے ہیں۔
سوال: شادی پسند کی یا والدین کی مرضی کی؟
جواب: جی میری شادی میرے قبیلے کے رسوم و رواج کے مطابق والدین کی مرضی سے ہوئی اور میرے شوہر میرے
پھوپھی زاد ہیں اور وہ ایک پرائیویٹ ادارے میں الیکٹریکل انجینئر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔
سوال: اولاد
جواب: جی میرے دو بیٹے ہیں محمد عمر اور محمد حمزہ۔
سوال: بیٹی کی خواہش؟
جواب: نہیں مجھے بیٹی کی خواہش نہیں کیونکہ میں بھی ایک لڑکی تھی اور ایک لڑکی ہونے کے ناطے آپ اگر اگے جانا چاہیں، اپنی سوچوں، اپنے ارادوں کی تکمیل میں آپ کو ہزار رکاوٹیں ملتی ہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ میری تعلیم اورارادوں میں جو رکاوٹیں ڈالی گئیں وہ میری بیٹی کو بھی سہنی پڑیں۔
سوال: ایسے قبیلے اور۔۔۔۔۔ کس کا تعاون رہا کہ ڈاکٹر اور پھر شاعر؟
جواب: جی اس میں میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد اپنے والد کی دل و جان سے مشکور ہوں کہ جنہوں نے خاندان کے
ہزار رکاوٹیں ڈالنے کے باوجود مجھے بیٹوں کی طرح پالا اور میری تعلیم میں ہر موڑ پر میرا ساتھ دیا۔ آج میں جو
کچھ ہوں صرف اور صرف اپنی ماں کی قربانیوں اور باپ کی محبتوں کی بدولت ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہماریٹرائبل ایریا میں آج بھی لڑکی کو گھر کی بھیڑ بکری سے زیادہ اہمیت نہیں۔ ایسے ماحول میں میرا ڈاکٹر بننا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ باقی جہاں تک شاعری میں تعاون کا تعلق ہے تو ابھی تک میں ایک لڑائی لڑرہی ہوں۔ اس شعبے کو منوانے کی۔ ابھی بھی ایک شاعر کی حیثیت سے پورے خاندان کی مخالفت کا سامنا ہے۔ میرا لکھنا کسی کو بھی پسند نہیں۔ میں خود بھی کوشش کرتی ہوں کہ ایسی تقریبات یا فنکشن یا مشاعروں میں نہ جاؤں جہاں میری فیملی پسند نہ کرے۔ میں صرف چند ایک ایسی تقریبات میں جاتی ہوں اور جو میری کتابوں کے حوالے سے منعقد کی جارہی ہوں یا پھر چند ایک بڑے مشاعروں میں، جہاں مجھے شوہر کی اجازت مل جائے اور وہ جانے کیلئے بھی میرا ساتھ دیں۔
س: آپ ایم بی بی ایس گائنا کالوجسٹ ہیں۔ شعروادب کی طرف کیسے آئیں؟
ج: جی اپنے تمام دن بھر کے کاموں کے بعد کوئی کتاب پڑھنا یا ڈائری لکھنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ یوں سمجھیں ڈائری میری سہیلی بن چکی تھی اور آہستہ آہستہ ڈائری میں لکھے لفظ شاعری کی صورت اختیار کر گئے۔ یوں تو میں 1996 سے لکھ رہی ہوں۔ بلکہ اس سے پہلے بھی میری چھوٹی موٹی کاوش نشتر میڈیکل کالج کے ادبی میگزین کا حصہ بنتی تھیں۔ لیکن میں اپنی پہلی نظم 1996میں لکھی ہوئی ”ملاقات آخری“ کو قرار دیتی ہوں۔
2007 میں گائنی کی کانفرنس میں جاتے ہوئے میں ایک حادثے کا شکار ہوئی اور دو ماہ تک مکمل طور پر بستر کا حصہ بن گئی۔ ایک مصروف بندے کیلئے فراغت کسی سزا سے کم نہیں ہوتی۔ سو میں نے اُن دو ماہ میں اپنی ڈائری کو ترتیب دی اور اُس میں نثر اور شاعری علیحدہ علیحدہ کیں۔
سرائیکی کے ایک بزرگ شاعر چاچا رمضان طالب باقاعدہ میری عیادت کو آتے تھے۔ انہوں نے ضد کر کے اور میری فیملی سے اجازت لے کر میری شاعری والے حصے ایک کتاب کی صورت میں شائع کرائے جس کا نام میں نے اپنی نظم ”پھول سے بچھڑی خوشبو“ سے لیا۔ یوں ایک ڈاکٹر ایک شاعرہ کے روپ میں سامنے آئی۔
س: کیا آپ کی منصبی ذمہ داریاں آپکے شوق کی راہ میں حائل ہوتی ہیں؟
ج: جی بالکل۔اگر میں ایک مصروف ڈاکٹر نہ ہوتی تو شاید اتنے عرصے میں میری پندرہ بیس کتابیں آچکی ہوتیں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ذمہ داری نبھاتے ہوئے کوئی خوبصورت خیال ذہن میں آتا ہے مگر میں اُسے مناسب وقت پر کاغذ پر اتار نہیں سکتی جس کی وجہ سے بہت کچھ لکھنے کو رہ جاتا ہے۔ اور ایک چیز طے ہے کہ اگر وقت پر نہ لکھیں تو وہ خیال اُسی صورت میں موجود نہیں رہتا۔محو ہو جاتا ہے پھر جتنا بھی سوچیں وہ چیز نہیں رہتی۔
