ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی غزل میں وفا کے زخم اور شکر کا منفرد لہجہ


سید محمد اصغر کاظمی

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ اردو ادب کی اُن تخلیق کاروں میں شامل ہیں جن کی شاعری میں زندگی کے تجربات، انسانی رشتوں کی نزاکتیں، محبت کی کیفیات اور احساسِ محرومی مختلف شعری پیکروں میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں جذبے کی شدت کے ساتھ اظہار کی سادگی بھی نمایاں ہے۔ وہ ذاتی تجربے کو محض ذاتی واردات بنا کر پیش نہیں کرتیں بلکہ اسے ایسے شعری پیرایے میں ڈھال دیتی ہیں کہ قاری اس میں اپنے احساسات کی پرچھائیاں بھی دیکھنے لگتا ہے۔ زیرِ نظر غزل میں محبت، قربت، بے وفائی، ہجر اور شکستِ اعتماد کے تجربات کو ’’شکریہ‘‘ کے ایک ایسے منفرد ردیفی انداز میں پیش کیا گیا ہے جو بظاہر تشکر، مگر باطن میں شکوے، طنز اور دل کی کسک کا اظہار ہے۔
غزل کا مطلع ہی اس داخلی کشمکش کو پوری شدت کے ساتھ سامنے لے آتا ہے:
چاہتوں کے تخت پر ہم کو بٹھایا شکریہ
اور بٹھا کر پھر نظر سے بھی گرایا شکریہ
’’چاہتوں کے تخت‘‘ ایک خوب صورت استعاراتی ترکیب ہے۔ شاعرہ نے محبت میں ملنے والی عزت اور اہمیت کو تخت سے تعبیر کیا ہے۔ محبوب نے کبھی اسے اپنی چاہتوں کا مرکز بنایا، مگر اسی مقام پر پہنچانے کے بعد نظر سے گرا بھی دیا۔ دونوں مصرعوں میں محبت کے عروج اور زوال کی ایک مکمل داستان سمٹ آئی ہے۔ پہلے مصرعے میں اپنائیت اور دوسرے میں بے اعتنائی ہے۔ یہاں ’’شکریہ‘‘ کا استعمال حقیقی تشکر سے زیادہ طنزیہ شکوے کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ محبوب نے جو دیا، اس کے لیے شکریہ اور جو چھینا، اس کے لیے بھی شکریہ؛ یوں ایک ہی لفظ محبت کی خوشی اور اس کے انجام کی تلخی دونوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔
تھا بڑا ہی شوق جس کو قربتوں کا کل تلک
راستہ بھی ہجر کا اس نے دکھایا شکریہ
اس شعر میں محبوب کے بدلتے ہوئے رویے کی تصویر نمایاں ہے۔ جو شخص ’’کل تلک‘‘ قربت کا خواہش مند تھا، وہی اب ہجر کی راہ دکھا رہا ہے۔ ’’قربت‘‘ اور ’’ہجر‘‘ ایک دوسرے کی ضد ہیں اور یہی تضاد شعر کی معنوی تاثیر میں اضافہ کرتا ہے۔ ’’کل تلک‘‘ کا مختصر سا فقرہ اس تبدیلی کی سرعت کو واضح کرتا ہے کہ محبت کے دعوے سے جدائی کے فیصلے تک زیادہ وقت نہیں لگا۔ شاعرہ نے اس اچانک تبدیلی پر بھی شکوہ کرنے کے بجائے ’’شکریہ‘‘ کہا ہے۔ یہی انداز اس غزل کی بنیادی فنی شناخت بنتا چلا جاتا ہے۔
ڈھونڈتا تھا عکس اپنا میرے خَدّ و خال میں جو
آج مٹی میں مجھے ملایا شکریہ
یہ شعر محبت کے ماضی اور حال کے درمیان ایک نہایت مؤثر تضاد پیدا کرتا ہے۔ جو شخص کبھی شاعرہ کے خَدّ و خال میں اپنا عکس تلاش کرتا تھا، آج وہی اسے مٹی میں ملا دینے کا سبب بن گیا۔ ’’عکس‘‘ یہاں محبوب کے ساتھ گہری وابستگی کی علامت ہے، جب کہ ’’مٹی میں ملانا‘‘ ذلت، شکست اور تعلق کے بکھر جانے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف محبوب کو اپنی ذات کا عکس نظر آتا تھا اور دوسری طرف وہی تعلق اب شاعرہ کے وجود کو خاک میں ملانے کے مترادف بن گیا ہے۔ ’’عکس‘‘ سے ’’مٹی‘‘ تک کا یہ معنوی سفر محبت کے عروج سے شکستِ محبت تک پہنچنے کی پوری کیفیت بیان کر دیتا ہے۔
