غضب کی مار دیتا ہے ہمیں یہ دردِ تنہائی
غضب کی مار دیتا ہے ہمیں یہ دردِ تنہائی نیا کردار دیتا ہے ہمیں یہ دردِ تنہائی دھری رہتی ہے سب اپنی انا اس دشتِ وحشت میں کئی آزار دیتا ہے ہمیں یہ درد تنہائی شب ہجراں کی ظلمت ہی مقدر بن گئی اپنا دلِ
تازہ ترین
غضب کی مار دیتا ہے ہمیں یہ دردِ تنہائی نیا کردار دیتا ہے ہمیں یہ دردِ تنہائی دھری رہتی ہے سب اپنی انا اس دشتِ وحشت میں کئی آزار دیتا ہے ہمیں یہ درد تنہائی شب ہجراں کی ظلمت ہی مقدر بن گئی اپنا دلِ
طے ان سے روزِ حشر ملاقات ہوگئی ہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہوگئی جب سے کسی سے ترکِ ملاقات ہوگئی آنسو گرے کچھ ایسے کہ برسات ہوگئی اہل جنوں کو جشنِ چراغاں سے کیا غرض صحرا کی چاندنی میں بسر رات
تلخیاں اور بے بسی ، ویرانیاں چار جانب ہیں عجب حیرانیاں پیاس جب باقی نہیں چشمے ہیں کیوں کیا کروں دریا کی اب طغیانیاں روح سے محروم ہے اب یہ بدن اورکچھ راہیں بھی ہیں انجانیاں پھول خوشبو، وہ سفر اور
دیکھا جو خالی ہاتھ سویرے بھی ہنس پڑے بلایا جو میں نے چاند اندھیرے بھی ہنس پڑے کل تک الجھ رہی تھی میں جن سے وفا کے ساتھ وہ چھوڑ کر چلے تو لٹیرے بھی ہنس پڑے غیروں نے میرے حال پہ ہنسنا تھا سو ہنسے
زندگی جب بھی روبرو آئی میں ہر اک دکھ کو خود ہی چھو آئی جب بھی اس کا خیال آیا ہے اپنے دل سے بھی مشکبو آئی ہے عجب رت یہ میرے گلشن میں لے کے دامن میں جو لہو آئی خار کچھ اور منتظر دیکھے کر کے دامن کو
جس کے خیال نے کیا سب سے جدا مجھے زخموں سے کر گیا ہے وہی آشنا مجھے الجھی رہی میں ایک ہی رستے میں رات دن زنداں کے وسط میں کوئی دفنا گیا مجھے چلنا ہے آندھیوں میں سنبھل کر تمام رات ہاتھوں میں دے گیا
عجیب سی رتیں تھیں اور عجب ہی پیرہن ملا کہ لوگ پھول مانگتے تھے اور انہیں کفن ملا گلی گلی میں بس رچی ہوئی ہے خون کی مہک یہ موسم بہار بھی عجب، تجھے وطن ملا ہر ایک اپنی ذات کے حصار میں اسیر تھا کہ
میرے خدا میرے خدا محتسب مجھ پہ یہ احسان کر بھول کر میری سب لغزشیں زندگی آسان کر جلتے ہیں وقت کی دھوپ میں تنہا یہ جسم و جاں بچھا رحمت کی چادریں اپنا سایہ مہربان ک
مدینے کو جاؤں، مدینے کو جاؤں عقیدت کی ساری میں رسمیں نبھاؤں میں جی بھر کے روؤں، میں آنسو پروؤں میں حال اپنا رو رو کے اُن کو سناؤں بڑھ بڑھ کے چوموں میں روضے کی جالی یہ پلکیں جو بھیگی ہیں اُس پہ
کہوں نعت کیسے، سلیقہ سکھا دو میری سانس کو موجِ خوشبو بنا دو گھری ہوں میں کب سے پریشانیوں میں میں عاجز ہوں آقا، مجھے حو صلہ دو تغافل میں جینا ہے شیوہ ہمارا ذرا خوابِ غفلت سے ہم کو جگا دو گناہوں نے