س: آپ کو اپنے والد گرامی سے بہت محبت ملی! کچھ اُن کے بارے میں بتائیں؟
ج: میرے والد کا نام جان محمد کھوسہ ہے۔ ان کو بچوں کو تعلیم دینے کا بہت شوق تھا۔ خو دبھی ماشاء اللہ پڑھے لکھے اور بہت سوبر انسان ہیں۔ اللہ انہیں تاقیامت سلامت رکھے۔ میری پیدائش جس بستی میں ہوئی وہاں لڑکیوں کی پڑھائی کا تصور بھی نہیں تھا۔ بابا کی خواہش تھی کہ بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیاں بھی پڑھائیں۔ اس کیلئے انہوں نے ہم دونوں بہنوں کو نانی کے گھر شہر بھیج دیا۔ خود وہ زمیندار کے علاوہ ایک ٹریول ایجنسی چلا رہے تھے جو کراچی میں تھی پھر جب ہم نے پرائمری پاس کر لیا تو خود بھی شہر آگئے اور تمام خاندان کی مکمل مخالفت کے باوجود ہم دونوں بہنوں کو تعلیم دلائی۔ اور وہ بھی اعلیٰ تعلیم اور ہمیں بالکل دوستوں والا ماحول دیا۔ امی ابو نے ہمیں بچے نہیں اپنے دوستوں کی طرح پالا۔ انہیں کی یہ شفقت کہ آج ہم چاروں بہن بھائی اچھے اچھے عہدوں پر فائز اپنی زندگی کی مشکلیں آسان کر رہے ہیں۔
س: ڈیرہ غازی خان کی ادبی فضا کیسی ہے؟
ج: ایک خاتون شاعرہ کیلئے کانٹوں سے بھرپور۔ ایک ڈاکٹر کے باوجود مجھے بھی ایک شاعرہ ہونے کے ناطے سے بے پناہ رکاوٹوں اور یہاں تک کہ خاندان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاندان کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اگر باہر بھی دیکھیں تو ایک خاتون شاعرہ کیلئے کوئی اچھے حالات نہیں اُسے ہر طرح کی تنقیدی سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے جب ایک خاتون شاعرہ سامنے آتی ہے تو دو چار لائنیں لکھنے والا ہر مرد اُس خاتون کی شاعری کا تنقید نگار یا اصلاح کار بن جاتا ہے۔ اور آئے روز اُس شاعرہ کو اس مدد کی بن مانگے آفر مل رہی ہوتی ہے کہ اگر آپ کو کہیں اصلاح کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔
مجھے تو اس بات پر حیرت ہوتی تھی جب میرے کانوں تک یہ بات پہنچتی کہ آپ اتنی مصروف ڈاکٹر ہیں۔ آپ کو کون شاعری لکھ کے دیتا ہے۔ اس طرح کی باتوں پر بہت غصہ بھی آتا اور دکھ بھی۔ کہ بھلا مجھے میرے علاوہ کون لکھ سکے گا۔ کون میری سوچوں اور جذبوں کو اُسی طرح سے صفحہ قرطاس پر بکھرے گا جو میں خود کر سکتی ہوں۔ بہر حال میں اس معاملہ میں خود کو مضبوط اعصاب کی مالک سمجھوں گی کہ ان حالات اور رکاوٹوں کے باوجود لکھ رہی ہوں۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ اپنے خاندان۔ گھر کی مخالفت کے باوجود اب تک لکھ رہی ہوں۔
س: اپنی کس کتاب سے مطمئن ہیں اور اب تک کتنی تخلیقات کریڈٹ پر ہیں۔ اور مزید کتنی کتب زیر طبع ہیں؟
ج: ایک تخلیق کار جب کوئی تخلیق کرتا ہے تو وہ ایک کرب اور تخیل سے گزرتا ہے اور اسے اپنی ہر تخلیق دوسری سے بڑھ کر لگتی ہے جیسے ایک ماں کو اپنا ہر بچہ پیارا ہوتا ہے اور وہ یہ کبھی نہیں کہہ سکتی کہ اُسے کسی ایک بچے سے زیادہ پیار ہے۔ اسی طرح تخلیق کار کو بھی اپنی تخلیق پیاری ہوتی ہے مجھے بھی اپنا سارا کلام اور تخلیق پیاری ہے۔ چاہے وہ پھول سے ”بچھڑی خوشبو ہو“، ”میں، آنکھیں بند رکھتی ہوں“ یا ””پھول خوشبو اور تارہ“ یا میرا صاحب،سائیں ،عشق ہے تو ،،۔
٭ آپ پیشے کے اعتبارسے ڈاکٹر ہیں۔ سائنس اورآرٹ کی وسیع خلیج کو آپ نے کیسے ہم کنارکردیا؟
O……ڈاکٹری میراپیشہ ہی نہیں بلکہ عشق بھی ہے اورشاعری تحلیل نفسی(کتھارسس) کاذریعہ…… میرے لیے دونوں بہت اہم ہیں۔احساس کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر کی زندگی بہت مصروف ہوتی ہے‘ آپ تخلیقی کاموں کے لیے وقت کیسے نکال لیتی ہیں؟
