خوابوں میں بھی گر وصل کا امکان نہیں ہے
خوابوں میں بھی گر وصل کا امکان نہیں ہے شب جاگتے رہنے میں بھی نقصان نہیں ہے رستہ وہ بدلنا ہی تھا ہم دونوں نے لیکن حیرت تو یہی ہے کہ تُوحیران نہیں ہے کیوں خوف زدہ ہو گئے تم ایک گھٹا سے؟ میں نے تو
تازہ ترین
نام۔۔۔ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ تاریخ پیدائش. 1 دسمبر ایم بی بی ایس ڈاکٹر، گائناکالوجسٹ، ،شاعرہ ،ادیبہ، سوشل ورکر ایم بی۔بی۔ایس۔۔نشتر میڈیکل کالج ملتان 1۔ایڈ منسٹر یٹر اینڈ گائناکالوجسٹ آف۔۔جان سرجیکل ہسپتال ۔ بلاک 48 کنگن روڈ ڈیرہ غازی خان پنجاب۔۔ 2،،۔۔نائب صدر۔۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان.... 3۔۔صدر ادبی و سوشل تنظیم ۔۔آنچل 4۔چئیر پرسن جنوبی پنجاب خواتین ونگ۔۔بین الاقوامی و بین المذاہب ذہنی ہم آہنگی تنظیم 5۔۔ممبر سکروٹنی کمیٹی اکیڈیمی ادبیات اسلام آباد 6۔۔ممبر آرگنائیزر کمیٹی اکیڈیمی آف لیٹر ملتان 7۔۔ممبر نارکوٹکس کمیٹی ڈیرہ غازی خان 8.ممبر بورڈ آف منیجمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ غازی خان 9.ایگزیکٹو ممبر آف المنظور آئی ٹرسٹ ڈیرہ غازی خان 10.ممبر آف کامرس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ڈیرہ غازی خان 11.ممبر آف انسٹی ٹیوٹشنل سکالر شپ ایوارڈ کمیٹی آف غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان 12..چیئرپرسن آف ایڈوائزی کمیٹی ماڈل چلڈرن ہوم ڈیپارٹمنٹ ڈیرہ غازی خان 13. ممبر آ ف بورڈ آف گورنر جم خانہ کلب ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان 14.ممبر آف بورڈ آف گورنر ز، پنجاب آرٹس کونسل B.... 1..شخصیت اور شاعری پر ایم فل کا تھیسسز فیڈرل یونیورسٹی اسلام آباد سے ہو چکا ہے 2.اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے 3.زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے 4..نواز شریف یونیورسٹی ملتان سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے 5.غازی خان یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان سے ماریہ امبر نے ایم اے کا تھیسسز کیا ہے 6.. غازی خان یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان سے مریم نے ایم اے کا تھیسسز کیا ہے 7..فیصل آباد یونیورسٹی سے ایم فل اور ایم اے کے تھیسز ہو رہے ہیں.. .8.مصر میں الازہریونیورسٹی میں تیسرے شعری مجموعہ،، اور شام ٹھہر گئی، ،کا مکمل ترجمہ کیا گیا ہے 9.مصر میں چوتھے شعری مجموعہ،، پھول خوشبو اور تارہ پر ایم فل کا تھیسسز جاری ہے 10..انڈیا میں محترمہ شاہدہ پی ایچ ڈی کا تھیسسز کر رہی ہیں 12..ان کے کلام پر دو میوزک البم بھی بن چکے ہیں.. جن میں سے ایک علی میوزک پروڈکشن والوں نے پاکستان اور ہائی ٹیک کمپنی یو کے نے لندن میں ریلیز کی ہے. جس میں نامور گلوکاروں انور رفیع، حنا نصراللہ ،صائمہ جہاں اور شانی انور نے پرفارم کیا.. اس کے علاوہ نامور گلوکاروں نے پاکستان اور انڈیا میں انکے کلام کو گایا جن میں ساجد حسن، شمیم خالق، نے پرفارم کیا ۔الحمداللہ جان سرجیکل ہسپتال کا شمار ڈیرہ غازی خان کے معتبر طبی اداروں میں ہوتا ہے۔طبی مصروفیات کے باوجود شاعری کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی ۔اب تک پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ 1۔۔۔ 2007ء میں پہلا شعری مجموعہ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘کے نام سے شائع ہوا۔۔ 