میں آنکھیں بند رکھتی ہوں

نظم ۔۔ اعترافِ وفا

کیا تھا اک بار اگر تم نے بھی اعترافِ وفا کیا ہوتا زمانے سے تجھ کو بھی جدائی کا گلہ ہوتا جرمِ وفا کے معنی کو تم نے بھی پڑھا ہوتا جس نے دل سے تجھے چاہا تھا کبھی اُس کو اپنا بھی کہا ہوتا دلِ نامعتبر

مدتوں سے دربدر ہے زندگی

مدتوں سے دربدر ہے زندگی یعنی خود سے بے خبر ہے زندگی جب اسے اس کا پتہ ملتا نہیں کیوں یہ مصروفِ سفر ہے زندگی کچھ نہیں تشنہء لبی ہے چار سو دھوپ صحرا رہگزر ہے زندگی پھر دیارِ یار میں عقدہ کھلا جیسے