روشنی کہہ کر دُعاؤں میں مجھ کو گم کیا
دل لگی دل کی لگی کو ہی بنایا شکریہ
یہاں شاعرہ محبوب کے الفاظ اور اس کے عملی رویے کے درمیان موجود فاصلے کو نمایاں کرتی ہیں۔ جسے ’’روشنی‘‘ کہا گیا، جس کے لیے دعائیں کی گئیں، اسی کو آخرکار گم کر دیا گیا۔ ’’روشنی‘‘ اور ’’گم‘‘ کے الفاظ میں واضح معنوی تضاد ہے۔ روشنی کا تعلق راستہ دکھانے سے ہے، مگر یہاں روشنی کہہ کر ہی گم کر دیا جانا تعلق کی بے ثباتی کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں ’’دل لگی‘‘ اور ’’دل کی لگی‘‘ کا لفظی و معنوی امتزاج خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ ’’دل لگی‘‘ عارضی مشغلے یا تفریح کی طرف اشارہ کرتی ہے، جب کہ ’’دل کی لگی‘‘ حقیقی جذباتی وابستگی کی علامت ہے۔ شاعرہ نے محض ایک لفظی فرق کے ذریعے محبت کی گہرائی اور محبوب کی بے اعتنائی کے درمیان واضح فاصلہ پیدا کر دیا ہے۔
میری اک مسکان پر قربان ہوتا تھا کبھی
پھر اسی سنگ دل نے ہی مجھ کو رُلایا شکریہ
یہ شعر بھی ماضی اور حال کے تقابل سے تشکیل پاتا ہے۔ جو شخص کبھی شاعرہ کی ایک مسکان پر قربان ہونے کو تیار تھا، وہی بعد میں اسے رُلانے کا باعث بنا۔ ’’مسکان‘‘ محبت، خوشی اور اپنائیت کی علامت ہے، جبکہ ’’رُلایا‘‘ اسی تعلق کے تلخ انجام کو ظاہر کرتا ہے۔ ’’سنگ دل‘‘ کی ترکیب محبوب کے موجودہ رویے کی شدت کو نمایاں کرتی ہے۔ مگر شاعرہ یہاں بھی انتقام یا تلخ دشنام کا راستہ اختیار نہیں کرتیں۔ وہ اسی دکھ کے جواب میں ’’شکریہ‘‘ کہتی ہیں۔ اس طرزِ اظہار میں ایک ایسی خودداری موجود ہے جو دل شکستگی کے باوجود شاعرہ کو اپنے جذبات کے سامنے بے بس نہیں ہونے دیتی۔
سامنے دریا کی صورت میں ہے جو صحرا قبول
زندگی جو رنگ بھی تُو نے دکھایا شکریہ
یہ شعر غزل کے دائرۂ احساس کو محبت سے نکال کر زندگی کے وسیع تجربے تک لے جاتا ہے۔ ’’دریا‘‘ اور ’’صحرا‘‘ دو متضاد علامتیں ہیں۔ دریا روانی، وسعت اور زندگی کی علامت بن سکتا ہے، جب کہ صحرا ویرانی، تنہائی، تشنگی اور محرومی کی علامت ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر زندگی کے سامنے دریا کے بجائے صحرا ہے تو اسے بھی قبول ہے۔ زندگی نے جو رنگ دکھایا، اسے تسلیم کرنے کا یہ رویہ ایک پختہ شعور کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہاں ’’شکریہ‘‘ صرف محبوب کے لیے طنزیہ جواب نہیں رہتا بلکہ زندگی کے تلخ تجربات کے سامنے ایک باوقار طرزِ قبولیت بن جاتا ہے۔
اک تمہاری ہی وفا پر مان تھا شاہین کو
سب سے پہلے سنگ تم ہی نے اٹھایا شکریہ