2۔ دوسرا شعری مجموعہ ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں ‘‘2010ء میں شائع ہوا ۔ ۔ 3۔تیسرا شعر ی مجموعہ۔۔اور شام ٹھہر گٰئی‘‘ 2013 4۔۔چوتھا شعری مجموعہ۔ ’’پھول،خوشبو اور تارہ‘‘ 2016 میں شائع ہوا ۔۔5.۔ میرا صاحب،سائیں عشق یےتو۔۔شاعری2021 غیر مطبوعہ تصنیفات ۔۔1۔۔گرد سفر۔۔۔۔ ناول 2۔ میں اور یہ جہاں ۔۔مضامین 3..یہ جہاں اور میں... مضامین 4..یہ جہان، رنگ وبو.... مختلف انٹرویوز ایوارڈز۔۔ 1۔خوشبو رائٹرزایوارڈ 2۔بے نظیر بھٹو ایوارڈ 3۔ایکسیلنٹ ایوارڈ آف دی سٹی. 4..جنوبی پنجاب لٹریری ایوارد دونمائندہ اشعار۔ چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے۔۔۔ نمبر۔2۔۔ افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں ۔۔۔ جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں Website.. Www.drnajmashaheen.com YouTube link... https://www.youtube.com/channel/UCVJtvxLTCfPn1G5fU2425-g https://www.facebook.com/profile.php?id=1422229732
خوابوں میں بھی گر وصل کا امکان نہیں ہے شب جاگتے رہنے میں بھی نقصان نہیں ہے رستہ وہ بدلنا ہی تھا ہم دونوں نے لیکن حیرت تو یہی ہے کہ تُوحیران نہیں ہے کیوں خوف زدہ ہو گئے تم ایک گھٹا سے؟ میں نے تو
عجیب سی یہ بات ہے کہ جو مرایقین تھا جو تپتے راستوں میں میرے واسطے گلوں کی سر زمین تھا کہ جو مرا گمان تھا جو ابر تھا مرے لئے جو میرا آسمان تھا جو میری ابتدا تھا اور مرا جو اختتام تھا جو میری صبحِ
آندھیوں میں اُڑا رہی ہے وفا دشت کیسے دکھا رہی ہے وفا چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں مگر اک نئی رہ دکھا رہی ہے وفا پھر کوئی زخم بھرنے والا ہے پھر مجھے یاد آرہی ہے وفا ایک منظر مٹا دیا میں نے ایک منظر
کبھی بچے تھے تو سنتے تھے آکاس بیل تناور درخت کو جکڑ لے تو اس کی طاقت ، اس کے حسن کو اپنی بانہیں پھیلا کر ختم کر دیتی ہے تب پہروں بیٹھ کے سوچا کرتے تھے آکاس بیل ہوتی ہے کیا جب عشق ہجر کے دکھ نے من
کیا تھا اک بار اگر تم نے بھی اعترافِ وفا کیا ہوتا زمانے سے تجھ کو بھی جدائی کا گلہ ہوتا جرمِ وفا کے معنی کو تم نے بھی پڑھا ہوتا جس نے دل سے تجھے چاہا تھا کبھی اُس کو اپنا بھی کہا ہوتا دلِ نامعتبر
اے شبِ تار ! تجھکو معلوم بھی ہے ؟ تیری تاریکی میں دیئے جلانے والی یہ تنہا لڑکی اب تک اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے کیوں الجھتی ہے ؟ کس کی راہ تکتی ہے ؟
پھر رت یہ جدائی کی میرا گیت نہ ہو جائے کہیں ساز محبت ہی رِیت نہ ہو جائے منظر یہ بچھڑنے کا نہ آنکھوں میں ٹھہر جائے پھر پھول کی خوشبو نہ ہواؤں میں بکھر جائے اک بار گلے مل کے ذرا کھل کے تو رو لوں
میں دشتِ وحشت کی تنہا لڑکی کسے پکاروں ، کسے صدا دوں میں کس کے دامن سے لگ کے روؤں میں کس کو اپنے یہ اشک سونپوں بکھرے خوابوں کی کانچ لیکر سلگتی خواہشوں کی آنچ لیکر جو بے سمت سفر سراب کر رہی ہوں میں
جب رخ یہ وقت بدلتاہے تقدیر جو مجھ پہ ہنستی ہے میری معصوم سی پلکوں پہ جب خواب نئے وہ چنتی ہے جب خواب وہ ٹوٹنے لگتے ہیں ان خوابوں کی کرچیوں کے خوف سے میں آنکھیں بند رکھتی ہوں میرے خاموش لبوں سے جب
کیا کیا مہیب دشت دکھائے گی اے وفا لے کر تُو کس طرف کو اب جائے گی اے وفا رستے میں شام ہو گئی اب تو ذرا ٹھہر کتنا ہمیں تُو اور تھکائے گی اے وفا چپ ہیں زمین و آسماں سب دیکھتے ہوئے کیا کیا اب اور زخم