O……میں گائنی آبسٹرکیکٹس کی پریکٹس کررہی ہوں اوراپناایک چھوٹاساہسپتال ہے جہاں چوبیس گھنٹے کام ہوتا ہے۔ شاعری کے لیے کوئی وقت مختص نہیں ہے۔ جب کچھ ذہن میں آیا لکھ لیتی ہوں۔
۔کئی دفعہ ایسا ہوا میرے ذہن میں بہت سے خیالات نے جگہ بنائی مگرکچھ لکھا نہ جاسکا اور جب لکھنے کے لیے وقت ملا تووہ کیفیت نہ مل سکی۔ اگر مجھے لکھنے کے لیے وقت ملے توروزانہ سیکڑوں موضوعات ملتے ہیں۔
٭ محبت شاعری کابنیادی نقطہ ہے۔ ہماری بیش ترشاعری اسی کے مدار میں گھومتی ہے۔ کیاشاعری کے لیے محبت ضروری ہے؟
O……محبت کے بغیرشاعری کچھ بھی نہیں …… پھرشعرصرف لفظوں کاہیرپھیرہوجاتاہے‘جس میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔
٭ عشق اورمحبت کی تفریق کیسے کریں گی؟
O……عشق کی بنیادمحبت ہے…… محبت جب ہرتفریق کوختم کردے اوروفااورجنوں کاامتزاج بن جائے توعشق ہوجاتی ہے…… عشق وحدانیت ہے…… خدا ہے۔
سوال: شاعری کیوں کرتی ہیں؟
جواب: جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ جواب دے چکی ہوں
کہ میں شاعری کیوں کرتی ہوں۔ شاعری میری ذات کا اظہار بھی ہے اور شکست و ریخت کا شکار ہونے والے
اس معاشرے کا نوحہ بھی۔ لوگوں کو حیرت ہوتی ہے اور وہ یہ سوال مجھ سے بار بار پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹر ہونے کے
ناطے اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے شاعری کیلئے / کیسے وقت نکالتی ہو تو جواب صرف اتنا سا ہے کہ شاعری
میرے لیے زندگی کی علامت ہے اور زندہ رہنے کیلئے سانس لینا ضروری ہے اور سانس لینے کیلئے وقت نہیں
نکالنا پڑتا
سوال: کتابوں کے ناموں کی تفصیل
جی میری الحمدوللہ پانچ شاعری کی کتابیں آچکی ہیں۔ جن میں
(i پھول سے بچھڑی خوشبو 2007ء
(ii میں آنکھیں بند رکھتی ہوں 2010ء
(iii اور شام ٹھہر گئی 2013ء
۴) ”پھول، خوشبو اور تارہ“ 2016ء
۵)۔ میرا صاحب، سائیں،عشق ہے تو(شعری مجموعہ)
سوال: کتابوں کے نام کچھ مختلف نہیں؟
جواب: جی یہ حقیقت تھوڑی عجیب سی ہے کہ میں نے کتابوں کے نام شعوری طور پر نہیں دئیے بلکہ جب میں نے چاہا کہ اپنے کلام کو کسی مسودے کی صورت میں لے آؤں اور کتاب کی اشاعت کا فیصلہ کیا تو اپنی کتابوں میں سے اس
نظم یا غزل کے کچھ لفط چن لیتی جو مجھے خود کو زیادہ پسند ہوتے۔ پھر ان میں سے کچھ نام چن لیتی ہوں اور جو نام
سب سے زیادہ متاثر کررہا ہوتا ہے کتاب کا وہی نام رکھ لیتی ہوں۔
اس میں کوئی حقیقت نہیں کہ میں نے اپنی پہلی کتاب ”پھول سے بچھڑی خوشبو“ کا نام پروین شاکر کی کتاب
”خوشبو“ سے متاثر ہوکرلیا جس نے وہ کتاب پڑھی؛ وہ جانتے ہیں کہ میں نے اپنی ایک نظم کے عنوان ”پھول سے بچھڑی خوشبو“ کو کتاب کا نام دیا جو مجھے اپنی اُس کتاب میں سے بہت پسند تھی۔
سوال: لکھنا کب شروع کیا؟
جواب: جی میں اپنی شاعری میں سے اپنی نظم ”ملاقات آخری“ کو پہلی نظم کہتی ہوں جو میں نے 12۔دسمبر 1996ء کو
لکھی۔ اُس سے پہلے بے ربط ٹوٹی پھوٹی نظمیں یا غزلیں لکھیں؛جو ہر سال نشتر میگزین کی زینت بنتی تھیں۔
س: اپنی کس کتاب سے مطمئن ہیں اور اب تک کتنی تخلیقات کریڈٹ پر ہیں۔ اور مزید کتنی کتب زیر طبع ہیں؟
ج: ایک تخلیق کار جب کوئی تخلیق کرتا ہے تو وہ ایک کرب اور تخیل سے گزرتا ہے اور اسے اپنی ہر تخلیق دوسری سے بڑھ کر لگتی ہے جیسے ایک ماں کو اپنا ہر بچہ پیارا ہوتا ہے اور وہ یہ کبھی نہیں کہہ سکتی کہ اُسے کسی ایک بچے سے زیادہ پیار ہے۔ اسی طرح تخلیق کار کو بھی اپنی تخلیق پیاری ہوتی ہے مجھے بھی اپنا سارا کلام اور تخلیق پیاری ہے۔ چاہے وہ پھول سے”بچھڑی خوشبو ہو“، ”میں، آنکھیں بند رکھتی ہوں“ یا ”اور شام ٹھہر گئی“۔ میری شاعری کی پانچ کتابیں ”پھول سے بچھڑی خوشبو“، میں آنکھیں بند رکھتی ہوں اور ”اور شام ٹھہر گئی“ ”پھول خوشبو اور تارہ“ میرا صاحب،سائیں،عشق ہے تو،،،شائع ہو چکی ہیں۔ اور ایک ناول اور مظامین کی ایک کتاب زیر عمل ہیں۔ سوال: آپ کا تعلق جس گھرانے یا قبیلے سے ہے اس میں ادبی محرکات کم دیکھے گئے پھر آپ کیسے؟
