میں آنکھیں بند رکھتی ہوں

زندگی جب بھی روبرو آئی

زندگی جب بھی روبرو آئی میں ہر اک دکھ کو خود ہی چھو آئی جب بھی اس کا خیال آیا ہے اپنے دل سے بھی مشکبو آئی ہے عجب رت یہ میرے گلشن میں لے کے دامن میں جو لہو آئی خار کچھ اور منتظر دیکھے کر کے دامن کو