حسن و لطافت سے بھرپور شاعری ۔۔ امجدمرزاامجد (لندن)
پھول سے بچھڑی خوشبو جب اپنی آنکھیں بند کرلیتی ہے تو پھر اس سے ایسے ہی سخن کی خوشبو فضا کو معطر کردیتی ہے جیسے ہماری محترمہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ نے اپنے دوسرے مجموعہ کلام اور اپنی شاعری کی خوشبو
تازہ ترین
پھول سے بچھڑی خوشبو جب اپنی آنکھیں بند کرلیتی ہے تو پھر اس سے ایسے ہی سخن کی خوشبو فضا کو معطر کردیتی ہے جیسے ہماری محترمہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ نے اپنے دوسرے مجموعہ کلام اور اپنی شاعری کی خوشبو
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ ہمارے وسیب کی ایک ہر دلعزیز لیڈی ڈاکٹر، دلآویز شخصیت کی مالک اور اُردو شاعرہ ہیں۔ ان کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان کے معروف قبیلہ کھوسہ کے ایک معزز بلوچ گھرانے سے ہے جو حصول
ڈیرہ غازی خان کے نواح میں ایک چھوٹی سی بستی ہے جسے بستی جندانی کے نام سے یاد کیاجاتاہے۔اسی بستی کی ایک بچی اپنی بہن کے ہمراہ بستی سے دور ایک سکول جایا کرتی تھی۔ایک چھوٹا ساسکول۔۔ جیسے دورافتادہ
جس طرح ادب کو ذات ،مذہب ،نسل اور علاقائی خانوں میں میں رکھ کر پرکھا نہیں جا سکتااسی طرح صنفی سطح پر بھی اس کی قدر و قیمت طے نہیں کی جا سکتی۔مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے تعصبات کی قید سے رہاہو
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا شمار اُن شاعرات میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت مختصر وقت میں اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران شائع ہونے والے اُن کے شعری مجموعوں پر نظر ڈالیں تو ہمیں
ڈاکٹرنجمہ شاہین کی شاعری کا رنگ حنائی ہے ۔حناہمیشہ دو رنگوں کا امتزاج ہوتی ہے ۔حیا دار سبز رُتوں کے اندر جذبوں کا سرخ رنگ بھینی بھینی خوشبو دیتا ہے تو غنائی سُر بیدار ہونے لگتے ہیں۔جو سہاگ کی گت