جواب: جی یہ حقیقت ہے کہ میرے قبیلے سے خواتین تو کجا مرد شعراء کا تصور بھی کجا ہے اور میرے قبیلے میں شاید مستقبل میں بھی صدیوں تک کوئی شاعرہ پیدا نہ ہو اور یہ بھی حقیقت ہے کہ میں خود بھی ابھی تک اسی شش و پنج میں ہوں
کہ میں کیسے لکھ رہی ہوں۔ میری پہلی کتاب میری وہ ڈائری تھی جو میں عملی زندگی میں آنے کے بعد دن بھر کی
تھکاوٹ کے بعد لکھا کرتی تھی جو ایکبار ہمارے شہر کے ایک بزرگ شاعر جو ایکیسیڈنٹ کے بعد میری عیادت کو
آتے تھے پڑھنے کیلئے لے گئے اور پھر انہوں نے وہ ڈائری کتاب کی صورت میں شائع کراکے مجھے تحفتاً دی۔
اگر وہ اُسے گفٹ نہ کرتے تو شاید میں کبھی شاعرہ کے روپ میں سامنے نہ آتی اور اس کتاب کی تقریب رونمائی
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازیخان نے رکھی اور بہت سراہا جس کی وجہ سے مجھے بھی اچھا لگنے لگا کہ
میں لکھوں۔ مجھے لگا کہ لکھنے سے زندگی کے حبس زدہ موسم میں جیسے تازہ ہوا کا جھونکا مل جاتا ہوں، جب میں لفطوں کو کاغذوں پر جوڑتی اور انہیں مجسم شکل دینے کی کوشش کرتی تو مجھے لگتا کہ تھکن اور کٹھن سے چور راہوں میں یہ لفظ ایک مجسم روپ لیکر میرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ تب تنہائی گھٹن اور حبس کا احساس قدرے کم محسوس
ہوتا۔
سوال:لوگ اب تک ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ کون ہے جو میری اتنی مصروف زندگی میں مجھے لکھ کر دیتا ہے اور جس نے
مجھے شاعری کی چار کتابوں اور بہت ساری نثر کی تخلیق کا حق دے دیا۔ تو ایسے لوگوں کے ایسے سوالوں اور
شکوک پر میرا ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ مجھے بھی وہ شخص دکھاؤ جو میری سوچوں کو ایک عکس میں ڈھال کر ایک آئینے میں لاکھڑا کرے۔ مجھے بھی تو معلوم ہو کہ مجھے مجھ سے زیادہ کون سوچتا ہے۔ ایسے سوالوں پر میں اُسے
ڈھونڈنا شروع کردیتی ہوں کہ جو مجھے لکھتا ہے اور عجیب بات ہے کہ وہ لوگوں کو تو اب تک نہیں ملا مگر مجھے بہت پہلے مل گیا اور میں اپنے اس حاکم کی تابع ہوں وہ مجھے حکم کرتا ہے اور میں قلم پکڑ کر حروف جوڑنا شروع کردیتی ہوں اور وہ حاکم ہے، میرا دل جو سارا دن دماغ کی غلامی کرکے تھک ہار کر سرشام اپنی من مانی کرتاہے، دماغ کو تسخیر کرتا ہے اور خود اُس کا حاکم بن کر یادوں کے چراغوں سے شب کو لفظوں کے دئیے روشن کرتا ہے۔
سوال:۔ آپ کا نظریہ شعر؟
انسانیت،محبت، خلوص،وفا اور عشقِ حقیقی۔
سوال:۔ پسندیدہ شعر۔
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم
امجد اسلام امجد
سوال:۔ اپنا پسندیدہ شعر۔
چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
دوزندگی اتنا بتا، کتنا سفر باقی ہے
سوال:۔ پسندیدہ شاعر۔
علامہ اقبال،فیض احمد فیض،احمد فراز، محسن نقوی
پروین شاکر، فہمیدہ ریاض،امجد اسلام امجد، رضی الدین رضی

سوال:۔ ترقی پسند ہیں یا حلقہ ارباب ذوق کو پسند کرتی ہیں؟
بنیادی طور پر تو ہر شاعر ہی ترقی پسند ہوتا ہے۔ باقی جہاں تک ہمارے Eraکا تعلق ہے تو یہاں حلقہ ارباب ذوق مشکل ہی سے سنا ہے۔
سوال:۔ ڈی جی خان کے ابتدائی شعراء کرام کے باریں میں رائے؟
