نظم ۔۔ اعترافِ وفا
کیا تھا اک بار اگر تم نے بھی اعترافِ وفا کیا ہوتا زمانے سے تجھ کو بھی جدائی کا گلہ ہوتا جرمِ وفا کے معنی کو تم نے بھی پڑھا ہوتا جس نے دل سے تجھے چاہا تھا کبھی اُس کو اپنا بھی کہا ہوتا دلِ نامعتبر
تازہ ترین
کیا تھا اک بار اگر تم نے بھی اعترافِ وفا کیا ہوتا زمانے سے تجھ کو بھی جدائی کا گلہ ہوتا جرمِ وفا کے معنی کو تم نے بھی پڑھا ہوتا جس نے دل سے تجھے چاہا تھا کبھی اُس کو اپنا بھی کہا ہوتا دلِ نامعتبر
اے شبِ تار ! تجھکو معلوم بھی ہے ؟ تیری تاریکی میں دیئے جلانے والی یہ تنہا لڑکی اب تک اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے کیوں الجھتی ہے ؟ کس کی راہ تکتی ہے ؟
پھر رت یہ جدائی کی میرا گیت نہ ہو جائے کہیں ساز محبت ہی رِیت نہ ہو جائے منظر یہ بچھڑنے کا نہ آنکھوں میں ٹھہر جائے پھر پھول کی خوشبو نہ ہواؤں میں بکھر جائے اک بار گلے مل کے ذرا کھل کے تو رو لوں
میں دشتِ وحشت کی تنہا لڑکی کسے پکاروں ، کسے صدا دوں میں کس کے دامن سے لگ کے روؤں میں کس کو اپنے یہ اشک سونپوں بکھرے خوابوں کی کانچ لیکر سلگتی خواہشوں کی آنچ لیکر جو بے سمت سفر سراب کر رہی ہوں میں
جب رخ یہ وقت بدلتاہے تقدیر جو مجھ پہ ہنستی ہے میری معصوم سی پلکوں پہ جب خواب نئے وہ چنتی ہے جب خواب وہ ٹوٹنے لگتے ہیں ان خوابوں کی کرچیوں کے خوف سے میں آنکھیں بند رکھتی ہوں میرے خاموش لبوں سے جب
سوزِ فراق و ہجر میں رنجور ہو گئے اپنی فصیلِ درد میں محصور ہوگئے بے نام منزلوں کی مسافت نہ پو چھئے ہر گام فاصلوں کے نشاں دور ہو گئے روح وبدن کے وصل کے لمحے تھے کیا عجیب ہم لوگ بن پیئے یونہی مخمور
بس چکی ہے جو دل و جاں میں محبت تیری بھول سکتی ہوں بھلا کیسے وہ چاہت تیری تیری یادوں سی ہے وابستہ مرے دل کا سکون اک گھنی چھاؤں کی صورت تھی رفاقت تیری تیری صورت کے مشا بہ نہیں صورت کوئی میں نے ہر
جب اپنا کسی سے بھی ستارہ نہیں ملتا کیسے کہیں کہ کوئی دوبارہ نہیں ملتا تم کیسے اندھیروں میں مجھے چھوڑ گئے ہو آنکھوں کو میری کوئی نظار ہ نہیں ملتا اس خاک سے ہم خود ہی بنا لیں کوئی تصویر افلاک سے اب
مدتوں سے دربدر ہے زندگی یعنی خود سے بے خبر ہے زندگی جب اسے اس کا پتہ ملتا نہیں کیوں یہ مصروفِ سفر ہے زندگی کچھ نہیں تشنہء لبی ہے چار سو دھوپ صحرا رہگزر ہے زندگی پھر دیارِ یار میں عقدہ کھلا جیسے
ہم نے عشق جذبوں کی جاگیر بکتے دیکھی ہے بہت انمول چہروں کی توقیر بکتے دیکھی ہے میں ان بے خواب آنکھوں میں سجاؤں کس طرح انکو کہ میں نے مہنگے خوابوں کی تعبیر بکتے دیکھی ہے عشق ایک موسم ہے اور میں نے