مقطع میں شاعرہ نے اپنے تخلص ’’شاہین‘‘ کو نہایت فطری انداز میں برتا ہے۔ پورے کلام میں جس وفا پر اعتماد کا ذکر ہے، آخری شعر میں اسی اعتماد کے ٹوٹنے کی کیفیت سامنے آتی ہے۔ شاعرہ کو جس شخص کی وفا پر سب سے زیادہ مان تھا، اسی نے سب سے پہلے ’’سنگ‘‘ اٹھایا۔ یہاں ’’سنگ اٹھانا‘‘ محض پتھر اٹھانے کا عمل نہیں بلکہ دل آزاری، تعلق کو مجروح کرنے اور اعتماد کو توڑنے کی علامت بن جاتا ہے۔ ’’سب سے پہلے‘‘ کے الفاظ اس دکھ کو مزید گہرا کرتے ہیں، کیونکہ کسی اجنبی کی بے اعتنائی کے مقابلے میں اپنے سمجھے جانے والے شخص کی بے وفائی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ ’’شکریہ‘‘ یہاں غزل کے پورے معنوی سفر کا آخری اور سب سے مؤثر نقطۂ اظہار بن جاتا ہے۔
فکری اعتبار سے یہ غزل محبت کی ناکامی کو محض آہ و فغاں میں تبدیل نہیں کرتی بلکہ اسے انسانی رویوں کے مشاہدے اور خود آگہی کے تجربے میں ڈھال دیتی ہے۔ شاعرہ نے وفا کے دعووں، قربت کی خواہش، محبت کی یقین دہانیوں اور پھر اچانک بے اعتنائی کے مختلف مراحل کو نہایت سادہ مگر مؤثر زبان میں بیان کیا ہے۔ ہر شعر میں ماضی کی ایک روشن کیفیت موجودہ تلخی سے متصادم نظر آتی ہے۔ یہی تضاد غزل کے فکری حسن کو نمایاں کرتا ہے۔
فنی سطح پر تضاد، استعارہ، علامت اور لفظی مناسبت کا استعمال غزل کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ ’’چاہت‘‘ کے مقابل ’’گرانا‘‘، ’’قربت‘‘ کے مقابل ’’ہجر‘‘، ’’عکس‘‘ کے مقابل ’’مٹی‘‘، ’’روشنی‘‘ کے مقابل ’’گم‘‘، ’’دل لگی‘‘ کے مقابل ’’دل کی لگی‘‘، ’’مسکان‘‘ کے مقابل ’’رُلایا‘‘ اور ’’دریا‘‘ کے مقابل ’’صحرا‘‘—یہ سب تقابلی پیکر غزل کے داخلی آہنگ کو مضبوط کرتے ہیں۔ شاعرہ نے مشکل الفاظ کے بجائے روزمرہ اور مانوس لفظیات سے ایک گہری جذباتی فضا پیدا کی ہے۔ یہی سادگی اس غزل کو براہِ راست قاری کے احساس سے جوڑتی ہے۔
غزل کا سب سے نمایاں فنی حربہ ’’شکریہ‘‘ کا مسلسل اعادہ ہے۔ یہ تکرار محض لفظی تکرار نہیں بلکہ ہر شعر میں ایک نیا معنوی رنگ پیدا کرتی ہے۔ پہلے شعر میں یہ طنزیہ شکوہ ہے، دوسرے میں ہجر کا اعتراف، تیسرے میں شکستِ تعلق کی کسک، چوتھے میں محبت کی بے قدری، پانچویں میں دل آزاری، چھٹے میں زندگی کے تجربے کی قبولیت اور مقطع میں ٹوٹے ہوئے اعتماد کا اظہار۔ یوں ایک ہی لفظ پورے کلام میں مختلف جذباتی سطحوں سے گزرتا ہوا اپنی معنوی وسعت پیدا کرتا ہے۔
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی یہ غزل دراصل ایک ایسے دل کی آواز ہے جس نے محبت میں قربت بھی دیکھی، بے اعتنائی بھی سہی، وفا پر یقین بھی کیا اور اسی یقین کو ٹوٹتے ہوئے بھی دیکھا؛ لیکن اس سارے تجربے کے باوجود لہجے میں شکست خوردگی کے بجائے ایک خاص وقار قائم رکھا۔ ’’شکریہ‘‘ کا لفظ اسی وقار کی علامت بن جاتا ہے۔ شاعرہ نے زخموں کا شمار کرنے کے بجائے انہیں شعری تجربے میں بدل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غزل محض ایک ناکام محبت کی داستان نہیں رہتی بلکہ انسانی رشتوں کی ناپائیداری، اعتماد کی نزاکت اور زندگی کے تلخ و شیریں رنگوں کو قبول کرنے کا ایک بامعنی شعری اظہار بن جاتی ہے۔


Facebook Comments