اس دھرتی سے گوشہء ادب پر شفقت کاطمی،محسن نقوی،کیف انصاری،جاوید احسن،احمد خان طارق،اقبال سوکڑی،غلام قادر بزدار،عزیز شاہد،سلیم فراز،شریف اشرف جیسے پھول ہیں تو سنائی ادب میں اس دھرتی کی ادبی کہکشاں پر خواجہ فرید کی دائی پھاپھل سے لیکر بخت آور کریم،سعیدہ افضل شیریں لغاری،طاہرہ سوز،رضوانہ تبسم جیسے ستاروں کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی ادب پر ڈیرہ غازیخان کو شہرت ملی۔
سوال:۔ عورتوں کی شاعری کو کیسا دیکھتی ہیں؟
عورتوں کی شاعری کو آج بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔آج بھی اگرچہ خواتین بہت اچھی شاعری کر رہی ہیں مگر آج بھی انہیں اپنی شاعری کو اپنا کہنے میں دوسروں کو یقین دلانا پڑتا ہے۔ انکے لفظوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس میں بھی مرد سے زیادہ عورت ہی قصور وار ہے۔ جو اپنے جیسی عورت کی ترقی اور نیک نامی برداشت نہیں کر تی۔ اور بدگمانی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ بعض مرد شعراء بھی کسی عورت کی ترقی کو برداشت نہیں کتے اور چند لائنیں لکھنے والے بھی کلیات لکھنے والی خواتین کے استاد کہلانے کے شوقین بن جاتے ہیں۔ اور اپنے تئیں غلط مفروضے پھیلاتے ہیں۔جس کی وجہ سے بہت سی خواتین دل برداشتہ ہو کر یا تو شاعری چھوڑجاتی ہیں یا گمنامی اختیار کر لیتی ہیں۔
سوال:۔ اُردو ک شاعری کے بارے میں رائے۔اردو ادب کا مشتقبل کیا ہے؟
اردو غزل اور نظم کی روایت بہت مضبوط ہے۔غزل میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موضوعات کا تنوع پیدا ہوا۔جبکہ نظم میں ہمیں ہیت کے بھی تجربات دیکھنے کو ملے۔ یہ زبان چونکہ دنیا بھرمیں سمجھی جاتی ہے اس لئے اس کے دامن میں موضوعات بھی دیگر زبانوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں َغزل اور نظم دونوں نے خلق خدا کے دکھوں کو اپنے دامن میں سمیٹا ہے۔
آج کے سوشل میڈیا کے زمانے میں اگرچہ اردو رسم الخط اور اخبارات اور کتابوں کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبات پائے جاتے ہیں لیکن یہ زبان ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی خود کو جوڑ رہی ہے۔
سوال:۔ کوئی پیغام نسل نو کیلئے زندگی کا مقصد سمجھیں۔اللہ نے جو امانت دی ہے اس کو اپنی اور دوسروں کی بہتری کیلئے استعمال کریں یہ وقت ضائع نہ کریں۔جتنا ممکن ہو اس سے فائدہ اٹھائیں اور لوح زیست پہ اپنا نام روشن کرجائیں۔

سوال:۔ محبت کیا ہے آپکے نزدیک اور شاعری کیلئے کتنی ضروری ہے محبت کا دوسرا روپ آپ کے نزدیک کیا ہے؟
محبت زندگی ہے اور موت بھی۔جنت بھی ہے اور دوزخ بھی۔بندگی ہے،عشق ہے،وحدانیت ہے اور خدا ہے۔گماں سے یقین تک کا سفر ہے۔مکاں سے لامکاں تک کا سلسلہ ہے۔میں نے اسے مقم عرفہ حطیم،اور سجدوں میں نہ صرف محسوس کیا ہے بلکہ دیکھا ہے۔ اور دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو س پر ستوں اور دولت کے پجاریوں کو اس کے نام پر دغا اور فریب کرتے اور بکتے بھی دیکھا ہے۔ مگر محبت تو بس محبت ہے،عشق ہے،وحدانیت ہے،خدا ہے۔
جہاں تک شاعری اور محبت کا تعلق ہے تو شاعری اس کے بغیرادھوری ہے کیونکہ محبت احساسات و جذبات کا نام ہے اور شاعری ان احساسات و جذبات کا اظہار۔

ادبی تنظیم آنچل! < اپنے خطے کی خواتین کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اس خطے کی لکھاری خواتین کو یکجا کرنے اور نئی لکھنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی اور ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کیلئے ایک ادبی تنظیم ”انچل“ کی بنیاد رکھی اور اس کے تحت متعدد ادبی پروگرام خواتین کیلئے کراچکی ہیں۔ ٭ کیا آج معیاری ادب تخلیق ہورہا ہے؟ موجودہ عہد کی شاعری۔ آج ادب یکسانیت کا شکار ہے۔ ادیب اور شاعر اپنی شناخت کھو چکے ہیں۔ پہلے کتابیں اتنی زیادہ تعداد میں شائع نہیں ہوتی تھیں، اخبارات بھی چند ایک ہی ہوتے تھے۔ چند برسوں پہلے تک جو ادبی رسائل و جرائد چھپ رہے تھے ان کا ایک نام اور معیار تھا۔ ادبی محفلیں آباد تھیں، قہوہ خانوں، ادبی بیٹھکوں اور تنقیدی محافل میں شعراء و ادباء شامل ہوتے اور ادب پر تنقیدی اور تخلیقی گفتگو ہوتی اور اس باہمی مشاورت میں بہترین ادب تخلیق ہوتا۔ اُس دور میں الیکٹرونک میڈیا کی اتنی بھرمار نہیں تھی۔ نیوزپیپرزاورمیگزین بھی گنے چنے تھے۔اگر کوئی اچھا لکھ رہا ہوتاتواس کی مناسب حوصلہ افزائی کی جاتی۔آج اچھا لکھنے والے بہت ہیں لیکن وہ متشاعروں کی بھیڑ میں گم ہیں اور میڈیا پربھی چندلوگوں کی اجارہ داری ہے جواپنی پسندکے لوگوں کوسامنے لاتے ہیں۔آج بھی اچھا لکھنے والے موجود ہیں۔ سوال: دوران زچگی اموات کی تعداد ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے؟ جواب: ترقی پذیر ممالک میں جن میں ہمارا ملک بھی شامل ہے خواتین کی کم عمری میں ماں بننے اور پیچیدگیوں کا شکار ہونے کے باعث ہلاکت کی شرح زیادہ ہے۔ " نو مولو د بچے کی صحت میں ماں کی صحت کا کردار بہت اہم ہے " :زچگی کے دوران ہونے والی اموات کی وجو ہات کیا ہیں؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں کئی عوامل کار فرماہوتے ہیں، ان میں بلڈ پریشر میں اضافہ سر فہرست ہے، بعض اوقا ت لواحقین زچہ کو ہسپتال میں اس وقت پہنچاتے ہیں جب دائی کیس خراب کرچکی ہوتی ہے یا پھر زچہ کا با قاعدہ سے چیک اپ نہیں کرایا جا تا بلڈ پریشر میں اضافہ ہونے سے زچگی کے دوران کئی پیچید گیاں بڑھ جاتی ہیں۔زچہ کو جھٹکے لگنے لگتے ہیں جس سے زچہ اور بچہ دونوں کیلئے خطرات پیدا ہو جاتے ہیں خون کا بہہ جا نا بھی زچگی کے دوران مو ت کا ایک اہم عنصر ہے۔ :انفیکشن کی وجہ سے بھی زچہ کی موت واقع ہو جاتی ہے۔یہ انفیکشن کیسے ہوتا ہے؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:غیر تر بیت یا فتہ دائیوں کے تجر بات کی وجہ سے انفیکشن پھیل جا تا ہے۔انفیکشن کے دوران بلڈ پریشر لو ہو جاتا ہے گندا بد بو دار پانی آنے لگتا ہے۔ اگر ایسی علامات ظاہر ہونے لگیں تو مریضہ کو فوراً لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے کر جا نا چاہیے کیونکہ تاخیر ہونے انفیکشن پورے جسم میں سرایت کر جاتاہے اور مریضہ زندگی کو خطرہ لاحق ہو جا تاہے۔ :وہ کون سے امراض ہیں جو زچہ سے بچہ کو منتقل ہونے کے خدشات ہو تے ہیں؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:اگر زچہ کوٹی بی کا مرض ہے اور وہ اس کا علاج بھی نیں کر وارہی تو پھر اس پیدا ہونے والا بچہ متا ثر ہو سکتا ہے۔ اگر ٹی بی تو ہو مگر اس علاج بھی ہو رہا ہو تو پھر دودھ پلانے والی ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے ماسک لگاکر اپنے بچے کو دودھ پلائیں۔ایسے بچوں کی ولادت کے فوراً بعد ٹی بی سے بچاؤ کی حفا ظتی تدابیر کرنی چاہیں،اس کے علاوہ اگر زچہ کو ہیپاٹائٹس بی کی شکایت ہے تو ایسی صورت میں بچہ تو نارمل ہو سکتاہے لیکن پیدائش کے فوراً بعد بچے کو دودھ پلانے سے پہلے ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین دی جانی چاہیے۔ بچے پیدا نہ ہونا اور ابنارمل بچے پیدا ہونے کی وجو ہات ہیں؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ایک صحت مند جو ڑے کو ایک سال کا وقت دینا چاہیے، اس دوران قدرتی طور پر عورت حاملہ ہو سکتی ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو پھر مرد اور عورت دونوں کو ڈاکٹر سے رجو ع کرنا چاہیے،اس کے بہت سے مسائل کا علاج ممکن ہو تا ہے۔بعض اوقات کچھ لا علاج مسائل بھی ہوتے ہیں، مثلا ً قدرتی طور پر اعضا ہی موجو د نہیں ہیں، ورنہ ہر مسئلے کا علا ج ممکن ہے۔ابنا رمل بچے وہ ہو تے ہیں جس کے جسم میں کوئی نقص ہو سکتا ہے۔ ہونٹ کٹے ہوئے ہیں وغیرہ۔ ان کی پیدائش کی کئی وجو ہا ت ہو تی ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ کہ یہ خاندانی یا مو روثی اثرات ہو سکتے ہیں۔ جس خاندان میں آپس میں شادی کا رجحان ہو تا ہے ان میں ابنارمل بچوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔بعض اوقات خاندان سے باہر شادی ہونے کی صورت میں بھی ابنارمل بچے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ عورتیں ذیابیطیس کی مریضہ ہوسکتی ہے۔ذیابیظس کی مریضہ کے پیدا ہونے والے بچوں میں ابنارملٹی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ حمل کے ابتدائی ایام میں بچے کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ ذیا بیظس کی ہر مریضہ کے بچے ابنارمل ہوں۔ خون کی کمی کا شکار خواتین کو کیا کرنا چاہیے؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:خون کی کمی میں مبتلا خواتین کو باقاعدگی سے اپنا چیک اپ کرانے کے ساتھ ساتھ فولاد کی گولیاں استعمال کرنی چاہیں۔ حاملہ خواتین گوشت،انڈا، گندم، چاول، دودھ اور پھلوں کا استعمال کرتی رہیں تو پیدا ہونے والا بچہ تندرست رہتاہے۔ حاملہ عورت کو کن چیزوں سے پر ہیز کرنا چاہیے؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:حاملہ خاتون کو مصالحہ دار کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے اور تمبا کو نو شی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے پیدا ہونے والے بچے پر برا اثر پڑ تا ہے۔وہ بھاری چیز اٹھانے سے اجتنا ب کریں،اونچی ایڑی والا جو تا نہ پہنیں اور معمولی ورزش کو معمول بنائین۔ :دوران حمل زچہ کو خوراک کی ضرورت کس حد تک ہو تی ہے؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:ویسے تو ایک حاملہ خاتون کو کسی خاص خوراک کی ضرورت نہیں ہو تی لیکن اس کے لیے اپنی روز مرہ خوراک میں اضافہ کر نا بہت ضروری ہو تا ہے کیونکہ ایک حاملہ عورت کو تقر یباً پانچ سو کلو ریز کی زیادہ ضرورت ہو تی ہے جو ایک سادہ غذا سے بھی حاصل ہو سکتی ہیں اس کے لیے ضروری نہیں کہ حمل کے دوران خاتون خاص قسم کی غذا استعمال کرے۔وہ روز مرہ خوراک کو بھی دوگنا کر دے تو بچے کی نشوونما میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ :بیشتر خواتین کو حمل کے دوران خون کی کمی کا مسئلہ پیدا ہو جاتاہے اس حوالے سے کیا کہیں گی؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:حاملہ عورت میں اگر خون کی کمی کا مسئلہ درپیش ہو تو پیٹ میں اس کے بچے کی پرورش صحیح طور پر نہیں ہو پاتی، بچہ بھی کمزور پیدا ہوتا ہے بلکہ زچگی کے وقت خون کی کمی سے کوئی بڑ ا مسئلہ ہو سکتاہے جو نقصان دہ ثابت ہو تاہے۔ :نومولود بچوں کو کس قسم کی بیماریوں کا خطرہ لاحق رہتا ہے؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:ہمارے ہاں نومولود بچوں میں اسہال کی بیماری عام ہے۔ جب اس کی خوراک میں حفظان صحت کے اصولوں میں کوئی کمیرہ جائے تو بچہ بیمار ہو جاتاہے اس کی ایک وجہ بچے کو بازاری دودھ پلانا بھی ہے۔ :نومولو د بچوں کو بیماریوں سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتاہے؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:نومولو د بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں ماں کا کر دار بہت اہم ہے، اگر ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے تو وہ بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے کیونکہ ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں۔ آپ کا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں کی اکثر خواتین شعورسے بے بہرہ ہیں،کیا آپ ان میں شعوراجاگر کر تی ہیں؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:یہ درست ہے کہ مجھے روزانہ ایسی کئی مریضوں سے سامنا کرنا پڑ تا ہے جو تعلیم نہ ہونے کے با عث اپنی صحت کی حفا ظت نہیں کر پا تیں،انہیں صحت کے اصولوں سے آگاہی نہیں ہوتی بیشتر خواتین دائیوں کا شکار ہو کر پہنچتی ہیں جب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہوتاہے۔ایسے میں جس حد تک بھی ہو سکتاہے ان کا علاج کیا جاتا ہے اور انہیں یہ بھی بتا یا جاتاہے کہ ایسی صورت میں انہیں کیا کرنا چاہیے تھا اورآئندہ اگر ایسی صورت حال کا سامنا ہو تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔ پہاڑی علاقوں میں حفظان صحت کے شعور کو اجاگر کرنے کے لیے کیا اقدامات ہونے چاہیے؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:پہاڑی اور پسماندہ علاقوں میں حکومت اور این جی اوز مل کر ہفتہ وار میڈیکل کیمپ منعقد کریں ان کیمپوں میں وہاں کے لوگوں کو صحت کے اصول بتائے جائیں، انہیں مفت طبی سہولت فراہم کی جائے مریضوں کا چیک اپ ہو نا چاہیے تاکہ انہیں بر وقت ہسپتال منتقل یا کسی ماہر ڈاکٹر کو ریفر کیاجاسکے۔ دوسرے ممالک کے مقابلے میں ہمارے ہاں بچوں اور خواتین کی شرح اموات کیا ہے؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:ہمارے ملک میں پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل سالانہ ایک ہزار میں سے ایک سو سے زائد بچے وفات پا جاتے ہیں۔ ٭ جنوبی پنجاب یا مضافاتی ادب میں خواتین کی شاعری پر آپ کے خیالات؟ بحیثیت مجموعی جنوبی پنجاب کی خواتین اپنی شاعری کے ذریعے ایک خوبصورت معاشرے کی تشکیل میں اپنا بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔ظلم، جبر اور نا انصافیوں کے خلاف ان کی توانا آواز صرف خواتین کو ہی نہیں معاشرے کے ہر طبقے کو حوصلہ دے رہی ہے۔دبی ہوئی سسکیاں اب چیخ بن کر سامنے آ رہی ہیں اور دنیا کو ان کے مسائل کی جانب متوجہ کر رہی ہے۔ صدیوں سے زندانوں میں پڑے غلام اب زنجیریں توڑ رہے ہیں۔وسیب کی یہ خواتین اردو شاعری میں ایک نئے اسلوب کو جنم دے رہی ہیں ایک ایسا اسلوب جو ان کی پہچان بن رہاہے اور جس کے ذریعے ان کی شاعری دور ہی سے نمایاں ہوتی ہے۔ان کے ہاں ہمیں نا آسودہ خواہشیں،لہو لہان پاؤں،ریزہ ریزہ خواب اور چلچلاتی دھوپ میں بے سمت سفر تو دکھائی دیتا ہے لیکن ان کی شاعری کی ایک اپنی سمت ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان کی شاعری کایہ سفر کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ایک ایسے ماحول میں جہاں اشاعت و طباعت کوئی زیادہ آسان نہیں،جہاں محفلوں اور مشاعروں کا ماحول بھی خواتین کیلئے موزوں نہیں اور جہاں قدم قدم پر انہیں گھریلو،سماجی و معاشرتی رکاوٹوں کاسامنا کرناپڑتا ہے۔اس ماحول میں بھی اگر کچھ خواتین نے اپنے آپ کو منوالیا ہے تو ہمیں ان کی تعظیم کرنی چاہیے اورانہیں سلام پیش کرنا چاہیے۔ :آپ نے بتایا کہ آپ اپنے خاندان مین پہلی لڑکی ہیں جس نے ایم بی بی ایس کیا، کیا آج کے دور میں بھی آپ کے ہاں لڑکیوں کے لیے حبس زدہ ماحول پایا جاتاہے؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین:جی ہاں! ہمارے ہاں ابھی بھی قدیم روایات موجود ہیں۔ میں بہت کچھ کر نا چاہتی تھی لیکن خاندانی روایا ت سے بغاوت نہ کرسکی اور مجھے اسی شعبے تک محدود ہونا پڑا۔ میں لوگوں سے درخواست کر تی ہوں خصوصاً والدین سے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے ضرو سنواریں تاکہ ان میں زندگی گزارنے کا شعور اجاگر ہو۔


Facebook Comments